اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب

  • نام : احساء اسلامک سنٹر، سعودی عرب
  • ملک : سعودی عرب

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #1163

    مصنف : ابوثوبان غلام قادر جیلانی

    مشاہدات : 11791

    گستاخان رسول شریعت کی عدالت میں

    (بدھ 23 مئی 2012ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    انبیا کی جماعت میں سے سب سے زیادہ افضل شخصیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کا تقدس و تفوق ہمیشہ مسلم اور غیر مسلم سب انسانوں کے ہاں مسلمہ رہا ہے۔ بد قسمتی سے دور حاضر میں سیکولر ازم کا بہت زور ہے اس لیے کسی بھی شریعت اور نبوت کااحترام باقی نہیں بچا۔ اس سلسلہ میں اب نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے میں باک محسوس نہیں کیا جا رہا۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں ابوثوبان عبدالقادر نے اسی ضمن میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیوی اور اخروی انجام پر روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)

     

  • 2 #2375

    مصنف : محمد قطب

    مشاہدات : 2350

    عبادت

    (اتوار 24 اگست 2014ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    پوری  کائنات اور کائنات کی ہرہر چیز اللہ رب العزت کی عبادت گزار ہے  البتہ عبادت کا طریقہ ہر مخلوق کےلیے  الگ الگ ہے ۔عبادت پورے نظام زندگی  کانام  ہے  جس  میں تجارت  و معیشت بھی ہے  اور سیاست ومعاشرت بھی،اخلاقیات بھی ہیں  اور معاملات بھی  حقوق وفرائض ِ انسانی کی تفیصلات بھی ہیں ۔ اور روح وباطن کی تسکین واصلاح کے لیے  عبادات کا سلسلہ بھی ۔جب انسان کی تخلیق عبادت کے لیے  ہوئی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے  کہ اس کی عبادت کا انداز  کیا ہو؟ اسے کس طرح اپنے  رب کی بندگی کرنی  ہے ؟ اور عبادت کہتے کسے  ہیں ؟ان سوالات  کو  کتاب وسنت کے  ورشنی میں  سمجھنے اور سمجھانے کے لیے   یہ  مختصر کتابچہ عربی  سے  اردو زبان  ترجمہ  کر کے  شائع کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا کہ  وہمیں اپنے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہم اللہ کی عبادت اس کرح کریں جیسے کرنے کا حق  ہے (آمین) (م۔ا)

     

  • 3 #3502

    مصنف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    مشاہدات : 3593

    نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد

    (منگل 25 اگست 2015ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت  کی حالت میں ہوئی ،اور  عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی  تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ﷫ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم﷫ نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمراہ ثابت کیا۔عصر حاضر کے معروف عالم دین اور تنظیم اسلامی کے بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب﷫  ابن عربی کے علمی اور روحانی مقام کے زبر دست قائل ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات کے بھی حامی نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" نظریہ توحید وجودی اور ڈاکٹر اسرار احمد"محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب کی مرتب کر دہ ہے۔مولف موصوف نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تحریریں مختلف اہل علم کو روانہ کیں اور ان سے ان پر فتاوی طلب کئے۔چنانچہ اہل علم نے وحدۃ الوجود سے متعلق ان کے نظریات کا دلائل کے ساتھ رد کیا۔جسے مولف نے یہاں اس کتاب میں جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • عقیدہ طایفہ منصورہ

    (اتوار 15 نومبر 2015ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    اسلام میں ایمان وعقیدہ کی اہمیت محتاجِ بیان نہیں ۔ اعمالِ صالحہ کی قبولیت ، عقیدہ کی صحت اور درستی ہی پر منحصر ہے ۔عقیدے  کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے  اللہ تعالیٰ نے ہر دور  میں انبیاء کو مبعوث کیا  حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م  نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں  عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں۔زیر تبصرہ نظر کتاب  بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔یہ کتاب شیخ عبد المنعم مصطفیٰ  حلیمہ ابوبصیر طرطوسی﷫ کی  عقیدہ کے موضوع پر  ان کےعربی رسالہ’’ ہذہ عقیدتنا وہذا الذی ندعوا الیہ‘‘ کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں  مصنف موصوف نے  ائمہ سلف کےاسلوب ومنہج کوپیش نظر رکھتے ہوئے نہ صرف اساسی عقائد وتصورات کوواضح کیا ہے ، بلکہ عصر  حاضر کے ان افکار ونظریات پر بھی گفتگو کی ہے  جوفکر  وعقیدہ کے موضوع سےتعلق رکھتے ہیں ۔ چنانچہ جمہوریت، سیکولرازم اور خودساختہ قوانین  بھی اس کتاب میں زیر بحث آئے ہیں۔یہ کتابچہ بلاشبہ عقیدہ طحاویہ کےبعد عقائد اہل سنت کی معرفت کےلیے ایک معیاری متن کی حیثیت رکھتا ہے۔اس رسالہ کا  سلیس  ورواں ترجمہ کی سعادت  حافظ طاہر اسلام عسکری﷾ (فاضل جامعہ لاہور اسلامیہ )نے  حاصل کی ہے۔ مترجم موصوف نےاس  کتابچہ کو فقرات میں تقسیم کر کے نمبر ز لگا دیے ہیں  او رعناوین کابھی اضافہ کیا ہے۔ تاکہ مباحث کی تفہیم میں آسانی رہے۔ اور احادیث مبارکہ کےحوالےبھی درج کردیے ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ، مترجم  وناشرین کی اس کاوش  کو شرف ِقبولیت سے  نوازے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 5 #5070

    مصنف : ڈاکٹر سید شفیق الرحمن

    مشاہدات : 3267

    اہل سنت کا منہج تعامل کتاب و سنت اور فہم سلف کی روشنی میں

    (جمعہ 13 جنوری 2017ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کے بعد ضروری ہے کے اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے ساتھ محبت اور اس کے دشمنوں کے ساتھ عداوت ونفرت قائم کی جائے چنانچہ عقیدہ اسلامیہ جن قواعد پر قائم ہے، اُن میں سے ایک عظیم الشان قاعدہ یہ ہے کے اس پاکیزہ عقیدے کو قبول کرنے والا ہر مسلمان اس عقیدے کے ماننے والوں سے دوستی اور نہ ماننے والوں سے عدوات رکھے۔اسلام میں دوستی اور دشمنی کی بڑی واضح علامات بیان کی گئی ہیں، ان علامات کو پیش نظر رکھ کر ہر شخص اپنے آپ کو تول سکتا ہے کہ وہ کس قدر اسلام کی دوستی اور دشمنی کے معیار پر پورا اُتر رہا ہے۔ الولاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی دوست ،مدگار، حلیف کے ہیں۔ عقیدہ الولاء کی رو سے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سےاس کےبعد رسول اکرمﷺ سے اور اس کے بعد تمام اہل ایمان سے محبت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔البراء بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا یا دشمنی کا اظہار کرنایا کسی سے قطع تعلق کرنا ہے ۔عقیدہ البراء کی روہ سے اسلام دشمن کفار سے شدید نفرت اور بیزاری کااظہار کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور موقع ملنے پر ان کے خلاف جہاد کرنا ان کی قوت توڑنا او ران سے ظلم کا بدلہ لینا فرض ہے ۔شریعت ِاسلامیہ میں عقیدہ ’’الولاء والبراء‘‘ بہت اہمیت رکھتاہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید کی کوئی ایک سورت بلکہ کوئی ایک صفحہ ایسا نہیں جس میں ’’ الولاء والبراء‘‘ کےبارے میں احکام نہ دئیے گئے ہوں یا کسی نہ کسی طرح ’’ الولاء والبراء‘‘کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو۔قرآن مجید کی ابتداء سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے جس میں صرف سات آیات ہیں لیکن اس میں سورۃ میں بھی ’’ولاء‘‘ اور ’’براء‘‘ کا مضمون بھر پور انداز میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اہل سنت کا منہج تعامل ‘‘ ڈاکٹر سیدشفیق الرحمٰن کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں نہایت ہی احتیاط اوراعتدال کے ساتھ امت کو جوکہ فرقہ پرستی کی آگ کے شعلہ جوالہ میں جل رہی ہے وحدت واتحاد کا جام شریں پیش کیا ہے ۔ اور خلاف شریعت کاموں پر اور نظریات پر جونفرت ہونی چاہیے اسے بھی روشناس کیا ہے۔اور بہت سےعلمی اور فکری فتنوں کا تذکرہ کر کے فکر صحابہ کو ہی صائب اوردرست قرار دیا ہے ۔یہ کتاب عقائد کا مختصر اورنہایت عمدہ مجموعہ ہے ۔یہ کتاب اپنے عام فہم اسلوب کی وجہ سے جہاں علماء وطلباء کے لیے مفید ہے وہاں عوام الناس کے لیے بھی اس پُرفتن دور میں مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔(م۔ا)

  • طائفہ منصورہ کی صفات

    (منگل 24 جنوری 2017ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    آج عالم اسلام بہت کثرت کے ساتھ فرقہ بندی، گروہ بندی اور جماعتی انتشار کا شکار ہے۔ہر فرقہ وگروہ دوسرے سے ہٹ کر اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کی فتح ونصرت کا فریضہ صرف اسی کے ہاتھوں سر انجام پانے والا ہے۔بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس جماعت کا حق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ نبوی منہج اور سلف صالحین کے طریقے کو اختیار کرنے والی ہوتی ہے۔مختلف جماعتوں کے وجود نے عام لوگوں کے ذہن میں تمام جماعتوں کے بارے میں شک وشبہ کا بیج بو دیا ہے۔حالانکہ جھوٹی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سچی جماعتیں اور گروہ بھی موجود ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ عام سوچ اور فکر رکھنے والے لوگ جماعتوں اور گروہوں سے اس فرق کے بغیر ہی جدا ہو گئے کہ کونسی جماعت حق پر ہونے کی وجہ سے ان کی دوستی کی مستحق ہے اور کونسی جماعت باطل پر ہونے کی وجہ سے براءت کی مستحق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "طائفہ منصورہ کی صفات "محترم عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر الطرطوسی صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تلخیص محترم ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب نے کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں طائفہ منصورہ اور جماعت حق کی صفات بیان کی ہیں کہ جن جن لوگوں میں یہ صفات ہوں گی وہ حق پر ہونگے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

  • طاغوت پہچان ، حکم ، برتاؤ

    (اتوار 16 جولائی 2017ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    طاغوت، عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں، بت، جادو، جادوگر، گمراہوں کا سردار(ابلیس)، سرکش، دیو اور کاہن۔قرآن کریم میں یہ لفظ 8 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔شرعی اصطلاح میں طاغوت سے مراد خاص طور پر وہ شخص ہے، جو ارتکاب جرائم میں ناجائز امور میں اپنے گروہ کا سرغنہ یا سربرہ ہو۔طاغوت کی تعریف ادب ولغت کے امام جوہری نے یہ کی ہے۔ والطاغوت الکاہن والشیطان وکل راس فی الضلال۔ یعنی طاغوت کا اطلاق کاہن اور شیطان پر بھی ہوتا ہے اور اس شخص کو بھی طاغوت کہتے ہیں جو کسی گمراہی کا سرغنہ ہو۔اسلامی اصطلاح میں اس سلسلے میں مزید وسعت ہے۔ طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الہی کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ نظام عدالت بھی اسی میں آتا ہے، جو نہ تو اقتدار اعلی یعنی اﷲ کا مطیع ہو اور نہ اﷲ کی کتاب کو سند مانتا ہو۔ لہذا قرآن مجید میں ایک آیت کے حوالے سے ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے، لے کر جانا ایمان کے منافی ہے۔قرآن کی رو سے اﷲ پر ایمان اور طاغوت سے کفر یعنی انکار دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ اگر خدا اور طاغوت دونوں کے سامنےسرجھکایا جائے تو ایمان کی بنیادی شرط پوری نہیں ہوتی۔ زیر تبصرہ کتاب"طاغوت، پہچان، حکم، برتاؤ "محترم عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر طرطوسی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردوترجمہ محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے طاغوت کی پہچان کرواتے ہوئے اس کا حکم بیان کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس کے ساتھ برتاؤ کیسا ہونا چاہئے۔ ا للہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم  کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور  ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 #6533

    مصنف : علامہ علی الخضیر

    مشاہدات : 1362

    توحید مفہوم ، اقسام ، نواقض

    (جمعرات 31 مئی 2018ء) ناشر : منبر التوحید والسنہ، بہاولپور

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ توحید مفہوم، اقسام ، نواقض ‘‘ علامہ علی الحفیر ﷾ کی کتب بالخصوص المعتصر شرح کتاب التوحید سے ماخوذ ہے ۔اس کتاب میں دیگر علمائے عرب کے مضامین سے بھی علمی نکات شامل کئے گئے ۔اس کتاب میں توحید کا معنیٰ مفہوم ، تعریف ، توحید کی معروف تین اقسام اور او ر ان کے دلائل و نواقض کو بڑی جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 ... >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1858
  • اس ہفتے کے قارئین 7698
  • اس ماہ کے قارئین 59731
  • کل قارئین49527999

موضوعاتی فہرست