کل کتب 80

دکھائیں
کتب
  • 71 #1213

    مصنف : حافظ محمد گوندلوی

    مشاہدات : 15429

    مقالات محدث گوندلوی رحمہ اللہ تعالیٰ

    (ہفتہ 07 اپریل 2012ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    حضرت محدث گوندلوی اپنے وقت کےعظیم محدث، مفسراور فقیہ تھے۔تمام علوم کےبحر زخار اور علوم و فنون پر کامل گرفت رکھتےتھے۔ آپ وسعت علم کے ساتھ عمل و اخلاق اورزہد و تقویٰ کے بھی پیکر تھے۔ شب زندہ داری اور سنن و مستحبات کی پیروی کا ایسا اہتمام کہ اب ایسا اور کوئی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اسی شخصیت کا مجموعہ مقالات و رسائل اس وقت آپ کے سامنے ہے جو نگارشات محدث گوندلوی کے فکر کا عکاس ہے۔ اس میں محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے چھ رسائل کو یکجا کیا گیاہے۔ پہلا رسالہ ختم نبوت کےعنوان سے ہے جس میں نبوت کا اثبات ہے۔ دوسرا ’تنقید المسائل‘ جس میں سید مودودی کے افکار پر تنقید ہے۔ اسی طرح باقی رسائل احکام وتر، صلاۃ مسنونہ، اہداء ثواب اور اسلام کی دوسری کتاب کے عنوان سے ہیں۔ ان رسائل میں باذوق قارئین کے لیے نہایت قیمتی معلومات درج ہیں۔ (عین۔ م)
     

  • 72 #2940

    مصنف : عبد المنان نور پوری

    مشاہدات : 2980

    مقالات نور پوری

    (ہفتہ 07 مارچ 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات سلفیہ، گوجرانوالہ

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے   اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا  عالمِ  دین   اور  قابل ترین مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب   1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب   کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم   اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے   پھر اسی ادارہ  میں   درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث   خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت ،عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے   تھے  ۔  بے شمار  طالبانِ علومِ نبوت نے  آپ سے  استفادہ کیا حافظ  صاحب  علوم  وفنون کے  اچھے   کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے  خطیب  ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ   بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی  ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان  میں  آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب  تصنیف کیں۔آپ  انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے  بڑے  علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد  کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی  کھو  بیٹھتیں۔حافظ صاحب نے   واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) زیر  تبصرہ کتاب  ’’مقالات نورپوری ‘‘ مولانا حافظ عبد المنان نورپوری ﷫  کے ان خطبات ومقالات کا مجموعہ ہے  جو وہ   جامعہ محمد یہ  چوک اہل حدیث میں جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد ماہوار درس  دیا کرتے تھے ۔ حافظ  صاحب  مرحوم   کے نامور شاگرد رشید  جناب  مولانا محمد طیب محمدی﷾ (مدیر ادارہ  تحقیقات سلفیہ،گوجرانوالہ)نے  حافظ صاحب کے ان  خطبات کو  احاطۂ تحریر لاکر  موضوعات  کے لحاظ  مرتب کر کے حافظ صاحب سے نظر ثانی کروا کر   حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے ۔۔ان خطبات ومقالات میں  خطباء وعلماء کےلیے علمی مواد موجود ہے ۔ مرتب  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷫ کے خطبات وغیرہ کو مرتب  کر کےشائع کرنےکے علاوہ حافظ صاحب کی حیات وخدمات پر  ایک  ضخیم  کتاب  مرتب کر کے بھی شائع کی ہے ۔اللہ تعالیٰ محترم محمد  طیب محمدی ﷾ کو  جزائے خیرسے  نوازے کہ انہوں نے  رقم کی توجہ پر اپنی مطبوعات کا  ایک  سیٹ  ادارہ محدث کی لائبریری کے لیے  ہدیۃً عنایت فرمایا۔(آمین) (م۔ا)
     

  • 73 #4760

    مصنف : ڈاکٹر محمود الحسن عارف

    مشاہدات : 1705

    مقالات پروفیسر عبد القیوم جلد اول

    dsa (منگل 27 ستمبر 2016ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    پروفیسر عبد القیوم﷫ علمی دنیا خصوصاً حاملین علو م اسلامیہ و عربیہ کے حلقہ میں محتاج تعارف نہیں ۔ موصوف 1909ء کولاہور میں پیدا ہوئے۔پروفیسر مرحوم کےخاندان کی علمی اور دینی یادگاروں میں مسجد مبارک کی تاسیس اور اس کی تعمیر وترقی میں نمایاں حصہ لینابھی شامل ہے ۔ جس میں پروفیسر صاحب کے والد محترم او رنانا مولوی سلطان دونوں کابڑا حصہ ہے ۔آپ کےخاندان کی نیک شہرت کا اندازہ اس ا مر سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کےہاں متعدد اہل علم ، مثلاً مولانا قاضی سلیمان سلمان منصورپوری، مولانا سید سلیمان ندوی ، شیخ الاسلام مولانانثاء اللہ امرتسری﷭آمدورفت رکھتے تھے۔پروفیسر صاحب نے ابتدائی عمر میں قرآن مجیدناظرہ پڑھنے کےبعد اپنی تعلیم کا آغاز منشی فاضل کےامتحان سےکیا۔1934ء میں اوری اینٹل کالج سے ایم عربی کا امتحان پاس کیا۔اور پھرآپ نے1939ء سے لے کر1968ء تک تقریباتیس سال کا عرصہ مختلف کالجز میں عربی زبان وادب کی تدریس اور تحقیق میں صرف کیا ۔ لاہور میں نصف صدی سے زیادہ انہوں نےتعلیم وتعلم کی زندگی گزاری۔ ان کے سیکڑوں شاگرد تعلیم تدریس اورتحقیق کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔علمی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ محبت اور خدمت کا مرکز کالج کی سرگرمیاں ، مقالات نویسی اور مسجد مبارک تھی جس کی وہ بے لوث خدمت کرتے رہے ۔اور مختلف ادوار میں انہوں نے علمی وتحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ۔پروفیسر صاحب تقریباً دس سال تک جامعہ پنجاب کی عربک اینڈ پرشین سوسائٹی کےسیکرٹری رہے اور انہوں نے متعد کانفرنسوں میں اعلیٰ تخلیقی وتحقیقی مقالات پیش کیے ۔اور لسان العرب کا ایسا اشاریہ تیار کیا جسے اندروں وبیرون ملک کے ماہرین نےبے حد سراہا۔ ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مقالات پروفیسر عبدالقیوم ‘‘ پروفیسر عبدالقیوم ﷫ کے تحریر کردہ علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔ان مضامین کو موصوف نے خودہی مرتب کرنے کا آغاز کیا تھا لیکن زندگی نے وفا نہ کی آپ چار ماہ بستر پر گزار کر 8ستمبر1989ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔بعد ازاں ان کےبیٹے میجر زبیرقیوم بٹ کے شوق وتعاون سے پرو فیسر موصوف کے شاگرد ڈاکٹر محمودالحسن عارف نے پروفیسر مرحوم کے بکھرے ہوئے مضامین اور بعض غیر مطبوعہ مقالات کو دو جلدو ں میں مرتب کیا۔ایک جلد علمی وتحقیقی مقالات اور دو سری جلد عام مضامین وخطبات پر مشتمل ہے۔(م۔ا)

  • 74 #2840

    مصنف : عبد المنان راسخ

    مشاہدات : 6144

    منہاج الخطیب

    (پیر 26 جنوری 2015ء) ناشر : دار القدس پبلشرز لاہور

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت  کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب  میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان  خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے  اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری  گلستانِ  کتاب وسنت  کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان  کے لقب سے یاد کرتی  ہے۔خطباء  ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے  زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے  اور واعظین  ومبلغین کا بطریق احسن  علمی تعاون  ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام  دینے  کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء  ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع  میسر نہیں یا  جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے  خطباء کی تیاری  کےلیے آسانی   ہوسکے  ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از  مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از  مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم  کے  ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات  علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات  قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم  ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی  کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب)  اسلامی  وعلمی  خطبات  کی  کتابوں کی لسٹ میں  گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’منہاج الخطیب‘‘ محترم مولانا  ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے  جوکہ  علماء  خطبا اورواعظین کےلیے  19 علمی وتحقیقی  خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب  کے آغاز میں  خطباء     اور واعظین  حضرات  کے لیے مصنف کا  تحریرکردہ’’  کامیاب  خطیب کےلیے  قابل غور  باتیں اور موجود ہ حالات میں  صحیح خطابت کا منہج ‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ  بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔  موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد  کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں  میں  شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے  علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف  جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں  حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی  بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف  ایک اچھے مصنف  ہونے کے ساتھ  ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد  میں خطابت کافریضہ انجام  دینے کےساتھ ساتھ  تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن  کتب کےمصنف ہے۔ جن  میں سے   چار کتابیں(خشبو ئے  خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا منہاج الخطیب کو  موصوف نے   بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے  اور  اس کتاب میں  کوئی روایت علی الاطلاق ضعیف نہیں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو  شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں  اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
     

  • 75 #1122

    مصنف : عرفان صدیقی

    مشاہدات : 20125

    نقش خیال

    (ہفتہ 15 اکتوبر 2011ء) ناشر : خزینہ علم وادب لاہور

    محترم عرفان صدیقی کا شمار پاکستان کے ان نامور کالم نگاروں میں ہوتا ہے جن کا کالم مذہبی، سیاسی اور علمی حلقوں میں یکساں مقبولیت رکھتا ہے۔ وہ جب کاغذ پر قلم رکھتے ہیں تو موج دریا ٹھہر سی جاتی ہے اور الفاظ دست بستہ ان کی خدمت میں حاضر نظر آتے ہیں۔ ان کا کالم جہاں معلومات کا بحر بے کنار ہوتا ہے وہیں ادب کی چاشنی بھی لیے ہوتا ہے۔ 2001ء وہ خون آشام سال تھا جس میں ایک فوجی ڈکٹیٹر نے امریکہ کی ایک دھمکی پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کا پیمان کر لیا۔ اس کے بعد افغانستان میں جو کچھ ہوا وہ سب کچھ اس کتاب میں رقم کر دیا گیا ہے۔ ’نقش خیال‘ در اصل ان کالموں کا مجموعہ ہے جو طالبان، افغانستان اور امریکی یلغار کے تناظر میں لکھے گئے اور روزنامہ ’نوائے وقت‘ میں شائع ہوتے رہے۔ افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ہمارے ہاں بہت سے شبہات پائے جاتے ہیں اس کتاب کے مطالعے کے بعد افغانستان کی شفاف تصویر سامنے آ جائے گی۔ عرفان صدیقی صاحب کے کالم کی پسندیدگی کی ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے کالم کے معیار کو مستقلاً برقرار رکھا اور اس کی دلکشی میں کوئی کمی نہیں آنے دی۔ انھوں نے کالم میں شعر و ادب کی چاشنی کو زندہ کیا اور نہایت پر کشش اسلوب اختیار کیا۔(ع۔م)
     

  • 76 #4608

    مصنف : عبد المجید سوہدروی

    مشاہدات : 2069

    نقوش ابو الکلام و مقالات آزاد

    (ہفتہ 16 جولائی 2016ء) ناشر : مسلم پبلیکیشنز لاہور

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔آپ ایک سنی المسلک انسان تھے ۔آپ کا قادیانیت یا مرزائیت سے کوئی تعلق نہ تھا۔لیکن اس کا باوجود بعض لوگوں نے آپ پر مرزا قادیانی کا جنازہ پڑھنے کا بہتان لگا کر آپ کو قادیانیت کی طرف میلان رکھنے والا ظاہر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نقوش ابو الکلام ومقالات آزاد "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا عبد المجید سوہدروی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  مولانا آزاد کے مسلک اور عقیدے پر گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • 77 #1308

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 20978

    نگارشات - جلد1

    dsa (بدھ 23 مئی 2012ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    حضرت مولانا اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کثرت مشاغل کے سبب بہت تھوڑا لکھ سکے لیکن جتنا لکھا ہزاروں صفحات پر بھاری تھا کہ ہر قدر شناس نے اس کا خیر مقدم کیا اور ان کی تحریرات کو سلفی منہج و فکر کے احیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ قرار دیا گیا۔ زیر نظر مجموعہ میں حضرت سلفی کی تمام مطبوعہ منتشر تحریرات جمع کی گئی ہیں، جس میں ان کے تحریرفرمودہ کتب و رسائل، مضامین و مقالات، فتاویٰ، مکاتیب، مقدمات اور تعلیقات و حواشی شامل ہیں۔ ان مضامین میں جماعت اہل حدیث کی تاریخی خدمات کا بخوبی تجزیہ و تعارف کرایا گیا ہے اور مختلف حوادث و واقعات کے تناظر میں اس طائفہ کی کثیر الجہت جہود و مساعی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ سلفی فکر اور منہج اہل حدیث کو ایک دلنشیں اسلوب میں متعارف کرایا گیا ہے۔ مختلف گروہوں کی جانب اس گروہ پر لگائے جانے والے الزامات کی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اس مجموعہ میں 40 نگارشات شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ عربی میں شائع ہوئے تھے جن کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 78 #4350

    مصنف : سید ابو الحسن علی ندوی

    مشاہدات : 2599

    پاجا سراغ زندگی

    (جمعہ 25 مارچ 2016ء) ناشر : مجلس نشریات اسلامی کراچی

    کسی بھی چیزکی فضیلت وشرافت کبھی اس کی عام نفع رسانی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے اور کبھی ا سکی شدید ضرورت کی وجہ سے سامنے آتی ہے۔ انسان کی  پیدائش کے فورا بعد اس کے لئے  سب سے پہلے علم کی ہی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔اور علم ہی کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:"تم میں سے جو لو گ ایمان لائے اور جنہیں علم عطاکیا گیا اللہ ان کے درجات کوبلند کر ے گا"۔پھر اللہ کے نزدیک علم ہی تقویٰ کامعیار بھی ہے ۔نبی کریم نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔قرآن وحدیث میں جس علم کی فضیلت واہمیت بیان کی گئی ہے وہ دینی علم یا دین کا معاون علم ہے۔زیر تبصرہ کتاب"پاجا سراغ زندگی"مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی﷫ کے ان خطبات پر مشتمل ہے جو انہوں نے دار العلوم  ندوۃ العلماء کے طلباء کے سامنے  مختلف مواقع اور اکثر تعلیمی سال کے آغاز پر پیش کئے۔ان خطبات کا مرکزی خیال ایک ہی تھا کہ ایک طالب علم کی نگاہ کن بلند مقاصد پر رہنی چاہئے اور اپنے محدود ومخصوص ماحول میں رہ کر بھی وہ کیا کچھ بن سکتا ہے اور کیا کچھ کر سکتا ہے۔ان خطبات میں انہوں نے خاص طور پر طلبائے علوم نبوت کے مقام ومنصب، امت کی ان سے توقعات، اور عصر حاضر میں ان کی ذمہ داریوں کو بیان کیا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 79 #4152

    مصنف : سید محمد کفیل بخاری

    مشاہدات : 2685

    پاکستان میں کیا ہوگا

    (ہفتہ 27 فروری 2016ء) ناشر : بخاری اکیڈمی ملتان

    مولانا سيد عطاءالله شاه بخاری ﷫اردو زبان کے عظیم خطیب، مجلس احرار اسلام کے بانی، تحریک ختم نبوت کے قائد اور سامراج كے خلاف برسر پیكارایک سپاہی اور جرنیل تهے۔آپ ایک ہمہ گیر اور پہلو دار شخصیت کے مالک تھے۔آپ نے ہندوستان کی آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور انگریز کو ہندوستان سے بھگانے می بنیادی کردار ادا کیا۔آپ نے اپنے پرجوش خطبات کے ذریعے پوری ہندوستان میں آزادی کی آگ لگا دی۔آپ جب تلاوت قرآن پاک كرتے تو ایک سماں بندھ جاتا تھا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال آپ كی تلاوت سنتے تو ان کے آنسؤوں كا سيلاب رواں ہوجاتا۔آپ کی نس نس ميں محبت رسول ﷺ اور انگ انگ ميں سامراج كی نفرت بھری ہوئی تهی۔آپ نے ساری زندگی مرزائيوں كے خلاف علمی اور عملی كام كيا۔آپ فرمايا کرتے تھے کہ  جس دين ميں ابوبكر، عمر، عثمان اور علی  كی قدر نہيں وه دين سچا نہيں ہوسكتا۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان میں کیا ہوگا؟" محترم محمد کفیل بخاری صاحب کی تصنیف ہے، جوامیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری﷫ کے خطبات پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 80 #1758

    مصنف : ام عدنان بشریٰ قمر

    مشاہدات : 3996

    گلدستہ دروس خواتین حصہ اول

    dsa (جمعہ 19 جولائی 2013ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    سعودی عرب میں ایک قانون ہے کہ دین پر بولنے کے لیے یا درس وارشاد کے لیے آپ کے پاس حکومت کی طرف سے اجازت نامہ ہونا چاہیے ۔ اس سے ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہو جاتا ہے کہ دین ایک کھلواڑہ بن کر نہیں رھ جاتا بلکہ وہی اس پر بات کرتا ہے جس میں صلاحیت واہلیت ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس باقی وہ ممالک جن میں اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں وہاں دین بازیچۂ اطفال بن کر رھ گیا ہے۔ اسی سلسلے میں سعودی گورنمنٹ کی طرف سے مختلف جالیات سنٹرز ہیں ۔ زیرنظر کتاب درحقیقت ان چند دروس کا مجموعہ ہیں جو ایک مشہور واعظہ جناب ام عدنان بشری قمر نے جالیات سنٹر کی طرف سے کئی ایک مجالس میں ارشاد فرمائے تھے۔ فی الوقت اس سلسلے کی یہ دو جلدیں ہیں ۔ دروس کے اس مجموعے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں واہی تباہی قصے کہانیوں، من گھڑت اور ضعیف ومنکر روایات سے ممکن حد تک اجتناب کیا گیا ہے۔ اور صحیح وحسن درجے کی روایات پر ہی اکتفا کیا گیا ہے۔ ان دروس کو سات عناوین کے تحت تقسیم کیا گیا ہے، جس کو سات ابواب کی شکل دی گئی ہے۔ بلکہ اسلام کے ارکان اربعہ کو دو حصوں (نماز ، روزہ ، حج و عمرہ اور زکات) میں الگ الگ کر کے آٹھ ابواب کر دیے گئے ہیں۔ (ع۔ح)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1661
  • اس ہفتے کے قارئین 13358
  • اس ماہ کے قارئین 51752
  • کل قارئین49418965

موضوعاتی فہرست