دکھائیں کتب
  • 11 اسلام کا قانون صحافت (پیر 24 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1262

    صحافت کسی بھی معاملے بارے تحقیق اور پھر اسے صوتی، بصری یا تحریری شکل میں بڑے  پیمانے پر قارئین، ناظرین یا سامعین تک پہنچانے کے عمل کا نام ہے۔صحافت پیشہ کرنے والے کو صحافی کہتے ہیں۔ گو تکنیکی لحاظ سے شعبہ صحافت کے معنی کے کئی اجزاء ہیں لیکن سب سے اہم نکتہ جو صحافت سے منسلک ہے وہ عوام کو باخبر رکھنے کا ہے۔دنیا کے حالات پر نظر رکھنے والا ادنی شعور کا حامل انسان بھی اس بات سے بے خبر نہیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور فلسفہ نے ترقی کے جو منازل طے کیے، گزشتہ صدیوں میں ان کا تصور بھی ایک عجوبہ نظر آتا تھا، برقی مقناطیسی لہروں سے ابلاغ کے میدان میں جو مراحل طے ہوئے ہیں، ہوا میں اڑنے اور زمین میں دوڑنے والے ذرائع کی ایجادات میں جو کام یابیاں بنی نوع انسان نے حاصل کی ہیں، اس نے دنیا کے مشرق ومغرب ، شمال وجنوب کے طویل فاصلوں کو سمیٹ لیا اور اس طرح پوری دنیا ایک ایسے ”عالمی گاؤں“ کی شکل اختیا رکر گئی ہے کہ جس کے کسی ایک گوشے میں...

  • 12 اسلام کا نظام فلکیات (الشمس والقمر بحسبان) (جمعہ 22 مئی 2009ء)

    مشاہدات:16248

    آج کل دنیا کے اکثر ممالک، حتٰی  کہ  بیشتر مسلم ممالک میں بھی  عیسوی تقویم رائج ہےحالانکہ حقیقی اور قدیمی تقویم قمری ہے نہ کہ شمسی-عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت مولانا عبدالرحمن کیلانی نے اس کتاب میں ہجری اور عیسوی تقویم کے بکھیڑوں کو سلجھاتے ہوئے محققانہ اور عالمانہ انداز میں اسلام کےنظام فلکیات پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے- کتاب کے شروع میں ان اصول وقواعد پر روشنی ڈالی گئی ہے جو قمری تقویم کی بنیاد ہیں-سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کو تسلیم کیا جاتا رہاہے ، اسلام نے علم ہیئت میں غور وفکر کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ  سیاروں کے اثرات کی کلیتاً نفی کی اور اسے واضح شرک قرار دیا ہے، لہذا ایسے اثرات کی دلائل کی مدد سے تردید کی گئی ہے-علم ہیئت کے موجودہ نظریات میں کچھ ایسے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں ، کچھ متعارض ہیں اور کچھ متصادم ہیں-مولانا  نے ایسے امور کا شرعی نقطہ نظر سے تقابل پیش کرتے ہوئے راہ صواب کی جانب راہنمائی کی ہے-کتاب کے دوسرے حصے میں کئی ایسے طریقے بیان کیے گئےہیں جن میں ہجری تقویم میں بذات خود دن معلوم کیا جاسکتا ہے-اس کے بعد ہجری تقویم اور عیسوی تقویم میں مطابقت کے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کے آخر میں مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق اہم واقعات کےہجری اور عیسوی سنین بقید ماہ و سال درج  کیے گئے ہیں-
     

  • 13 اسلام کا نظریہ جنس (منگل 17 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:2180

    کوئی بھی نظریہ جب پیش کیا جا رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ بہت کچھ وہ بیان کر رہا ہوتا ہے جو صرف وضاحت، توضیح یا تشریح کے ضمن میں ہوتا ہے۔ یا وہ اپنی تشریح یا توضٰیح کے لیے اپنے عہد اورزمانے کے اُن ذرائع کا سہارا لیتا ہے جن کوبعد کے زمانوں میں بہت آسانی سے الگ کیا جا سکتا ہے۔ جب بدھا کپل وستو کو چھوڑ کے جنگل کی طرف جا رہا تھا تو اُس کے سامنے اور ارد گرد کیا حالات تھے جن کی وجہ سے اُس کا نظریہ یا تصورِ حیات پروان چڑھا ہمیں آج اُن سب کو الگ کر کے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سوشلزم کا فلسفہ بھی اپنے تناظر(Context) اور اپنے سیاق (Co-text)سے علیحدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ آج بہت سی زمانی تبدیلیاں اور نئی فکریات نظریات کو نئے انداز سے دیکھنے اور سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ تو ہم جنس پسندی، ہم جنس پرستی، یا ہم جنسیت (انگریزی: Homosexuality) ایک ہی جنس یا صنف کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والی رومانوی کشش، جنسی کشش یا جنسی رویہ ہے۔ ایک جنسی رجحان(sexual orientation) کے طور پر ہم جنسیت ہم جنس لوگوں کی طرف "جذباتی، رومانوی، اور جنسی کشش کی مستقل صورت ہے۔" یہ "ایک شخص کے احساس کی شناخت کا بھی حوالہ ہے جس کی بنیاد ان میلانات، متعلقہ رویوں، اور دوسروں کی کمیونٹی کی ر کنیت ہے جو ایک جیسی دلچسپیاں بانٹتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام کا نظریۂ جنس‘‘ سلطان احمد اصلاحی کی کاوش ہے۔ جس میں اسلام اور مغرب کا نظریہ جنس، جنس کے منحرف رویے اور آداب جماع پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے او ر اس کتاب کو عوا...

  • 14 اسلامی بم کا خالق کون (جمعرات 28 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1767

    دنیا کی ہر قوم کو اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے۔پاکستان کے ہمسائے ممالک میں سے بھارت ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے کبھی بھی پاکستان کو ٹھنڈے دلوں قبول نہیں کیا اور ہر وقت پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔بھارت کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان نے ایٹم بم بنایا اور اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر کر لیا۔یوم تکبیر یعنی 28مئی پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے کہ جب پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کے ایٹمی کلب میں شمولیت حاصل کی ۔ اس سے پہلے امریکہ ، چین ، روس ، برطانیہ اور فرانس ایٹمی کلب کے ممبر تھے ۔جبکہ بھارت نے 11مئی1998 کوراجستان کے مقام پوکھران میں 15.47بجے زیر زمین200میٹر گہرائی میں شکتی ون کے نام سے ایٹم بم کے5دھماکے کر کے کلب میں شامل ہواجس کے جواب میں پاکستان نے28مئی 1998کو ضلع چاغی کے سلسلہ راس کوہ میں 1000میٹر گہرائی میں10.16بجے چاغی ون کے نام سے 7ایٹمی دھماکے کئے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دراصل1954میں ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے ایٹمی توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلامی بم کا خالق کون؟"محترم مبین غزنوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے پاکستانی ایٹم بم کی تیاری اور اس میں پیش آنے والے مختلف مراحل  کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔(راسخ)

  • 15 اسلامی بیداری مستقبل کے تناظر میں (اتوار 04 جون 2017ء)

    مشاہدات:987

    مسلم دنیا میں آج ہر جگہ اسلام کی طرف واپسی اور اس خدائی نظام کی پیروی کا رجحان نظر آ رہا ہے، جس کی اساس قرآن وسنت کے مصادر پر ہے، اس رجحان اور فضا کو آج اصطلاحی طور پر اسلامی بیداری سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔اسلامی بیداری اب وہ عمومی رجحان ہے جس نے انیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں سے ساری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رکھا ہے۔مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کی ایک بڑی تعداد اس میں دلچسپی لے رہی ہے، کچھ تو اسے خوش آمدید کہہ رہے ہیں اور پر امید ہیں، کچھ خوف اور اندیشوں میں مبتلا ہیں، کچھ اس کی وضاحتیں کر رہے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں، کچھ اس سے ڈر رہے ہیں اور اس پر تنقید کر رہے ہیں، کچھ اس کی رہنمائی کر رہے ہیں تو کچھ اسے برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا رویہ اپنے مقصد اور دلچسپی کے لحاظ سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی بیداری مستقبل کے تناطر میں "سعودی عرب کے معروف عالم دین اور ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ، ریاض کے سیکرٹری جنرل محترم ڈاکٹر مانع حماد الجھنی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مظہر سید عالم نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے اسلامی بیداری کے حوالے اپنے تجربے کو پیش کرتے ہوئے مسلم نوجوانوں کی درست سمت رہنمائی فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)(تاریخ اسلام)

  • 16 اسلامی تعلیمات (اتوار 10 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1732

    اِسلامی نظریے کی ایک خصوصیت اُس کی ہمہ گیری اور جامعیت ہے۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے۔ اِسلام کی جامع رہنمائی اخلاقِ فاضلہ کی بلندیوں کی طرف اِنسان کو لے جاتی ہے اور بارِ امانت کا حق ادا کرنے کے لیے اس کو تیار کرتی ہے ۔ اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کااہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبے اسلام کے نزدیک اہم ہیں، خاندانی نظام، معاشرتی روابط ، معاشی تگ و دو، سیاست و حکومت، صلح وجنگ، تہذیب وتمدن، ثقافت و فنونِ لطیفہ اور تعلیم وتربیت سب پر اسلام نے توجہ کی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلامی تعلیمات‘‘ قاری محمد طاہر صاحب کی ہے ۔ یہ کتاب ایم اے اسلامیات سال دوم کےنصاب کے عین مطابق ہے اور انتہائی سلیس اور آسان فہم اردو میں تحریر کی گئی ہے، اور اس کتاب میں اساتذہ اور طلباء دونوں کی مشکلات کو آسان کر دیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس شاندار کوشش کو قبول فرمائے ۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • 17 اسلامی ممالک (ہفتہ 14 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1701

    اسلام ایک نظریہ حیات ہے۔ جس نے انسانیت کو ایک نئے نظام اور نئی تہذیب سے روشناس کیا ہے۔ وفاداریوں اور وابستگیوں کا ایک نیا تصور دیا ہے۔ قومیت کا ایسا ہمہ گیر تصور پیش کیا جس میں انسانوں کی وفاداریوں کو کسی خاص نسل‘ زبان اور علاقہ کی وابستگی کی حدود سے نکال کر ایک وسیع عالمی برادری کے قیام تک وسعت دی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسلمان علیحدہ علیحدہ مملکتوں میں رہتے ہوئے بھی ایک ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں‘ ان کی تہذیب وتمدن مختلف ہیں‘ زبانیں مختلف ہیں اور مختلف نسلوں سے تعلیق رکھتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے اور نظریہ کی ایک لڑی ہے۔ جس میں مصنف نے ملت اسلامیہ کی اکائی پیش کی اور ’اکائی‘ ہے جس پر دنیا کے ہر خطے میں بسنے والا فرد ایک ہی امت قرار پاتا ہے۔ یعنی امت محمدیﷺ یا ملت اسلامیہ۔ اس میں مصنف نے تمام اسلامی ممالک میں شامل ہر مملکت کے تمام اعدادوشمار پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہےاور کسی بھی ملک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کسی قسم کی جذباتیت اور وابستگی سے قطع نظر اعتدال کی راہ کو اپنایا گیا ہے۔ مختلف عالمی اسلامی تنظیموں‘ دنیا میں اقلیتی مسلمان‘ عالم اسلام کے مسائل کی وضاحت کی گئی ہے اور اسلامی معلوماتی اور ادبی تاریخی کتاب ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلامی ممالک ‘‘معاذ حسن کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ مع...

  • 18 اقبال سے ایک انٹرویو (جمعرات 08 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1673

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی ،بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ) کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے۔علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ زیر تبصرہ کتاب"...

  • زیر تبصرہ کتابچہ " امام کعبہ کا پیغام ،پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام " امام کعبہ سماحۃ الشیخ الدکتور عبد الرحمن بن بعد العزیز السدیس ﷾کے آل پاکستان علماء کنونشن منعقدہ 31 مئی 2007ء بمقام الحمراء ہال مال روڈ لاہور زیر اہتمام مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان میں کئے گئے فکر انگیز خطاب،اور اس میں بنائی گئی چند تصاویر پر مشتمل ہے۔خطاب عربی میں ہے ،جبکہ اسے اردو میں پیش کرنے کی سعادت مکتبہ دار السلام لاہور نے حاصل کی ہے۔امام کعبہ﷾ نے اپنے اس خطاب میں چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد علی الاعلان اس بات کا اظہار کیا ہے مسلک حق ،مسلک اہل حدیث ہی ہے اور یہی نجات پانے والی جماعت ہے۔آپ نے اتفاق اتحاد پر زور دیتے ہوئے تفرقہ بازی اور انتشار وافتراق سے بچنے کی تلقین کی ،کیونکہ اسی میں امت کی فلاح وبہبود اور نجات کا راستہ ہے۔آپ نے امت کو سیاست ،تجارت سمیت ہر میدان میں آگے بڑھنے اور اپنی خداد صلاحیتوں کو فضول مصروفیات میں ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت اور فروغ اسلام میں خرچ کرنے پر زور دیا ۔(راسخ)

  • 20 امانت کی تلاش (ہفتہ 03 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1310

    امانت داری ایک اعلی اخلاق ہے ۔ دین کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ یہ ایک نادر اور بیش بہا صفت ہے۔ انسانی معاشرہ کے لیے جزء لا ینفک ہے۔ اس صفت میں حاکم و محکوم کے ما بین کوئی فرق نہیں ہے‘ تاجر وکاریگر ‘مزدور وکاشت کار ‘ امیر و فقیر ‘ بڑا اور نہ چھوٹا اور نہ ہی شاگرد و استاذ بلکہ ہر ایک کے لیے باعث شرف ومنزلت ہے۔انسان کا اصل سرمایاہے۔اور اس کے کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے۔اور ترقی وارتقاء کی چابی ہے۔ہر ایک کے لیے باعث سعادت ہے۔امانت کا معنی بہت وسیع وعریض ہے اور جو لوگ امانت کے معنی کو صرف اس معنی میں محصور کردیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز(سونا‘چاندی‘ روپیے پیسے وغیرہ ) ایک معین مدت تک جمع رکھے۔تو اس جمع شدہ چیز کو صاحب مال تک واپس کر دینا ہی امانت داری ہے تو ایک بہت بڑی کج فہمی ہے لیکن حقیقت یہ کہ امانت داری بہت وسیع معنی پر دلالت کرتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب"" محترم مولانا ابو اسعد محمد صدیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امانت کے اسی وسیع مفہوم کو بیان کرتے ہوئے امانت کی مختلف  اقسام کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1065
  • اس ہفتے کے قارئین: 5555
  • اس ماہ کے قارئین: 39576
  • کل قارئین : 47860028

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں