دکھائیں کتب
  • 71 بہترین زاد راہ تقوی (جمعہ 17 فروری 2012ء)

    مشاہدات:17866

    تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ  کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ  اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔ زیر نظر کتاب پروفیسر نجیب الرحمٰن کیلانی کی ایک علمی کاوش ہے، جس میں انہوں نے قرآن و حدیث کی متعدد نصوص سے تقویٰ کے موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ کتاب کو پانچ ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ باب اوّل میں تقویٰ کا مفہوم، معیار اور مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ باب دوم میں حصولِ تقویٰ کے ذرائع نقل کئے گئے ہیں۔ باب سوم میں مختلف انبیائے کرام کے حوالے سے یہ بات نقل کی گئی ہے کہ وہ اپنی اپنی امت کو تقویٰ کی تائید کرتے رہے تھے۔ باب چہارم میں تقویٰ کی   برکات و ثمرات کا بیان ہے اور باب پنجم میں تقویٰ کے مظاہر کا بیان ہے۔ مجموعی لحاظ سے کتاب ھذا قابلِ مطالعہ اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 72 بیویوں کے باہمی تعلقات (اتوار 04 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2043

    اللہ تعالیٰ ٰ ہی کی حکمت بالغہ ہے۔اس نے اپنی حکمت کے تحت سابقہ شریعتوں میں بھی اور  ہمارے نبی کریمﷺ حضرت محمد ﷺ کی شریعت میں بھی مردوں کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں۔تعدد ازواج نبی ﷺ ہی کا خاصہ نہ تھا۔حضرت یعقوب   کی دو بیویاں تھیں۔حضرت سلیمان بن دائود   کی ننانوے بیویاں تھیں۔ایک بار اس اُمید سے کہ آپ ایک رات میں ان سب کے پاس گئے کہ ان میں سے ہر ایک ایک بچے کو جنم دے گی۔جو بڑے ہوکر اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے۔اللہ تعالیٰ نے  امت محمدیہ کے   مردوں کے   لیے ایک وقت میں چار بیویوں کورکھنے کی اجازت دی ہے ۔جس  کےبہت فوائد اور اس میں  کئی حکمتیں مضمر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ بیویوں کے باہمی تعلقات‘‘ محترم ام عبدمنیب  صاحبہ کی  کاوش  ہے  جس میں انہوں نے  تعدد  ازدواج  کے پس منظر اور اس کے فوائد،خدشات،سوکنوں کےباہمی تعلقات کو  آسان فہم  انداز میں  بیان کرنے کے بعد  ان کی  آپس میں  اصلاح  کے   حوالے  قرآن  وحدیث کی  روشنی  میں چند مفید   نسخے  پیش کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 73 ترک رذائل (ہفتہ 25 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:3211

    اسلام میں حسن  اخلاق کو جو اہمیت حاصل ہے وہ کسی دوسرے مذہب میں نہیں ہے۔نبی کریم  نے مسلمانوں کو حسن اخلاق کو اپنانے اور رذائل اخلاق سے بچنے کی پر زور ترغیب دی ہے۔ رسول کریم نے فرمایا:” قیامت کے روز میرے سب سے نزدیک وہ ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہے۔“ حسن اخلاق انسان میں بلندی اور رفعت کے جذبات کا مظہر ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسان میں پستی کے رجحانات بھی پائے جاتے ہیں جنہیں رذائل اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل حیوانی جذبات ہیں۔ چنانچہ جس طرح حیوانوں میں کینہ ہوتا ہے۔ انسانوں کے اندر بھی کینہ ہوتا ہے۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی انتقامی جذبہ اور غصہ ہوتا ہے۔ اسے اشتعال دیا جائے تو وہ مشتعل ہو جاتا ہے۔ یہ چیزیں اخلاقی بلندی کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور بدخلقی کے ذیل میں آتی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ان پر کنٹرول کیا جائے۔ غصہ ، انتقام ، عداوت ، تکبر کے جذبات پر قابو پایا جائے اور تحمل و برداشت اور عاجزی و انکساری کو شعار بنایا جائے۔ اگر آدمی ایسا کرے گا تو اس کے نفس کی تہذیب ہوگی، اس کے اخلاق سنوریں گے۔ وہ اللہ کا بھی محبوب بن جائے گا اور خلق خدا بھی اس سے محبت کرنے لگے گی۔ اس کے برعکس جو شخص بداخلاقی یا رزائل اخلاق کا مظاہرہ کرے گا، وہ خدا کی نظرمیں بھی ناپسندہوگا اور مخلوق خدا بھی اسے بری نگاہ سے دیکھے گی۔ زیر تبصرہ کتاب "ترک رذائل" بھی اسی جذبہ کے پیش نظر لکھی  گئی ہے۔اس کے مولف  احمد جاوید اور مرتب محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ﷾ہیں ،جنہوں نے اس میں رذائل اخلاق کی ایک لمبی فہرست دے کر ان بچنے کی تلقین کی ہے۔اللہ تعالی سے...

  • 74 تعمیر حیات (ہفتہ 20 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1243

    کون ہے جو اپنی زندگی کامیاب اور خوش نہیں بنانا چاہتا؟لیکن کتنے ہیں جو اس گر سے واقف ہیں؟دنیا میں انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہیں، اور ان کے پیشے ، کاروبار اور مصروفیات مختلف ہیں۔ہر انسان چاہتا ہے کہ کامیاب ہو، خوب ترقی کرلے، آگے بڑھے، اس کی دشواریاں دور ہوں، بھرپور عزت واحترام ملے، اس کے ساتھ بہترین سلوک اور نمایاں رویّے سے پیش آیا جائے، اس کی صحت اچھی رہے، اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور یہ کہ ساری چیزیں اپنے آپ ہوجائیں اور خود اسے کچھ کرنا نہ پڑے۔کیا ایسی کامیابی اور ترقی کو جس کے لیے خود انسان کو اپنے لیے کچھ کرنا نہ پڑے، خواب کے سوا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟کامیابی کا راستہ بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں آپ کو پریشانیاں، دقتیں اور مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ لیکن آخر میں ہرے بھرے باغ انہیں کو ملتے ہیں جو سچی لگن سے محنت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ہر انسان اپنے معیار کے مطابق کامیابی کو دیکھتا اور سمجھتا ہے زیر تبصرہ کتاب" تعمیر حیات" محترم  ڈاکٹر ڈیل کارینگی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اپنے مشاہدات، لوگوں سے ڈیلنگ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کو کامیاب زندگی گزانے کے آفاقی  اصول اور گر سکھلائے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو تمام میدانوں میں کامیاب فرمائے اور ان کی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو بہترین بنا دے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جہنم سے بچا لیا جائے اور اسے جنت میں داخل کر د...

  • انسانوں کی عمدہ معاشرت، صحیح تمدن اور اعلیٰ مسرت کی تکمیل اور کائنات میں اس کو اشرف المخلوقات کا مرتبہ حاصل کرانے میں یقینا تمام طبقات انسانی کا حصہ ہے۔ہیت دان، حکماء،طبیب، مہندس غرضیکہ ہر ایک نے اپنے اپنے فن کو اجاگر کیااور اپنالوہامنوایا ہم ان سب کے شکر گزار ہیں ۔مگر کچھ نفوس ایسے بھی ہیں جنہوں نے ہماری حرص وہوس کی اندرونی چالیں درست کیں ،ہمارے عروج وتنزل کا فن ترتیب دیا،ہمارےجذبات و احساسات کو ایک منزل سے ہمکنار کیا۔ جہالت میں ڈوبے ہوئے بنی آدم کو مقصد حیات دیتے ہوئے ایک مثالی معاشرے کی تشکیل دی۔ مادیت پرستی کے دورمیں ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ معاشرے میں ایک پر سکون اوررائیس زندگی گزارے۔اور وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنے شب وروز ایک کر دیتا ہے۔ حلال و حرام، تہذیب و تمدن،تعمیر و تخریب حتیٰ کہ اپنی عزت نفس کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب "تعمیر حیات " مولانا وحید الدین خان کی تالیف کردہ ہے ۔جس میں موصوف نے انسانی سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک منفرد اسلوب سے مثالوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ انسان کس طرح صحیح طرز فکر سے کامیابی کا راز چرا سکتا ہے۔ اللہ رب العزت مصنف کو اجر عظیم عطافرمائے اور وہ ہم سب کو ایمان والی زندگی پر قائم رکھتے ہوئے خاتمہ بالایمان فرمائے۔ آمین (عمیر)

  • 76 تفریح و سیاحت، اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط (جمعرات 26 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1854

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اردو عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے۔ دور جدید میں تفریح انسانی زندگی کے   معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تیز مشینی دو راور مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور ہو جاتا ہے اس کا حل اس نے تفریح میں ڈھونڈا ہے۔ مگر بہت سی تفریحی سرگرمیاں انسان کو دوبارہ کام کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ اس سے دین بھی چھین لیتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفریح وسیاحت کا اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط ‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے زیر اہتمام مارچ 2011ء میں منعقد کیے گئے بیسویں فقہی سیمنار میں مختلف اصحاب علم و دانش و مفتیان کرام کی کرطرف سے پیش گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کامجموعہ ہے جس میں مزاح، لطیف گوئی، مزاحیہ کہانیاں اور ڈرامے، سیر و سیاحت پر زرِ کثیر خرچ کرنا، مختلف کھیل اس کے اصول، کھلاڑیوں کے لباس و پوشاک کھیلوں پر سٹہ لگانا، تاریخی اور تعلیمی مقاصد کے لیے فلمیں اور کارٹون بنانا وغیرہ جیسی ابحاث شامل ہیں۔ (م۔ا )

  • 77 تقرب الی اللہ (اتوار 19 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1245

    آج مسلمانوں کی اکثریت جہاں زندگی کے دیگر معاملات میں افراط و تفریط کا شکار ہے وہیں عبادات کے سلسلے میں بھی وہ اعتدال و توازن سے دور ہے۔ ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عبادات ہی کامل دین ہیں، جس نے نماز ادا کرلی، روزہ رکھ لیا اور مال دارہونے کی صورت میں زکوٰة ادا کردی اور حج کیا اس نے گویا مکمل دین پر عمل کرلیا؛ حالانکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادات مقاصد بھی ہیں اور ذرائع بھی، کسی ایک چیز کے مقصداور ذریعہ ہونے کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے،بعض حیثیتوں سے ایک چیز مقصود ہوسکتی ہے اور وہی چیز بعض دوسری حیثیتوں سے ذریعہ بن سکتی ہے۔بحیثیت انسان ہم سب خطا کار ہیں اور اچھے خطا کار وہ ہیں جو اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے بلکہ اقرار واستغفار کا راستہ اپناتے ہیں اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرب خدا وندی حاصل کرنے کے بے شمار طریقے اور ذرائع ہیں اور ایک مومن کو وہ تمام ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تاکہ کسی ذریعہ سے اللہ تعالی کا قرب حاصل ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب"تقرب الی اللہ"محترم جناب فاروق احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تخریج محترم عبد اللہ یوسف ذہبی صاحب نے کی ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے  ان اعمال صالحہ کو جمع کر دیا ہے جن سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے اور انسان اپنے خالق کے قریب ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس  کاوش  کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • 78 تقویٰ اہمیت ، فضیلت اور فوائد و ثمرات (منگل 07 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:4739

    تقویٰ انسانی زندگی کاشرف ہےاور تقویٰ انسانی زندگی وہ صفت ہے جو تمام انبیاء کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔اور یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور قرب آسان ہوجاتاہے ۔قرآن میں سیکڑوں آیات تقویٰ کی اہمیت وفادیت پر وارد ہوئی ہیں ۔تمام عبادات کا بنیادی مقصد بھی انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور تقویٰ پیدا کرنا ہےتقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقویٰ پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیاد...

  • 79 تقویٰ اہمیت،برکات،اسباب (بدھ 20 فروری 2013ء)

    مشاہدات:70233

    اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو تقویٰ کا حکم دیا۔ تمام رسولوں، خاتم الرسل حضرت محمدﷺ اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔ اہل ایمان اور تمام بنی نوع انسان کو بھی یہی حکم دیا۔ نبی کریمﷺ کثرت سے اللہ تعالیٰ سے تقویٰ کےعطا کیے جانے کا سوال کرتے رہتے۔ زیر نظر کتاب میں بھی ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے بھی اپنے مخصوص اندازمیں تقویٰ کی اہمیت، برکات اور اس کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔ کتاب کو چار مباحث میں بیا ن کیا گیا ہے۔ مبحث اول تقوی کے مفہوم پر مشتمل ہے۔ دوسری مبحث میں تقویٰ کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ تیسری مبحث میں تقویٰ کی برکات اور چوتھی مبحث میں تقویٰ کے اسباب کو تفصیل کے ساتھ بیان کی گیا ہے۔ کتاب کی اساس کتاب و سنت ہے۔ احادیث کو ان کے مراجع اصلیہ سے نقل کیا گی ہے۔ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کےاقول پیش کیے گئے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 80 تقویٰ کیسے اختیار کریں (اتوار 18 اگست 2013ء)

    مشاہدات:6101

    دین اسلام میں تقوی اور احسان  کوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔اول الذکر کی بنیادخوف جبکہ مؤخرالذکر کی اساس شوق ہے ۔ دونوں ہی ایسے رویے ہیں جن میں اللہ کےتعلق کا اظہار ہوتا ہے ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں تعلیم کتاب حکمت کےساتھ ساتھ تزکیہ نفس پر بھی بہت زور دیا گیا ہے ۔ علمائے امت نے جہاں پہلے میدان میں اپنے اپنے جواہرات بکھیرے ہیں وہاں دوسرا بھی ان کی جولانیوں کا مرکز و محور رہا ہے ۔ چناچہ زیرنظر کتاب امام احمد بن حنبل  جیسے عظیم المرتبت استاذ کے عظیم شاگرد امام ابوبکر احمد بن محمد بن الحجاج المروزی کی مایہ ناز تصنیف ہے ۔ جسے جناب اختر فتح پوری صاحب نے بہت احسن طریقے سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کچھ  اضافے بھی فرمائے ہیں ۔ ظاہر بات ہے دین میں تقوی کی اساس یہی ہے کہ اللہ سے ڈر کر اور خوف کھاتے ہوئے ان احکام پر عمل کیا جائے جو اس نے اپنے پیغمبر کے ذریعے نازل فرمائے ہیں ۔ اورقرآن میں بھی آیا ہے کہ ائے لوگو! اپنے رب کا تقوی اختیار کرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا ۔ کہیں فرمایا ائے لوگو! جو ایمان لائے ہو صحیح معنوں میں اللہ کا تقوی اختیار کرو۔ اس کتاب میں دینی احکام کی اسی  روح کو بیدار کیا گیا ہے ۔ اللہ مصنف  اور مترجم  کو  اجر جزیل  سے  نوازے آمین ۔ (ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1605
  • اس ہفتے کے قارئین: 15033
  • اس ماہ کے قارئین: 29854
  • کل قارئین : 46429039

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں