کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 41 #1277

    مصنف : ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا

    مشاہدات : 19435

    حیات صحابہ کے درخشاں پہلو

    (بدھ 02 مئی 2012ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نےآغوش نبوت میں تربیت پائی، ان کے سینوں پر انوار رسالتﷺ براہِ راست پڑے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے متعلق رضی اللہ عنہم ارشاد فرمایا۔ حضرات صحابہ کرام کی زندگیاں امت مسلمہ کے لیے مینارہ نور اور مشعل راہ ہیں اسی کے پیش نظر ان کی زندگی کے لمحات کو قرطاس میں محفوظ کیا گیااور اس حوالے سے الاصابہ اور اسد الغابہ جیسی ضخیم کتب سامنے آئیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں بھی انھی ہستیوں کی زندگی کے حالات و واقعات نقل کیے گئے ہیں۔ ’حیات صحابہ کے درخشاں پہلو‘ دکتور عبدالرحمان رافت الباشا کی کتاب ’صور میں حیاۃ الصحابہ‘ کا اردو قالب ہے۔  اردو ترجمہ محمود احمد غضنفر نے کیا ہے۔ جو ترجمہ تصنیف میں ایک مقام رکھتے ہیں۔ یہ کتاب بلاشبہ اردو ادب میں ایک گراں مایہ اضافہ ہے اور پڑھنے والوں کے لیے ایسے مواد کی فراہمی ہے جو قلب و ذہن کے تزکیہ کا باعث ہو گی۔ کتاب کی افادیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یہ متعدد مدارس کے نصاب میں شامل ہے اور اب تک اس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ (ع۔م)

  • 42 #867

    مصنف : محمد یوسف کاندھلوی

    مشاہدات : 22000

    حیاۃ الصحابہ رضی اللہ عنہ (اردو) جلد اول

    dsa (پیر 11 جولائی 2011ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین دین کی اساس اور اس کے اولین مبلغ ہیں۔انہی لوگوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھا اور ہم تک پہنچایا۔یہ وہ مبارک جماعت ہے جسے خداوند عالم نے اپنے پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم  کی مصاحبت کےلیے چنا اور ان کے ایمان کو ہمارے لیے ایک نمونہ قراردیا ۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی زندگی حضرت رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا اعلیٰ ترین ثبوت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت سے ایسے  عظیم الشان لوگ تیار ہوئے جنہوں نے اطراف واکناف عالم میں خدا کے دین کو غالب کر دیا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے احوال زندگانی کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دلوں میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جذبات بیدار ہو ں اور دین خداوندی کی خاطر کٹ مرنے کا داعیہ پیدا ہو۔سچ یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات مسلمانوں کے لیے حیات نو کا پیغام اور تجدید دین کا سامان رکھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے تذکرے پر مشتمل ہے اصل عربی کتاب مولانا یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے جو بانی تبلیغی جماعت مولانا الیاس کاندھلوی رحمہ اللہ کے فرزند ہیں۔یہ اس کا اردو ترجمہ ہے،جس سے اردو دان طبقے کے لیے استفادہ کی راہ آسان ہو گئی ہے۔اس کے بارے میں یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس کی تخریج و تحقیق کا اہتمام نہیں کیا گیا،جس کی بناء پر اس میں موجود روایات پر کلی اعتماد نہیں کیا جاسکتا،تاہم بحثیت مجموعی اس کا مطالعہ مفید رہے گا۔(ط۔ا)

  • 43 #6515

    مصنف : ابو زید شبلی

    مشاہدات : 2229

    خالد سیف اللہ حضرت خالد بن ولید زندگی اور فتوحات

    (اتوار 27 مئی 2018ء) ناشر : مکتبہ جدید پریس لاہور

    سیدنا خالد بن ولید  قریش کے ایک معزز فرد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ نبی ﷺ نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔ جب آنحضور ﷺنے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیاتو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور ﷺکے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا خالد بن ولید  نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی اس لیے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔خالد بن ولید   کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد   نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج  کو مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔ نبی پاک ﷺکی وفات کے بعدخلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق   کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسیلمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید   جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“آپ نے جنگ احد سے خلیفہ  ثانی امیر المومنین سید نا عمر فاروق   تک جتنی جنگیں لڑیں ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری۔سیدنا خالد بن ولید انتہائی اہم شخصیت کے مالک تھے مرتدین کا زور توڑنے اور سواد عراق اور شام کو فتح کرنے  میں  جو کارہائے نمایاں آپ نے  سرانجام دئیے وہ تاریخ  میں بے حداہمیت کے حامل ہیں جس حیرت انگیز قابلیت کے ساتھ آپ نے اسلامی  فوجوں کی کمان کی  اسی کا اثر تھا کہ جب  دشمن سنتے تھے کہ خالد بن ولید ان   کے مقابلے  کے لیے آرہے ہیں  تو ان کے چھکے چھوٹ جاتے تھے اور وہ مقابلے سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھتے تھے۔سیدنا خالدبن ولید  امیر المومنین  سیدنا عمر فاروق   کی خلافت میں  21ھ 642ء میں شام کے شہر حمص میں فوت ہوئے ۔اپنی وفات پر انہوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق کےہاتھوں اپنی جائیداد  کی تقسیم کی وصیت کی۔سوانح نگاروں نے سیدنا خالد بن ولید    کی شجاعت وبہادری ، سپہ سالاری ،فتوحات  کے متعلق   کئی کتب تصنیف کی  ہیں  بعض کتب دلچسپ ناولوں کی صورت میں  بھی  تحریر کی گئی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’خالد سیف  اللہ  حضرت خالد بن ولید زندگی اور فتوحات ‘‘بھی  اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ یہ کتاب  ابو زید شلبی کی عربی کتاب کا  اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف نے  اس کتاب کے مرتب کرنے میں بڑی محنت کی ہے  اور کوشش کی ہے  کہ یہ کتاب کسی پہلو سے بھی تشنہ تکمیل نہ رہے ۔موصوف نے   سیدنا خالد بن ولید   کی زندگی کے تمام نمایاں پہلو ؤں کو نمایاں کرتےہوئے  روم وفارس میں جو کارہائے نمایاں  خالد بن ولید نے انجام دیئے اور ان علاقوں میں اسلام کا نام پہنچانے کے لیے آپ نے جو عدیم المثال قربانیاں پیش کیں کی ان کا نقشہ بڑے خوبصورت اندا ز میں  پیش کیا ہے ۔شیخ محمد احمد پانی پتی نےاس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔(م۔ا)

  • 44 #3395

    مصنف : جار اللہ زمخشری

    مشاہدات : 3136

    خلفائے راشدین اور اہل بیت کرام کے باہمی تعلقات

    (منگل 14 جولائی 2015ء) ناشر : مجلس توقیر صحابہ، لاہور

    صحابہ کرام ﷢ وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام ﷢ خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام ﷢ کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔ زیر تبصرہ کتاب " خلفاء راشدین﷢ اور اہل بیت کرام﷢کے باہمی تعلقات "پانچویں صدی ہجری کے معروف عالم دین علامہ جار اللہ زمخشری ﷫کی عربی تصنیف "الموافقۃ بین اھل البیت والصحابۃ"کا اردو ترجمہ ہے۔ اور ترجمہ کرنے کی سعادت مبلغ اسلام مولانا احتشام الحسن صاحب کاندھلوی نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف ﷫نے اس کتاب میں صحابہ کرام ﷢کے ایک دوسرے کے بارے کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔ اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 45 #3970

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 2210

    خلیفہ اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (اشفاق احمد خاں)

    (جمعہ 15 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی   مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے   انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم   کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار، امارت، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔سیدنا ابوبکر صدیق﷜ قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ ہیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق﷜ ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا۔ نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر ﷜ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں محفوظ کرنے کی سعادت نامور شخصیات کو حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’سیدنا ابو بکر ﷜‘‘ محترم جنا ب اشفاق احمد خاں صاحب کی تحریر ہے اس میں انہوں نے انتہائی اختصار کے ساتھ خلیفہ اول سیدناابو بکر ﷜ کی مکمل سیر ت، قبول اسلام، حیات وخدمات ،کارنانوں اورخلافت کو بڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہےکہ چھوٹے بڑے اس کو بڑی آسانی سے ایک ہی نشت میں پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور صحابہ جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 46 #4027

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1844

    خلیفہ سوم سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ (اشفاق احمد خاں)

    (ہفتہ 16 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی ﷜ کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین ﷜ کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ ﷜کا نام عثمان  اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ﷜ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق ﷜ کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔ ۔ حضور  ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی ﷜ کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔  سیدناعثمان غنی ﷜اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ﷜  ہوگا۔ سیدنا عثمان  ﷜ کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم﷜ نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ  رضى الله عنها کا نکاح آپ  سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان ﷜ بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ رضى الله عنها حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہ رضى الله عنها کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم رضى الله عنها کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ  کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان ﷜نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی  ﷜  نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی ﷜  کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان ﷜  کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ  ﷢ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی ﷜   کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔ قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی ﷜  واپس آگئے۔ خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق  ﷜ کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر﷜ کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا۔ دینی معاملات پر آپ   کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی۔ سیدنا عثمان غنی ﷜   صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان  ﷜کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان  اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ  ﷜ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ  ﷜ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور﷜ نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ  نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ  کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا تقریبا چالیس روز بھوکے پیاسے82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان ﷜ کو جمعة المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق ﷜ کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔ ان کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کا ایک تابناک اور روشن باب ہے ۔ ان کے عہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف ِ عالم تک پھیل گئیں اور انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی حکومتیں روم، فارس، مصر کےبیشتر علاقوں میں پرچم اسلام بلند کرتے ہوئے عہد فاروقی کی عظمت وہیبت اور رعب ودبدبے کو برقرار رکھا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط مستحکم اورعظیم الشان اسلامی مملکت کواستوار کیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’سیدنا عثمان غنی ﷜‘‘ محترم جنا ب اشفاق احمد خاں صاحب کی کاوش ہے اس میں انہوں نے انتہائی اختصار کے ساتھ دماد رسول ﷺ خلیفہ ثالث سیدناعثمان غنی ﷜ کی مکمل سیر ت ، قبول اسلام ، حیات وخدمات، عادت وخصال ،کارنانوں ،خلافت اور ان کی الم ناک شہادت کے واقعہ کو کو بڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہےکہ چھوٹے بڑے اس کو بڑی آسانی سے ایک ہی نشت میں پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور صحابہ جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔ آمین (م۔ا)

  • 47 #4028

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1902

    خلیفہ چہارم سیدنا علی المرتضیٰ (اشفاق احمد خاں)

    (اتوار 17 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    خلافت وامارت کا نظام دنیا میں مسلمانوں کی ملی وحدت اور مرکزیت کی علامت ہے ۔ عہدِ نبوت میں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک کودنیائے اسلام میں مرکزی حثیت حاصل ہے تھی اور اس مبارک عہد میں امت کی قیادت وسیادت کامنصب آپ ہی کے پاس تھا۔ آپ ﷺ کے بعد لوگوں کی راہنمائی اور اسلامی مرکزیت کوبراقراررکھنے کے لیے خلفائے راشدین آپ ﷺ کے جانشین بنے۔ خلفائے راشدین کا دورِ حکومت تاریخ اسلام کاایک تابناک اورروشن باب ہے ا ن کےعہد زریں میں عظیم الشان فتوحات کی بدولت اسلامی سلطنت کی حدود اطراف عالم تک پہنچ گئیں ۔انہوں نے اس دور کی بڑی بڑی سلطنتوں کوشکست دے کر پرچم ِ اسلام کو مفتوحہ علاقوں میں بلند کیا اور باطل نظاموں کو ختم کر کے ایک مضبوط ، مستحکم اور عظیم الشان اسلامی کی بنیاد رکھی۔ عہد نبوت کےبعد خلفائے راشدین کا دورِ خلافت عدل وانصاف پر مبنی ایک مثالی دورِ حکومت ہے جو قیامت تک قائم ہونے والی اسلامی حکومتوں کےلیے رول ماڈل ہے۔خلفائے راشدین کے مبارک دور کا آغاز سیدنا ابو بکر صدیق﷜ کے دورِ خلافت سے ہوتا ہے، ان کے بعد سیدنا عمر فاروق ﷜اور سیدنا عثمان ﷜ کا دور آتا ہے۔ سیدنا عثمان ﷜ کے بعد سیدنا علی المرتضیٰ چوتھے خلیفہ راشدبنے۔ ان کے زمامِ خلافت سنبھالتے ہی فتنۂ تکفیر اور فتنۂ خوارج جیسے بڑے برے فتنوں نے سر اٹھا یا اور مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں اور اختلافات میں بڑی شدت آگئی او رنوبت صحابہ کرام ﷢ کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی اور واقعۂجمل اور جنگِ صفین جیسے خون ریز واقعات رونما ہوئے ۔سیدناعلی ﷜ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی ﷜ نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔ اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا﷞ کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی ﷜ بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے۔ بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان ﷜ کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب فرماتے۔خراج کی آمدنی کا نہایت سختی سے حساب لیتے۔ ذمیوں کے حقوق کا خاص خیال رکھتے۔ عدل وانصاف کارنگ فاروق اعظم کے عہد سے کسی طرح کم نہ تھا۔محکمہ پولیس جس کی بنیاد سیدنا عمر ﷜نے رکھی تھی۔اس کی تکمیل بھی سیدناعلی ﷜ کے زمانے میں ہوئی۔ نماز فجر کے وقت   ایک خارجی نے سیدنا علی ﷜ پر زہر آلود خنجر سے حملہ کیا جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے ۔اور حملہ کے تیسرے روز رحلت فرماگئے۔انتقال سے پہلے تاکید کی کہ میرے قصاص میں صرف قاتل ہی کو قتل کیا جائے کسی اور مسلمان کا خون نہ بھایا جائے۔خلفائے راشدین کی سیرت امت کےلیے ایک عظیم خزانہ ہے اس میں بڑے لوگو ں کےتجربات،مشاہدات ہیں خبریں ہیں امت کے عروج اور غلبے کی تاریخ ہے ۔ اس کےمطالعہ سے ہمیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ کن کن مواقع پر اہل حق کوعروج وترقی ملی ۔خلفاء راشدین کی سیرت شخصیت ،خلافت وحکومت کےتذکرہ پر مشتمل متعد د کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’سیدنا علی المرتضیٰ ﷜‘‘ محترم جنا ب اشفاق احمد خاں صاحب کی کاوش ہے اس میں انہوں نے انتہائی اختصار کے ساتھ حیدر کرار دماد رسول ﷺ خلیفہ چھارم سیدناعلی بن ابی طالب ﷜ کی مکمل سیر ت، قبول اسلام، حیات وخدمات، عادت وخصال ،کارنانوں، شجا عت وبہادری، خلافت اور ان کی شہادت کے واقعہ کو کو بڑے احسن انداز میں تحریر کیا ہےکہ چھوٹے بڑے اس کو بڑی آسانی سے ایک ہی نشت میں پڑھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور صحابہ جیسی زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)

  • 48 #4397

    مصنف : عبد الرشید حنیف

    مشاہدات : 1522

    خون صحابہ ؓ

    (جمعہ 15 اپریل 2016ء) ناشر : ادارہ علوم اسلامی، جھنگ

    یہ بات روز اول سے چلی آرہی ہے کہ حق گوئی کرنےوالوں کو کبھی ظالم وجابر معاشرہ برداشت نہیں کرتا ۔اس کام کے لیے وہ ایڑھی چوٹی کا زور لگاتا ہے اس کے راستے میں روکاوٹیں حائل کی جاتی ہیں ۔طعنہ و تشنیع،گالیاں، برابھلا،موت کی دھمکیاں،جیل ،تختہ دار اور اہل خانہ کو اذیتیں دینا ظالم حکمران کا شیوا رہا ہے ۔صاحب اقتداراپنے تخت وتاج سے ہر سہولت تو خرید سکتے ہیں مگرکلمہ حق کہنے والوں کو نہیں دبا سکتے ۔او ر اسی طرح ہر دور میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے سعادت حاصل کرتے رہے ہیں اور جنتوں کے حق دار ٹھہرے۔آپﷺ نے جب دین حق کا پرچار کیا تو عرب زمانہ جاہلیت میں غوطہ زن تھا۔لوگوں نے مجنوں،دیوانہ،شاعر جیسے الفاظ کسےآپﷺ پر اپنوں نے ساتھ چھوڑ دیا اقتدار والوں نے مال ودولت کی آفر کی، دین حق سے پھسلانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔اور آپﷺ کے جانثاروں پر زندگی تنگ کر دی گئی۔گرم صحراء،سولی ،قتل اور طرح طرح کی تکالیف سے دوچار کیاگیا مگروہ استقامت کا پہاڑبن کر امت کے لیے مشعل راہ بن گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب"خون صحابہ" مولانا عبدالرشید حنیف کی کاوش ہے اس میں میں آپﷺ کی دین حق کے لیے قربانیاں دینا طائف میں پتھرکھانا،احد میں اپنے دندان مبارک شہید ہونااو ر صحابہ کرام کا دین حنیف کی خاطر سب کچھ قربان کرتے ہوئے استقامت اختیار کرنے کا ذکر کیاگیاہے۔اللہ تعالی مصنف وناشرین کو اجر عظیم عطا کرے اور تمام داعیان اسلام کو استقامت کی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین)(عمیر)

  • 49 #1714

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 4936

    خیرالبشر کے چالیس جانثار

    (اتوار 09 جون 2013ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)
     

  • 50 #5249

    مصنف : قاضی مظہر حسین

    مشاہدات : 3537

    دفاع حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ

    (ہفتہ 01 اپریل 2017ء) ناشر : ادارہ مظہر التحقیق لاہور

    سیدنا معاویہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں ،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی کی وفات کے بعد ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے سیدنا معاویہ ابی سفیان کے متعلق مستند کتب لکھ کر سیدنا معاویہ کے فضائل ومناقب،اسلا م کی خاطر ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کے ان کے خلاف کےجانے والےاعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’ دفاع حضرت امیر معاویہ ‘‘ مولانا قاضی مظہر حسین کی سید نا امیر معاویہ کے فضائل ومناقب اور دفاع کے حوالے ایک تحقیقی کاوش ہے ۔یہ کتاب دراصل مولوی مہرشاہ کی کتاب کھلی چھٹی کے جواب میں تحریر کی گئی ہے ۔صاحب کتاب نے سیدنا معاویہ کے دفاع کے سلسلہ میں اس کتاب میں متوازن اور موزوں موقف پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1886
  • اس ہفتے کے قارئین 7871
  • اس ماہ کے قارئین 46265
  • کل قارئین49340778

موضوعاتی فہرست