کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 21 #6110

    مصنف : ڈاکٹر ذو الفقار کاظم

    مشاہدات : 2383

    انبیائے کرام علیہم السلام انسائیکلوپیڈیا

    (اتوار 24 دسمبر 2017ء) ناشر : فرید بک ڈپو، نئی دہلی

    اللہ تعالیٰ جل شانہ، کا جب ارادہ ہوا۔ کہ اس رنگا رنگ کائنات کو معرض وجود میں لا کر اس میں اشرف المخلوقات انسان کو پیدا کر کے اسے اس جہان رنگ و بو کی سرداری کا تاج پہنائے ۔ اور اس کائنات کو اس کی خدمت کے لئے تابع و مسخر کر  دے اور اس دنیا کی تعمیر و تزئین اس کے سپرد کر دے۔اس بات كو الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ﴿٢٩﴾...البقرۃ وہ ذات ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے سب تمہارے لئے پیدا کیا ہے...۔مزيد انسانوں کی رشد و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بھیجا۔جن میں سے بعض انبیاء اور ان کی ازواج کے تذکرے ہمیں قرآن مجید،سیرت اور تاریخ کی کتب  میں ملتے ہیں   ۔زیرِ تبصرہ کتاب ’’انبیاء کرام ﷩انسائیکلو پیڈیا‘‘ ڈاکٹر ذزالفقار کاظم کی ہے  جو کہ انبیائے کرام سے متعلق بھرپور معلومات پر مبنی سوالا جوابا لکھی جانے والی سب سے مفضل ، مستند اور ضخیم کتاب ہے۔ اس کتاب میں تقریبا 36 انبیائے کرام ﷩ کا ذکر مبارک، ان کی اقوام کے بارے میں معلومات قرآن و سنت اور دیگر تواریخ و تفسیر سے مدد لیتے ہوئے فراہم کی گئی ہیں۔ امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم  مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 22 #4046

    مصنف : محمد اسماعیل آزاد ایم۔ اے

    مشاہدات : 1574

    انتخاب لاجواب (خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ)

    (جمعہ 15 جنوری 2016ء) ناشر : ادارہ معارف الحق، کراچی

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دین اسلام ایک امن و سلامتی کا دین ہے۔جب آنحضرتﷺ نے لوگوں کو دین اسلام کی تبلیغ کی تب عرب قبائل بت پرستی اور جہالت کی تاریکیوں میں غوطہ زن تھے۔اسلام نے ہر طرف پھیل کر طاغوتی طاقتوں کا قلع قمع کیا۔لوگوں کو گمراہیوں سے بچا کر راہ ہدایت سے ہمکنار کیاتو دشمنان اسلام نے منافقت سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلامی اتحاد کو پارہ پارہ کرنےکی خفیہ سازشیں کیں اور انتہائی غیر محسوس طریقے سے حق و باطل کی آمیزش کی۔ اس طرح حقیقت نظروں سے اوجھل ہوئی اور قرون اولیٰ کی عظمت رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر گیا۔آپﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ خلیفہ اول بنے اور امت محمدیہ کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔ آپ کےبعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ دوم بنے حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہحق وباطل کےدرمیان فارق تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام ایک طوفان کیطرح اقصائے عالم پر چھا گیاایران و روم کی عظیم سلطنتوں کو شکست سے دو چار کیااور بیت المقدس کو یہودیوں کی چنگل سے آزاد کروایا۔ زیر تبصرہ کتاب"انتخاب لاجواب"محمد اسماعیل کی تصنیف ہےجس میں موصوف نے خلیفہ ثانی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری کو مختصر اور جامع انداز میں قلمبند کیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی جزائے خیر عطافرمائےاور اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • 23 #3913

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 2215

    انوکھا سخی سعید بن عاص رضی اللہ عنہ

    (منگل 05 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سخاوت،وفیاضی ان قدیم اخلاقیات میں سے ایک ہے جسے اولوالعزم طبیعتوں نے ہرزمانے میں اپنایا اوراپنی رفعت وبلندی اورشرافت وعظمت کی دلیل سمجھا ، زمانہ جاہلیت میں سخاوت عرب معاشرے کی ایک زریں صفت تھی ،شعراء اپنے اشعار میں سخاوت کی خوب داد دیتے تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں جولوگ سخاوت سے مشہور ہوئے ان میں ایک نام حاتم الطائی کابھی آتاہے، اس کے متعلق سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ سن شعور سے ہی اپنے حصہ کاکھانالیکر باہر نکل جاتا اورکسی کوتلاش کرکے اس کے ساتھ کھاتا تھا،اگرکوئی ساتھ کھانے والانہ ملتاتوکھاناپھینک کرگھرلوٹ آتا- تاہم زمانہ جاہلیت کی سخاوت وفیاضی پرفخر ومباہات اورنیک نامی کی چھاپ تھی ،لیکن جب اسلام کانیرتاباں حراکے افق پرطلوع ہواتواس نے اس عمدہ وصف کورب کریم کی رضاجوئی اورخوشنودی سے مربوط کردیا،چنانچہ یہ صفت ایک مومن صادق کی پہچان اورعلامت بن گئی۔سخاوت کی اہمیت کے پیش نظراللہ تعالی نے اپنے مومن بندوں کومتعددآیات میں باربارانفاق کی ترغیب دلائی ۔سخاوت وفیاضی اللہ کے رسول ﷺ کی امتیازی شان تھی ،آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی ،فیاض اور دریادل تھے ،کبھی آپ نے سائل کونفی میں جواب نہیں دیا، آپ کی سخاوت وفیاضی کے سامنے بڑے بڑے بادشاہ بھی گھٹنے ٹیک دیں۔ اسی طرح صحابہ کرام بھی ایک دوسرے سے بڑھ کرسخی تھےحضرت عثمان ﷜ کی سخاوت بھی بہت مشہورہے آپ کی سخاوت سے اسلام کو بہت فائد پہنچا۔سیدنا ابوبکر﷜ کی خلافت میں ایک مرتبہ لوگ قحط کے شکارہوئے ،لوگوں نے خلیفہ وقت کے پاس آکراپنی بدحالی کی شکایت کی توآپ نے فرمایا:لوٹ جائیں اورصبرکریں ہمیں امیدہے کہ شام تک اللہ تعالی آپ کی مشکلات کاحل نکال دے گا،صبح کے وقت لوگ نکلے تودیکھاکہ حضرت عثمان ﷜ کاتجارتی قافلہ ایک ہزاراونٹوں پرغذائی سامان سے لداہواآرہا ہے، مدینہ کے تاجروں کواطلاع ملی توفوراًعثمان﷜ کے پاس حاضرہوئے، آپ نے پوچھا: کیاارادہ ہے؟ جواب دیا: ہمارا ارادہ آپ کومعلوم ہے ،آپ نے پوچھا: کتنانفع دوگے ؟ تاجروں نے کہا:ایک کادو ۔حضرت عثمان ﷜ نے کہا: ہمیں اس سے زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا :ہم لوگ آپ کوایک کاچاردیں گے، آپ نے کہا:ہمیں اس سے بھی زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا:ہم آپ کوایک کاپانچ دیتے ہیں ،آپ نے فرمایا:ہمیں اس سے بھی زیادہ مل رہاہے ،تاجروں نے کہا: مدینہ کے سارے تجار یہاں حاضرہیں ،آخرکون آپ کوپانچ گناسے زیادہ دے رہاہے ؟آپ نے فرمایا’’اللہ تعالی ہمیں ہردرہم کے بدلے دس درہم دے رہاہے ،کیاآپ لوگ اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: توتم سب گواہ رہو کہ میں نے یہ سارا مال تجارت فقراءومساکین پرصدقہ کردیا۔ سخاوت انسان کوجنت کے قریب اور جہنم سے دور کرتی ہے ۔ سخاوت صرف اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کونہیں کہتے، جہاد کے دوران اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنابھی سخاوت ہے۔ کسی دوسرے کےکام کےلیے اپنا وقت خرچ کرنا بھی سخاوت ہے۔نبی کریم ﷺکے ایک صحابی سیدنا سعید بن عاص﷜ ان ساری خوبیوں سے مزین تھے ۔سخاوت ان کی پہچان بن گئی یہ خوبی کی شخصیت کالازمی عنصر ٹہری۔ اللہ کے پیارے رسول محمد ﷺ نے ان کےبچپن میں ہی اس خوبی کوپہچان لیاتھا اورشاید اسی بنار پر انہیں مستقبل کاایک معزز آدمی قرار دیا۔ان کی سخاوت میں بھی عجیب ندرت تھی۔ آپ ہر جمعہ کی رات اپنے غلام کو دیناروں کی تھیلیاں دے کر کوفہ کی مسجد میں بھیجتے۔ غلام وہ تھلیاں لے جاکر نمازیوں کےسامنے رکھ دیتا۔ ضرورت مند اس رقم میں سے اپنی ضرورت کی رقم از خوداٹھا لیتے۔ سخاوت کےاس انوکھے انداز کی بنا پر کوفہ کی مسجد شام کےوقت نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ یہ کتابچہ اسی بے مثال شخصیت کی بے مثال سخاوت کے متعلق ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’انوکھا سخی سعید بن عاص﷜‘‘ اشاعت کے عالمی ادارے دار السلام کے ’’سلسلہ دورنبوت کے بچے‘‘ میں آٹھواں سلسلہ ہےاس میں محترم جناب اشفاق احمد خاں نے ایک دلچسپ کہانی کی کی صورت میں سیدنا سعیدبن عاص﷜ کی شخصیت اور ان کی سخاوت کے واقعات کو ذکرکیاہے۔ اللہ تعالیٰ مرتب کی اس کاوش کوقبول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • 24 #3965

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 1890

    باغ نبوت کا پھول (حسن بن علی بن ابی طالب)۔1

    (اتوار 10 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا حسن﷜ دماد ِ رسول حضرت علی﷜ کے بڑے بیٹے اور نبی کریم ﷺ بڑے نواسے تھے۔حدیث نبوی ہےآپ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔نبیﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا۔ یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہ تھا۔ رسول اللہ ﷺان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ 15 رمضان المبارک 3ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت حسن کو تقریباً آٹھ برس اپنے نانا رسول اللہ ﷺکے سایہ عاطفت میں رہنے کا موقع ملا۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔سیدنا حسن﷜ نےاپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جس نےامت کےاتحاد میں زبردست کردار ادا کیا۔ امتِ اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت اوالفت ، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار اداکیا ۔ اپنے عمدہ جہاد اور صبرِِ جمیل کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس کی ہمیشہ اقتدا کی جائےگی۔ زیر کتابچہ ’’ باغ نبو ت کا پھول کا سید حسن بن علی بن ابی طالب ﷜‘‘ جناب اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے۔ اور دارالسلام کی سلسلہ دور نبوت کےبچے سیریز کا پہلا حصہ ہے۔ یہ کتابچہ حضرت حسن کی ولادت سےخلافت اور وفات کے تک کے حالات پرمشتمل ہے۔ مرتب نے بڑے خوبصور ت اور عام فہم انداز میں سیدنا حسن بن علی ﷜ کے بچپن، جوانی ،خلافت او ران کی عادات خصال کو اس انداز سے مختصرا ً بیان کیا   ہے کہ ایک ہی نشت میں   اسےآسانی سے پڑھا جاسکتاہے۔(م۔ا)

  • 25 #3965.01

    مصنف : اشفاق احمد خان

    مشاہدات : 2091

    باغ نبوت کا پھول (حسین بن علی بن )۔2

    (پیر 11 جنوری 2016ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے لخت جگر، اور سیدنا علی ﷜کے نور نظر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔ساتویں دن آپ کا عقیقہ کیا گیا او ر سر کے بال مونڈے گئے۔ رسالت مآب اپنے اس نواسے سے جتنی محبت فرماتے تھے اس کے واقعات دیکھنے والوں نے ہمیشہ یا درکھے۔ اکثر حدیثیں محبت اور فضیلت کی حسن وحسین دونوں صاحبزادوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے   اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔ سیدنا حسین نے پچیس حج پیدل کیے۔جہاد میں بھی حصہ لیتے رہے۔پہلا لشکر جس نے قیصر روم کے شہر قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔اس میں بھی تشریف لے گئے۔ وہاں میزبان رسول حضرت ابو ایوب انصاری ﷜ کی وفات ہوئی تو امام کے پیچھے ان کے جنازے میں بھی شریک ہوئے۔آخری مرتبہ جب مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہلے ہزاروں کوفیوں نے ان کی بیعت کی پھر بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین مقام ثعلبہ پہنچے تو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کے بیٹوں سے مشورہ کے بعد یزید سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم بن عقیل کے بیٹے ہمراہ تھے۔ کوفہ سے کئی منزل دور مقام ثعلبہ مذکور سے کوفہ کی بجائے شام کا راستہ اختیار فرما لیا۔مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔ ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لہذا انہوں نے راستہ روکا ۔خطوط تو نہ ہتھا سکے مگر ابن زیاد سے براہ راست بیعت یزید کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سیدنا حسین ﷜نے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔وہ میرا ابن عم ہی تو ہے۔مگر ظالمو نے ایک شرط بھی نہ مانی اور شہید کر دیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ باغ نبوت کا پھول حسین بن علی ﷜ ‘‘جناب اشفاق احمد خاں کی کاوش ہے۔اور دارالسلام کی سلسلہ دور نبوت کےبچے سیریز کا دوسرا حصہ ہے۔یہ کتابچہ حضرت حسین کی ولادت سےوفات کے تک کے حالات پرمشتمل ہے۔مرتب نے بڑے خوبصور ت اور عام فہم انداز میں سیدنا حسین بن علی ﷜ کے بچپن ، جوانی ، او ران کی عادات خصال اور فضائل ومناقب کو اس انداز سے مختصرا ً بیان کیا ہے کہ ایک ہی نشت میں اسےآسانی سے پڑھا جاسکتاہے۔ (م۔ا)

  • 26 #2393

    مصنف : محمد ادریس بھوجیانی

    مشاہدات : 2169

    بستان صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین

    (بدھ 03 ستمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ

    آج سے  چودہ صدیاں قبل  جب  لوگ ظلمت وکفر اور شرک میں پھنسے ہوئے تھے۔بیت اللہ میں  تین  سوساٹھ بتوں کو پوجا  جاتا  تھا۔ قتل وغارت ، عصمت فروشی، شراب نوشی، قماربازی  اور چاروں طرف  بدامنی کا دوردورہ تھا۔تومولائے کریم کی  رحمت  کاملہ جوش میں آئی اوراس بگھڑے  ہوئےعرب معاشرے کی اصلاح کےلیے  خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمائے ۔آپ کی بعثت نبوت کے شروع میں  ہی ایک مختصر سی جماعت   آپﷺ پر ایمان لائی۔ جوآہستہ آہستہ  بڑھ کر ایک عظیم طاقت اور حزب اللہ  ،خدائی لشکر کی صورت اختیار کر گئی۔ اس  جماعت  نے  آپﷺ کے مشن کی تکمیل کی  خاطر  تن من دھن  کی بازی  لگادی ۔چنانچہ رسول  کریم   ﷺ نے  اللہ تعالیٰ کی مدد اور سرفروش جماعت کی معیت  سے  جزیرۃ العرب کی  کایا پلٹ کررکھ دی ۔اس جماعت کو اصحاب النبیﷺ کےنام سے  پکارا جاتا ہے ۔ان کے بعد  میں  آنے والی ساری امت مجموعی طور پر تقویٰ اور اتباع کے  مراتب  عالیہ  طے کرنے کے باوجود بھی ان اصحاب رسول ؐ کے مرتبے کو ہر گز نہیں پہنچ سکتی ۔ صحابہ کرام ﷢ کی جماعت  انبیاء ورسل کے بعد  سب مخلوق سے افضل ترین جماعت  ہے۔ اللہ تعالیٰ  نے  قرآن  مجید میں  اور نبی  کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ نبوت سے  صحابہ کے  فضائل ومناقب کو بیان کیا۔کئی اہل علم نے  بھی   صحابہ کرام ﷢ کے  فضائل اور دفاع کے سلسلے میں کتب تصنیف کی  ہیں ۔زیرنظر کتاب ’’بستان صحابہ ﷢‘‘  مولانا محمد ادریس بھوجیانی کی تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے    لفظ صحابہ کی لغوی  و اصولی  تعریف،ایمان صحابہ ، صحابہ کرام کی آپس میں  دوستی ،خلافت  راشدہ صحابہ کرام پر سب وشتم کرنے والوں کاانجام  وغیرہ   جیسے  موضوعات کو  دلائل  کے  ساتھ  پیش کیا ہے  ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس  کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو   عوام الناس کے  لیے صحابہ کرام  کی عظمت وفضلیت کوسمجھنے  کا ذریعہ   بنائے (آمین) (م۔ا)

     

  • 27 #4158

    مصنف : ابو حمزہ سعید مجتبیٰ سعیدی

    مشاہدات : 2793

    تذکرہ شہدائے بدر و احد

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : دار السعادۃ بھکر

    اسلام اور کفر کے درمیان پہلا معرکہ جنگ بدر کی صورت میں لڑا گیا ہے ۔اس غزوہ میں اللہ کے فضل سےمسلمان سرخرو رہے اور ذلت ورسوائی مشرکین کا مقدر ٹھہری۔اس جنگ نے مشرکین مکہ کاغرور خاک میں ملاد یا ۔ان کے ستر بڑے بڑے سردار مارے گئے اور تقریبا اتنےہی گرفتار ہوئے۔اور چودہ مسلمان بھی خلعت شہادت زیب تن کر کے جنت کے مکیں ہوئے اور باقی بہت سا مال غنیمت حاصل کر کے مدینہ منورہ کو واپس لوٹے ۔بدرکی جنگ میں مشرکین مکہ کو بدترین شکست اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھااس شکست اور ذلت کاخیال کسی بھی لمحے ان کا پیچھا نہیں چوڑتا تھا۔ پورے خطۂ عرب میں ان کی شہرت خاک میں مل گئی تھی ۔ اور وہ بدلہ لینے کے لیے مرے جارہے تھے ۔انہوں نے مکہ مکرمہ جاکر اعلان کر دیا تھا کہ بدر کےمقتولین پر نہ تو کوئی روئے اور نہ ان پر مرثیہ خوانی کرے ہم مسلمانوں سے اس کا بدلہ لے کرر ہیں گے ۔آخر کار خو ب تیاری کر کے شوال 3ھ میں تقریبا تین ہزار کا لشکر مدینہ منور ہ سے کچھ فاصلے پرجبل احد کے قریب آٹھہرا۔مشرکین کے لشکر کی قیادت سیدناابوسفیان کے پاس تھی اورمسلمانوں کی قیادت حضور ﷺنے کی۔ اس جنگ کے نتیجہ کو کسی کی فتح یا شکست نہیں کہا جا سکتا کیونکہ دونوں طرف شدید نقصان ہوا اور کبھی مسلمان غالب آئے اور کبھی مشرکین لیکن آخر میں مشرکین کا لشکر لڑائی ترک کر کے مکہ واپس چلا گیا۔اس معرکہ میں ستر کے قریب صحابہ کرام جام شہادت نوش کر گئے اور نبی کریم ﷺ بھی اس میں زخمی ہوگئے تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ شہدائے بدر واحد‘‘ محترم جنا ب جناب پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی سابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی تالیف ہےاس کتاب میں آپ نے نبی کریم ﷺکے ان جانثار صحابہ کرام کا ایمان افروز تذکرہ کیا ہے جو جنگ بدر واحد میں جام شہاد ت نوش کے کر گئے تھے ۔مصنف موصوف نے شہدائے بدر واحد کے حالات امام ابن عبد البر﷫ کی تصنیف لطیف ’’الاستعاب بمعرفۃ الاصحاب‘‘ سے لے کر انہیں اردو قالب میں ڈھالا ہے۔فاضل مصنف نےجامعہ لاہور الاسلامیہ کی تدریس کےدوران ہی گورنمنٹ سروس جائن کرلی تھی ۔آپ عرصہ دراز سے گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ، لیہ میں بطور اسسٹنٹ پروفیسراسلامیات خدمات سرانجام درہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ آپ زبردست مقرر اور ایک منجھے ہوئے مؤلف ومترجم بھی ہیں ۔آپ نے حال ہی میں حدیث کی معروف کتاب ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کا ترجمہ اور فوائد احادیث لکھے ہیں اور اسی طرح مسنداحمد بن حنبل کا ترجمہ بھی کیا ہے جسے انصار السنۃ ،لاہور نے12 جلدوں میں شائع کیا ہے ۔اس کےعلاوہ’’الاکمال فی اسماء الرجال، تدریب الراوی ، غایۃ المرید شرح کتاب التوحید وغیرہ کے آپ مترجم اور کئی کتب کےمصنف ہیں ۔اور مختلف جرائد ومجلات میں آپ کے علمی مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ موصوف کی دعوتی وتبلیغی،تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 28 #5516

    مصنف : محمد سعید کلیروی

    مشاہدات : 1719

    تذکرے اصحاب رضی اللہ عنہم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اور فقہاء مدینہ

    (ہفتہ 24 جون 2017ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرے اصحاب رسول ﷺ کے اور فقہائے مدینہ‘‘ مولانا محمد سعید کلیروی﷾کی کاوش ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے صحابہ کرام کے فضائل اور صحابہ کی تعریف بیان کرنے کےبعد خلفائے اربعہ ، عشرہ مبشرہ اور کئی جلیل القدر صحابہ کرام وصحابیات ،امہات المومنین و صحابیات کے فضائل، تعارف ومناقب کو تحریر کیا ہے او رآخر میں بہت عمدہ اور دلکش انداز میں ان سات تابعین عظام کادل پذیر تذکرہ قلم بند کا ہے جو’’ فقہائے مدینہ‘‘ کے نام سے مشہورتھے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 29 #3056

    مصنف : محمود احمد غضنفر

    مشاہدات : 4260

    جرنیل صحابہ رضی اللہ عنہم

    (بدھ 15 اپریل 2015ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم  ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے ان صحابہ  کرام   میں سے بعض صحابہ کرام   ایسے بھی ہیں جن کی جرات وپامردی،عزم واستقلال اوراستقامت نے میدان جہاد  میں جان اپنی ہتھیلی پر رکھ کر بہادری  کی لازوال داستانیں رقم کیں،اور اپنے خون کی سرخی سے اسلام کے پودے کو تناور درخت بنایا۔ زیر تبصرہ کتاب "جرنیل صحابہ" جماعت اہلحدیث کے نامور صاحب قلم اور ادیب محترم مولانا محمود احمد غضنفر کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پچیس صاحب عزیمت اور جرنیل صحابہ    کی سیرت اور حالات زندگی کو قلمبند کر دیا ہے۔مولانا محمود احمد غضنفر صاحب ایک معروف مصنف اور مولف ہیں ۔ان کے قلم سے اب تک متعدد تحریریں شائع ہو کر درجہ قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔جن میں سے ایک" حیات صحابہ کے درخشاں پہلو"اور دوسری "حیات تابعین کے درخشاں پہلو" زیادہ مقبول ہیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 30 #1870

    مصنف : ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 8047

    حادثہ کربلا اور سبائی سازش

    (منگل 12 نومبر 2013ء) ناشر : اسلامک انفارمیشن سینٹر، ممبئ

    دور حاضرمیں حادثہ کربلا  کے  موضوع پر کچھ  لکھنا یابولنا بڑا  نازک او ر مشکل  کام ہے، کیوں کہ اس  بارے  بہت افراط وتفریط پایا جاتا   ہے ۔سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے۔  اس  سانحۂ کے بعد ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلاکہنے پر مصر ہے۔جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کےبارے میں نبی ﷺ کی اس  بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے، جس میں  شہر قیصرکی طرف  سب سے پہلے حملہ آور لشکر کےمغفور لہم ہونے  کی  خوشخبری دی گئی ہے۔  ائمہ اسلا ف  میں  سےامام ابن تیمیہ،حافظ ابن حجر ،علامہ قسطلانی ، ابن کثیر﷭ وغیرہ نے  یزید ین معاویہ کو  اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے،  جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے  پہلے  قسطنطنیہ پر حملہ کیا ہے تھا۔زیر تبصرہ کتاب   مؤلف  کا وہ خطاب ہے،  جوانہوں نے  جامع مسجد اہل حدیث ممبئ میں ارشاد فرمایا تھا۔جسے احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں  مصنف نے  تاریخی لحاظ سے اس موضوع پر بحث کی ہے ، اور مختلف  اہل علم کی تحریروں او رمستند تاریخی روایات سے  یہ ثابت کیا ہے کہ  قسطنطنیہ پر پہلا حملہ  یزید ہی نےکیا تھا، او رحادثہ کربلا سے  قبل امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کی گئیں،  اور متعددعظیم شخصیات شہید ہوئیں۔ ان کے پیچھے جس گروہ کا  ہاتھ تھا، وہی  گروہ میدان  کربلا میں بھی  اہل  حق  کا دشمن تھا۔ جس نے کربلا کے  بعد اہل بیت کی محبت کا سہارہ لے کر  خو د کو روپوش کر لیا ہے۔فاضل مصنف نے  آیات قرآنیہ،  احادیث نبویہ ﷺ او ر آثار صحابہ   کی  روشنی میں    یزید بن معاویہ کی شخصیت وسیرت کوبھی بیان کیاہے ۔اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1910
  • اس ہفتے کے قارئین 7895
  • اس ماہ کے قارئین 46289
  • کل قارئین49343662

موضوعاتی فہرست