دکھائیں کتب
  • 31 بابری مسجد شہادت کے بعد حصہ دوم (منگل 26 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1333

    مسلمان اللہ کے گھر کی شہادت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی صدیوں قدیم مذہبی آہنگی کے ملیامیٹ ہونے کا غم مناتے ہیں۔ عدلیہ پر اپنے اٹوٹ ایقان کے متزلزل ہونے کا ماتم کرتے ہیں۔ ہم اور ہماری پیشرو نسل کے لوگ بابری مسجد کی تاریخی حقیقت، اہمیت سے بھی واقف ہیں‘ اور اُن لرزہ خیز واقعات کے بھی ٹیلیویژن چیانلس کے ذریعہ چشم دید گواہ بھی ہیں جب تاریخی بابری مسجد کو تاریخ کا ایک حصہ بنانے کے لئے ہندوستان بھر سے کرسیوک جمع ہوئے جنہیں حکومت کی جانب سے سیکوریٹی فراہم کی گئی۔ ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ 6؍دسمبر 1992ء کو ہندوستان کا ہر مسلمان اپنی نظر سے خود گردیا۔ زیر نظر تبصرہ کتاب ’’بابری مسجد شہادت سے قبل‘‘ محمد عارف اقبال کی ہے جس میں مسجد بابری کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء - 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔مزید اس کتاب میں بابری مسجد کی دینی و شرعی و تاریخی حیثیت ، بابری مسجدارباب فقہ و فتاویٰ کی نظراور دیگر تنازعات کو اجاگر کیا ہے روزِ روشن کی طرح اور یہاں تک کہ  ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ...

  • 32 بحریہ ( MERITIME) قرآن و سنت کی روشنی میں (بدھ 17 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:669

    ’’بحریہ‘‘ کی اصطلاح ہمارے معاشرہ میں صرف اور صرف نیوی تک محدودہوکر رہ گئی ہےجس کی وجہ سے بحریہ کے میدان میں نیوی کے علاوہ اس محاذ پر خاطر خواہ ترقی نہ ہو سکی  اور بحریہ کی اصطلاح کے معنیٰ نہ صرف  عامۃ الناس کی نظر میں بلکہ پالیسی ساز اداروں کی نظر میں بھی محدود سے محدود تر ہوتے چلے گئے۔ قرآن کریم نے بحریہ کےموضوع کو اپنی متعدد آیات میں بہت صراحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’بحریہ قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘ ڈاکٹر سیدمحمد انور کی  تصنیف ہےانہوں نے  بحری علوم میں ہونے والی اب تک پیش رفت کی روشنی  میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔ یہ کتاب مختصر ہونے کے باوجود ایک ایسی دستاویز  ہے  جو اس  موضوع سے متعلق ماہرین کے لیے خواہ وعملی میدان میں ہوں یا علمی دائرہ میں سرگرم ہوں ان کے لیے  یہ کتاب  ایک بنیاد فراہم کرتی ہے ۔فاضل مصنف نے بحریہ سے متعلق   جو متعدد علمی  وتخصیصی اصطلاحات وابستہ تمام فنی  اصطلاحات کو  ایک فہرست کی شکل میں انگریزی حروفِ تہجی کےلحا ظ سے تعریف   وتشریح کے ساتھ مرتب کردیا  ہے۔تاکہ ہر خا ص وعام قاری کو مضامینِ کتاب سمجھنے میں آسانی ہو سکے ۔(م۔ا)

  • 33 بدر نامہ (بدھ 25 اگست 2010ء)

    مشاہدات:21590

    رزمیہ شاعری کی تاریخ بڑی پرانی ہے اس کے ذریعے شاعر جنگوں او رلڑائیوں کے واقعات کو ولولہ انگیز اور پرجوش انداز میں لوگوں تک پہنچاتا ہے زیر نظر کتاب غزوہ بدر کے منظوم تذکرہ پر مشتمل ہے غزوہ بدر حق وباطل کا اولین معرکہ تھا جس میں مسلمانوں کو عظیم الشان فتح حاصل ہوئی اور کفارومشرکین کی شان وشوکت خاک میں مل گئی ۔شاعر اسلام علیم ناصری مرحوم نے بڑے ہی دلنشین پیرائیہ اظہار میں اس کے واقعات کے نظم کیا ہے جسے پڑھ کر دل میں جذبۂ جہاد کی آبیاری ہوتی ہے یہ کتاب خصوصاًبچوں کو یادکرانی چاہیے تاکہ انہیں تاریخ سے واقفیت حاصل ہوجائے اور مجاہدانہ طریقوں کو اپنانے کی آرزو پیدا ہوجائے غزوہ بدر رمضان میں برپا ہواتھا اسی مناسبت سے رمضان مقدس میں یہ کتاب انٹرنیٹ پر پیش کی جارہی ہے ۔


     

  • 34 برج اور ستارے حقیقت کیا ہے؟ (منگل 10 جولائی 2012ء)

    مشاہدات:18093

    ڈیلی اخبارات اور ہفتہ وار رسائل میں یہ جملے جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں کہ ’آپ کا دن کیسا رہے گا‘ ’آپ کا ہفتہ کیسا رہے گا‘ اور بہت سے لوگ یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں ’آپ کا سٹار کون سا ہے؟‘ تاریخ پیدائش یا نام کے پہلے حرف سے بارہ برجوں: حمل، ثور، جوزا، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی اور حوت کا تعین کا جاتا ہے۔ ان ستاروں میں کس حد تک حقیقت ہے اور کیا یہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یا یہ سب جھوٹ اور فریب ہے؟ زیر نظر کتاب میں اسی چیز کا حقائق کی روشنی میں جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے نجوم پرستی کی تخیلاتی تاریخ کو آسان انداز میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب ستاروں کے حوالے سے انسانی تخیلات کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ (ع۔ م)
     

  • 35 بولتی سوچیں (بدھ 05 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1759

    ’’بولتی سوچیں‘‘  مولانا محمد مسعود عبدہ کی لکھی ہوئی وہ تحریریں ہیں جو مختلف اوقات میں ڈائریوں پر قلم برداشتہ لکھی گئیں ، اچانک کچھ ذہن میں آیا اور لکھ دیا ۔ان تحریروں کو  پڑھنے والے کچھ حاصل کر سکیں گے ؟یہ تو وہی جان سکتے ہیں، البتہ ’’ علیم و خبیر کے نام خطوط ‘‘یا ’’ خطوط مسعود‘‘ جن لوگوں کی نظر سے گزر چلی ہیں وہ ان تحریروں سے روحانی فائدہ ضرور حاصل کر سکیں گے۔ زیر تبصرہ تحریروں کے مرتب ٹکڑے’’ بولتی سوچیں‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ ، مصلحہ ، مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ رحمھا اللہ  کے خاوندمحترم مولانا محمد مسعود عبدہ   کی تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے سب سے بڑی سچائی ،سیرت امن وسلامتی،ربیع الاول،خواہش نعت ،اعتراف واقرار،آمد رمضان مبارک ،صراط مستقیم ،عوام؟،اصحاب کہف،خالق اور مخلوق ،زندگی ایک سفر ہے اور میں تنہا ہوں جیسے موضوعات پر ہلکے پھلکے انداز میں لکھا ہے۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب  نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرما...

  • 36 تاریخ فلاسفۃ الاسلام (بدھ 13 جون 2018ء)

    مشاہدات:1478

    لفظ فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔ فلسفہ کا موضوع وجود ہے۔ پس کائنات کی ہر شئی اس علم میں داخل ہے۔ لیکن وجودِ عام سے بحث کرتا ہے۔ فلسفہ کسی بھی شئ کے متعلق اٹھنے والے بنیادی سوالات کا جواب فراہم کرتا ہے۔ اب اگر وہ دین ہو تو فلسفہ دین، اگر تاریخ ہو توفلسفہ تاریخ، اگر اخلاق ہو تو فلسفہ اخلاق، اگر وجود ہوتو فلسفہ وجود کہا جاتا ہے۔دین اسلام میں، دو الفاظ بعض اوقات فلسفے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، پہلا فلسفہ اور اس کے ساتھ منطق، ریاضی اور طبیعیات جبکہ دوسرے سے مراد علم الکلام ہے جو ارسطویت اور نو افلاطونیت کی تشریحات پر مبنی فلسفہ ہے۔ اسلامی فلسفہ بھی زندگی کے ساتھ منسلک مسائل کی منظم تحقیقات کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کائنات، اخلاقیات اور تہذیب وغیرہ کا فلسفہ عالم اسلام میں پیش کیا گیا۔ فلسفہ کے متعلق متعدد کتب موجود ہیں جن میں غزالی اور ابن رشد کی کتب قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ فلاسفۃ الاسلام ‘‘ محمد لطفی جمعہ کی عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کے پرو فیسر ڈاکٹر میر ولی الدین سے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔اس کتاب میں مشہور مسلمان فلاسفہ کندی ، فارابی ، ابوعلی سینا ، امام غزالی ، ابن ماجہ ، ابن طفیل ، ابن رشد ، ابن خلدون ، اخوان الصفا ، ابن عربی اور ابن مسکویہ کے حالات وافکار وخیالات کی پوری تشریح وتوضیح موجود ہے ۔ فاضل مترجم نے بڑی محنت سے ترجمہ کا پورا حق ادا کیا ہے ۔قصہ کہانیوں...

  • 37 تبصرے (جمعرات 29 ستمبر 2016ء)

    مشاہدات:2119

    مفتی محمد تقی احمد عثمانی تحریک پاکستان کے کارکن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے سب سے چھوٹے فرزند اور موجودہ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کی پیدائش 1943ءمیں ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سہارنپور کے مشہور قصبہ دیوبند میں ہوئی۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد تھانوی جیکب لائن کراچی میں حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی صاحب کے قائم کردہ مدرسۂ اشرفیہ میں حاصل کی اور پھر آپ نے اپنے والد بزرگوار کی نگرانی میں دارالعلوم کراچی سے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد 1961 میں اسی ادارے سے ہی فقہ میں تخصص کیا۔ بعد ازاں جامعہ پنجاب میں عربی ادب میں ماسٹراور جامعہ کراچی سے وکالت کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔مفتی محمد تقی عثمانی عالم اسلام کے مشہور عالم اور جید فقیہ ہیں۔ آپ کا شمار عالم اسلام کی چند چوٹی کی علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982 سے 2002ء تک عدالت عظمی پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اور جامعہ دارلعلوم، کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ متعدد اسلامی بینکوں میں بحیثیت مشیر کام کررہے ہیں ۔موصوف تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔ آپ دارالعلوم کراچی میں صحیح بخاری، فقہ اور اسلامی اصول معیشت پڑھاتے ہیں۔ اسکے علاوہ مختلف ملکی و غیر ملکی جامعات وقتاً فوقتاً اپنے ہاں آپ کے خطبات کا انتظام کرتی رہتی ہیں۔ نیز تصنیف وتالیف اور مضمون نگار ی میں آپ کی نمایاں خدمات ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تبصرے&lsquo...

  • 38 تحریر کیسے سیکھیں (پیر 07 مئی 2018ء)

    مشاہدات:4137

    جب قلم کی نوک کاغذ کے سینے پر چلتی ہے تو حروف والفاظ جنم لیتے ہیں۔ حروف والفاظ کے ملنےسے جملے وجود میں آتے ہیں۔جملوں کی ترتیب اور ملاپ سے پیرا گراف تشکیل پاتے ہں۔ اس طرح ہزاروں الفاظ‘ سیکڑوں جملے اور بیسیوں پیرا گراف مل کر تحریر کا روپ دھارتے ہیں۔ روز نامچے(ڈائری) اور خط سے لے کر رسائل اور کتابوں تک سب الفاظ ہی کا گورکھ دھندا ہے۔ گویا ہر شخص الفاظ کے استعمال پر مجبور ہے۔ یہ اس کی ضرورت ہے اس لیے کہ کسی شے کی رسید دینے‘ کوئی خط لکھنے یا کوئی مضمون لکھنے کے لیے اسے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں الفاظ کا کھیل جتنا عام اور اہم ہو گیا ہے‘ تاریخ انسانی میں شاید اس سے پہلے کبھی نہیں رہا۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص فن تحریر کے حوالے سے مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب نہایت مفصل اور جامع انداز میں ترتیب دی گئی ہے جس کے پہلے ایڈیشن میں پانچ ابواب قائم کیے گئے تھے۔ پہلے میں صرف ونحو‘ دوسرے میں قواعدِ انشاء‘ تیسرے میں اصول املا‘ چوتھے میں رموزِ اوقاف اور پانچویں میں آداب تحریر کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں قابل ذکر اضافے بھی کیے گئے ہیں مثلاً پانچویں باب میں کہانی لکھنا‘ رپروتا ژ نگاری اور تبصرہ نگاری کو بیان کیا گیا ہے، آداب صحافت کے نام سے چھٹے باب کا عنوان قائم کیا گیا ہے اور اس سے متعلقہ مضامین کو اس کے تحت بیان کیا گیا ہے، بہت سے ذیلی عنوانات اور مباحث کا اضافہ کیا گیا ہے اور کتاب کے شروع میں فہرست اور آخر میں مراجع ومآخذ کو نئے انداز میں مرتب کیا گیا ہےاور کچھ ذیلی عنوانات میں اتنے ا...

  • 39 تحفۂ وقت (پیر 09 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1925

    وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی قدر و قیمت کا ادراک کر کے اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ٹھہرے۔ در حقیقت انسان اس وقت تک ’’وقت‘‘ کے درست مصرف پر اپنی تو جہات کا ارتکاز نہیں کرسکتا جب تک اس کے سامنے اس کی زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔جو انسان اپنی زندگی کو مقصدیت کے دائرے میں لے آیا ہو اور وہ اپنے اسی مقصد اور آدرش کے لیے ہی زندگی کے شب و روز بسرکرنا چاہتا ہو اس کی ساری توجہ اپنے مقصد پر لگ جاتی ہے۔ اِدھر اُدھر کے لا یعنی مسائل میں الجھ کر وہ اپنا وقت برباد نہیں کرتا۔ایک بندۂ مومن کے لیے وقت کسی نعمت کبریٰ سے کم نہیں۔ ایمان انسان کا ایک ایسا وصف ہے جوگزر ے ہوئے وقت کو اس کے لیے ختم یا محو نہیں ہونے دیتا لکہ اس کو ہمیشہ کےلیے امر بنا دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ وقت‘‘ محترم شفیق الرحمٰن الدراوی﷾ کی گراں قدر کاوش ہے۔ اس میں انہوں نے امت مسلمہ کے افراد کے لیے راہنمائی کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں ایسے اصول بیان کیے ہیں جن کی روشنی میں انسان وقت کی صحیح قدر سمجھ سکتا ہے اللہ تعالیٰ اور نبی مکرﷺ کی اطاعت میں رہتے ہوئے دین ودنیا کی کامیابی و کامرانی حاصل کرسکتا ہے۔ فاضل مصنف نے وقت کی قدر و قیمت کو خاص طور اسلامی نقطہ نظر سے اجاگر کرکے ایک سچے اور راست باز مومن کو تضیع اوقات کے نقصان سے آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک عام انسان کے لیے بھی اور امت مسلمہ کے علمبرداروں کے لیے بھی رہنما...

  • 40 تحقیق کے بنیادی عوامل و ارکان قرآن کی نظر میں (جمعہ 29 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2788

    اسلامی تاریخ میں  تحقیق اس کی اہمیت اور اصول وضوابط کو سمجھنے کے لیے سب سےنمایاں مثال جمع وتدوین قرآن کی  ہے  ۔قرآ ن  کریم  کے متن کی تدوین ادبی دنیا کا  عظیم ترین شاہکار ہے ۔تحقیق کا مقصد اور اس کی غرض وغایت کیا ہواس کےبارے میں بھی  قرآن وحدیث میں واضح طور پر رہنمائی موجود  ہے۔زیر نظرکتاب’’تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان قرآن کی نظر میں ‘‘ کرنل  (ر)عمر فاروق غازی کی  تحقیق کے حوالے سے  دوسری تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے  مختلف مشہور  کتب تفسیر اور دیگر عربی کتب کے مطالعہ سے   قرآن کے حوالے سے  تحقیق کا مفہوم ،تحقیق کے اغراض ومقاصد ،تحقیق کےتقاضے تحقیق کے بنیادی عوامل وارکان اور تحقیق کے مختلف طریقوں  کو  دلائل سے مزین کر کے پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب  شائقین تحقیق کے لیے  مفید اور موزوں ثابت ہوگی ۔(م۔ا)

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1321
  • اس ہفتے کے قارئین: 3519
  • اس ماہ کے قارئین: 37540
  • کل قارئین : 47837940

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں