علامہ مسعود بن عمر بن عبد الله تفتازانى خراسان کے علاقہ تفتازان میں 712ھ بمطابق 1312ء کو پیدا ہوئے ۔ آپ اپنے وقت کے بہت بڑے فقیہ، اصولی ، مفسر اور محدث تھے ، عربی لغت اور منطق کے امام تصور کیے جاتے تھے ۔علم کلام ، فلسفہ، بلاغت، منطق وغیرہ پر آپ نے کئی کتابیں تصنیف کیں۔ پاک و ہند کے مدارس دینیہ میں درس نظامی کے نصاب میں شامل کتاب ’’ مختصر المعانی ‘‘ علامہ تفتازانی کی مشہور کتاب ہے ۔یہ کتاب فن بلاغت کی معرکۃ الآراء کتاب ہے درسِ نظامی کی مشہور اور مشکل ترین کتابوں میں اس کا شمار ہے جو کہ علومِ ثلاثہ (علم معانی ، علم بدیع،علم بیان) سے متعلق ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ درسی تقریر برائے مختصر المعانی ‘‘ مولانا محمد امین(استاد الحدیث جامعہ فریدیہ ،اسلام آباد) کے افادات سے ماخوذ ہے مولانا فخر الزمان اخوند زادہ نے اسے مرتب کیا ہے ۔طلباء اس کتاب سے مستفید ہو کر کتاب مختصر المعانی کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ۔ (م۔ا)
زیر نظر کتاب ضیائے نبوی ( اردو ترجمہ و شرح : اربعین نووی) محترم جناب جمشید عالم عبدالسلام سلفی حفظہ اللہ کی کاوش ہے ۔ موصوف نے شرح و فوائد کے عنوان سے ہر حدیث کی جامع انداز میں شرح کی ہے اور جو مباحث و مسائل مزید تفصیل اور توضیح کے محتاج تھے انہیں قدرے تفصیل سے مدلل قلم بند کرنے کے علاوہ ہر حدیث کی دلکش ، معنیٰ خیز اور موزوں عنوان بندی کی ہے۔نیز اربعین نووی کے تمام راویان حدیث کا مختصر اور جامع تعارف بھی پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مترجم و شارح کی تدرسی و دعوتی اور تحقیقی و تصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)
زیر نظر کتاب ’’ توحید کی برکات اور شرک کے نقصانات‘‘ مفسر قرآن مولانا میاں محمد جمیل حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں ایجوکیڈ طبقہ کو سامنے رکھتے ہوئے سہل انداز میں توحید اور شرک کے تمام پہلوں کا احاطہ کرتے ہوئے قارئین کرام کو توحید کی برکات اور شرک کے اعتقادی ، اخلاقی ،معاشرتی اور اخروی نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ میاں جمیل صاحب کی تحقیقی و تصنیفی ، دعوتی و تبلیغی جہود کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ تمام اہل اسلام کو توحید کے نور سے منور فرمائے اور شرک کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے ۔ آمین (م۔ا)
عام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی احکام و مسائل سے آگاہ ہوں کہ جن سے ہر مسلمان کو روز مرہ زندگی میں واسطہ پڑتا ہے مثلاً توحید، وضو،نماز،روزہ وغیرہ کے احکام و مسائل ۔ زیر نظر کتاب ’’ مجموع المتون المهمة لکل مسلم (مسلمانوں کے لیے متون علمیہ کا اہم مجموعہ) ‘‘جو کہ ڈاکٹر ہیثم بن محمد جمیل سرحان حفظہ اللہ کے اشراف مرتب کیا گیا ہے ۔ اس مجموعہ میں چھ (6)اہم متون(1۔تفسیر سورۃ الفاتحہ و آیۃ الکرسی و قصار السور از علامہ عبد الرحمن سعدی رحمہ اللہ ،2۔الاربعون النووریۃ،3۔الدروس المہمۃ لعامۃ الامۃ از شیخ ابن باز،4۔الاصول الثلاثہ،5۔القواعد الاربعہ،6۔نواقض الاسلام از شیخ محمد بن عبد الوہاب تمیمی رحمہ اللہ ) شامل ہیں ۔ ڈاکٹر محفوظ الرحمن محمد خلیل مدنی حفظہ اللہ نے ان متون کو اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس کتاب سے مستفید ہو سکے ۔ (م۔ا)اسلام ۔ جوامع
زیر نظر کتاب ’’ مقالات قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے مرد) ‘‘قومی سیرت کانفرنس میں کانفرنس کے خاص دو موضوع ’’ اسلامی نظم معیشت اور کفالت عامہ میں زکوٰۃ کی اہمیت تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں ‘‘اور ’’معاشرتی و معاشی ارتقاء میں زکوٰۃ و عشر کا کردار تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘سے متعلق مختلف اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جانے والے علمی و تحقیقی مقالات و خطبات کی کتابی صورت ہے حصہ الف خطبات و تقاریر جبکہ حصہ ب مقالات سیرت پر مشتمل ہے ۔ وزارت مذہبی امور پاکستان نے اسے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔ (م۔ا)
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پورا سامان رکھتی ہے ، رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے اور دنیا جہان کے تمام انسانوں کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور قابل اتباع ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت و صورت پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔ اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ لمعات نور‘‘ ڈاکٹر خالد عاربی کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی روشن و روشن زندگی کو 27؍لمعات میں بیان کیا ہے ۔ (م۔ا)
حج و عمرہ ایک ایسی عبادت ہے جو روئے زمین پر سوائے مکہ مکرمہ خانہ کعبہ کے کہیں اور ادا نہیں ہو سکتی۔یہ عبادت جس کے ادا کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے، مخصوص جگہ پر مخصوص لباس میں ادا کی جاتی ہے۔ بیت اللہ کی زیارت اور فریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکاری کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے تمام كتبِ حديث و فقہ میں اس کی فضیلت اور احکام و مسائل کے متعلق ابواب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔ حدیث نبوی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ حج و عمرہ کے احکام و مسائل کے متعلق اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جا چکی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ کرم کی برسات ‘‘ ڈاکٹر خالد عاربی صاحب کی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں اپنے سفر حج کی روداد پیش کرنے کے ساتھ ساتھ حج و عمرہ کے احکام و مسائل،مناسک کو عام فہم انداز میں جمع کر دیا ہے۔(م۔ا)
فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب و سنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول و غبار کو اڑا کر ماحول کو صاف و شفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روگار متخصصین ایسے بھی ہیں جن کے علم و فضل اور اجتہادات سے ایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’فتح المعین فی تقریب منہج السالکین و توضیح الفقہ فی الدین‘‘علامہ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ہیثم بن محمد سرحان حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ۔ تقریب منہج السالکین و توضیح الفقہ فی الدین علامہ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے ۔ ڈاکٹر ہیثم بن محمد سرحان حفظہ اللہ نے اس کتاب کی فتح المعین کے نام سے مختصر توضیح و تشریح کی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مسائل اور دلائل کو یکجا کرتے ہوئے صرف ان اہم ترین اور مفید چیزوں کو ذکر کیا ہے جو اس موضوع کے لیے اشد ضروری تھیں۔ ڈاکٹر محفوظ الرحمن محمد خلیل مدنی حفظہ اللہ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس کتاب سے مستفید ہو سکے ۔ (م۔ا)
دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسان ہر لمحہ کر سکتا ہے اور اپنے خالق و مالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کروا سکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کے آداب و شرائط کو بھی ملحوظ رکھے۔ زیر نظر کتاب ’’ دعائے رسول ﷺ پانے والے خوش نصیب‘‘مولانا محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔موصوف نے اس کتاب میں ایسی خوش نصیب ہستیوں،مقامات، قبائل وغیرہ کے متعلق مواقع پر آپ ﷺ کی طرف سے کی جانے والی دعاؤں کو جمع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تدرسی و ددعوتی اور تحقیقی و تصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)
اسلام نے تصویر کو حرام قرار دیا ہے ، اور اس کی حرمت کے حوالے سے قطعی نصوص صحیح بخاری و مسلم و دیگر کتب حدیث میں بکثرت موجود ہیں ۔ ان نصوص میں محض تصویر کی حرمت کا ذکر نہیں بلکہ تصویر کشی سے پیدا ہونے والے ایک ایک ناسور کا ذکر ہے جس میں وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ لیکن کیا ان نصوص کا اطلاق ڈیجیٹل تصویر پر ہوتا ہے اور کیا ڈیجیٹل کیمرے کی تصویر منصوص حرمت والی تصویر کے حکم میں داخل ہے یا نہیں؟ مفتی شعیب علام صاحب نے زیر نظر کتاب ’’ڈیجیٹل تصویر فنی و شرعی تجزیہ‘‘ میں انہی مباحث کو پیش کیا ہے یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں ڈیجیٹل تصویر کا فنی جائزہ اور دوسرے حصے میں شرعی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ (آمین) (م۔ا)
قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’ بقر (گائے) ‘‘ہے۔ اس کی قربانی کے لیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس(جاموس) کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔ زیر نظر کتاب ’’ بھینس کی قربانی ‘‘محترم جناب ماسٹر احمد علی نعیم صاحب کی تحریر ہے، جس میں انہوں نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر مفید علمی بحث کی ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان ِحسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(م۔ا)
اُخروی نجات ہر مسلمان کا مقصدِ زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پر عمل پیرا ہونے سے پورا ہو سکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد و اعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں۔ عقیدہ توحید کی تعلیم و تفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بےشمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نے بھی عوام الناس کو توحید اور شرک کی حقیقت سے آشنا کرنے کے لیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ عقیدۂ توحید خطبات مسجد نبوی کی روشنی میں ‘‘مسجد نبوی کے امام و خطیب ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ کے توحید کے موضوع پر مسجد نبوی میں پیش کیے گئے 14 خطبات کا مجموعہ ہے۔ڈاکٹر محفوظ الرحمن محمد خلیل مدنی حفظہ اللہ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس کتاب سے مستفید ہو سکے ۔ افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)
عربی زبان اور اس کے قواعد سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے۔عربی گرائمر کے ضروری قواعد کو سمجھے بغیر قرآن مجید کا ترجمہ سمجھنا خاصہ مشکل ہے ۔ عربی زبان سمجھے بغیر وہ فوائد حاصل نہیں ہوتے جو عربی قواعد سمجھنے کی صورت میں حاصل ہو سکتے ہیں ۔ چنانچہ قرآن مجید سمجھنے کے لیے عربی گرائمر کے بینادی قواعد و ضوابط سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ آؤ عربی زبان سیکھیں (درجہ اولی) فضیلۃ الشیخ ہیثم بن محمد سرحان کی عربی تصنیف هيا نتعلم اللغلة العربية كا اردو ترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں معلومات کو مرکوز کرنے کے لیے جدید اسالیب و وسائل کے ساتھ ساتھ تطبیق کا بھی اہتمام کیا ہے۔ ڈاکٹر محفوظ الرحمن محمد خلیل مدنی حفظہ اللہ نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس کتاب سے مستفید ہو سکے ۔ افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے طالبانِ علم کے لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین)(م۔ا )
دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کے لیے مؤثر ترین ہتھیار ہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت و لا تعداد نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار و سقیم ہو جاتا ہے اس دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہدے میں ہے کہ بعض انسان فالج ، کینسر ، یرقان ، بخار وغیرہ اور اسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہیں ان تمام بیماریوں سے نجات و شفا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں ۔ بہت سارے اہل علم نے قرآن و حدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی و چھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ ذکر الٰہی سے معرفت الٰہی تک ‘‘ وطن عزیز پاکستان کے مشہور خطیب مولانا عبد المنان راسخ ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی منفرد کاوش ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں تمام مشہور و معروف اذکار کے معانی اور فضائل ، اہمیت و ضرورت ، فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے معانی اور مطالب پر بھی پر مغز بحث کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولانا راسخ حفظہ اللہ کی دعوتی و تدریسی ، تحقیقی و تصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔ (آمین)(م ۔ ا)
زندگی ایک سفر ہے اور ہر شخص مسافر ہے مگر زندگی کے اس سفر کے دوران کئی ملکوں اور شہروں کے بھی انسان کو بہت سفر کرنا پڑتے ہیں ۔ یہ سفر بعض اوقات تعلیم کے لیے اور کبھی رزق کمانے یا تجارت کی غرض سے ہوتے ہیں ۔ بعض لوگ سیر و سیاحت کے لیے اور بعض اعزہ و اقارب کی ملاقات کے لیے بھی ہوتا ہے ۔ قرآن کریم میں بھی سفر کرنے اور دنیا کو دیکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ اردو ادب میں سفر ناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہو گیا ہے ۔ یہ سفر نامے دنیا کے تمام ممالک کا احاطہ کرتے ہیں ۔ اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ سفر نامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی ۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تاج محل سے زیرپوانٹ‘‘ چودھری محمد ابراہیم کی تصنیف ہے ۔ صاحب کتاب ایک زرعی سائنس دان ہیں وفاقی دار الحکومت کے زرعی شعبہ سے منسلک رہے ہیں اس دوران انہیں اپنے فرائض کی ادائیگی کے ضمن میں بعض اوقات دوسرے ممالک کے زرعی ماہرین کی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت کے مواقع ملے ۔ ایسا ہی ایک موقع انہیں 1998ء میں سارک ممالک کے ایک زرعی سیمینار میں شرکت کا میسر آیا اور وہ اس سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے دہلی پہنچے ۔ موصوف نے ایک ہفتے میں بھارت کی تاریخ و ثقافت ، تہذیب و تمدن مذاہب و ادیان ، معاشرت و معیشت ، زراعت و تجارت ، سیاست و حکمت اور آثار و شواہد اس قدر جمع کیے کہ اس کا اندازہ اس سفر نامے کے تفصیلی مطالعہ سے ممکن ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تاج محل سے زیرو پوائنٹ‘‘ میں پیش کیا ہے کہ کوئی شخص ہندوستان جائے بغیر محض اس سفر نامے کا مطالعہ کر لے تو اسے تمام ممکنہ موضوعات پر سیر حاصل معلومات میسر آسکتی ہیں ۔ (م ۔ ا)
سیدنا معاویہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں ، جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے ۔ جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی ۔ لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گرد و غبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے ۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے سیدنا معاویہ ابی سفیان کے متعلق مستند کتب لکھ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب ، اسلا م کی خاطر ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کر کے ان کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے ۔ زیر نظر مقالہ بعنوان ’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ :دینی اور عسکری خدمات‘‘ محترم جناب آفتاب احمد بن نور البصر کا تحقیقی مقالہ ہے جسے 2011ء میں انہوں نے جامعہ کراچی میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ مقالہ نگار نے اس مقالہ کو چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ (م ۔ ا)
قرآن کریم اللہ کہ وہ مقدس کتاب ہے جس کی خدمت باعثِ خیر و برکت اور ذریعۂ بخشش و نجات ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرونِ اولیٰ سے عصر حاضر تک علماء و مشائخ کے علاوہ مسلم معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اصحاب بصیرت نے حصول برکت کی خاطر اس کی کسی نہ کسی صورت خدمت کی کوشش کی ہے ۔ بعض اہل علم و قلم نے اس کے موضوعات و مضامین پر قلم اٹھایا ااور بعض نے اس کی انڈیکسنگ اور اشاریہ بندی کی جانب توجہ کی ۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ روح القرآن‘‘ آیات قرآنی کا موضوع وار جامع اشاریہ ہے جسے سید قاسم محمود نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے اس میں مضامین کی تجمیع و تدوین پر زور دیا گیا ہے ۔ (م ۔ ا)
اِس کائناتِ ہست و بود میں اللہ ربّ العزت کی تخلیق کے مظاہر بے شمار ہیں ۔ کائنات کے اندر موسموں کی تبدیلی اور سردی و گرمی کا باہمی تعاقب اللہ رب العالمین کی قدرت کاملہ اور ربوبیت تامہ کی دلیل ہے ، یہ اللہ کی عظیم قدرت ہی کا مظہر ہے کہ اللہ نے سال میں دو موسم بنائے جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ قریش میں بھی کیا ہے ۔ جیسے انسانی جسم کے لیے ان موسموں کی اہمیت اور ان میں دلچسپی کا سامان ہے اسی طرح بدلتے موسموں کے ساتھ ساتھ بدلتے احکام اپنے اندر بہت سے حکمتیں اور سہولتیں لیے ہوئے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ موسم اور ہماری شریعت ‘‘ حافظ شبیر صدیق حفظہ اللہ کی کاوش ہے ۔ فاضل مرتب نے اس کتاب میں مختلف موسموں سے متعلقہ احکام و مسائل بڑی خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہوئے سال کے چاروں موسموں (گرما ، سرما ، خزاں اوربہار) کے تعلق سے ضروری معلومات کے ساتھ ساتھ ، کتاب و سنت کی روشنی میں ان موسموں سے صحیح طریقے سے استفادہ کے امکانات و مواقع کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ (م ۔ ا)
مولانا عبیداللہ سندھی کی شخصیت برصغیر پاک و ہند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ 28 مارچ 1876ء بمطابق 12 محرم الحرام 1289ھ کو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں چیلانوالی کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے ۔ 1884ء میں آپ نے اپنے ایک ہم جماعت سے مولانا عبیداللہ پائلی کی کتاب ’’ تحفۃ الہند“ لے کر پڑھی ۔ اس کے بعد شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ’’ تقویۃ الایمان“ پڑھی اور یوں اسلام سے رغبت پیدا ہو گئی ۔ 15 برس کی عمر میں 19 اگست 1887ء کو مشرف با اسلام ہوئے ۔ اردو مڈل تک کی تعلیم آپ نے جام پور ضلع ڈیرہ غازی خان میں حاصل کی ۔ پھر قبول اسلام کے بعد 1888ء میں دیوبند گئے اور وہاں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور تفسیر و حدیث ، فقہ و منطق و فلسفہ کی تکمیل کی ۔ 1901ء میں گوٹھ پیر جھنڈو میں دارلارشاد قائم کیا ۔ 1909ء میں اسیر مالٹا محمود الحسن کے حکم کی تعمیل میں دارالعلوم دیوبند گئے اور وہاں طلباء کی تنظیم ’’ جمیعت الانصار“ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دیں ۔ 1912ء میں ’’دلی نظارۃ المعارف‘‘ کے نام سے ایک مدرسہ جاری کیا جس نے اسلامی تعلیمات کی اشاعت میں بڑا کام کیا ہے ۔ ترکی میں 1924ء میں اپنی ذمہ داری پر تحریک ولی اللہ کے تیسرے دور کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر آپ نے آزادئ ہند کا منشور استنبول سے شائع کیا ۔ ترکی سے حجاز پہنچے اور 1939ء تک مکہ معظمہ میں رہے ۔ اسی عرصہ میں انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق اور دینی مسائل کو تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ عوام تک پہنچایا ۔ بعض علماء نے ان کے افکار کے رد ّمیں لکھا ہے جیسا کہ مولانا مسعود عالم ندوی نے زیر نظر رسالہ بعنوان ’’ مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے افکار و خیالات پر ایک نظر‘‘ مولانا سندھی کے رد میں لکھا ہے مولانا مسعود عالم ندوی ہندوستان کے ایک معروف اور مایہ ناز عالم دین ہیں ، آپ کا ہندوستان کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ کتاب ان کے دو مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے مولانا عبید اللہ سندھی حنفی کی کتاب’’شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘ اور پروفیسر محمد سرور کی کتاب ’’ مولانا عبید اللہ سندھی اور ان کے افکار وتعلیمات‘‘ پر تنقید اور استدراک کے طور پر لکھے تھے ۔ مولانا مسعود عالم ندوی نے اس کتاب میں مولانا عبید اللہ سندھی کی طر ف سے اکابرین پر کیے گئے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے ۔ پہلی بار یہ کتاب 1363ھ میں مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ کی خصوصی توجہ سے پٹنہ سے شائع ہوئی بعد ازاں مولانا عطا ء اللہ حنیف نے ’’دار الدعوۃ السلیفہ ، لاہور سے بھی اسے شائع کیا ۔ موجودہ جدید ایڈیشن فارغین جامعہ سلفیہ ، بنارس سال 2019ء نے شائع کیا ہے ۔ (م ۔ ا)
انسان میں جتنی اخلاقی برائیاں ہو سکتی ہیں ان میں سب سے زیادہ بری اور خطرناک برائی جھوٹ ہے نبی کریم سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے مختلف اوقات میں فرمایا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا ۔ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور اس لیے اس کا شمار کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے ۔ اور نبی کریم حضور نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’ جو شخص مجھ پر قصداً جھوٹ بولے تو اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے ۔ ‘‘ الغرض قرآن و سنت میں جھوٹ کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔ قادیان کا جھوٹا مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کذابوں میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ۔ مرزا قادیانی انتہائی بے باکی سے خدا ، رسول اور آسمانی کتابوں کے بارے میں بھی جھوٹ و غلط بیانی سے کام لیتا رہا ۔ کئی اہل محققین نے مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹ اور کذب بیانی کو الگ مرتب کیا ہے ۔ زیر نظر تحریر بعنوان ’’ مرزا قادیانی کے جھوٹ ‘‘ میں بھی مرزا قادیانی کے ستر(70) جھوٹوں کو قادیانیوں کی کتب کے حوالہ کےساتھ جمع کیا گیا ہے ۔ یہ تحریر دو حصوں پر مشتمل ہے پہلے حصہ مرزا قادیانی کے 40جھوٹوں پر مشتمل ہے اور دوسرا حصہ محدث العصر حافظ زبیر علی رحمہ اللہ کا ماہنامہ ’’ الحدیث‘‘ میں مطبوعہ مضمون ہے جس میں انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے تیس(30) جھوٹوں کو جمع کر کے ان پر علمی تبصرہ بھی کیا ہے ۔ (م ۔ ا)
احمد آباد ، ہندوستان میں دریائے سابرمتی کے کنارے آباد ہے ۔ احمد نامی چار بزرگوں نے سلطان احمد شاہ کے ایما پر اس کی بنیاد قائم کی ، یہ ریاست گجرات کا سب سے بڑا اور ہندوستان کا ساتواں بڑا شہر ہے اور دُنیا میں سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا تیسرا شہر ہے ۔یہاں میونسپل کارپوریشن کے زیر اہتمام اُردو میڈیم اسکول کے 76 ابتدائی مدارس (پرائمری اسکول) ہیں ۔ اس کی آبادی تقریباً 52 لاکھ ہے ۔ احمد آباد شہر احمد آباد ضلع کا صدرِ دفتر بھی ہے ۔ اس شہر میں صوفیائے کرام کے مزارات اس کثرت سے ہیں کہ ملتان کی طرح اسے بھی مدینۃ الاولیا کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مشائخ احمد آباد‘‘ دو جلدوں پر مشتمل مولانا محمد مولانا محمد یوسف ابن سلیمان متالا کی تصنیف ہے جس میں اس شہر کی ابتدائی تاسیس سے لے کر نویں صدی تک بزرگوں کے حالات مذکور ہیں نیز انہوں نے اس کتاب میں مشائخ احمد آباد کے حالات ، اخلاق و اعمال ، خدمات کو بھی جمع کیا ہے ۔ (م ۔ ا)
قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہترین لوگ قرار دیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں ۔ دور ِصحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیر کرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سے باب قائم کیے ۔ اور بے شمار ائمہ مفسرین نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں ۔ زیر نظر مقالہ بعنوان ’’ موجودہ تحریک فہم قرآن کا جائزہ ‘‘ محترمہ نائلہ طفیل ملک صاحبہ کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جسے انہوں نے ڈاکٹر حمید اللہ عبد القادر ﷾ کی نگرانی میں مکمل کر کے 2003 ء میں جامعہ پنجاب میں پیش کیا اور ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ۔ مقالہ نگار نے اس مقالے کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔ باب اول میں قرآن اور فہم قرآن کا معنیٰ و مفہوم ، اہمیت ، مقاصد ، نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کا فہم قرآن کے متعلق مختصر تعارف پیش کیا ہے ۔ باب دوم میں قرآن فہمی کے سلسلے میں کام کرنے والی تحریکات کا جائزہ ، تحریک کے قیام ، ان کے اغراض و مقاصد ، طریقۂ تدریس وغیرہ کا تعارف اور فہم قرآن کی تحریکوں کے مستقبل کے منصوبوں اور اہداف کو بیان کیا گیا ہے ۔ باب سوم میں قرآن فہمی کے فروغ کے لیے میڈیا کیا کردار ادا کر سکتا ہے کے متعلق بحث کی گئی ہے ۔ باب چہارم میں قرآن فہمی تحریکات کو جو مشکلات درپیش آتی ہیں ان کو زیر بحث لا کر ان مشکلات کو دور کرنے کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔ باب پنجم میں قرآن فہمی کی تحریکات پر مختصر تنقید اور استفادہ شدہ کتب کا مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔ (م ۔ ا)
علم جغرافیہ وہ علم ہے ۔ جس میں زمین ، اس کی خصوصیات ، اس کے باشندوں اور اس کے ماحول کے درمیان باہمی تعلق کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ یہ علم علمی و عملی دونوں اعتیار سے بہت ہی کار آمد علم ہے ۔ اس علم سے دنیا کی بہت سی چیزوں کی حقیقت کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے ۔ اور یہ علم اپنے گھر ، وطن ، غیر ممالک اور دنیا کے متعلق انسانی جذبات کی تعمیر و تشکیل کرتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ کتاب ُالجغرافیہ‘‘مفتی ابو لبابہ شاہ منصور (مصنف کتب کثیرہ ) کی کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں علم جغرافیہ کو آسان فہم درسی انداز ، رنگین تصویروں ، معلوماتی نقشوں اور تازہ ترین اعداد و شمار کے ساتھ مرتب کیا ہے ۔ (م ۔ ا)
فضیلۃ الشیخ علامہ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں ۔ شیخ موصوف ۲۸ دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے ، آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری ۔ پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کر دیا اور دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے داخل کروایا ۔ اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی ۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت و لگن سے تعلیم حاصل کی ۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ میں داخلہ لیا ، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے با وقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب جلیل پر فائز ہو کر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے ۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور تصنیف و تالیف کا کام بھی جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں دعوت کے سلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفر بھی کیے ہیں ۔ آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں آپ نے سید بدیع الدین شاہ راشدی کے بعد بڑا نمایاں کام کیا ہے ۔ نیز آپ معهد السلفى للتعليم و التربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں اللہ تعالٰی اشاعت دین کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو شرف فبولیت سے نوازے ۔ زیرنظر کتاب ’’ خطبات پروفیسر عبد اللہ ناصر رحمانی‘‘مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے ان مواعظ عالیہ کا مجموعہ ہے جیسے حافظ شبیر صدیق صاحب نے حافظ عبد العظیم اسد(مدیر دار السلام ) کی نگرنی میں سی ڈیز سے قرطاس پر منتقل کیا ہے ۔ دار السلام کے ریسرچ سکالرز نے ان خطبات و مواعظ کی زبان کو اس قدر سادہ اور عام فہم بنا دیا ہے کہ معمولی اردو خوان بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ (م ۔ ا)
مولانا مودودی رحمہ اللہ کے متعلق ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کا موقف تھا کہ مودودی صاحب سر سید احمد خان یا مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح حدیث نبوی کے منکر نہیں البتہ حدیث کے متعلق تحقیق کرتے ہوئے محدثین کا مسلک اور طریقہ تنقید چھوڑ کر دوسرا طریق اختیار کرتے ہیں اس کے متعلق مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کا تحریری سلسلہ اخبار اہل حدیث امرتسر میں ستمبر 1945ء تا نومبر 1945ء شائع ہوا جسے بعد ازاں فروری 1946ء میں مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے پہلی مرتبہ ’’ خطاب بہ مودودی‘‘کے نام سے کتابی صورت شائع کیا ۔ زیر نظر ’’ حدیث نبوی ﷺ پر شکوک و شبہات ‘‘اسی کا جدید ایڈیشن ہے ۔ (م ۔ ا)