دکھائیں کتب
  • اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ایک امن و سلامتی کا دین ہے۔جب آنحضرتﷺ نے لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کی تب عرب قبائل بت پرستی اور جہالت کی تاریکیوں میں غوطہ زن تھے۔اسلام نے ہر طرف پھیل کر طاغوتی طاقتوں کا قلع قمع کیا۔لوگوں کو گمراہیوں سے بچا کر راہ ہدایت سے ہمکنار کیاتو دشمنان اسلام نے منافقت سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنےکی خفیہ سازشیں کیں اور انتہائی غیر محسوس طریقے سے حق و باطل کی آمیزش کی۔ اس طرح حقیقت نظروں سے اوجھل ہوئی اور قرون اولیٰ کی عظمت رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر گیا۔آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ اول بنے اور امت محمدیہ کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ آپ کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم بنے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہحق وباطل کےدرمیان فارق تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام ایک طوفان کیطرح اقصائے عالم پر چھا گیاایران و روم کی عظیم سلطنتوں کو شکست سے دو چار کیااور بیت المقدس کو یہودیوں کی چنگل سے آزاد کروایا۔ زیر تبصرہ کتاب"انتخاب لاجواب"محمد اسماعیل کی تصنیف ہےجس میں موصوف نے خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری کو مختصر اور جامع انداز میں قلمبند کیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزائے خیر عطافرمائےاور اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 22 انوکھا سخی سعید بن عاص رضی اللہ عنہ (منگل 05 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2038

    سخاوت،وفیاضی ان قدیم اخلاقیات میں سے ایک ہے جسے اولوالعزم طبیعتوں نے ہرزمانے میں اپنایا اوراپنی رفعت وبلندی اورشرافت وعظمت کی دلیل سمجھا ، زمانہ جاہلیت میں سخاوت عرب معاشرے کی ایک زریں صفت تھی ،شعراء اپنے اشعار میں سخاوت کی خوب داد دیتے تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں جولوگ سخاوت سے مشہور ہوئے ان میں ایک نام حاتم الطائی کابھی آتاہے، اس کے متعلق سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ سن شعور سے ہی اپنے حصہ کاکھانالیکر باہر نکل جاتا اورکسی کوتلاش کرکے اس کے ساتھ کھاتا تھا،اگرکوئی ساتھ کھانے والانہ ملتاتوکھاناپھینک کرگھرلوٹ آتا- تاہم زمانہ جاہلیت کی سخاوت وفیاضی پرفخر ومباہات اورنیک نامی کی چھاپ تھی ،لیکن جب اسلام کانیرتاباں حراکے افق پرطلوع ہواتواس نے اس عمدہ وصف کورب کریم کی رضاجوئی اورخوشنودی سے مربوط کردیا،چنانچہ یہ صفت ایک مومن صادق کی پہچان اورعلامت بن گئی۔سخاوت کی اہمیت کے پیش نظراللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کومتعددآیات میں باربارانفاق کی ترغیب دلائی ۔سخاوت وفیاضی اللہ کے رسول ﷺ کی امتیازی شان تھی ،آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ،فیاض اور دریادل تھے ،کبھی آپ نے سائل کونفی میں جواب نہیں دیا، آپ کی سخاوت وفیاضی کے سامنے بڑے بڑے بادشاہ بھی گھٹنے ٹیک دیں۔ اسی طرح صحابہ کرام بھی ایک دوسرے سے بڑھ کرسخی تھےحضرت عثمان ﷜ کی سخاوت بھی بہت مشہورہے آپ کی سخاوت سے اسلام کو بہت فائد پہنچا۔سیدنا ابوبکر﷜ کی خلافت میں ایک مرتبہ لوگ قحط کے شکارہوئے ،لوگوں نے خلیفہ وقت کے پاس آکراپنی بدحالی کی شکایت کی توآپ نے فرمایا:لوٹ جائیں اورصبرکریں ہمیں امیدہے کہ شام تک اللہ تعالی آپ کی مشکلات...

  • 23 باغ نبوت کا پھول (حسن بن علی بن ابی طالب)۔1 (اتوار 10 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1804

    سیدنا حسن﷜ دماد ِ رسول حضرت علی﷜ کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن﷜ نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر کتابچہ ’’ باغ نبو ت کا پھول کا سید حسن بن علی بن ابی طالب ﷜‘‘ جناب اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے۔ اور دارالسلام کی سلسلہ دور نبوت کےبچے سیریز کا پہلا حصہ ہے۔ یہ کتابچہ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل ہے۔ مرتب نے بڑے خوبصور ت اور عام فہم انداز میں سیدنا حسن بن علی ﷜ کے بچپن، جوانی ،خلافت او ران کی عادات خصال کو اس انداز سے مختصرا ً بیان کیا   ہے کہ ایک ہی نشت میں   اسےآسانی سے پڑھا جاسکتاہے۔(م۔ا)

  • 24 باغ نبوت کا پھول (حسین بن علی بن )۔2 (پیر 11 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1991

    سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے لخت جگر، اور سیدنا علی ﷜کے نور نظر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا گیا او ر سر کے بال مونڈے گئے۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے   اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔ سیدنا حسین نے پچیس حج پیدل کیے۔جہاد میں بھی حصہ لیتے رہے۔پہلا لشکر جس نے قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔اس میں بھی تشریف لے گئے۔ وہاں میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی وفات ہوئی تو امام کے پیچھے ان کے جنازے میں بھی شریک ہوئے۔آخری مرتبہ جب مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہل...

  • 25 بستان صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین (بدھ 03 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1929

    آج سے  چودہ صدیاں قبل  جب  لوگ ظلمت وکفر اور شرک میں پھنسے ہوئے تھے۔بیت اللہ میں  تین  سوساٹھ بتوں کو پوجا  جاتا  تھا۔ قتل وغارت ، عصمت فروشی، شراب نوشی، قماربازی  اور چاروں طرف  بدامنی کا دوردورہ تھا۔تومولائے کریم کی  رحمت  کاملہ جوش میں آئی اوراس بگھڑے  ہوئےعرب معاشرے کی اصلاح کےلیے  خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمائے ۔آپ کی بعثت نبوت کے شروع میں  ہی ایک مختصر سی جماعت   آپﷺ پر ایمان لائی۔ جوآہستہ آہستہ  بڑھ کر ایک عظیم طاقت اور حزب اللہ  ،خدائی لشکر کی صورت اختیار کر گئی۔ اس  جماعت  نے  آپﷺ کے مشن کی تکمیل کی  خاطر  تن من دھن  کی بازی  لگادی ۔چنانچہ رسول  کریم   ﷺ نے  اللہ تعالیٰ کی مدد اور سرفروش جماعت کی معیت  سے  جزیرۃ العرب کی  کایا پلٹ کررکھ دی ۔اس جماعت کو اصحاب النبیﷺ کےنام سے  پکارا جاتا ہے ۔ان کے بعد  میں  آنے والی ساری امت مجموعی طور پر تقویٰ اور اتباع کے  مراتب  عالیہ  طے کرنے کے باوجود بھی ان اصحاب رسول ؐ کے مرتبے کو ہر گز نہیں پہنچ سکتی ۔ صحابہ کرام ﷢ کی جماعت  انبیاء ورسل کے بعد  سب مخلوق سے افضل ترین جماعت  ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے  قرآن  مجید میں  اور نبی  کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ نبوت سے  صحابہ کے  فضائل ومناقب کو بیان کیا۔کئی اہل علم نے  بھی   صحابہ کرام ﷢ کے  فضائ...

  • 26 تذکرہ شہدائے بدر و احد (پیر 29 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2482

    اسلام اور کفر کے درمیان پہلا معرکہ جنگ بدر کی صورت میں لڑا گیا ہے ۔اس غزوہ میں اللہ کے فضل سےمسلمان سرخرو رہے اور ذلت ورسوائی مشرکین کا مقدر ٹھہری۔اس جنگ نے مشرکین مکہ کاغرور خاک میں ملاد یا ۔ان کے ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور تقریبا اتنےہی گرفتار ہوئے۔اور چودہ مسلمان بھی خلعت شہادت زیب تن کر کے جنت کے مکیں ہوئے اور باقی بہت سا مال غنیمت حاصل کر کے مدینہ منورہ کو واپس لوٹے ۔بدرکی جنگ میں مشرکین مکہ کو بدترین شکست اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھااس شکست اور ذلت کاخیال کسی بھی لمحے ان کا پیچھا نہیں چوڑتا تھا۔ پورے خطۂ عرب میں ان کی شہرت خاک میں مل گئی تھی ۔ اور وہ بدلہ لینے کے لیے مرے جارہے تھے ۔انہوں نے مکہ مکرمہ جاکر اعلان کر دیا تھا کہ بدر کےمقتولین پر نہ تو کوئی روئے اور نہ ان پر مرثیہ خوانی کرے ہم مسلمانوں سے اس کا بدلہ لے کرر ہیں گے ۔آخر کار خو ب تیاری کر کے شوال 3ھ میں تقریبا تین ہزار کا لشکر مدینہ منور ہ سے کچھ فاصلے پرجبل احد کے قریب آٹھہرا۔مشرکین کے لشکر کی قیادت سیدناابوسفیان کے پاس تھی اورمسلمانوں کی قیادت حضور ﷺنے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔اس معرکہ میں ستر کے قریب صحابہ کرام جام شہادت نوش کر گئے اور نبی کریم ﷺ بھی اس میں زخمی ہوگئے تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ شہدائے بدر واحد‘‘ محترم جنا ب جناب پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی ﷾ (فاضل مدینہ یون...

  • صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حی...

  • 28 جرنیل صحابہ رضی اللہ عنہم (بدھ 15 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:3936

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ  کرام   میں سے بعض صحابہ کرام   ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد  میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری  کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب "جرنیل صحابہ" جماعت اہلحدیث کے نامور صاحب قلم اور ادیب محترم مولانا محمود احمد غضنفر کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پچیس صاحب عزیمت اور جرنیل صحابہ    کی سیرت اور حالات زندگی کو قلمبند کر دیا ہے۔مولانا محمود احمد غضنفر صاحب ایک معروف مصنف اور مولف ہیں ۔ان کے قلم سے اب تک متعدد تحریریں شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔جن میں سے ایک" حیات صحابہ کے درخشاں پہلو"اور دوسری "حیات تابعین کے درخشاں پہلو" زیادہ مقبول ہیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانو...

  • 29 حادثہ کربلا اور سبائی سازش (منگل 12 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:7797

    دور حاضرمیں حادثہ کربلا  کے  موضوع پر کچھ  لکھنا یابولنا بڑا  نازک او ر مشکل  کام ہے، کیوں کہ اس  بارے  بہت افراط وتفریط پایا جاتا   ہے ۔سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے۔  اس  سانحۂ کے بعد ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلاکہنے پر مصر ہے۔جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کےبارے میں نبی ﷺ کی اس  بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے، جس میں  شہر قیصرکی طرف  سب سے پہلے حملہ آور لشکر کےمغفور لہم ہونے  کی  خوشخبری دی گئی ہے۔  ائمہ اسلا ف  میں  سےامام ابن تیمیہ،حافظ ابن حجر ،علامہ قسطلانی ، ابن کثیر﷭ وغیرہ نے  یزید ین معاویہ کو  اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے،  جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے  پہلے  قسطنطنیہ پر حملہ کیا ہے تھا۔زیر تبصرہ کتاب   مؤلف  کا وہ خطاب ہے،  جوانہوں نے  جامع مسجد اہل حدیث ممبئ میں ارشاد فرمایا تھا۔جسے احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں  مصنف نے  تاریخی لحاظ سے اس موضوع پر بحث کی ہے ، اور مختلف  اہل علم کی تحریروں او رمستند تاریخی روایات سے  یہ ثابت کیا ہے کہ  قسطنطنیہ پر پہلا حملہ  یزید ہی نےکیا تھا، او رحادثہ کربلا سے  قبل امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کی گئیں،  اور متعددعظیم شخصیات شہید ہوئیں۔ ان کے پیچھے جس گروہ کا  ہاتھ تھا، وہی  گروہ میدان  کربلا میں بھی  اہل  حق  کا دشمن تھا۔ جس نے کربلا کے ...

  • 30 حبیب کبریا کے تین سو اصحاب (جمعہ 07 جون 2013ء)

    مشاہدات:4999

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔(ع۔ح)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1425
  • اس ہفتے کے قارئین: 7956
  • اس ماہ کے قارئین: 27249
  • کل قارئین : 47735130

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں