کل کتب 132

دکھائیں
کتب
  • 51 #6323

    مصنف : علامہ قاری محمد وسیم اکرم القادری

    مشاہدات : 910

    دنیائے اسلام کا پہلا مؤذن

    (ہفتہ 24 فروری 2018ء) ناشر : مکتبہ سراج منیر

    آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔اس لیے مسلمانوں کو حضرت بلال رضی اللہ عنہ جیسے صحابی رسولﷺ کی سیرت سے آگاہ کرکے ان میں ایمانی جوش پیدا کرنا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔ کیونکہ آج کا مسلمان دین کو چھوڑ کر دنیا میں اُلجھ گیا ہے‘ اسے دین کی طرف جاتا کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔ ہر طرف دنیا ہی دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے‘ اسے صرف مال ودولت کی حرص وطمع ہے‘ دین کی کوئی پرواہ نہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں حضرت بلالؓ کی سیرت کو بیان کر کے ان میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ہمارے سلف کیا تھے انہوں نے دین کے لیے کیا کچھ کیا ‘ کیا کیا مصیبتیں جھلیں اور دوسری طرف ہمارے احوال کیا ہیں؟ کتاب میں سب سے پہلے صحابہ کی شان کو بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت بلالؓ کی سوانح حیات کو مکمل تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اور ان کی زندگی کے ہر پہلو کو کتاب کی زینت بنانے کی عظیم کاوش ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دنیائے اسلام کا پہلامؤذ ن ‘‘ علامہ قاری محمد وسیم اکرم القادری کی تالیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 52 #6785

    مصنف : ابو محمد محمد عظیم رائی

    مشاہدات : 778

    دو سسر رضی اللہ تعالیٰ عنہم دو داماد

    (منگل 23 اکتوبر 2018ء) ناشر : ادارہ اساس العلم کراچی

    تمام صحابہ کرام ﷢ کو عمومی طور پر اور خلفائے راشدین ﷢ کو خصوصی طور پر ، امت میں جو مقام و مرتبہ حاصل ہے ، اس کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ انبیاء کرام﷩ کے بعدیہ مقدس ترین جماعت تھی جس نے خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺکی رسالت کی تصدیق کی ، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہا ، اپنی جان و مال سے آپﷺکا دفاع کیا ، راہِ حق میں بے مثال قربانیاں دیں ، نبی اکرم ﷺ کے اسوہ ء حسنہ کی بے چوں و چراں پیروی کی اور آپﷺ کی رحلت کے بعد اپنے عقیدہ و عمل کے ذریعے اس آخری دین اور اس کی تعلیمات کی حفاظت کی۔صحیح احادیث میں خلفائے راشدین﷢کے جو فضائل بیان ہوئے ہیں ، وہ ہمارے لیے کافی ہیں۔اس لیے کہ جہاں ہم ان کے ذریعے صحابہ کرام﷢کے حقیقی مقام و مرتبہ کو جان سکتے ہیں وہیں ان کی عقیدت میں غلو کے فساد سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔خلفائے راشدین ﷢ میں سب سے برتر فضیلت سیدنا ابوبکرصدیق﷜ کو حاصل ہے ،اس کے بعد سیدنا عمرفاروق﷜ کو ،پھر سیدنا عثمان بن عفان﷜ کواور پھرسیدناعلی﷜ کو ۔صحابہ کرام کی اسی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر متعدد اہل علم نے  ان کی سیرت اور مقام ومرتبے پر بے شمار کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ دو سسر دو دماد﷢ ‘‘ ابو محمدعظیم رائی کی  خلفائے راشدین کے متعلق ایک منفرد کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب  میں   خلیفہ اول سید نا ابو بکر صدیق ، خلیفہ دو م سیدنا  عمر فاروق ،خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی ، خلیفہ رابع سیدنا علی  المرتضیٰ ﷢ کی سیرت کو  اٹھارہ غیر منقوط حروف میں  پیش کیا ہے۔ مصنف نے  زبان کی سلاست وروانی کو برقرار رکھنے  کے لیے یہ کوشش کی ہے کہ نادر الوقوع الفاظ کا  استعمال کم سے کم ہو  ۔ اگر  کہیں ایسا ہوا ہے  تو حاشیہ میں اس کی تشریح کردی گئی ۔اس منفرد غیر منقوط کتاب میں اصطلاحات جدیدہ  کی وضاحت اور حوالوں کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے ۔خلفائے راشدین کی سیرت پر یہ اولین غیر منقوط کتاب ہے۔اس سے پہلے  مولانا محمد ولی رازی نے سیرت طیبہ کے موضوع پر ’’ ہادی عالم‘‘ کے نام  سے  غیر منقوط کتاب لکھ کر صدارتی ایوارڈ حاصل کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 53 #3348

    مصنف : عبد المجید سوہدروی

    مشاہدات : 2900

    دولت مند صحابہ رضی اللہ عنہم

    (بدھ 15 جولائی 2015ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور

    مسلمانوں میں عام طور پر یہ خیال رائج ہو رہا ہے کہ دنیا اور دنیا کی دولت بہت بری چیز ہے۔اور اسلام حصول دولت اور سیم وزر جمع کرنے کے بہت خلاف ہے اور فقر وفاقہ ہی کی تعلیم دیتا ہے،چنانچہ اکثر ملا  اور واعظ بھی اپنے وعظوں میں اسی قسم کی ذہنیت پیدا کرنے  اور اسی کو تقویت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مسلمان دن بدن کمزور اور نادار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔افلاس اس کے سروں پر مسلط ہو رہا ہے،قرض بڑھتا جا رہا ہے ،اور اغیار سونے چاندی میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔مسلمانوں کا وہ طبقہ جو دیندار یا روحانیت کا علمبردار کہلاتا ہے وہ تو یہی کہتا ہے کہ مسلمان  دنیوی ترقی نہیں کر سکتے نہ ہی کرنی چاہئے۔ زیر تبصرہ کتاب " دولت مند صحابہ  " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا حکیم عبد المجید سوہدروی﷫ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بطور نمونہ دولت مند صحابہ کرام ،صحابیات کرام اور تابعین عظام ﷭کے ایمان افروز تذکرے جمع  فرما کر مسلمانوں کو یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ وہ دولت کمانا،بچانا اور پھر اسے صحیح جگہ پر لگانا سیکھیں۔جن تک وہ کوتاہ ہمت ،کم کوش اور کام چور رہیں گے ان کی اقتصادی حالت بہتر نہیں ہوگی اور  نہ ہی وہ  اقوام عالم میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 54 #3327

    مصنف : محمد نافع

    مشاہدات : 2324

    رحماء بینہم جلد اول

    dsa (منگل 21 جولائی 2015ء) ناشر : دار الکتاب لاہور

    صحابہ کرام   وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام    خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام   کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔لیکن شیعہ حضرات باغ فدک کے مسئلے پر سیدنا ابو بکر صدیق  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان لڑائی اور ناراضگیاں  ظاہر کرتے ہیں اور بھولے بھالے مسلمان ان کے پیچھے لگ کر سیدنا ابو بکر صدیق  کو ظالم  قرار دیتے اور ان پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کرتے ہیں۔حالانکہ اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے تو  معلوم ہوتا ہے کہ ان مقدس ہستیوں کے درمیان ایسا کوئی نزاع سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "رحماء بینہم"محترم مولانا محمد نافع صاحب کی تصنیف ہے۔مولف موصوف نے  اس کتاب میں صحابہ کرام  کے ایک دوسرے کے بارے  کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد میں  سیدنا ابو بکر صدیق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے،دوسری جلد میں سیدنا عمر فاروق   اور سیدنا علی  اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے درمیان عمدہ تعلقات اور بہترین مراسم کو جدید تحقیقی انداز میں پیش کیا گیا ہےاور تیسری اور چوتھی جلد وں میں سیدنا عثمان  اور ان کی اقرباء پروری کے اوپر گفتگو کی گئی ہے۔اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • 55 #3075

    مصنف : قاری محمد طاہر الرحیمی

    مشاہدات : 1901

    رسالہ کاتبان وحی

    (منگل 07 اپریل 2015ء) ناشر : مسجد سراجاں حسین آگاہی ملتان

    اسلام آخری مذہب ہے، قیامت تک دوسرا کوئی مذہب نازل ہونے والا نہیں ہے، اس دین کی حفاظت و صیانت کا سہرا صحابہٴ کرام  کے سر ہے، صحابہ کی برگزیدہ جماعت نے اسلام کی بقا اور اس کے تحفظ کے لیے جان و مال کو قربان کیا، انھیں کے خونِ جگر سے سینچے ہوئے درخت کا پھل آج ہم سب کھا رہے ہیں، انہوں نے دین کو اس کی صحیح صورت میں محفوظ رکھنے کا جتن کیا، ان کی زندگی کا ہر گوشہ اسلام کی صحت و سلامتی کی کسوٹی ہے، جو لوگ صحابہٴ کرام سے جتنا قریب ہیں، وہ دین سے اتنا ہی قریب ہیں، اور جو لوگ جتنا اس جماعت سے دورہوں گے؛ ان کی باتیں اُن کا نظریہ، اُن کا عقیدہ اور اُن کا عمل اتنا ہی دین سے منحرف ہوگا۔ قرآن و سنت کی حفاظت میں صحابہٴ کرام نے جس طرح اپنے حیرت انگیز خداداد حافظے کو کام میں لائے اسی طرح دوسرے وسائل اختیار کرنے سے بھی انہوں نے دریغ نہیں کیا، انہوں نے آیات و احادیث کی حفاظت لکھ کر بھی کی ہے، بہت سے صحابہٴ کرامﷺ نے قرآن مجید لکھ کر اپنے پاس محفوظ کر  رکھا تھا،  اسی سے تلاوت کیاکرتے تھے، بہت سے صحابہٴ کرام نے چند سورتیں یا چند آیتیں لکھ رکھی تھیں، احادیث کا لکھا ہوا ذخیرہ بھی بہت سے صحابہٴ کرام کے پاس محفوظ تھا، کثرت سے آیات و احادیث یادکرنے اور لکھنے کی روایات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اندر وحی اور دین کی حفاظت کا جذبہ کتنا زیادہ تھا، اُس دور میں جب کہ لکھنے پڑھنے کے وسائل آج کی طرح بہت وافر نہ تھے، پھر بھی انہوں نے بڑی دلچسپی سے کتابت سیکھی اور سکھائی،بعض اہلِ فن کو خدمتِ نبوی میں رہ کر ”وحی الٰہی“ کی کتابت کا شرف بھی حاصل ہوا۔ان کاتبین وحی کا تذکرہ تاریخ  اور اسماء الرجال کی کتابوں  میں موجود ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ رسالہ کاتبان وحی ‘‘ محمد طاہر رحیمی   کی کی کاوش ہے۔ جس میں  انہو ں نے  انتہائی محنت و کاوش ا ور بہت ہی جستجو اور تلاش کے بعد وحی کے لکھنے والے 56 صحابہ کرام   کے اسماء گرامی اور ان کے مختصر حالات جمع کیے  ہیں ۔اپنے موضوع پر یہ  قابل داد محنت ہے ۔اللہ تعالیٰ  مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے  نافع بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 56 #5266

    مصنف : سلمان نصیف الدحدوح

    مشاہدات : 1914

    رسول اللہ ﷺ کے سوالات اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے جوابات

    (اتوار 09 اپریل 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام﷢ کو دین  کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ  ﷺ صحابہ  ﷢ سے سوال کرتے  اگر  ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں  نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم  ﷺکے صحابہ کرام سےکیے گئےیہ سوالات  حدیث  کی مختلف میں  موجودد ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اللہ ﷺ کےسوالات  اور صحابہ﷢ کے جوابات‘‘ شیخ سلمان نصیف الدحدوح کی عربی کتاب ’’ الرسول یسال والصحابی یجیب‘‘ کا  اردود ترجمہ ہے  فاضل مصنف نے اس کتاب کو مختلف موضات کےتحت 20 ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے نے   نبی اکرم  کے  صحابہ  کرام ﷢ سے کیے گئے  سوالات   اور ان کے جوابات کو کتب  احادیث سے تلاش کر کے ایک جگہ جمع کردیا ۔ اس کتاب کو عربی اردو قالب میں  محترم جناب احسان اللہ فاروقی ﷾ نے ڈھالا ہے اور ترجمہ کے ساتھ تخریج کا اہم کام بھی انجام دیاہے ۔اور مولانا محمد اختر صدیق (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ لاہور و فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے کتاب کی نظرثانی کے امور انجام دیئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  عامۃ الناس کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 57 #378

    مصنف : ڈاکٹر اسرار احمد

    مشاہدات : 18408

    سانحۂ کربلا

    (پیر 13 دسمبر 2010ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ،سیالکوٹ

    ہمارے ہاں شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ضمن میں بہت سے مغالطے اور اور غلط فہمیاں زبان زدعام و خاص ہیں۔ شیعہ حضرات اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے سانحہ کربلا کی آڑ میں صحابہ کرام پر اپنی تحریر و تقریر کا زور آزماتے ہیں۔ زیر مطالعہ مختصر سے رسالہ میں ڈاکٹر اسراراحمد صاحب نے سانحہ کربلا کے سیاق و سباق کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی مکمل تفصیلات سے آگاہی فراہم کی ہے۔ اور اس حوالے سے بیان کیا جانے والے تمام رطب و یابس کی قلعی کھولی ہے۔ اس کتابچے کا پس منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ’ہجری سال نو مبارک‘ کے حوالے اہم باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر ’سانحہ کربلاکا تاریخی پس منظر‘ کے عنوان سے خطاب کیااس کے بعدواقعات کربلا کے ضمن میں حضرت محمد باقر سے مروی ایک روایت کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ کتابچہ در اصل ان تینوں کی یکجا صورت ہے۔

  • 58 #1721

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 6332

    سرور کائنات کے پچاس صحابہ

    (ہفتہ 15 جون 2013ء) ناشر : البدر پبلیکیشنز لاہور

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)
     

  • 59 #3150

    مصنف : تبسم محمود غضنفر

    مشاہدات : 1944

    سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ رضی اللہ عنہم

    (پیر 04 مئی 2015ء) ناشر : ضیاء احسان پبلشرز

    ملکوں کے درمیاں تعلقات اور کاروبار وغیرہ کو باامن طریقے سے چلانے کے عمل کو سفارت کاری کہتے  ہے ۔ بین الاقوامی مذاکرات بہ آسانی حل کرنے کے طریقے اور سفارت کار کے اسلوبِ عمل بھی سفارت کاری سے عبارت ہے ۔ امن ، جنگ ، تجارت ، تہذیب ، معاشیات ، اقتصادیات وغیرہ میں ممالک کے درمیاں معاہدے اور مفاہمتیں سفارتکاری ہی سے انجام پذیر ہو تی ہیں۔ سفارت کا  عہدہ زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے ۔ یعنی  جب سےتہذیب وثقافت اور ریاستی امور وقوانین وضع کیے گئے اس وقت سے ہی  یہ عہدہ بھی موجو  ہے۔ یونانی ، چینی، ایرانی،  اور رومی سیاسیات کےمطالعہ سے  معلوم ہوتاہے کہ ان کے ہاں عہدۂ سفارت موجود  تھا۔  زمانۂ جاہلیت میں جب عرب معاشرتی لحاظ سے مختلف گروہوں میں تقسیم تھے قبائلی نظام رائج تھا اور ان قبائل میں صدیوں پرانی رقابتیں اور دشمنیاں چلی آرہی تھیں تب بھی وہ قبائل تنازعات کے حل کے لیے سفارت پر یقین رکھتے تھے اور اپنے قبیلے سے سفارت کے لیے  اس شخص کا نتخاب کرتے جو فصیح اللسان ہوتا۔اہل روما نے ایسے معاملات طے کرنے کے لیے مذہبی راہنماؤں کی ایک جماعت مخصوص کر رکھی تھی  جوصلح وامن کی  شرائظ طے  کرتی  تھی۔ ترکی میں ابتدائی زمانے میں  سفیر عموماً قصر شاہی کے افسروں میں سے  چنے جاتے تھے۔اسلامی ریاست جب وجود میں آئی تو اس کے ابتدائی دور میں خود حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں دوسری ریاستوں سے معاملات طے کرنے کے لیے نمائندے بھیجے  جاتے  تھے  اور دوسری ریاستوں کےنمائندوں  کواپنے ہاں مدعو کیا جاتا تھا معاہدات کی شرائط  طے کرنےمیں  دونوں طرف سے ان نمائندوں کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں ۔ صلح نامۂ حدیبیہ کی شرائط طے کرنے کا معاملہ اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے جس میں حضرت محمدﷺ نے حضرت علی    کوعہد نامہ لکھنے کے لیےاپنا نمائندہ مقرر کیا ۔ یہی نمائندے آگے چل کر سفیر کہلائے  اور انہی کی بدولت ریاستوں کے درمیان تعلقات کو ایک مؤثر ذریعہ تسلیم کیا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سلطنت مدینہ کے سفیر صحابہ‘‘ معروف عالم  دین  اور مترجم کتب کثیرہ محترم  مولانا محمود احمد غضنفر﷫ کی صاحبزادی   محترمہ  تبسم محمود صاحبہ  کا   ایم  اے اسلامیات   کےلیے تحقیقی مقالہ ہےجسے انہوں نے  2001ء میں شعبہ علوم اسلامیہ   پنجاب یونیورسٹی  میں ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے اشراف میں’’ سفراء الرسول تعارف وخصوصیات‘‘ کے عنوان سے   پیش کر کے  اول پوزیشن حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ بعد ازاں اسے’’  سلطنت مدینہ  کے سفیر صحابہ  ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے ۔اس کتاب میں  مصنفہ نے  دربارِ رسالت کے سفیر صحابہ کرام   کے سفارتی کارناموں کو علمی اور تحقیقی انداز میں  قلمبند کیا ہے(م۔ا)
     

  • 60 #6545

    مصنف : عبد الحمید جودۃ السحار

    مشاہدات : 1491

    سوانح حضرت ابوذر غفاری

    (جمعرات 23 اگست 2018ء) ناشر : کتب خانہ قاسمی تجارتی دیو بند

    آج کا دور مصرفیتوں کا دور ہے۔ ہماری معاشرت کا انداز بڑی حد تک مشینی ہو گیا ہے۔ زندگی کی بدلتی ہوئی قدروں سے دلوں کی آبادیاں ویران ہو رہی ہیں۔ فکرونظر  کا ذوق اور سوچ کا انداز بدل جانے سے ہمارے ہاں ہیرو شپ کا معیار بھی بہت پست سطح پر آگیا ہے۔ آج کھلاڑی‘ ٹی وی اور بڑی سکرین کے فن کار ہماری نسلوں کے آئیڈیل اور ہیرو قرار پائے ہیں جس کی وجہ سے ماضی کے وہ عظیم سپوت اور روشنی کی وہ برتر قندیلیں ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئی ہیں۔ آج بڑی شدت سے اس بات کی ضرورت ہے کہ عہد ماضی کے ان نامور سپوتوں اور رجال عظیم کی پاکیزہ سیرتوں اور ان کے اُجلے اُجلے کردار کو منظر عام پر لایا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی حوالے سے ہے جس میں حضرت ابو ذر غفاریؓ کی سیرت اور ان کے کردار کو بیان کیا گیا ہے کیونکہ صحابہ کرامؓ کی باکمال جماعت ان قدسی صفات انسانوں پر مشتمل تھی جن کے دلوں کی سر زمین خدا خوفی‘ خدا ترسی‘ جود وسخا‘ عدل ومساوات صدق وصفا اور دیانت داری سے مرصع ومزین تھی۔ صحابہ میں سے ایک بے مثال‘ حق کی تلاش میں مسلسل سر گرداں اور دنیا وآخرت کی سرفرازیوں سے  نوازے جانے والے حضرت ابو ذر غفاریؓ بھی ہیں۔ یہ کتاب سلاست اور روانی کی عجب شان رکھتی ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ابوذر غفاریؓ ‘‘ عبد الحمید جودۃ السحار کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1912
  • اس ہفتے کے قارئین 7897
  • اس ماہ کے قارئین 46291
  • کل قارئین49344342

موضوعاتی فہرست