کل کتب 80

دکھائیں
کتب
  • 61 #1196

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 20974

    مقالات حدیث

    (بدھ 11 اپریل 2012ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات متنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ پیش نظر کتاب مولانا کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جوانھوں نے حدیث کا دفاع کرتے ہوئے لکھے جن میں حجیت حدیث، حجیت اخبار آحاد، کتابت حدیث، اصول محدثین اور ان کے اصول فقہا سے مقارنہ جیسے علمی موضوعات شامل ہیں۔ حافظ شاہد محمود ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر علمی مواد کو یکجاکتابی شکل میں نہ صرف پیش کیا بلکہ مکمل تحقیق و تخریج بھی کر دی۔ پہلا مضمون امام بخاری رحمہ اللہ  کے مسلک پر مشتمل ہے جس میں امام صاحب کے منہج و مسلک کا غائرانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا مضمون حدیث شریف کا مقام حجیت پر ہے جس میں حدیث نبوی کامقام تشریع واحتجاج بیان فرمایا ہے۔ تیسرا مضمون ’حدیث علمائے امت کی نظر میں‘ کے عنوان سے ہے جس میں قرآن و حدیث اور دیگر شواہد کے ساتھ علمائے امت کے نزدیک حدیث نبوی کا مقام و مرتبہ فرمایا ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث اورمدیر فاران کراچی، حضرت ابراہیم علیہ السلام  کے کذبات ثلاثہ، عجمی سازش کا فسانہ جیسے متعدد مضامین شامل اشاعت ہیں۔ (عین۔ م)
     

  • 62 #1966

    مصنف : محمد اسماعیل سلفی

    مشاہدات : 3807

    مقالات حدیث ( جدید ایڈیشن)

    (پیر 31 مارچ 2014ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی ذات ِمتنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔مولانا مرحوم بيک وقت ايک جيد عالمِ دين مجتہد ، مفسر ،محدث ، مؤرخ ، محقق ، خطيب ، معلم ،متکلم ، نقاد ، دانشور ، مبصر تھے ۔ تمام علوم اسلاميہ پر ان کو يکساں قدرت حاصل تھی ۔ تفسیر قرآن ، حديث ، اسماء الرجال ، تاريخ وسير اور فقہ پر ان کو عبور کامل حاصل تھا ۔ حديث اور تعليقات حديث پر ان کا مطالعہ بہت وسيع تھا حديث کے معاملہ ميں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہيں کرتے تھے۔مولانا محمد اسماعيل سلفیايک کامياب مصنف بھی تھے ۔ان کی اکثر تصانيف حديث کی تائيد وحمايت اور نصرت ومدافعت ميں ہيں آپ نے دفاع سنت کابیڑا اٹھایا اور اس کا حق ادا کیا ۔منکرین حدیث کو آڑے ہاتھوں لیا تمنا عمادی اور غلام احمد پرویز کے کے تشکیکی پروپگنڈا کے ڈھول کاپول کھولا۔ حدیث کے مقام ومرتبہ کو براہین قاطعہ سے واضح کیا۔ پیش نظر کتاب '' مقالات حدیث (تصحیح واضافہ شدہ جدید ایڈیشن )مولانا سلفی کے حجیت حدیث وفاع حدیث کے سلسلہ میں ان کے قیمتی 18 مضامین کا مجموعہ ہے جن میں حدیث کی تشریعی اہمیت ،سنت قرآن کے آئینہ میں ، حجیت حدیث،حدیث علمائے امت کی نظر میں ،امام بخاری کامسلک ،جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث ،حضرت ابراہیم﷤ کے کذبات ثلاثہ ،عجمی سازش کا فسانہ ،تمنا عمادی کا علمی محاسبہ ، وغیرہ جیسے علمی موضوعات شامل ہیں۔ حافظ شاہدمحمود ہدیہ تبریک کےمستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر علمی مواد کو یکجاکتابی شکل میں نہ صرف پیش کیا بلکہ مکمل تحقیق و تخریج بھی کر دی جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اللہ تعالی مولانا سلفیکے درجات بلند فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے (آمین) (م۔ا )

     

     

  • 63 #564

    مصنف : محب اللہ شاہ راشدی

    مشاہدات : 18313

    مقالات راشدیہ ۔جلد 1

    dsa (جمعرات 26 مئی 2011ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    حضرت علامہ محب اللہ شاہ صاحب راشدی سندھ کے نام ور اہل حدیث عالم تھے ۔آپ علم و فضل کے اعتبار سے بڑے جامع الکلمالات تھے ،تمام علوم اسلامیہ پر آپ کو دسترس حاصل تھی۔’مقالات راشدیہ‘آپ کے مختلف مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے۔یہ چار ابواب پر مشتمل ہےجن میں عقائد،مسائل ،تحقیق وتنقید او رشخصیات کے زیر عنوان قریباً ڈیڑھ درجن مقالات شامل ہیں۔ان مقالات میں مختلف موضوعات زیر بحث آئے ہیں اور شاہ صاحب نے انتہائی تحقیقی اسلوب میں ان پر قلم اٹھایا ہے ۔500سے زائد صفحات پر مبنی ا س عظیم الشان کتاب میں بے شمار قیمتی نکات علمیہ ہیں جو ارباب علم کے لیے خصوصاً انتہائی مفید ہیں۔خدا کرے جلد ہی شاہ صاحب کے مقالات کی مزید مجلدات بھی منظر عام پر آئیں تاکہ شائقین کتاب وسنت ان سے مستفید ہو سکیں۔
     

  • مقالات سیرت (مرد حضرات )

    (جمعرات 30 جولائی 2015ء) ناشر : پرنٹو گرافک اسلام آباد

    تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم بدرس حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" امت مسلمہ کے موجودہ مسائل ،درپیش چیلنجز اور ان کا تدارک"وزارت مذہبی امور ،زکوۃ وعشر حکومت پاکستان کے شعبہ تحقیق ومراجع کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سیرت کانفرنس 2007ء میں پیش کئے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔اس کانفرنس میں متعدد قومی وبین الاقوامی دانشوروں اور سکالرز نے شرکت اور امت مسلمہ کے موجودہ اور سیرت نبوی ﷺ کی روشنی میں ان کے تدارک پر اپنے اپنے مقالے پیش کئے۔جنہیں  ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے۔اس کتاب کو لکھنے کا ان کا مقصد غفلت کی نیند سوئی ہوئی  امت مسلمہ کو جگانا اور بیدار کرنا ہے ،اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔اللہ تعالی مولف کے اس جذبے کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 65 #3297

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 3546

    مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

    (جمعرات 11 جون 2015ء) ناشر : وزارت مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر، حکومت پاکستان

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت   کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

  • 66 #1821

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

    مشاہدات : 8103

    مقالات سیرت نبوی ﷺ جلد اول

    dsa (ہفتہ 21 ستمبر 2013ء) ناشر : اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور

    اس میں بھلا کیا شک ہے کہ آپﷺ کی ذات گرامی  او رسیرت مطہرہ ہر مسلمان کے لیے اور زندگی کے ہر شعبہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ انفرادی ، اجتماعی اور گھریلو زندگی تک کوئی پہلو ایسا نہیں جس میں آپ ﷺ کی حیات طیبہ سے رہنمائی نہ لی جا سکے۔اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ آپ کے طرز و اطوار میں انتہائی زیادہ اعتدال اور تواز ن ہے۔آپ جو شریعت لے کر آئے تھے وہ ملکی قوانین سے لے کر خلوت نشینی تک کے احکام اپنے اندر رکھتی ہے ۔ اور آپ نے بہترین طریقے  کے ساتھ انہیں اپنی زندگی میں لاگو کر کے اپنی امت کو عملی نمونہ پیش فرمایا ہے ۔ لہذا جہاں  اللہ کی شریعت سے رہنمائی لینی ضروری ہے وہاں آپ کی حیات طیبہ کو بھی سامنے رکھنا لازم ہے تاکہ اس حکم کی تعمیلی صورت سامنے آجائے ۔ مسلمانوں کے اندر یہی شعور بیدار کرنے کے لیے پاکستان کی مشہور و معروف یونیورسٹی بہاولپور نے سیرت کےحوالے سے دوعالمی کانفرنسیں منعقد کی تھیں ۔ زیر نظرکتاب اس کانفرس میں پیش کیے گئے مختلف مقالات کامجموعہ ہے ۔جو کہ اہل علم کے لیے بیش  قیمت رہنمائی کاذریعہ بن گئی ہے۔ (ع۔ح)
     

  • 67 #1911

    مصنف : ابو الاسجد

    مشاہدات : 3705

    مقالات شاغف

    (پیر 24 فروری 2014ء) ناشر : بیت الحکمت، لاہور

    اسلامی تعلیمات کی تعلیم و  تفہیم کے لیے ہمیشہ کتاب و سنت  کے  دو مستند ذرائع موجود رہے ہیں ۔قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ قرآن  مجید کی  حفاظت  کی ذمہ داری  تو اللہ تعالیٰ نےاس آیت مبارکہ میں بیان  کردی ہے    إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحٰفظون  جس  طرح   قرآن  مجید کی حفاظت ضروری ہے  ،بعینہ ٖ آپ ﷺ کی توضیحات وتشریحات (احادیث مبارکہ) کا تحفظ بھی  ناگزیر ہے ۔ قرآن مجید اگر  وحی متلو ہے تو حدیث وحی غیر متلو ہے  جس محفوظ  ذریعے اور طریق سے قرآن مجید کی  آیات بینات کا نزول ہوا ہے اسی  طریق اور ذریعے سے  اس کی تشریحات وتوضیحات کی بھی تعلیم دی گئی ہے  صحابہ  کرام  نے آپ کی سنت اور عادت کو اپنایا اور آپ کے اقوال وافعال واحوال کو ہر  اعتبار سے محفوظ رکھنے کی  کوشش کی  اس کے بعد ائمہ محدثین نے  لاکھوں احادیث کو  مدون کر کے ان کی درجہ  بندی کی  اور ان کی صحت وضعف کو  واضح کیا اور روایت ودرایت کے حوالے سے  متن اور راوی  کے صحت واعتبار کےلیے  ایسے علوم وفنون کوبھی ترتیب  دیا جس کی مثال اس سے  قبل تاریخ علوم انسانی  میں  ناپید اور مفقود ہے   کہ  جس سے  علوم  الحدیث کو علمی وقار اور عملی امتیاز حاصل  ہوا۔ جب بھی  انکار  سنت کے فتنے  نے  آنکھ کھولی تو  اہل علم اور  ائمہ محدثین نے  اپنی  عملی اور تحقیقی کاوشوں سے اسے  موت کی نیند سلا دیا۔ زیر نظر کتاب ’’ مقالات شاغف ‘‘ در  اصل ابو الاشبال شاغف بہاری ﷾ کے  برصغیر پاک وہند کے  علمی  وتحقیقی رسائل وجرائد میں  علم  حدیث   کی حجیت  ،ثقاہت،تدوین  اور  دفاع حدیث  کے  موضوع پر تحقیقی مضامین کا نادر مجموعہ ہے  مولانا  ابو الاشبال شاغف  بہاری﷾ انڈیا کے صوبہ بہار میں  پید ا ہو ئے   اور مختلف کبار علماء سے  شر ف تلمذ کیا  آپ  تحقیق وتخریج کے  حوالے  سے  مرجع  کی حیثیت رکھتے  ہیں  آپ کو رابطہ عالم اسلامی کے علمی  وتحقیقی مرکز میں کام کرنے کے مواقع بھی ملے ۔  طویل عرصہ سے سعوی عرب میں مقیم ہیں  آپ کی علمی  وجاہت کے پیش نظر حکومت  سعودیہ نے انہیں  شہریت کے اعزاز سے بھی نوازا ہے  اللہ تعالی  سے دعا  ہے کہ  وہ ان مقالات کے مطالعہ سے  دین وشریعت کا صحیح فہم پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے  (آمین) (م۔ا)

  • 68 #581

    مصنف : علامہ شبلی نعمانی

    مشاہدات : 74051

    مقالات شبلی جلد1

    dsa (پیر 01 اگست 2011ء) ناشر : مسلم اکادمی لاہور

    علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ‌ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے تھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر تھے۔ اگرچہ مولانا مرحوم کے چند مضامین ’رسائل شبلی‘ اور ’مقالات شبلی‘ کے نام سے ان کی زندگی ہی میں شائع ہو چکے تھے، لیکن یہ دونوں مجموعے ناتمام ہیں اور صرف چند تاریخی و علمی مضامین پر مشتمل ہیں،  مولانا کے تمام مضامین کو یکجا صورت میں پیش کرنے کے لیے ہندوستان کے مختلف رسائل و اخبارات مثلاً معارف علی گڑھ، دکن ریویو، انسٹیٹیوٹ گزٹ، تہذیب الاخلاق، الندوہ، مسلم گزٹ وغیرہ سے مولانا کے تحریر کردہ  تمام مضامین استقصاء کے ساتھ نہایت تلاش و محنت سے جمع  کیے گئے اور مختلف موضوع کے لحاظ سے الگ الگ ان کی تقسیم کی گئی اور ’مقالات شبلی‘ کے نام سے اشاعت کا انتظام کیا گیا۔ یہ اس سلسلے کی پہلی جلد ہے جس میں تاریخ ترتیب قرآن، اختلاف مصاحف اور قراءت، یورپ اور قرآن کے عدیم الصحۃ ہونے کا دعویٰ، مسائل فقہیہ پر زمانہ کی ضرورتوں کا اثر، عربوں کی صلح پسندی اور بے تعصبی، مسلمانوں کو غیر مذہب حکومت کا محکوم ہو کر کیوں رہنا چاہیے وغیرہ جیسے علمی و تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ اگرچہ بہت سی جگہوں پر مضامین کے مندرجات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجموعی طور یہ علمی دستاویزات  ہیں، عوام و خواص کے لیے ان سے مستفید ہونے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔(ع۔م)
     

  • 69 #2081

    مصنف : عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 2453

    مقالات طیبہ

    (ہفتہ 10 مئی 2014ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستورِ زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب (مقالات طیبہ) جماعۃ الدعوہ کے مرکزی راہنما معروف عالم دین مولانا عبد السلام بن محمدبھٹوی﷾ کی علمی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے اسلامی تہذیب کے انہی منفرد اصولوں کو مقالات کی شکل میں جمع کر دیا ہے،اور عصرِ حاضر کے چند مشکل موضوعات پر قرآن وسنت کے مستند دلائل کی روشنی میں بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

     

  • 70 #1819

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

    مشاہدات : 7251

    مقالات قرآن کانفرنس جلد اول

    dsa (جمعرات 19 ستمبر 2013ء) ناشر : اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور

    قرآن کریم ، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے رسول اللہ ﷺ کے ذریعے کیا گیا آخری خطاب ہے ۔ قرآن بظاہر ایک کتاب ہے ، لیکن یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ہر ایک دل میں جلوہ فگن ہے ۔ قرآن کریم کی ہر آیت یکتا و  بے مثل ہے ، ترتیب اور شفتگی الفاظ ، بیان کی خصوصیات ، سورتوں کا غیر معمولی آغاز و اختتام ، آیات کی وانی ، بے مثل افکار رسانی اور الفاظ کا ایک حسین امتزاج کا نظارہ اور کیف آور اور وجد آفریں ہے ۔ قرآن کریم کے الفاظ و آیات اس  قدر جامع اور وسیع المعنی ہیں کہ کسی بھی زبان  میں ان کا ترجمہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا ۔ الفاظ  و آیات  کی مفصل  تو کی جاسکتی ہے لیکن ان کے معانی و مفہوم کا ہمہ جہت اور مکمل احاطہ کرنا ناممکن ہے ۔ زیر نظر کتاب درحقیقت مقالات کا مجموعہ ہے جو بہاولپور یونیورسٹی میں ایک کانفرس کے ذریعے پیش کیے گئے تھے ۔ اس کا مقصد قرآن مجید کے ان ترجم کا جائزہ لینا تھا جو برصغیر میں مختلف ادوار میں کئے گئے  ہیں ۔ برصغیر میں  زبان اردو  کے اندر ترجمۃ القرآن کی روایت شاہ رفیع الدین سے شروع ہوئی جو ابھی تک بڑی تندہی سے جاری و ساری ہے ۔ اس کانفرس میں یہ کوشش کی گئی کہ اردو کے نمایاں تراجم سامنے لائے جائیں تاکہ اس رویت کو ایک معیار کی شکل دی جاسکے۔(ع۔ح)
     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1897
  • اس ہفتے کے قارئین 7737
  • اس ماہ کے قارئین 59770
  • کل قارئین49530539

موضوعاتی فہرست