دکھائیں کتب
  • 51 دو سسر رضی اللہ تعالیٰ عنہم دو داماد (منگل 23 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:683

    تمام صحابہ کرام ﷢ کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین ﷢ کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام﷩ کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم ﷺ کے اسوہ ء حسنہ کی بے چوں و چراں پیروی کی اور آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ و عمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدین﷢کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرام﷢کے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔خلفائے راشدین ﷢ میں سب سے برتر فضیلت سیدنا ابوبکرصدیق﷜ کو حاصل ہے ،اس کے بعد سیدنا عمرفاروق﷜ کو ،پھر سیدنا عثمان بن عفان﷜ کواور پھرسیدناعلی﷜ کو ۔صحابہ کرام کی اسی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر متعدد اہل علم نے  ان کی سیرت اور مقام ومرتبے پر بے شمار کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ دو سسر دو دماد﷢ ‘‘ ابو محمدعظیم رائی کی  خلفائے راشدین کے متعلق ایک منفرد کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب  میں   خلیفہ اول سید نا ابو بکر صدیق ، خلیفہ دو م سیدنا  عمر فاروق ،خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی ، خلیفہ رابع سیدنا علی  المرتضیٰ ﷢ کی سیرت کو  اٹھارہ غیر منقوط حروف میں  پیش کیا ہے۔ مصنف ن...

  • 52 دولت مند صحابہ رضی اللہ عنہم (بدھ 15 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2732

    مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال رائج ہو رہا ہے کہ دنیا اور دنیا کی دولت بہت بری چیز ہے۔اور اسلام حصول دولت اور سیم وزر جمع کرنے کے بہت خلاف ہے اور فقر وفاقہ ہی کی تعلیم دیتا ہے،چنانچہ اکثر ملا  اور واعظ بھی اپنے وعظوں میں اسی قسم کی ذہنیت پیدا کرنے  اور اسی کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان دن بدن کمزور اور نادار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔افلاس اس کے سروں پر مسلط ہو رہا ہے،قرض بڑھتا جا رہا ہے ،اور اغیار سونے چاندی میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔مسلمانوں کا وہ طبقہ جو دیندار یا روحانیت کا علمبردار کہلاتا ہے وہ تو یہی کہتا ہے کہ مسلمان  دنیوی ترقی نہیں کر سکتے نہ ہی کرنی چاہئے۔ زیر تبصرہ کتاب " دولت مند صحابہ  " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حکیم عبد المجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بطور نمونہ دولت مند صحابہ کرام ،صحابیات کرام اور تابعین عظام ﷭کے ایمان افروز تذکرے جمع  فرما کر مسلمانوں کو یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ وہ دولت کمانا،بچانا اور پھر اسے صحیح جگہ پر لگانا سیکھیں۔جن تک وہ کوتاہ ہمت ،کم کوش اور کام چور رہیں گے ان کی اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوگی اور  نہ ہی وہ  اقوام عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 53 رحماء بینہم جلد اول (منگل 21 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2193

    صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "رحماء بینہم"محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی الل...

  • 54 رسالہ کاتبان وحی (منگل 07 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1767

    اسلام آخری مذہب ہے، قیامت تک دوسرا کوئی مذہب نازل ہونے والا نہیں ہے، اس دین کی حفاظت و صیانت کا سہرا صحابہٴ کرام  کے سر ہے، صحابہ کی برگزیدہ جماعت نے اسلام کی بقا اور اس کے تحفظ کے لیے جان و مال کو قربان کیا، انھیں کے خونِ جگر سے سینچے ہوئے درخت کا پھل آج ہم سب کھا رہے ہیں، انہوں نے دین کو اس کی صحیح صورت میں محفوظ رکھنے کا جتن کیا، ان کی زندگی کا ہر گوشہ اسلام کی صحت و سلامتی کی کسوٹی ہے، جو لوگ صحابہٴ کرام سے جتنا قریب ہیں، وہ دین سے اتنا ہی قریب ہیں، اور جو لوگ جتنا اس جماعت سے دورہوں گے؛ ان کی باتیں اُن کا نظریہ، اُن کا عقیدہ اور اُن کا عمل اتنا ہی دین سے منحرف ہوگا۔ قرآن و سنت کی حفاظت میں صحابہٴ کرام نے جس طرح اپنے حیرت انگیز خداداد حافظے کو کام میں لائے اسی طرح دوسرے وسائل اختیار کرنے سے بھی انہوں نے دریغ نہیں کیا، انہوں نے آیات و احادیث کی حفاظت لکھ کر بھی کی ہے، بہت سے صحابہٴ کرامﷺ نے قرآن مجید لکھ کر اپنے پاس محفوظ کر  رکھا تھا،  اسی سے تلاوت کیاکرتے تھے، بہت سے صحابہٴ کرام نے چند سورتیں یا چند آیتیں لکھ رکھی تھیں، احادیث کا لکھا ہوا ذخیرہ بھی بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھا، کثرت سے آیات و احادیث یادکرنے اور لکھنے کی روایات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اندر وحی اور دین کی حفاظت کا جذبہ کتنا زیادہ تھا، اُس دور میں جب کہ لکھنے پڑھنے کے وسائل آج کی طرح بہت وافر نہ تھے، پھر بھی انہوں نے بڑی دلچسپی سے کتابت سیکھی اور سکھائی،بعض اہلِ فن کو خدمتِ نبوی میں رہ کر ”وحی الٰہی“ کی کتابت کا ش...

  • نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام﷢ کو دین  کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ  ﷺ صحابہ  ﷢ سے سوال کرتے  اگر  ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں  نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم  ﷺکے صحابہ کرام سےکیے گئےیہ سوالات  حدیث  کی مختلف میں  موجودد ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اللہ ﷺ کےسوالات  اور صحابہ﷢ کے جوابات‘‘ شیخ سلمان نصیف الدحدوح کی عربی کتاب ’’ الرسول یسال والصحابی یجیب‘‘ کا  اردود ترجمہ ہے  فاضل مصنف نے اس کتاب کو مختلف...

  • 56 سانحۂ کربلا (پیر 13 دسمبر 2010ء)

    مشاہدات:18205

    ہمارے ہاں شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ضمن میں بہت سے مغالطے اور اور غلط فہمیاں زبان زدعام و خاص ہیں۔ شیعہ حضرات اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سانحہ کربلا کی آڑ میں صحابہ کرام پر اپنی تحریر و تقریر کا زور آزماتے ہیں۔ زیر مطالعہ مختصر سے رسالہ میں ڈاکٹر اسراراحمد صاحب نے سانحہ کربلا کے سیاق و سباق کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہی فراہم کی ہے۔ اور اس حوالے سے بیان کیا جانے والے تمام رطب و یابس کی قلعی کھولی ہے۔ اس کتابچے کا پس منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ’ہجری سال نو مبارک‘ کے حوالے اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر ’سانحہ کربلاکا تاریخی پس منظر‘ کے عنوان سے خطاب کیااس کے بعدواقعات کربلا کے ضمن میں حضرت محمد باقر سے مروی ایک روایت کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ کتابچہ در اصل ان تینوں کی یکجا صورت ہے۔

  • 57 سرور کائنات کے پچاس صحابہ (ہفتہ 15 جون 2013ء)

    مشاہدات:6204

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)
     

  • 58 سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ رضی اللہ عنہم (پیر 04 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1820

    ملکوں کے درمیاں تعلقات اور کاروبار وغیرہ کو باامن طریقے سے چلانے کے عمل کو سفارت کاری کہتے  ہے ۔ بین الاقوامی مذاکرات بہ آسانی حل کرنے کے طریقے اور سفارت کار کے اسلوبِ عمل بھی سفارت کاری سے عبارت ہے ۔ امن ، جنگ ، تجارت ، تہذیب ، معاشیات ، اقتصادیات وغیرہ میں ممالک کے درمیاں معاہدے اور مفاہمتیں سفارتکاری ہی سے انجام پذیر ہو تی ہیں۔ سفارت کا  عہدہ زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے ۔ یعنی  جب سےتہذیب وثقافت اور ریاستی امور وقوانین وضع کیے گئے اس وقت سے ہی  یہ عہدہ بھی موجو  ہے۔ یونانی ، چینی، ایرانی،  اور رومی سیاسیات کےمطالعہ سے  معلوم ہوتاہے کہ ان کے ہاں عہدۂ سفارت موجود  تھا۔  زمانۂ جاہلیت میں جب عرب معاشرتی لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم تھے قبائلی نظام رائج تھا اور ان قبائل میں صدیوں پرانی رقابتیں اور دشمنیاں چلی آرہی تھیں تب بھی وہ قبائل تنازعات کے حل کے لیے سفارت پر یقین رکھتے تھے اور اپنے قبیلے سے سفارت کے لیے  اس شخص کا نتخاب کرتے جو فصیح اللسان ہوتا۔اہل روما نے ایسے معاملات طے کرنے کے لیے مذہبی راہنماؤں کی ایک جماعت مخصوص کر رکھی تھی  جوصلح وامن کی  شرائظ طے  کرتی  تھی۔ ترکی میں ابتدائی زمانے میں  سفیر عموماً قصر شاہی کے افسروں میں سے  چنے جاتے تھے۔اسلامی ریاست جب وجود میں آئی تو اس کے ابتدائی دور میں خود حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں دوسری ریاستوں سے معاملات طے کرنے کے لیے نمائندے بھیجے  جاتے  تھے  اور دوسری ریاستوں کےنمائندوں  کواپنے ہاں مدعو کیا جاتا تھ...

  • 59 سوانح حضرت ابوذر غفاری (جمعرات 23 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1317

    آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر  کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ آج بڑی شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ عہد ماضی کے ان نامور سپوتوں اور رجال عظیم کی پاکیزہ سیرتوں اور ان کے اُجلے اُجلے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی حوالے سے ہے جس میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی سیرت اور ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ کی باکمال جماعت ان قدسی صفات انسانوں پر مشتمل تھی جن کے دلوں کی سر زمین خدا خوفی‘ خدا ترسی‘ جود وسخا‘ عدل ومساوات صدق وصفا اور دیانت داری سے مرصع ومزین تھی۔ صحابہ میں سے ایک بے مثال‘ حق کی تلاش میں مسلسل سر گرداں اور دنیا وآخرت کی سرفرازیوں سے  نوازے جانے والے حضرت ابو ذر غفاریؓ بھی ہیں۔ یہ کتاب سلاست اور روانی کی عجب شان رکھتی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ابوذر غفاریؓ ‘‘ عبد الحمید جودۃ السحار کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونی...

  • 60 سیدنا ابوبکر صدیق (صلابی) جلد اول (منگل 02 مئی 2017ء)

    مشاہدات:2079

    انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔جماعت ِ صحابہ میں سےخاص طور پر وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کے بعد اس امت کی زمامِ اقتدار ، امارت ، قیادت اور سیادت کی ذمہ داری سنبھالی ، امور دنیا اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے ان کےاجتہادات اور فیصلوں کو شریعت ِ اسلامی میں ایک قانونی دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ان بابرکت شخصیات میں سے خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر صدیق سب سے اعلیٰ مرتبے اور بلند منصب پر فائز تھے اور ایثار قربانی اور صبر واستقامت کا مثالی نمونہ تھے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق قبیلہ قریش کی ایک مشہور شاخ تیم بن مرہ بن کعب کے فرد تھے۔ساتویں پشت میں مرہ پر ان کا نسب رسول اللہﷺ سے مل جاتا ہے ہے ۔ایک سچے مسلمان کا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ انبیاء ورسل کے بعد اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اور ارفع شخصیت سیدنا ابو بکر صدیق ہیں ۔ سیدنا ابو بکر صدیق ہی وہ خو ش نصیب ہیں جو رسول اللہﷺ کےبچپن کے دوست اور ساتھی تھے ۔آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے کی سعادت حاصل کی اور زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کی خدمت واطاعت کرتے رہے اور اسلامی احکام کے سامنے سرجھکاتے رہے ۔ رسول اللہ سے عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت کے لیے تن من دھن سب کچھ پیش ک...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1435
  • اس ہفتے کے قارئین: 7966
  • اس ماہ کے قارئین: 27259
  • کل قارئین : 47735459

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں