دکھائیں کتب
  • 51 محاضرات سیرت (جمعرات 12 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:3901

    کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ہر مولف نے سیرت لکھتے وقت کچھ نہ کچھ اصول سامنے رکھے ہیں،جنہیں علم سیرت بھی کہا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات سیرت ﷺ" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔ یہ محاضرات مختصر

  • 52 محاضرات شریعت (جمعرات 12 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2772

    دور حاضر کے لا مذہب طبقہ میں شریعت اسلامیہ کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔یہ طبقہ اگرچہ تعداد میں بہت محدود ہے لیکن اپنے اثر ورسوخ کے اعتبار سے بہت طاقتور اور موثر ہے۔اس طبقہ کے خیال میں شریعت اسلامیہ دور وسطی کا ایک قدیم مذہبی نظا م ہے،جو عصر حاضر کے تقاضوں پر پورا نہی اترتا ہے۔ایسی فکر کا جواب دینے والوں میں سے ایک نام اس کتاب کے مولف کا بھی ہے۔جنہوں نے اپنے کے ذریعے ایسی سوچ رکھنے والوں پر واضح کیا ہے کہ شریعت اسلامیہ ہر دور اور ہر زمانے کے لئے کارآمد ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات شریعت" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔ یہ محاضرات مختصر

  • 53 مسلمانوں کا فکری اغوا (اتوار 05 فروری 2012ء)

    مشاہدات:11622

    یہود و نصاریٰ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دینِ اسلام کی اساسیات کو کھوکھلا کر دیں۔ اور اس روشن، چراغ کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ لہٰذا ٓغاز اسلام سے ہی وہ اسلام اور اہلِ اسلام کے سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں قابلِ مصنفہ مریم خنساء نے ان تمام امور کی طرف نشان دہی کر دی ہے جن کو یہود و نصاریٰ نے غیر محسوس طریقے سے ہم پر مسلط کیا ہے اور ہم ان کی سازشوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ سازشیں کیا ہیں؟ کس نوعیت کی ہیں؟ ان سے کس طرح بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب جاننے کے لئے کتاب ھذا کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ قابل مصنفہ نے کتاب ھذا میں فکری اغواء کے عوامل اور طریق کار کو بھی بیان کیا ہے اور اپنی معلومات کو، مسلمانوں کا فکری اغواء، فکری اغواء کے مختلف پہلو، انکار حدیثِ فکری اغواء کے افرادی اور دماغی قوت ختم کرنے کی کوشش جیسے عنادین میں سمو دیا ہے۔ اور کتاب کے اختتام پر ’’حرفِ آخر‘‘ کے عنوان کے تحت پوری کتاب کا نچوڑ اور خلاصہ بیان کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ جن مصادر و مراجع سے کتاب میں استفادہ کیا گیا ہے ان کی فہرست بھی کتاب کے آخر میں دے دی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو کتاب ھذا کا مطالعہ کرنا چاہئے تاکہ وہ یہود و نصاریٰ کی رشیہ دوانیوں سے مکمل آگاہی رکھ سے اور ان سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر بھی اپنا سکے۔ بہرحال یہ کتاب نہ صرف قابلِ مطالعہ ہے بلکہ لائق ستائش بھی ہے۔ (آ۔ہ)
     

  • 54 مضامین الندوہ لکھنؤ (پیر 01 اگست 2011ء)

    مشاہدات:11732

    مولانا ابو الکلام آزاد بر صغیر کے جلیل القدر عالم اور عظیم قائد تھے جنہیں بجا طور پر ’امام الہند‘کے پرشکوہ لقب سے نوازا گیاہے۔زیر نظر کتاب  ندوۃ العلما کے رسالے’الندوۃ‘میں چھپنے والے چند مضامین کا مجموعہ ہے ۔اس میں پانچ مضامین شامل ہیں جو اپنے مندرجات کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور آج بھی لائق مطالعہ ہیں ۔مولانا کا طرز تحریر بھی انتہائی ادبی شان وشوکت کا حامل ہے اس کتاب کے مرتب ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری ہیں جو ابو الکلامیات کے ماہر اور متخصص کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔چنانچہ شروع میں سواصد سے زائد صفحات پر ان کا مقدمہ بھی لائق مطالعہ ہے جس میں مولانا آزاد کا تعارف اور الندوہ وشبلی سے ان کے تعلقات کے مختلف ادوار پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ڈاکٹر تحیس فراقی صاحب کا ’حرف اول‘بھی پڑھنے کے قابل ہے ۔الغرض یہ کتاب علم وادب کا بہتر ین مرقع ہے ،جو شائقین ادب کے لیے یقیناً ’ارمغان علمی‘ہے ۔امید ہے شائقین علم وادب اس کا شایان شان استقبال کریں گے۔(ط۔ا)

  • 55 مضامین شفیق پسروری (جمعرات 31 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:1337

    رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ  اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ  دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے   مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد  چینیانوالی رنگ محل   میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی  سید داؤد غزنوی ﷫اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال  سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔ زیرتبصرہ   کتاب   جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان مضامین کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے پاکستان کے مختلف موقر ہفت روزہ وپندرہ روزہ رسائل وجرائد اورماہناموں کے ساتھ ساتھ روزناموں میں مختلف اوقات میں مختلف عنوانات کے تحت لکھے ہیں۔رانا صاحب کے یہ تمام مضامین بہترین اسلوب، اصلاحی انداز میں موثر کن اور ایک بہت بڑا دبی وعلمی خزانہ ہے۔جن میں سے بعض مضامین پر تو رانا صاحب داد وتحسین کے ساتھ ساتھ انعامات بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ان مضامین کی اہمیت وافادیت کے   پیش نظر  جناب احمد ساقی چھتوی صاحب نے ان کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 56 مفتاح الجنہ ( محمد حسین ظاہری ) (ہفتہ 25 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:2466

    تمام انبیاء کرام علیہم السلام ایک  ہی پیغام  اور  دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔ انبیاء کرام  سالہاسال تک مسلسل  اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے  ۔انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے۔  حضرت  نوح   نے ساڑھے نوسوسال   کلمہ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد  مصطفیٰ ﷺ نےبھی  لا اله  الا الله کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔زیرنظر  كتاب ’’مفتاح الجنۃ‘‘ بھی    اس موضوع پر شیخ محمد حسین ظاہر ی کے خطبات کا  مجموعہ ہے۔  اس میں  موصوف نے انتہائی عمدہ انداز میں کتاب وسنت کے دلائل  کی روشنی  میں    لا اله  الا الله   کا معنی ومفہوم،حقیقت ،شرائط کو  تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ اللہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا معنی ومفہوم جاننے او راس کے  مطابق عقیدہ وعمل صالح اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)
     

  • 57 مقالات اثریہ (ہفتہ 06 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:4746

    علم دین اللہ تبارک وتعالیٰ کی دَین ہے، وہ جسے چاہتا ہے علم کے زیو ر سے آراستہ فرمادیتا ہے ، سمجھنے اور اس میں بصیرت حاصل کرنے کی توفیق بخشتا ہے۔علم کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا معلوم کرکے اسے معمول بنانا ہے اور اللہ کے بندوں کو اس سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سے ناموری، کسی کو نیچا دکھانا، ہر دل عزیز بننا اور اپنے علم وفضل کی برتری کو ثابت کرنا سراسر خسارے کا سودا ہے۔ علمی اورفنی مسائل میں علمائے کرام کی مختلف آرا ایک فطری عمل ہے۔ ان کے مابین باہمی مناقشات میں مقصد حقیقت کی تلاش اور راہ صواب کو پانا ہے۔ ایک دوسرے کو کمتر یا نیچا دکھانا قطعاً مراد نہیں ہوتا۔ حدیث کی تصحیح وتضعیف ہو یا کوئی فقہی یا اصولی مسئلہ ہو ان میں اختلاف نیا نہیں۔ زمانہ قدیم سے ہے۔ ہر دور میں علمائے کرام نے بساط بھر انہیں منقح کرنے اور اصل حقیقت کو اجاگر کرنے کی اپنی سی کوششیں کیں ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک کوشش مولانا محمد خبیب احمد کی طرف سے’ مقالات اثریہ‘ کے نام سے  آپ سامنے ہے۔ جو تین ابواب پر مشتمل ہے۔باب اول میں مصطلح الحدیث سے متعلقہ سوالات ہیں۔ دوسرے باب میں چھ احادیث پر بحیثیت صحت وضعف بحث ہے اور تیسرے باب میں انہوں نے تین متفرق عناوین پر خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ یہ مقالات خالصی علمی اور فنی مباحث پر مشتمل ہیں، جن سے طلباء علم ہی نہیں ، علمائے کرام بھی مستفید ہونگے اور بہت سی نئی جہتیں ان کے سامنے آئیں گی اور ان شاءاللہ بہت سی بند گرہیں کھلیں گی۔ مولانا خبیب احمد میدان تحقیق کے شناور ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اپنی مرضیات سے نوازیں اور دین حنیف کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرما...

  • 58 مقالات ارشاد الحق اثری جلد1 (ہفتہ 29 اگست 2009ء)

    مشاہدات:19903

    عالم اسلام میں سے ایک مخصوص حلقے کے اس رویے کی کسی طور بھی تائید نہیں کی جاسکتی کہ اجتہاد کادروازہ بند ہوچکاہے- اگر اس مؤقف کو تسلیم کر لیا جائے تو معاشرہ یقینی طور پر جمود کا شکار ہوکر عصر حاضر میں پیش آمدہ نئے نئے مسائل کے حل سے عاری نظر آئیگا- مزید برآں اجتہاد کا دروازہ خود خدا تعالی نے امت  محمدیہ کے لیے کھولا ہے جس کی توثیق متعدد فرامین نبوی  سے ہوتی ہے-زیر نظر کتاب میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے اجتہاد کا دامن تھام کر غیر تقلیدی رویہ اختیار کرنے والوں پر کیے جانے والے اعتراضات  کا علمی جواب پیش کیا ہے-مصنف نے مقلدین کی تنگ نظری اوراس سلسلے میں  مسلک اعتدال کا تذکرہ کرتے ہوئے  فقہاء کے مابین اختلاف کی نوعیت بیان کی ہے-علاوہ ازیں تراویح کی مسنون تعداد،حلالہ، عید میلاد کے بارے میں قرآن وسنت کا اصل مؤقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ علامہ کوثری کے افکار ونظریات پر روشنی ڈالی ہے-مزید برآں ایسے ڈھیروں مسائل کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے جو کتاب و سنت کے حامیوں کے مابہ الامتیاز ہیں اورمقلدین حضرات  اپنی تقلیدی روش کی بناء پرواضح دلائل کے باوجود ان سے اعراض کیے ہوئے ہیں-
     

  • 59 مقالات الحدیث (جمعرات 13 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:23313

    حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ ایک جانی مانی اور علمی طور پر قدآور شخصیت ہیں۔ اصول حدیث اور اسماء الرجال کےمیدان میں آپ یدطولیٰ  رکھتے ہیں۔ جہاں موصوف کی بہت سی کتب زیور طباعت سے آراستہ ہو کر اہل علم سے داد وصول کر چکی ہیں وہیں آپ کے مضامین قارئین کے ذوق کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ آپ نے 2004ء میں ایک ماہنامہ ’الحدیث‘ کے نام سے نکالنے کا اہتمام کیا جس کا تسلسل تاحال بڑی کامیابی کے ساتھ برقرار ہے۔ گوناگوں مصروفیات کے باوجود ’الحدیث‘ کا ہر شمارہ حافظ صاحب ہی کے تحقیقی مضامین سے پُر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہل علم حضرات ’الحدیث‘ میں اپنے رشحات قلم پیش کرتے رہتے ہیں۔ قارئین کے پرزور اصرار پر ماہنامہ ’الحدیث‘ میں اب تک جتنے بھی مضامین 2004ء سے 2010ءتک شائع ہوئے ہیں ان کو کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ 691 صفحات پر مشتمل اس ضخیم  کتاب میں بہت سارے اساسی اور اہم مسائل پر تحقیقی ابحاث موجود ہیں۔ تمام مضامین کو مختلف موضوعات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ بنیادی موضوعات میں توحید و سنت کے متعلق مسائل، مسلک اہل حدیث، طہارت و نماز سے متعلق مسائل، الدعا، اصول حدیث و تحقیق الروایات، تذکرہ علمائے حدیث، تعارف و تبصرہ، اہل باطل اور مبتدعین کا رد، زکوٰۃ و معاملات اور دریچہ اصلاح جیسے عنوانات شامل ہیں۔ مقدمہ میں حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں: ’’چونکہ ہمارے رسالے میں راقم الحروف اور حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ کا متفق ہونا ضروری ہے، لہٰذا ہم نے تمام مضامین کو خود چیک کیا اور جہاں صاحب تحریر سے اختلاف تھا، اس کی وضاحت و صراحت کر دی۔‘...

  • 60 مقالات حدیث (بدھ 11 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:20378

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات متنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پیش نظر کتاب مولانا کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جوانھوں نے حدیث کا دفاع کرتے ہوئے لکھے جن میں حجیت حدیث، حجیت اخبار آحاد، کتابت حدیث، اصول محدثین اور ان کے اصول فقہا سے مقارنہ جیسے علمی موضوعات شامل ہیں۔ حافظ شاہد محمود ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر علمی مواد کو یکجاکتابی شکل میں نہ صرف پیش کیا بلکہ مکمل تحقیق و تخریج بھی کر دی۔ پہلا مضمون امام بخاری رحمہ اللہ  کے مسلک پر مشتمل ہے جس میں امام صاحب کے منہج و مسلک کا غائرانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا مضمون حدیث شریف کا مقام حجیت پر ہے جس میں حدیث نبوی کامقام تشریع واحتجاج بیان فرمایا ہے۔ تیسرا مضمون ’حدیث علمائے امت کی نظر میں‘ کے عنوان سے ہے جس میں قرآن و حدیث اور دیگر شواہد کے ساتھ علمائے امت کے نزدیک حدیث نبوی کا مقام و مرتبہ فرمایا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث اورمدیر فاران کراچی، حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے کذبات ثلاثہ، عجمی سازش کا فسانہ جیسے متعدد مضامین شامل اشاعت ہیں۔ (عین۔ م)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1628
  • اس ہفتے کے قارئین: 5015
  • اس ماہ کے قارئین: 25708
  • کل مشاہدات: 45240468

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں