دکھائیں کتب
  • 21 امت مسلمہ کے فکری مسائل اور ان کا حل (اتوار 13 ستمبر 2009ء)

    مشاہدات:16323

    مصنف کی یہ تصنیف دراصل زمانہ طالب علمی میں ایم –اے وفاق المدارس کے لیے لکھا جانے والا ایک مقالہ ہے جس کو موضوع کی اہمیت کے پیش نظر استفادہ عام کے لیے پیش خدمت ہے-امت مسلمہ کے باہمی انتشار اور اختلافات کی بہت ساری وجوہات ہیں جن کواس مقالہ میں موضوع بحث بنایا گیا ہے-مثلا امت مسلمہ کا فکری ارتقاء اور عقائد کی خیر وبرکات،امت مسلمہ کے سیاسی مسائل اور ان کاحل،مسلمانوں میں مذہبی اختلافات کے اسباب اور مختلف گمراہ گروہوں کا جنم اور ان کے عقائد پر گفتگو،اسلامی افکار کو متاثر کرنے والے اسباب جن سے اسلام میں غلط نظریات کو فروغ ملا،تصوف کی حقیقت اور صوفیا کے مختلف عقائد کی وضاحت،اسلام کو در پیش موجودہ دور میں چیلنجز،دہشت گردی اور اسلام سے اس کا تعلق،تہذیبوں کا تصادم اور نیو ورلڈ آرڈر کی حقیقت،اور آخر میں امت مسلمہ کو در پیش مسائل کے حل کے لیے چند ایک تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں-

  • مغربی دنیا اب تک مختلف ذرائع سے سیاسی، سماجی ، فوجی اور اقتصادی سطح پر مسلمانوں پر حاوی رہی ہے۔ لیکن ایک طرف مسلمانوں میں بیداری پیدا ہونے کے بعد انھیں یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ اگر عالم اسلام کو کچھ لائق اور ژرف نگاہ قائد میسر آگئے اور انھوں نے اپنی بکھری قوتوں کا استعمال کر نا سیکھ لیا تو وہ دن دور نہیں جب کہ مغرب کی قیادت کا طلسم چکناچور ہوکر بکھر جائے گا اور عالم اسلام قیادت و جہاں بانی کی نئی بلندیاں طے کرتا ہوا نظر آئے گا۔دوسری طرف اہل مغرب کو خود اپنے ملکوں میں پیر تلے زمین کھسکتی نظر آرہی ہے، مسلمان پورے اسلامی تشخص اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ہر میدان میں پورے یورپ و امریکہ میں اپنا وجود تسلیم کرا رہے ہیں۔ جب کہ اسلام نے انسانیت کو عزت دی، مقامِ ممتاز پر فائز کیا، علم، اخلاق، کردار، حیا، تہذیب، شرم و مروت اور امن و عافیت کے جوہر سے آشنا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ امریکہ مسلم دنیا کی بے اطمینانی 11 ستمبر سے پہلے اور بعد‘‘پروفیسر خورشید احمد کی تصنیف ہے۔ جس میں 11 ستمبر سے پہلے نیو ورلڈ آرڈر، دعوے اور چیلنج،چیلنج اور اسلام، پاکستان ، امریکہ تعلقات اور امریکہ کے عالمی کردار سے بے زاری کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اور 11 ستمبر کے بعد نئی صلیبی جنگوں کا آغاز، افغانستان پر امریکی حملے، افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کا جائزہ، نیا استعمار اہداف وحکمت عملی اور جوابی لائحہ عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مصنف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 23 امریکہ کی اسلام دشمنی (پیر 25 جون 2018ء)

    مشاہدات:1627

    یوں تو یہود وانصاریٰ کی اسلام دشمنی اس وقت سے مشہور ہے جس دن سے پیغمبر آخر الزماں امام کائنات ﷺ نے مکہ کی وادیوں میں آوازۂ حق بلند فرمایا اورلات و منات کے پجاریوں کو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کا حکم دیا۔ تاہم موجودہ دور میں ۱۱ستمبر ۲۰۰۱ءکے سانحہ ورلڈ ٹریڈ ٹاور کے رونما ہونے کے بعد سے آج کے قیصر و کسریٰ امریکہ و برطانیہ جس طرح اسلام اور عالم اسلام کے خلاف کیل کانٹے سے لیس ہو کر صف آرا ہیں وہ قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ کراتی نظر آتی ہیں کہ اس وقت بھی تمام کفر یہ طاقتیں اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے تھیں لیکن اللہ کی مشیت اس کے برعکس تھی۔آج بھی سامراجی قوتیں اسلام کے خلاف مجتمع ہیں اورشام،افغانستان اور عراق پر قبضے انکے جارحانہ اور توسیع پسند انہ عزائم کو مہمیز فراہم کررہے ہیں اگرچہ ان ممالک میں امریکی و برطانوی اپنی تمام تر طاقت کے باوجود استحکام حاصل نہیں کرپارہے بلکہ اپنے فوجیوں کو کمزور و نہتے افغان و عراقی مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم کروارہے ہیں جس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’امریکہ کی اسلام دشمنی ‘‘ سابق رکن امریکی کانگرس پالے فنڈ کی ایک انگریزی کتاب(Silent No More: Confronting America’s False Images Of Islam) کا اردو ترجمہ ہے جناب محمد احسن بٹ نے اسےانگریزی سے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں بڑی دیانت داری اور انصاف پسندی سے کام لیتے ہوئے امریکہ میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے موجود غلط اور یک رخے تصورات کو موضوع بنایا ہے ۔ انہوں نے بنیاد پرستی ، دہشت گردی ، عورتوں پر...

  • اِن پیج اردو، فارسی، پشتو، سندھی، عربی اور دیگر عربی رسم الخط کی حامل زبانیں لکھنے اور صفحات کی تزئین و آرائش کا ایک انتہائی مفید سافٹ وئیر ہے جس کا پہلا نسخہ 1994ء میں جاری ہوا۔ اسے بھارت کے کانسپٹ سافٹ وئیر نے تخلیق کیا ہے اور یہ صرف مائکروسافٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اِن پیج خاص طور پر اردو زبان کے نستعلیق رسم الخط لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اِن پیج 2000‘‘ جناب یاسر جواد صاحب کی کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے یہ کتاب اِن2000 کو آسان بنانے کی غرض سے مرتب کی ہے ۔ قارئین اس کتاب کی مدد سے اِن پیج کی تمام جدید اور مفید سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں ۔ نیز مختلف قسم کے ڈاکومنٹس تیار کرنے کے لیے بنیادی اور اہم چیزوں سے متعارف سے ہوسکتے ہیں ۔ اِن پیج سے خوبصورت ڈاکو منٹس بنانے کے لیے کئی مثالیں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ 9 مینوز میں شامل ہر ایک کمانڈ کی مکمل وضاحت بھی کرد ی گئی ہے ۔ کتاب کا آخری حصہ سادہ کتاب ، غزلوں اور ڈکشنری وغیرہ کی فارمیٹنگ سکھانے پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

  • 25 انسان اور دیوتا ( نسیم حجازی ) (ہفتہ 28 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1418

    نسیم حجاز ی اردو کے مشہور ناول نگار تھے جو تاریخی ناول نگاری کی صف میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام شریف حسین تھا لیکن وہ زیادہ تر اپنے قلمی نام ’’نسیم حجازی‘‘سے معروف ہیں۔ وہ تقسیم ہند سے قبل پنجاب کے ضلع گرداسپور میں 1914ء میں پیدا ہوئے۔ برطانوی راج سے آزادی کے وقت ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا اور باقی کی زندگی انہوں نے پاکستان میں گزاری۔ وہ مارچ 1996ء میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے ناول مسلمانوں کے عروج و زوال کی تاریخ پر مبنی ہیں جنہوں نے اردو خواں طبقے کی کئی نسلوں پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ صرف تاریخی واقعات بیان کر کے نہیں رہ جاتے بلکہ حالات کی ایسی منظر کشی کرتے ہیں کہ قاری خود کو کہانی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے اور ناول کے کرداروں کے مکالموں سے براہ راست اثر لیتا ہے۔نسیم حجازی  نے تقریبا 20 کے قریب ایمان افروز  تاریخی  ناول تحریر کیے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ انسان اور دیوتا ‘‘ بھی انہی کاتحریر کردہ ناول ہے ۔ان کایہ ناول قدیم ہندوستان(قدیم ہندوستان ایک بہت قدیم تہذیب اور ثقافت رہی ہے۔ قدیم ہندوستان میں موجودہ دور کا پاکستان، بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش شامل تھے۔) برہمن اورکھشتری ذات کے لوگوں کےشودروں پر مظالم  پرمشتمل ہے ۔نسیم حجازی کے ناول دلچسپ تاریخی معلومات پر مشتمل ہیں اس لیے  قارئین وناظرین  کتاب وسنت سائٹ کےلیے اسے سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

  • 26 اِمراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (ہفتہ 06 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:17822

    اسلام معتدل نظام کا حامل دین ہے ،جوانسانوں کے مسائل واحکام     سے بخوبی آگاہ اور ان کے حل کا بہتر حل پیش کرتاہے۔اسلام میں معاشی وسائل کا ذمہ دار مرد ہے اور عورت کا نظام حیات گھر کی چاردیواری میں مقید ہے او رکتاب وسنت کی تعلیمات عورت کو پردہ اورچادر چاردیواری تک محدود رہنے کی تاکید کرتی ہیں ۔عورت جس قدر مردوں کے اختلاط،بے پردگی اور مخلوط محافل و مجالس سے اجتناب کرے گی ،بارگاہ ایزدی میں یہ اتنی ہی مقبول و معتبر ٹھہرے گی اور اسی قدر یہ اپنی عزت وناموس کو محفوظ بنالے گی ۔الغرض جسمانی ساخت اور کئی دیگر عوامل کی وجہ سے مرداور عورت کی ذمہ داریاں اورباہمی حقوق وفرائض مختلف ہیں ،جنہیں مبنی بر حق ماننا لازم ہے ،لیکن جدت پسندی اور مغربی افکار سے متاثر مستشرقین کا روشن خیال طبقہ صنف نازک کو مردوں کی شمع محفل اور بنت حوا کو بازار کی رونق اورمردوں کی ہوس کانشانہ بنانے پر تلاہے اور سادہ لوح عوام ان کے دام فریب میں آکر عورتوں کو جدت پسندی اور روشنی خیالی کی چکا چوند میں ان کی عصمت کو پامال کرنے اور انہیں اصل دین سے دور کرنے پر بخوشی آمادہ ہیں ،جب یہ طرز عمل مذہب کی موت اور معاشرے کی ہلاکت کاباعث ہے ،زیر نظر کتاب مرد وعورت کی ذمہ داریوں اوران کے حقوق وفرائض کےبنیادی فرق کی آگاہی کے متعلق ایک اچھی تصنیف ہے ۔(ف۔ر)

  • 27 اٹلس اضلاع پنجاب اور اسلام آباد کلاس 3 (جمعرات 21 جون 2018ء)

    مشاہدات:1517

    جغرافیہ‎‏ یونانی زبان کا لفظ ہے. جس کے معنیٰ ہیں زمین کا بیان جغرافیہ وہ علم ہےجس میں زمین، اسکی خصوصیات، اسکے باشندوں‎ ،‎اسکے مظاہر اور اسکے نقوش کا مطالعہ کیا جاتا ہے ایراٹورتھینیس وہ پہلا شخص تھاجس نے لفظ جغرافیہ استعمال کیاجغرافیہ کو زمین کی سائنس بھی کہا جاتا ہےآج تک انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہےوہ جغرافیہ کی ہی مرہون منت ہےزمین انسان کا گھر ہےاور اس گھر سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کےلیے علم جغرافیہ انسان کی رہنمائی کرتا ہ۔علم جغرافیہ پرانے زمانے میں بھی موجود رہا ہے۔ لیکن اس دور میں اسکی اہمیت بہت کم تھی عموما دریاؤں،پہاڑوں،سمندروں اور مقامات کے نام یاد کرلینا ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔اس علم کا آغاز بطور سائنس مصر و یونان میں ہوا۔ زمانہ قدیم کے جغرافیہ دانوں کی بعض تحریریں بڑی دلچسپ ہیں جغرافیہ میں سب سے پہلے یونانیوں نے پیش رفت کرنا شروع کی۔ قرون وسطیٰ میں مسلم ممالک میں اس علم میں بہت پیش رفت ہوئی۔علم جغرافیہ میں نقشے اہم کردار ادا کرتے ہیں دنیا میں کسی بھی ملک یا کسی بھی مقام کے متعلق بنیادی معلومات جلد اور آسانی سے حاصل کرنے کے لیے نقشوں سے مدد لی جاتی ہے ۔ زمین کی سطح پر موجود مختلف مقامات اور خدو خال کو پیمانے کی مدد سے کسی ہموار سطح یا کاغذ پر دکھایا جاتا ہے جسے نقشہ کہتے ہیں نقشے قدیم زمانے سے تیار کیے جاتے ہیں موجودہ دور میں اس فن نے بہت ترقی کرلی ہے ۔علم جغرافیہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے بطور نصاب بھی پڑہایا جاتاہے ۔  زیر نظر کتاب ’’ اٹلس اضلاع پنجاب اور اسلام آباد ‘‘ گورنمنٹ اسکولوں کی تیسری کلا...

  • 28 اکیسویں صدی کے مینجمنٹ چیلنجز (جمعرات 25 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1803

    مینجمنٹ (Management)انگریزی زبان کے فعل(Manage) کا اسم ہے۔اردو زبان میں اس کا ترجمہ عام طور پر انتظامیہ،عملہ بندوبست،مدبرین کا گروہ،آراستگی،تہذیب وترتیب،حکمت عملی،انتظام وانصرام،نجی،سرکاری،تجارتی اور جماعتی کاموں کی تنظیم،اداروں کی دیکھ بھال اور نظم وضبط کے ذمہ دار افراد وغیرہ پر کیا جاتا ہے۔ مینجمنٹ کی تمام جہتوں کے لئے کوئی ایک لفظ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کی بجائے لفظ مینجمنٹ ہی استعمال میں لایا گیا ہے اور جہاں کہیں نظم وضبط حیات لکھا ہے وہاں بھی مراد مینجمنٹ ہی ہے۔ مینجمنٹ کی اہمیت ہمیشہ مسلم رہی ہے لیکن اکیسویں صدی میں آکر اب اس کی اہمیت اور زیادہ ہوگئی ہے، کیونکہ اب بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بین الاقوامی ادارے معرض وجود میں آ چکے ہیں، جنہیں مناسب مینجمنٹ کے بغیر چلانا ناممکن کام ہے۔ اب تو مینجمنٹ پر باقاعدہ کورسز کروائے جارہے ہیں اور اس کی باقاعدہ ڈگریاں جاری کی جارہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اکیسویں صدی کے مینجمنٹ چیلنجز "محترم پیٹر ایف ڈرکر کی انگریزی تصنیف ہے جس کا اردو محترم محمد عامر عسکری ایم بی ای نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اپنی کتاب میں اکیسویں صدی کے مینجمنٹ چیلنجز کو بیان کرتے ہوئے ان کا حل پیش کیا ہے۔ مینجمنٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات کے لئے یہ کتاب انتہائی مفید اور شاندار ہے۔ جس کا مینجمنٹ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر طالب علم کو مطالعہ کرناچاہئے۔ راسخ

  • 29 ایک درد مند کا پیغام ورثائے اسلام کے نام (پیر 28 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1311

    اسلام ایک امن و عافیت اور اخوت کا دین ہے۔ اسلام کی تاریخ اخوت و مودّت کے سنہری ابواب سے لبریز ہے۔ اس کی ایک نمایاں جھلک ہجرت مدینہ کے بعد آپﷺ کا انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی کے رشتے میں پرو دینا اور پھر انصار و مہاجرین کا آپس میں ایسی محبت کا نمونہ پیش کرنا دنیا کا کوئی دین ایسی مثال پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہے۔ یہی وہ آفاقی دین ہے جس کی تعلیمات قیامت تک زندہ و جاوید رہیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا  ہے۔ اسی طرح  دین اسلام کی مقدس تعلیمات روات کی مستند کڑیوں کے ساتھ امت مسلمہ تک پہنچی اور علمائے اسلام ہی کو آپ ﷺ کی زبان اطہر سے دین کے وارث قرار ہونے کے لقب سے نوازہ گیا"العلماء ورثۃ الانبیاء"۔ زیر تبصرہ کتاب"ایک درد مند کا پیغام ورثائے اسلام کے نام" جس کو عبد الرشید انصاری نے جمع و ترتیب کیا ہے۔ جس میں فاضل موصوف کے مسلک اہل حدیث کے جید علماء سے خط و کتابت کی صورت میں سوال و جواب کو ایک مختصر کتابچہ کی شکل دی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ موصوف کی محنت کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 30 بابری مسجد شہادت سے قبل حصہ اول (پیر 25 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1586

    فرقہ پرستوں نے اللہ کے گھر مسلمانوں کی ایک عبادت کو شہید نہیں کیا بلکہ ہندوستان کے سیکولر کردار، مذہبی رواداری کی روایت کو پامال کیا۔ مسلمانوں کا جو بھرم تھا اس کو ختم کردیا۔ ان فرقہ پرستوں میں جہاں مذہبی جماعتوں کے کارکن بھی شامل تھے وہیں مفاد پرست سیاستدان بھی۔ مسلمان اللہ کے گھر کی شہادت کے ساتھ ساتھ اس ملک کی صدیوں قدیم مذہبی آہنگی کے ملیامیٹ ہونے کا غم مناتے ہیں۔ عدلیہ پر اپنے اٹوٹ ایقان کے متزلزل ہونے کا ماتم کرتے ہیں۔ ہم اور ہماری پیشرو نسل کے لوگ بابری مسجد کی تاریخی حقیقت، اہمیت سے بھی واقف ہیں‘ اور اُن لرزہ خیز واقعات کے بھی ٹیلیویژن چیانلس کے ذریعہ چشم دید گواہ بھی ہیں جب تاریخی بابری مسجد کو تاریخ کا ایک حصہ بنانے کے لئے ہندوستان بھر سے کرسیوک جمع ہوئے جنہیں حکومت کی جانب سے سیکوریٹی فراہم کی گئی۔ ساری دنیا سے اکٹھا ہونے والے میڈیا نمائندوں کے سامنے کرسیوکوں نے سنگھ پریوار کے سرکردہ قائدین کی موجودگی میں اُن کے نعرۂ ہائے تحسین کی بازگشت میں بابری مسجد کے گنبدوں پر چڑھ کر کدالوں سے اسے دیکھتے ہی دیکھتے شہید کردیا۔ 6؍دسمبر 1992ء کو ہندوستان کا ہر مسلمان اپنی نظر سے خود گردیا۔ زیر نظر تبصرہ کتاب ’’بابری مسجد شہادت سے قبل‘‘ محمد عارف اقبال کی ہے جس میں مسجد بابری کی معلومات فراہم کی گئی ہے۔بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء - 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1610
  • اس ہفتے کے قارئین: 6100
  • اس ماہ کے قارئین: 40121
  • کل قارئین : 47868604

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں