دکھائیں کتب
  • 11 خطبات آزاد (جمعہ 04 نومبر 2011ء)

    مشاہدات:20796

    مولانا ابوالکلام آزاد کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر کی بیش بہا صلاحیتوں سے مالا مال کیا۔ اس کا ایک سرسری اندازہ اس سے کیجئے کہ مولانا نے پندہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ ’لسان الصدق‘ جاری کیا جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بہت تعریف کی۔ مولانا موصوف بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور بہترین مفسر قرآن تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہمنوا اور ہندوستان کے بٹوارے کے زبردست مخالف تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ پیش نظر کتاب مولانا ابو الکلام آزاد کی جادو بیانی کو تحریری صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مولانا کی 1914ء سے لے کر 1948ء تک کی اہم تقریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے مولانا کی وسعت نظر، اپنے مفہوم کو موزوں ترین الفاظ میں بیان کرنے کی قدرت اور مفکرانہ طریق استدلال کا حقیقی اندازہ ہوگا۔ مولانا اگرچہ ایک خاص فقہی مسلک سے متعلق رہے لیکن ان کی بیشتر تقاریر مسلکی منافرت سے پاک نظر آتی ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ بعض حضرات کی زبردست تقریریں بھی جب کاغذ پر منتقل ہوتی ہیں تو اس کی چاشنی اور دلپذیری ختم ہو جاتی ہے لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ ان کی تقریریں اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پڑھنے میں اسی قدر مؤثر ہیں جتنی وہ اس دور میں سننے میں تھیں۔(ع۔م)
     

  • 12 خطبات آیت الکرسی (جمعرات 24 اگست 2017ء)

    مشاہدات:1842

    قرآن حکیم‘ رب کائنات کا اپنے بندوں کے نام پیغام عظیم ہے۔ اس کا پڑھنا کارِ ثواب‘ سمجھنا باعث ہدایت اور عمل کرنا ذریعہ نجات ہے۔ ملت اسلامیہ کے زوال وانحطاط کے اسباب میں سے ایک اہم سبب کتاب الٰہی سے اعراض اور پیغام ربانی سے انحراف بھی ہے۔ امت مسلمہ کے عروج واستحکام‘ عظمت رفتہ کی بحالی اور دنیوی واُخروی کامیابی کے لیے قرآنی فہمی انتہائی ضروری ہے۔ ہماری اعتقادی بے راہ روی اور عملی خرابیوں کی بنیادی وجہ بھی قرآنی احکام سے بے خبری‘ الٰہی فرامین سے لا علمی اور آسمانی ہدایت سے بے اعتنائی ہے۔ آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عوام کوقرآنی حقائق ومعارف سے آگاہ کیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر تالیف کی گئی ہے۔ اس میں  قرآنی مجید میں موجود آیات توحید میں سے ایک آیت‘ آیۃ الکرسی کے نام سے مشہور ہے اس کے خطبات کو بیان کیا گیا ہے۔ فضائل سے لے کر اس کے سب اور وجہ تسمیہ نیز  ہر ایک موضوع کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حوالہ جات کا خاص اہتمام ہے اور حوالہ ساتھ ہی دے دیا جاتا ہے ۔ یہ کتاب’’ خطبات آیت الکرسی ‘‘ عبد الستار حامد کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 13 خطبات بہاولپور جلد اول (منگل 13 مئی 2014ء)

    مشاہدات:5441

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسر رہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔زیر نظر کتاب خطبات بہاولپور دراصل مارچ 1980ءمیں جامعہ عباسیہ(اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور،پاکستان) کی دعوت پر یونیورسٹی میں ججز، علماءاور یونیورسٹیوں کے چانسلرز او رڈین حضرات کی زیر صدارت ڈاکٹر حمیداللہ  کے مختلف علمی موضوعات پر بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جو علمی حلقوں ، قانون دان او ر دانشور طبقے کے درمیان خطبات بہاولپور کے نا م سے معروف ہے ۔یہ خطبات 8مارچ 1980 ء سے 20 ماچ 1980ءتک مسلسل جاری رہے۔ان خطبات کوسننے کےلیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ،طلباء وطالبات کےعلاوہ شہر کے علمائے کرام اوراہل ذوق و طلب خواتین وحضرات کی ایک کثیر تعدادتشریف لاتی جن میں ملک کے...

  • 14 خطبات بہاولپوری جلد1 (پیر 24 جون 2013ء)

    مشاہدات:4526

    محترم پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری  ایک قناعت پسند  ،حق گواور سادگی پسند انسان تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک خاصہ  حصہ خدمت دین کیلے وقف کردیا تھا ۔اللہ تعالی نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات  کی  پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی الوسع گریز ہی کیا کرتےتھے۔  مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد نے ان خطبات وتقاریر کو ایک کتابی شکل میں آپ کے پیش خدمت کرنےکی سعادت حاصل کی ہے۔اس سلسلے میں  ناشر محترم جناب عبداالغفار صاحب نے حافظ صاحب کے اخلاص بھری خدمات کی قدر کرتےہوئے  بس لاگت کی بقدر قیمت کتاب متعین کی ہے۔اللہ ناشراور محترم حافظ صاحب کو اجرجزیل سے نوازے۔اوریہ بیان و تحریر ان کی دنیا وآخرت کی نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 15 خطبات جمعہ انتخاب اسلامی خطبات (جمعرات 20 فروری 2014ء)

    مشاہدات:25587

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علم دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے  نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں اور اگر یہی اقتباسات کو تحریری شکل دے کر لوگوں کے لیے شائع کردیاجائے تو گراں قدر خدمت دین ہے۔زیرنظر  کتاب مولانا عبدالسلام بستوی کے خطبات کہ جن میں امور زندگی سےمتعلقہ موضوعات پر  قرآن و حدیث کی نصوص سے مزین، مبسوط اور مستقل تحریریں جمع  تھیں کا  خلاصہ ہے ۔جس میں عقائد و اخلاقیات، عبادات اور معاملات سے متعلقہ بیسیوں مضامین اکٹھے کردیئے گئے ہیں اور ان تحریروں کو بحوالہ بنانے کے لیے  عبارات و نصوص کی تخریج کردی گئی ہے تاہم اگر اس میں موجود روایات کی صحت کا حکم ابھی باقی ہے اگر وہ بھی ہوجاتا تو قارئین کے لیے اس بیش بہا علمی خزانہ سے استفادہ میں اور بہتری پیدا ہوجاتی۔(ک۔ط)
     

  • 16 خطبات حرم (بدھ 04 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:15567

    دعوت واصلاح دین حنیف کا بنیادی شعبہ ہے ، جس کا احیاء استحکام دین اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔دین  اسلام سے وابستہ افراد کی اصلاح اور شرعی مسائل سے آگاہی کے لیے مختلف اوقات اور مواقع پر دروس مشروع ہیں ،لیکن اصلاحی نکتہ نظر سے خطبہ جمعہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔جو عوام کی عقائید و افکار اور اخلاق و آداب سنوارنے میں نہایت اہم ہے۔عام خطبا کی  نسبت خطبائے حرم مکی خطبہ جمعہ کی تیاری میں زیادہ محنت کرتے ہیں اور عقائد و نظریا ت اور شرعی احکام کے احیا کے لیے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔زیر نظر خطبات امام الحرم محمد بن عبد اللہ بن السبیل کے خطبات جمعہ  کا مجموعہ ہے ،جو بہترین علمی دستاویز اور خطباء کے لیے بیش قیمت مجموعہ ہے۔(ف۔ر)
     

  • 17 خطبات حرمین حصہ اول (جمعرات 03 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3523

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شرو...

  • 18 خطبات حرمین حصہ دوم (جمعہ 04 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2931

    اسلام کی اشاعت کے لیےعلماء کاکردار اہمیت کا حامل  ہے کہ جنہوں نے اپنی تحریر و تقریر سے عامۃ الناس میں علمِ دین کو پھیلایا اور علم و عرفان کی  قندیلیں ابھی تک جلا رے ہیں۔ علماء  ہی انبیاء کے وارث ہیں کہ جنہوں نے نبوی مشن سنبھالتے ہوئے شریعت کےعلم کو دوسرےلوگوں تک پہنچانا ہوتاہے۔شرعی مسائل اور اخلاقی شرعی رہنمائی کے لیے علماء کے قرآن و سنت اور آثار صحابہ سے اخذ کردہ مسائل عامۃ الناس کے لیے انہیں دین کے فہم میں آسانی فراہم کرتے ہیں ۔اور خطبات کے ذریعے  عوام الناس کی دینی رہنمائی کرتے ہیں ۔ علمائے  کرام  کے  مجموعہ خطبات  کےحوالے سے  کئی  مجموعات  شائع ہوچکے  ہیں۔ان میں  سے اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز ، خطاب  سلفیہ ،خطبات آزاد ، خطبا ت  بہاولپور ی خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ، خطبا حرم، مواعظ طارق ،زاد الخطیب ،وغیرہ ، قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے  12 ضخیم مجلدات پر مشتمل  ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر  نظر کتاب  خطبات حرمین ‘‘  دو جلدوں پر مشتمل  خطباء حرمین شریفین کے خطبات کامجموعہ ہے۔جلد اول حرم مکی کے تین شیوخ اور جلد ثانی حرم مدنی کے  پانچ  شیوخ کے  خطبات پر مشتمل ہے جلد اول کے شروع میں حرم مکی  او رجلدثانی  کے شرو...

  • 19 خطبات سلفیہ (بدھ 09 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5941

    مولانا اسماعیل سلفی جماعت اہل حدیث کے ایک بلند پایہ محقق، محدث، مدرس،  خطیب اور لیڈر تھے۔مستقل مزاجی  آپ کا اثاثہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گوجرانوالہ کی ایک جامع مسجد میں سینتالیس سال  امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔اس  ہمہ جہتی اورطویل ترین محنت سے آپ نے ایک حلقہء احباب پیدا کیا۔پھر آپ کو اپنے محنت کے ثمربارآور ہونے کی اتنی قدر تھی کہ آپ نے  اس کے لئے بڑی بڑی پیش کش  کو بھی ٹھکرا دیا۔ آپ ایک  متحرک اور فعال شخصیت کے مالک تھے۔ جماعت اہل حدیث کی تنطیم سازی میں شبانہ روز کا وشیں کیں۔ اس کے لئے  آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ حالت سفر میں گزرا۔آپ نے ایک مصروف ترین زندگی بسر کی ۔ آخر ی  سانس تک دینی خدمات سرانجام دیں۔ آپ کے خطبات  سے علماء و عوام  سب یکساں طور پر مستفید ہوتے۔جہاں عالمانہ نکتہ طرازی ہوتی وہاں عامیانہ مسائل کا حل بھی بطریق احسن   موجود ہوتا۔آپ کی تبحر علمی کا یہ  عالم  تھا کہ  ایک جملہ  ایسا بولتے جس میں کئی پہلو سموئے ہوتے۔اور  اس  کی تشریح و تفصیل میں ایک طویل وقت درکار ہوتا۔ لیکن آپ اسے چند لمحوں میں کماحقہ سمجھا دیتے۔ اللہ آپ  کی مرقد مبارک کو بے پناہ نور سے بھر دے۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 20 خطبات سورہ التکاثر (پیر 13 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1948

    سورۃ التکاثر مکی سورت ہے قرآن مجید کی ترتیب نزولی کے اعتبار سے سولہویں اور ترتیب توقیفی کے لحاظ سےسورۃ نمبر 102 ہے اس میں معجزانہ اختصار اور بلیغانہ اعجاز کے ساتھ موت ،قبر، قیامت، حشروحساب کے حقائق اوردوزخ کے مناظر بیان کےگئے اور ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو صرف دنیا کی زندگی کو اپنا مقصد بنالیتے ہیں اوردنیا کاا یندھن جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں،ان کے انہماک کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہیں دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے؛ لیکن پھر اچانک موت آجاتی ہے ،جس کی وجہ سے ان کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اورانہیں قصر سے قبر کی طرف منتقل ہونا پڑتا ہے ،ان لوگوں کو ڈرایاگیا کہ قیامت کے دن تمام اعمال کے بارے میں سوال ہوگا ،پھر تم جہنم کو ضرور دیکھوگے اور تم سے اللہ کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا کہ امن ،فراغت،اکل وشرب،مسکن،علم او رمال ودولت جیسی نعمتوں کو کہاں استعمال کیا؟۔ زیرتبصرہ کتاب ’’خطبات سورۃ التکاثر ‘‘پروفیسر حافظ عبد الستار حامد ﷾ کے سورۃ ’’ التکاثر‘‘ کے متعلق تفسیری خطبات کامجموعہ ہے ۔موصوف نے ان خطبات کاآغاز جنوری 2002ء میں کیا اور دس خطبات میں اس سورۃ مبارکہ کی تشریحات ، توضیحات وتفسیر کو خطبا ت جمعہ میں مکمل بیان کیا ہے ۔خطیبانہ انداز میں یہ سورۃالتکاثر کی منفرد تفسیر ہے ۔مصنف موصوف کی یہ بارہویں اور ’’ قرآن خطبات ‘‘ کے بابربرکت سلسلے کی نوویں(9) کتاب ہے (م۔ا) 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1356
  • اس ہفتے کے قارئین: 4395
  • اس ماہ کے قارئین: 36359
  • کل مشاہدات: 45375419

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں