کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 31 #1712

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 5117

    حبیب کبریا کے تین سو اصحاب

    (جمعہ 07 جون 2013ء) ناشر : پین اسلامک پبلیشرز

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔(ع۔ح)
     

  • 32 #2045

    مصنف : محمد نافع

    مشاہدات : 4165

    حضرت ابو سفیان اور ان کی اہلیہ رضی اللہ عنہا

    (پیر 12 مئی 2014ء) ناشر : دار الکتاب لاہور

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام وصحابیات کی سیرت اور ان کے واقعات اہل ایمان کے لیے آئیڈیل ہیں۔ صحابہ کرام کی﷢ کی سیرت وسوانح کے حوالے سےعربی اردو میں کئی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب مولانا محمدنافع ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انھو ں حضرت ابوسفیان ﷺ اور ان کی اہلیہ ہندبنت عتبہ کے سوانح مختصراً ذکر کرتے ہوئے بعض شبہات کا ازالہ بھی کردیا ہے ۔حضرت ابو سفیان﷜ نبی کریم ﷺکی سسر تھے کاتب وحی سیدنا معاویہ ﷜ او رام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد تھے ۔حضرت ابو سفیان اور ان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ اور ان کے بیٹے حضرت یزید بن ابی سفیان ﷜ فتح مکہ کے موقع پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ۔ فاضل مؤلف نے اس کتاب میں ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت یزید بن ابی سفیان ﷜ کا تذکرہ بھی شامل کیا ہے اللہ تعالی اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢ کی زندگیوں کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق دے (آمین) (م۔ا)

     

     

  • 33 #5641

    مصنف : محمد صدیق منشاوی

    مشاہدات : 3091

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے 100 قصے

    (جمعہ 28 جولائی 2017ء) ناشر : بیت العلوم، لاہور

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش کر دیا ۔نبی کریم ﷺ بھی ان سے بے حد محبت فرماتے تھے ۔آپ ﷺ نے ان کو یہ اعزاز بخشا کہ ہجرت کے موقع پر ان ہی کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب فرمایا۔ بیماری کے وقت اللہ کے رسول ﷺ نے حکماً ان کو اپنے مصلیٰ پر مسلمانوں کی امامت کے لیے کھڑا کیا اورارشاد فرمایا کہ اللہ اورمؤمنین ابو بکر صدیق کے علاوہ کسی اور کی امامت پر راضی نہیں ہیں۔خلیفہ راشد اول سیدنا صدیق اکبر نے رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہر قدم پر آپ کا ساتھ دیا اور جب اللہ کے رسول اللہ وفات پا گئے سب صحابہ کرام کی نگاہیں سیدنا ابو بکر صدیق کی شخصیت پر لگی ہو ئی تھیں۔امت نے بلا تاخیر صدیق اکبر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا ۔ تو صدیق اکبر ؓ نے مسلمانوں کی قیادت ایسے شاندار طریقے سے فرمائی کہ تمام طوفانوں کا رخ اپنی خدا داد بصیرت وصلاحیت سے کام لے کر موڑ دیا اور اسلام کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر عہدِ خلافت میں ایک مضبوط اور مستحکم اسلامی حکومت کی بنیادیں استوار کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کے بعد اس کی سرحدیں ایشیا میں ہندوستان اور چین تک جا پہنچیں افریقہ میں مصر، تیونس او رمراکش سے جاملیں او ریورپ میں اندلس اور فرانس تک پہنچ گئیں۔سیدنا ابو بکر صدیق کی زندگی کے شب وروز کے معمولات کو الفاظ کے نقوش میں کئی نامور اہل قلم نے محفوظ کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حضرت ابو بکرصدیق کے 100 قصے ‘‘ شیخ محمد صدیق المنشاوی کی عربی تصنیف ’’مائة قصة من حياة أبي بكر رضي الله عنه‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔جوکہ خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق کے ان دلچسپ سو قصوں اور واقعات پر مشتمل ہے جو انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں راہنمائی فراہم کرتے ہیں کیونکہ سلف صالحین اور اکابرین امت کے قصص واقعات کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ان کو پڑھ کر نہ صرف یہ کہ ایمان بڑھتا ہے بلکہ عاجزی وانکساری ، صدقہ وخیرات ، زہد وعبادات اور اصلاح نفس جیسے بے شمار اسباق تازہ ہوتے ہیں ۔(م۔ا)

  • 34 #5539

    مصنف : صادق حسین صدیقی سر دھنوی

    مشاہدات : 5047

    حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (اللہ کی تلوار)

    (جمعرات 25 مئی 2017ء) ناشر : بک کارنر شو روم جہلم

    سیدنا خالد بن ولید﷜ قریش کے ایک معزز فرد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ نبیﷺ نے جنگ موتہ میں ان کی بے مثل بہادری پر انہیں سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا۔ جب آنحضورﷺ نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیاتو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور ﷺکے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔ سیدنا خالد بن ولید﷜ نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی اس لیے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔خالد بن ولید ﷜ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کے لئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد ﷜ نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج کو مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔ نبی پاک ﷺکی وفات کے بعدخلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق ﷜ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسیلمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید ﷜ جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“آپ نے جنگ احد سے خلیفہ ثانی امیر المومنین سید نا عمر فاروق ﷜ تک جتنی جنگیں لڑیں ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری''۔سیدنا خالدبن ولید امیر المومنین سیدنا عمر فاروق ﷜ کی خلافت میں 21ھ 642ء میں شام کے شہر حمص میں فوت ہوئے ۔اپنی وفات پر انہوں نے خلیفۃ الوقت عمر فاروق کےہاتھوں اپنی جائیداد کی تقسیم کی وصیت کی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حضرت خالد بن ولید﷜ اللہ کی تلوار‘‘ صادق حسین صدیقی کی تصنیف ہے۔ جوکہ اسلامی تاریخ کے اولو الععزم شمشیر آزما اور عبقری صفت جرنیل اہل کفار سے نا قابل شکست جنگیں لڑنے والے تاریخ اسلام کے نامور فرزند عظیم المرتبت مجاہد، سپہ سالار اور اللہ تعالیٰ کی ناقابل شکست تلوار کی داستان جو اللہ نے مشرکین اور کفار کے لیے بے نیام کردی تھی کی داستان حیات اور انکے جنگی حالات پر مشتمل ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو ناول کے انداز میں تحریرکیا ہے اور قارئین کی دلچسپی کے لیے نایاب تاریخی تصاویر بھی اس میں شامل کی ہیں۔ (م۔ا)

  • 35 #3063

    مصنف : میاں انوار اللہ

    مشاہدات : 4462

    حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا ہدایت کی جانب سفر

    (بدھ 08 اپریل 2015ء) ناشر : مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد

    حضرت سلمان فارسی  رسول اللہ ﷺکے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ نبی ﷺکے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد ﷺ کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔ سلمان فارسی   ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا۔ مگر حضرت سلمان فارسی   کا دل سچ کی تلاش میں تھا۔ پہلے آپ نے عیسائیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی۔ ایک عیسائی راہب نے انہیں بتایا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کا تذکرہ  پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔ اس راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا ۔ یہ جاننے کے بعد حضرت سلمان فارسی نے مدینہ جانے کی کوشش شروع کر دی۔ مدینہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا۔ یہ یہودی مدینہ میں رہتا تھا چنانچہ حضرت سلمان فارسی  مدینہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد آ پ  ﷺمکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ آئے ہیں۔ تو سلمان فارسی نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیاکہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی۔ اسی وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔اس وقت  حضرت سلمان  ایک یہودی کے غلام تھے ۔ آپ ﷺنے خود اپنے مبارک ہاتھوں سے تقریبا 300 پودے یہودی کے باغ میں لگاکرحضرت سلمان  کو آزاد کرایا۔ا ن کے بارے میں ارشاد نبوی  ہے کہ: اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے۔ غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کے موقع پر حضرت سلمان سب سے زیادہ سرگرم تھے ۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ’’ سلمان ہمارا ہے‘‘انصار نے یہ سنا تو کہا ’’سلمان ہمارا ہے‘‘۔ نبی ﷺ  تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺنے فرمایا ’’ سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے ‘‘ اس لیے  حضرت سلمان کو مہاجرین یا انصار کے بجائے اہل بیت میں شمار کیا گيا۔غزوہ خندق کے دوران جب مسلمان شدید خطرے میں تھے، حضرت سلمان فارسی  نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی جائے چنانچہ خندق کھودی گئی جس نے مشرکین کو حیران کر دیا کیونکہ یہ طریقہ اس سے پہلے عرب میں استعمال نہیں ہوا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’ حضرت سلمان  فارسی  کا ہدایت کی جانب سفر‘‘ محترم جناب  میاں انوار اللہ  صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں   نے  اسلام کی خاطر حضرت سلمان فارسی     کے ایمان افروز تفصیلی حالات وواقعات، ان  کے  فضائل ومناقب او ران سے مروی احادیث کو   جمع کردیا ہے ۔ (م۔ا)
     

  • 36 #3118

    مصنف : عباس محمود العقاد

    مشاہدات : 5269

    حضرت سیدنا بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

    (بدھ 29 اپریل 2015ء) ناشر : ادبستان، لاہور

    حضرت بلال بن رباح  المعروف بلال حبشی، رسول اللہﷺکے مشہور صحابی تھےاور  اسلام کے پہلے مُوّذن تھے۔ شروع میں ایک کافر کے غلام تھے۔ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں دیئے جاتے تھے ۔ امیہ بن خلف جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ان کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھالٹاکر ان کے سینہ پرپتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مرجائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحد اَحدکہتے تھے یعنی معبود ایک ہی ہے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کرکوڑےلگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بے قرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں ۔ عذاب دینے والے اُکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا۔ کبھی امیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، اور ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓنے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد فرمایا۔ رسول کریم ﷺکے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے۔ جنگ بدر میں آپ نے امیہ بن خلف کو قتل کیا۔ نبی ﷺنے اذان کہنے کے لیے حضرت بلالؓ  کو مقرر فرمایا۔ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے کھانے پینے کا انتظام حضرت بلال کے سپرد ہوتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی  وفات کے بعد حضرت عمر  کے اصرار پر صرف ایک دفعہ اذان کہی۔ لیکن  اس روز اذان میں جب نبی  ﷺکا نام آیا تو غش کھا کر گر پڑے۔ سیدنا بلال   کے اسم  گرامی سے مسلم دنیا ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی آشنا ہیں ۔ مغربی مفکروں ، ادیبوں اور دانشوروں نے حضرت بلال ﷺ کی شخصیت  وکردار پر اور بحیثیت مؤذن رسول  ﷺ اور خادم الرسول  کےعنوانا ت سے مقالے بھی لکھے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ حضرت بن رباحؓ ‘‘ ایک انگریز ادیب  کی تصنیف ہے جسے  مصر کے نامور سیرت نگار ، مؤرخ اورمحقق جناب عباس محمود العقاد نےعربی میں منتقل کیا  اور اس انگریز  مصنف کی فرد گزاشتوں اور منجلہ غلطیوں کی تصحیح  واصلاح بھی کی ہے ۔(م۔ا)
     

  • 37 #6457

    مصنف : خورشید احمد فاروق

    مشاہدات : 1103

    حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سرکاری خطوط

    (اتوار 07 اکتوبر 2018ء) ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور

    خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیما﷤  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیما ن﷤ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢  اور اموی  وعباسی  خلفاء نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے  جو مختلف  کتب سیر میں  موجود ہیں ان میں  سے کچھ مکاتیب تو  کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع  ہیں  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط  میں سے کسی ایک  کے بارے میں   یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ  و ہ اپنی  لفظی ومعنوی شکل میں ویسا  ہی ہے  کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں  کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے  ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے  ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عثمان ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘  ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں  خلیفہ ثالث امیر المومنین سیدناعثمان غنی ﷜کی  طرف  منسوب ستر سے زائد خطوط شامل   ہیں۔ فاضل مصنف  نے ان خطوط  کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں   بحوالہ جمع کیا ہے ۔ (م۔ا)

  • 38 #2293

    مصنف : قاری روح اللہ مدنی

    مشاہدات : 2486

    حضرت عمر کا قائدانہ کردار

    (ہفتہ 02 اگست 2014ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ  کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام  وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم  ﷜ کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق ﷜  کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی  عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے  کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈائریکٹر دار السلام)  وغیرہ کی کتب  قابل ذکر  ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’ حضرت عمر فاروق ﷜کا قائدانہ کردار‘‘ محترم قاری روح اللہ مدنی ﷾‘‘ کی  سیدنا حضرت  عمر بن  خطاب ﷜ کی سیرت  واحوال  کے متعلق  مختصر مگر جامع  کتاب ہے ۔ فاضل  مصنف نے  ایمان افروز اور دلکش  اسلوب میں  امیر المؤمنین  حضر  ت عمر فاروق ﷜ کی سیرت معطرہ کے رنگ برنگ پاکیزہ مناقب ،روح پرور رعایا پروری کے وقعات  کو بڑے  احسن انداز  بیان  میں کیا ہے  ۔اللہ تعالی ان  کی اس کاوش  کو قبول فرمائے  ۔اور تمام اہل اسلام کو صحابہ کرام﷢  کی طر ح زندگی بسر کرنے کی توفیق اور  عالم اسلام کے  حکمرانوں  کو سیدنا عمر فاروق ﷜کے نقشے قدم  پرچلنے  کی توفیق عطا فرمائے(آمین) (م۔ا) 

  • 39 #5489

    مصنف : کامران اعظم سوہدروی

    مشاہدات : 1371

    حضرت عمر بن عبد العزیز  ( کامران اعظم سوہدروی )

    (اتوار 11 جون 2017ء) ناشر : زاہد بشیر پرنٹرز، لاہور

    امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز ﷫ کوپانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز ﷫ عمرثانی کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم نےاپنے 10 سالہ عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےگو اڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حدیث وسیراور تاریخ ورجال کی کتب میں ان کے عدل انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا وسیاست کے بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫‘‘امیر المومنین خلفیہ راشد سیدنا عمرفاروق کے حقیقی جانشین عمرثانی کی سیرت وخدمات اور خلافت کے حالات واقعا ت پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب جناب کامران اعظم سوہدروی کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس کتاب کو تیرا ابواب میں تقسیم کیا ہے۔دلچسپ پیرائیوں اور عنوانات باندھ کر حضرت عمربن عبدالعزیز ﷫ کی پوری حیات کے ہر پہلو کو بحوالہ درج کیا ہے اور حضرت عمر بن عبد العزیز ﷫ کی صحیح تصویر کشی کی ہے ۔ کہیں غلو یا تنقیص کا عنصر نہیں ہے ۔یہ کتاب مناسب معلومات پر مبنی ہے جو بے جاتطویل واختصارسے مبرّا ہے۔ فاضل مصنف نے پوری کتاب میں دلچسپی کو برقرار رکھا ہے ۔(م۔ا)

  • 40 #1099

    مصنف : محمود احمد غضنفر

    مشاہدات : 16668

    حکمران صحابہ رضی اللہ عنہم

    (بدھ 01 فروری 2012ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    نبی اکرمؐ کے وصال پر ملال کے بعد آپ ﷺ کے رفقائے عالی مقام کا دور آتا ہے جنہیں صحابہ کرام کے پر عظمت لقب سے پکارا جاتا ہے۔ تاریخ انتہائی فخر اور احترام کے ساتھ اس گروہ کا ذکر کرتی ہے اور فیصلہ دیتی ہے کہ انبیاء و رسلؑ کے بعد اس سطح ارض پر اور آسمان کی نیلی چھت کے نیچے آج تک کوئی ایسی جماعت پیدا نہیں ہوئی جو صحابہ کرامؓ کی ہم سری کا دعویٰ کر سکے اور نہ آئندہ قیامت تک پیدا ہو گی۔ صحابہ کرامؓ کی مقدس و مبارک جماعت بے شمار خصوصیات کی حامل تھی اور ان میں سے بعض حضرات میں بعض خصوصیات خاص طور پر بے حد نمایاں تھیں جن میں ایک خصوصیت ’’طرزِ حکمرانی‘‘ تھی۔ جن حضرات بلند مرتبت میں یہ خصوصیت پائی جاتی تھی انہیں خود نبی کریم ﷺ نے بھی بعض مقامات پر والی اور حاکم مقرر فرمایا اور آپ کے بعد خلفاء راشدین کے عہد بابرکت میں بھی ان کی اس خصوصیت و صلاحیت سے فائدہ اُٹھایا گیا۔ زیر نظر کتاب میں مولانا محمود احمد غضنفر صاحب نے صحابہ کرام کی اسی خصوصیت کو دادِ تحسین سے نوازا ہے۔ اسلامی ریاست و حکومت کے موضوع پر یہ نہایت اہم کتاب ہے کہ جس میں ان صحابہ کرام کو جمع کر دیا گیا ہے جنہوں نے مختلف مقامات میں داد حکمرانی دی۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قسم کی حکمرانی کی تلقین کرتا ہے اور مسلمان حکمران کے اصل فرائض کیا ہیں؟ اس کتاب میں ایسے صحابہ کرام کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے اسلامی مملکت کے مختلف علاقوں میں حکومت کے فرائض سر انجام دیئے۔ عالم اسلام کے موجودہ حکمران اس کتاب کو مشعل راہ بنا کر دنیاو آخرت کی سعادتوں کو حاصل کر سکتے ہیں۔ صحابہ کرام کی حیات طیبہ کو منصۂ شہود پر لانا، ان کے کارناموں کو نکھار کر پیش کرنا اور لوگوں کے علم و مطالعہ میں لانا واقعی ہی بہت بڑی سعادت اور عظیم  خدمت ہے۔ (آ۔ ہ)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1895
  • اس ہفتے کے قارئین 7880
  • اس ماہ کے قارئین 46274
  • کل قارئین49342085

موضوعاتی فہرست