عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر الطرطوسی

2 کل کتب
دکھائیں

  • 1 طائفہ منصورہ کی صفات (منگل 24 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1870

    آج عالم اسلام بہت کثرت کے ساتھ فرقہ بندی، گروہ بندی اور جماعتی انتشار کا شکار ہے۔ہر فرقہ وگروہ دوسرے سے ہٹ کر اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کی فتح ونصرت کا فریضہ صرف اسی کے ہاتھوں سر انجام پانے والا ہے۔بسااوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس جماعت کا حق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ نبوی منہج اور سلف صالحین کے طریقے کو اختیار کرنے والی ہوتی ہے۔مختلف جماعتوں کے وجود نے عام لوگوں کے ذہن میں تمام جماعتوں کے بارے میں شک وشبہ کا بیج بو دیا ہے۔حالانکہ جھوٹی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سچی جماعتیں اور گروہ بھی موجود ہیں۔نتیجہ یہ نکلا کہ عام سوچ اور فکر رکھنے والے لوگ جماعتوں اور گروہوں سے اس فرق کے بغیر ہی جدا ہو گئے کہ کونسی جماعت حق پر ہونے کی وجہ سے ان کی دوستی کی مستحق ہے اور کونسی جماعت باطل پر ہونے کی وجہ سے براءت کی مستحق ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "طائفہ منصورہ کی صفات "محترم عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر الطرطوسی صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تلخیص محترم ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب نے کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں قرآن وسنت کی روشنی میں طائفہ منصورہ اور جماعت حق کی صفات بیان کی ہیں کہ جن جن لوگوں میں یہ صفات ہوں گی وہ حق پر ہونگے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا ن کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(راسخ)

  • 2 طاغوت پہچان ، حکم ، برتاؤ (اتوار 16 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1281

    طاغوت، عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے لفظی معنی ہیں، بت، جادو، جادوگر، گمراہوں کا سردار(ابلیس)، سرکش، دیو اور کاہن۔قرآن کریم میں یہ لفظ 8 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔شرعی اصطلاح میں طاغوت سے مراد خاص طور پر وہ شخص ہے، جو ارتکاب جرائم میں ناجائز امور میں اپنے گروہ کا سرغنہ یا سربرہ ہو۔طاغوت کی تعریف ادب ولغت کے امام جوہری نے یہ کی ہے۔ والطاغوت الکاہن والشیطان وکل راس فی الضلال۔ یعنی طاغوت کا اطلاق کاہن اور شیطان پر بھی ہوتا ہے اور اس شخص کو بھی طاغوت کہتے ہیں جو کسی گمراہی کا سرغنہ ہو۔اسلامی اصطلاح میں اس سلسلے میں مزید وسعت ہے۔ طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الہی کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور وہ نظام عدالت بھی اسی میں آتا ہے، جو نہ تو اقتدار اعلی یعنی اﷲ کا مطیع ہو اور نہ اﷲ کی کتاب کو سند مانتا ہو۔ لہذا قرآن مجید میں ایک آیت کے حوالے سے ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے، لے کر جانا ایمان کے منافی ہے۔قرآن کی رو سے اﷲ پر ایمان اور طاغوت سے کفر یعنی انکار دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ اگر خدا اور طاغوت دونوں کے سامنےسرجھکایا جائے تو ایمان کی بنیادی شرط پوری نہیں ہوتی۔ زیر تبصرہ کتاب"طاغوت، پہچان، حکم، برتاؤ "محترم عبد المنعم مصطفی حلیمہ ابو بصیر طرطوسی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔اردوترجمہ محترم ڈاکٹر سید شفیق الرحمن صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے طاغوت کی پہچان کرواتے ہوئے اس کا حکم بیان کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس کے ساتھ برتاؤ کیسا ہونا چاہئے۔ ا للہ تعالی  سے...


0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

0 کل کتب
دکھائیں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 816
  • اس ہفتے کے قارئین: 7347
  • اس ماہ کے قارئین: 26640
  • کل قارئین : 47729640

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں