کل کتب 431

دکھائیں
کتب
  • 251 #5439

    مصنف : محمد احمد حافظ

    مشاہدات : 5227

    سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ

    (ہفتہ 21 جولائی 2018ء) ناشر : الغزالی پبلی کیشنز کراچی
    #5439 Book صفحات: 288
    سرمایہ دارانہ نظام انگریزی ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت کی بجائے  کسی پرائیوٹ بینک کے اختیار میں ہوتا ہے۔اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس میں منڈی آزاد ہوتی ہے اس لیے اسے آزاد منڈی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آج کل کہیں بھی منڈی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی مگر نظریاتی طور پر ایک سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ جملہ حقوق، منافع خوری اور نجی ملکیت اس نظام کی وہ خصوصیات ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کے مطابق غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔ جدید دانشوروں کے مطابق آج سرمایہ دارانہ نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک متبادل نظام کی آوازیں شدت سے اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں۔ مختصراًسرمایہ دارانہ نظام یہ کہتا ہے کہ ذاتی منافع کے لئے اور ذاتی دولت و جائیداداور پیداواری وسا‏‏ئل رکھنے میں ہر شخص مکمل طور پر...
  • 252 #6186

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2453

    سرمایہ داری کا مستقبل

    (ہفتہ 26 ستمبر 2020ء) ناشر : وراثت پبلیکیشنز
    #6186 Book صفحات: 178
    زیر نظر کتاب’’سرمایہ دارِی کا مستقبل‘‘ پانچ مغربی  مصنفین(عمانویل الرسٹائن، رنڈل کولنز، مائیکل مین، جارجی درلوگاں کریگ کلہون)  کی مشترکہ تصنیفDoes Capitalism Have a Future? کا  اردو ترجمہ ہے ۔تفہیم مغرب  کے سلسلہ میں  جناب صابر علی صاحب نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرکے افادۂ عام کے لیے پیش کیا ہے۔اس کتاب میں  مذکورہ پانچ ماہرین سماجیات تاریخ عالم کے اپنے اپنے علم کی بنیاد پر اپنے اپنے انداز میں بحث کرتے ہیں کہ آنے والے دور میں  کیا چیلنج اور مواقع پیدا ہوں گے ۔ کتاب  ہذا میں   حسب ِذیل عنوانات قائم کر کے (سرمایہ داروں کے لیے سرمایہ دار منافع بخش کیوں رہے گی۔مڈل کلاس کا  خاتمہ ،خاتمہ قریب ہو سکتا ہے لیکن کن کےلیے ؟کمیونزم کیاتھا؟اب سرمایہ داری کو کیا خطرات ہیں؟) سرمایہ داری  کے مستقبل کو پیش کیا گیا۔ (م۔ا)
  • 253 #6187

    مصنف : ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری

    مشاہدات : 4746

    سرمایہ داری کے نقیب

    (اتوار 27 ستمبر 2020ء) ناشر : لیگسی بک لاہور
    #6187 Book صفحات: 695
    سرمایہ دارانہ نظام ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت کی بجائے کسی پرائیوٹ بینک کے اختیار میں ہوتا ہے۔اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔سرمایہ داری کاغلبہ آج عالمگیر صورت اختیار  کر گیا ہے سرمایہ  دارانہ علمیت نےاسلام کےعلاوہ تمام علمی تہذیوں کو مسخر کرلیا ہے ۔زیر نظر کتاب’’ سرماداری کےنقیب‘‘ وطنِ عزیز پاکستان کے ماہر اقتصادیات جناب ڈاکٹرجاوید اکبر انصاری کی تصنیف ہے۔یہ کتاب  سرمایہ داری  کی تاریخ کےاہم ترین نقیبوں  کی فکر تجزیہ  پیش کرتی ہے ۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں  سرماداری کے  نقیبوں کو چھےگروہوں میں تقسیم کر کےہر گروہ سے تعلق رکھنے والے اہم مفکرین کو الگ سیکشن میں جمع کردیا  ہے اور ان مفکرین کے خیالات کے تجزیے سے واضح کرنے کی کوشش کی  ہے کہ سرمایہ دارانہ طرز اور نظام ِزند...
  • 254 #2987

    مصنف : ڈاکٹر سعود بن سعد آل دریب

    مشاہدات : 4684

    سعودی عرب میں عدالتی تنظیم اسلامی شریعت اور عدالتی اقتدار کی روشنی میں

    (اتوار 25 اکتوبر 2015ء) ناشر : جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ الریاض
    #2987 Book صفحات: 346
    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘ نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کےلیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ...
  • 255 #4499

    مصنف : اشہد رفیق ندوی

    مشاہدات : 7009

    سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات

    (پیر 13 مارچ 2017ء) ناشر : ادارہ علوم القرآن علی گڑھ یوپی
    #4499 Book صفحات: 440
    قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سماج میں پائی جانے والی برائیوں کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اسے ایمان کا تقاضا قرار دیا کہ مومن برائی کو برائی سمجھے اور حتی الوسع اس کی روک تھام کی کوشش کرے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کے فرائض میں شامل اور داخل ہے ۔قرآن کریم نے اخلاق اور حقوق کےادا کرنے پر پورا زور دیا ہے۔ وہ والدین کے حقوق ہوں یا رشتہ داورں اور پڑسیوں کے یا عام انسانوں کے۔ جھوٹ، جھوٹی گواہی، حسد، غیبت، بہتان، تمسخر، کبر وغرور، فتنہ وفساد، چوری، ناحق قتل، ظلم وتشدد، ڈاکہ زنی، رہزنی، دھوکہ دہی اور باہمی کشیدگی سے روکا ہے کیونکہ یہ چیزیں سماج کو کھوکھلا کرنے والی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات‘‘ ادارہ علوم القرآن علی گڑھ کے زیراہتما م مذکورہ موضوع پر منعقد کیے گئے سیمینار میں پیش کیے گئے تقریباً پچیش تحقیقی وعلمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ ان مقالات کو جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے حسن ترتیب سے مرتب کرکے عامۃ الناس کے استفادہ کے لیے پیش کیا ہے۔ (م۔ا)
  • 256 #2996

    مصنف : عبد العزیز ابراہیم الغدیر

    مشاہدات : 5290

    سماجی تعلقات میں مکالمے کی اہمیت

    (اتوار 18 اکتوبر 2015ء) ناشر : نا معلوم
    #2996 Book صفحات: 112
    دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر رکھنے کی صلاحیت ایک ایسی صلاحیت ہے جو اعلیٰ انسانی خوبی قرار دی جا سکتی ہے۔ وہ لوگ جو سماج میں اعلیٰ رتبوں پر فائز ہوتے ہیں ان میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے اچھے تعلقات بنا کر رکھتے ہیں اور وہ ایسا صرف اپنے عہدوں کی بنیاد پر نہیں کرتے بلکہ ان کی کامیابی اور سماجی مرتبے کی وجہ ہی بنیادی طور پر یہی ہوتی ہے کہ وہ ہر قسم کے لوگوں سے بآسانی میل جول بڑھا سکتے ہیں۔ گھریلو اور دفتری تعلقات کے علاوہ انسان کو بہت سے دیگر تعلقات بھی نبھانا پڑتے ہیں۔ دوستوں اور شناساؤں کے علاوہ کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن سے روز آپ کا واسطہ پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر لفٹ مین، مالی، گھریلو ملازم اور گارڈ وغیرہ۔ بازار جائیں تو وہاں دکانداروں، سیلزمینوں اور ان کے مددگاروں سے بات کرنا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ گوالا جو آپ کو دودھ دینے آتا ہے، وہ ڈاکیا جو آپ کے خط گھر چھوڑنے آتا ہے اور وہ دھوبی جو آپ کے کپڑے دھو کر گھر دے جاتا ہے اس سے بھی ملنا پڑتا ہے۔ اگرچہ یہ تعلقات گہرے نہیں ہوتے اور انہیں متعین بھی نہیں کیا جا سکتا مگر بہر حال یہ سب تعلق ہماری زندگی کا حصہ ہیں جو اگر زندگی...
  • 257 #6242

    مصنف : ابو عبد الرحمن محمد الترکیف

    مشاہدات : 3455

    سنت کے خزانے

    (منگل 24 نومبر 2020ء) ناشر : اسلامک سروسز سوسائٹی لاہور
    #6242 Book صفحات: 162
    سنت مراد الٰہی  تک پہنچنے کا اولین ماخذ ہے  اور سنت کی موافقت کسی  بھی  عمل کی قبولیت  کے لیے بنیادی شرط ہے ۔اگر سنت کو ترک کردیاجائے تو نہ قرآن کی تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی کسی عمل کی قبولیت ۔اسی وجہ سے کتاب اللہ میں  جابجا اتباع سنت کی ترغیب دکھائی دیتی ہے ۔  سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے  قرآن مجید میں بے  شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سنت کے خزانے ‘‘ ڈاکٹر محمد  عبد الرحمن الترکیت کی کتاب من كنوز السنة  کا اردو ترجمہ ہے۔ شیخ موصوف نے اس کتاب میں قرآن کریم اور سنت مطہرہ کی روشنی میں ان مسائل کو بیان کیا ہے۔جو انسانی معاشرہ کی اصلاح کےلیے  ضروری ہیں۔(م ا)
  • 258 #2160

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3606

    سنگھار خانے

    (جمعہ 19 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2160 Book صفحات: 67
    بیوٹی پالر سے مراد ایسے  مقامات ہیں جہاں عورتیں ،مرد اور بچے اپنے جسم کے فطری حسن اور فطری رنگ و روپ کی بجائے اضافی زیب وزینت اور من پسند رنگ وروپ حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ایسے بیوٹی پالرز کا خیال سب سے پہلے رومی قوم میں پیدا ہوا جو لوگ روح کی بجائے جسم کے عیش، آرام ،اس کی لذتوں اور آرائش کو ترجیح دیتے تھے۔وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے زر خرید لونڈیوں کی جسمانی نگہداشت کرتے ،انہیں طرح طرح کے فیش کروا کر سجاتے بناتے اور پھر ان کے اپنی  نفسانی خواہشات پوری کرتے تھے۔موجودہ زمانے کے بیوٹی پالر بھی انہی قباحتوں اور برائیوں کو اپنے اندار لئے ہوئے ہیں،اور ان کی آڑ میں ہونے والے بے حیائی کے واقعات دیکھ اور سن کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "سنگھار خانے "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے لئے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے ،اور برائی وبے حیائی کے ان اڈوں سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محم...
  • 259 #2871

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 13621

    سود (مودودی)

    (پیر 21 ستمبر 2015ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #2871 Book صفحات: 351
    سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے   مامور کیا تھا جس کو سودخواروں اعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سود‘‘ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نےسود کے ہر پہلو پر تفصیل کے ساتھ ایسی مدلل بحث کی ہے کہ کسی معقول آدمی کواس کی حرمت وشناعت میں شبہ باقی نہ رہے ۔ اس کتاب میں سودپر نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے بحث کی گئ ہے بلکہ معاشی نقطۂ نظر سےبھی یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ سود ہر پہلو سے انسانی معاشرہ کے لیے مضرت رساں او رتباہ کن ہ...
  • 260 #2786

    مصنف : محمد عبید اللہ الاسعدی

    مشاہدات : 8275

    سود اور اسلامی نقطہ نظر

    (اتوار 02 اگست 2015ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #2786 Book صفحات: 305
    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار...
  • 261 #5580

    مصنف : ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی

    مشاہدات : 10418

    سود اور اسکے احکام و مسائل

    (ہفتہ 25 اگست 2018ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور
    #5580 Book صفحات: 174
    دینِ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار...
  • 262 #4440

    مصنف : حافظ انجینئر نوید احمد

    مشاہدات : 4967

    سود حرمت خباثتیں اشکالات

    (ہفتہ 13 مئی 2017ء) ناشر : تنظیم اسلامی،لاہور
    #4440 Book صفحات: 52
    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے مامور کیا تھا جس کو سودخوروں سےاعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے ۔ سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری...
  • 263 #7131

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 1221

    سود و رشوت اور بعض دیگر ناجائز ذرائع معاش

    (منگل 26 ستمبر 2023ء) ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ
    #7131 Book صفحات: 127
    رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکھلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور اس کے اندرونی اسباب پر سخت پابندی عائد کی اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی جن کی وجہ سے دنیا اس مہلک امراض سے نجات پا جائے۔ زیر نظر کتاب ’’سود و رشوت اور بعض دیگر ناجائز ذرائع معاش ‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمرحفظہ اللہ کے متحدہ عرب امارات ام القوین سے نشر ہونے والی ریڈیائی تقاریر کی کتابی صورت ہے۔ (م۔ا)
  • 264 #2870

    مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

    مشاہدات : 6401

    سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

    (اتوار 20 ستمبر 2015ء) ناشر : صدیقی ٹرسٹ کراچی
    #2870 Book صفحات: 208
    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور...
  • 265 #6164

    مصنف : ابراہیم بن محمد الحقیل

    مشاہدات : 4820

    سود گناہ اور نقصانات

    (بدھ 02 ستمبر 2020ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ انڈیا
    #6164 Book صفحات: 52
    دینِ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔ زیر نظرکتاب’’سود گناہ اور نقصانات‘‘شیخ ابراہیم بن محمدالحقیل کی مایہ ناز  تالیف  الربا آثا واصرار كا اردو ترجمہ ہے شیخ موصوف نے اس کتابچہ میں  کتاب وسنت کےبین دلائل   سے س...
  • 266 #7255

    مصنف : پروفیسر سلمان بشیر ناگی

    مشاہدات : 921

    سوشل ورک بی اے ( پارٹ ۔1)

    dsa (جمعرات 29 فروری 2024ء) ناشر : عبد المجید پبلیکیشنز گوجرانوالہ
    #7255 Book صفحات: 326
    انسانی معاشرہ شدید انتشار اور بحران کا شاہکار ہے ۔ اخلاقی قدریں پامال ہو رہی ہیں اور باہمی تعلقات خود غرضی اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔حتیٰ کہ خاندان کا ادارہ بھی اس لپیٹ میں آ گیا ہے ۔افراد خاندان جن کے درمیان عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ قریبی تعلقات ہونے ہیں اور انہیں ایک دوسرے کے ہم درد و غمگسار ہونا چاہیے وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پروا ہیں بلکہ ان پر ظلم ڈھانے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ حیوانی سماج کا منظر پیش کر رہا ہے یہی صورت عالمی سطح پر بھی ہے۔ زیر نظر دو حصوں پر مشتمل کتاب ’’سوشل ورک‘‘ پروفیسر سلمان بشیر ناگی آف گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کی کاوش ہے ۔ یہ انہوں نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے مجوزہ نصاب کے مطابق پنجاب ، سرگودھا ، سندھ ،کراچی ، پشاور اور بلوچستان جامعہ کے طلباء طالبات کے لیے مرتب کی ہے۔اس کتاب کے مطالعہ سے طلباء معاشرہ کے عمومی اور حقیقی مفہوم اور ثقافت کے تصور سے آگاہ ہو سکتے ہیں،سماجی تبدیلی کیسے وقوع پذیر ہوتی ہے،ہمارے معاشرے کے مسائل کون سے ہیں اور ہم ان کو...
  • 267 #3437

    مصنف : نگہت ہاشمی

    مشاہدات : 4890

    سکون کا رشتہ

    (ہفتہ 06 فروری 2016ء) ناشر : النور پبلی کیشنز/النور انٹرنیشنل
    #3437 Book صفحات: 46
    اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت اسلام کا خاندانی نظام ہے۔ اسلام نے نظام معاشرت کے حوالے سے جس اہتمام کے ساتھ احکام بیان کیے ہیں اگر مسلمان ان سے آگاہ ہو جائیں اور حقیقی طور پر ان کا نفاذ کرلیں تو ایک مضبوط، خوشحال اور باہمی محبت کا خوگر خاندان تشکیل پا سکتا ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کے گھریلوں معاملات پر سکون ہوں، جب وہ گھر جائے تو راحت محسوس کرے، جب وہ اپنے اہل خانہ کو دیکھے تو خوشی ہو مگر یہ سب انعامات اس وقت ہونگے جب اس کی عائلی زندگی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہو گی۔ دور حاضر میں جس رفتار سے گھر بسانے کا سلسلہ جاری ہے، اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس زیادہ تیزی کے ساتھ گھر ٹوٹنے کا آغاز ہو چکا ہے۔آج ایک چھت تلے رہنے والے سکون سے محروم نظر آتے ہیں۔ سچ ہے کہ یہ رشتہ سکون والا بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ رشتہ بنانے والے سے تعلق مضبوط نہ ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" سکون کا رشتہ" محترمہ نگہت ہاشمی کی ایک اصلاحی تصنیف ہے۔ جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں خاندانی نظام کو پر سکون بنانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ موصوفہ کو اجر عظیم سے نوازے اور امت...
  • 268 #2911

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 12507

    سیاست شرعیہ اردو

    (پیر 14 ستمبر 2015ء) ناشر : کلام کمپنی کراچی
    #2911 Book صفحات: 307
    ساتویں صدی ہجری کا دور ابتلاء وآزمائش کا دور تھا،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اخلاق واعمال میں کتاب وسنت سے دامن بچانے کا مرض تھا۔امام ابن تیمیہ ﷫ کے لئے یہ صورت حال بڑی تکلیف دی تھی،آپ اس صورتحال کو برداشت نہ کر سکے،قلم سنبھالا،تلوار اٹھائی،وعظ وتقاریر کا سلسلہ چھیڑا اور جب مخالفت شروع ہوئی تو بے خطر مخالفت کے عظیم سمندر میں کود پڑےاور چراغ حرم کے پروانوں کو میر کارواں کی طرح پکارنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ مذہبی ابتری اور سیاسی انتشار میں اتحاد وجمعیت کی صورتیں نظر آنے لگیں۔عصر حاضر میں مسلمانوں کے سیاسی نظریات میں جو تزلزل پایا جاتا ہے وہ ساتویں صدی ہجری سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔صرف پاکستان ہی میں نہیں تمام دنیا میں مسلمان سیاسی توازن قائم رکھنے میں بڑی حد تک ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ ان اصولوں سے دوری  اور بے تعلقی ہے جن کو اسلام میں سیاست شرعیہ کہا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیاست شرعیہ " امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک عظیم الشان اور تاریخی کتاب ہے،جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی...
  • 269 #6946

    مصنف : فائز ایچ سیال

    مشاہدات : 2290

    شاہراہ کامیابی

    (پیر 06 مارچ 2023ء) ناشر : فیروز سنز، لاہور۔ کراچی
    #6946 Book صفحات: 289
    کامیابی ہر انسان کے لئے الگ معنی و مفہوم رکھتی ہے. ہر شخص کے لیے کامیابی کا ایک الگ معیار ہوتا ہے. اُس کی کامیابی انحصار کرتی ہے کہ اس نے کامیابی کا معیار کیا طے کیا ہے. کسی کے ہاں دولت کامیابی ہے تو کسی کے لیے شہرت. کوئی اپنی خواہش یا خواہشات کی تکمیل کو کامیابی قرار دیتا ہے تو کوئی اقتدار. کسی کے لئے نوکری اور کوٹھی بنگلے کا حصول ہی کامیابی کہلاتی ہے ۔لیکن حقیقی کامیابی یہی ہے کہ جودو زخ سے بچ کر جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ زیر نظر کتاب’’شاہراہ کامیابی ‘‘   فائز ایچ  سیال  کی ایک انگریزی کتاب  The Road To Success  کا اردو ترجمہ ہے۔یہ  کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے  حصہ اول  کا عنوان کامیابی کیسے ممکن ہے ؟   اور حصہ دوم کا عنوان  کامیابی کو برقرار  رکھیے ۔یہ کتاب  ملک بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے  والی   اور غیر معمولی کامیاب زندگی کی تشکیل کے لیےآزمودہ رہنما کتاب ہے۔ (م۔ا)
  • 270 #2659

    مصنف : محمد نجات اللہ صدیقی

    مشاہدات : 15237

    شرکت و مضاربت کے شرعی اصول

    (منگل 30 جون 2015ء) ناشر : اسلامی پبلیکشنز،شاہ عالمی مارکیٹ،لاہور
    #2659 Book صفحات: 162
    شرکت اور مضاربت کاروباری معاہدوں کی وہ شکلیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کےوقت رائج تھیں۔شرکت ومضاربت کے طریقے نبیﷺ کے زمانے میں رائج رہے اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں کے سامنے آپ کے تربیت یافتہ صحابہ نے یہ طریقےاختیار بھی کیے ۔آپ نے ان طریقوں سے روکا نہیں بلکہ ان پر اظہار پسندیدگی فرمایا اور ان میں بعض طریقے آپ ﷺ نے خود بھی اختیار کیے تھے ۔شرکت سے مراد یہ ہے کہ دویا دو سے زائد افراد کسی کاروبار میں متعین سرمایوں کے ساتھ اس معاہدے کے تحت شریک ہوں کہ سب مل کر کاروبار کریں گے ۔مضاربت یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس سرمایے سے کاروبار کرے ۔ اس معاہدے کےتحت کے اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شرکت ومضاربت کے شرعی اصول ‘‘ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ شعبۂ معاشیات کے پروفیسر جنا ب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شرکت اور مضاربت کے شرعی احکام بیان کیے ہیں ۔ا س کتاب میں شرکت اور مضاربت کے تمام فقہی احکام کا احاطہ نہیں کیاگیا ہے بلکہ ان امور پر بحث کی گئی ہے ۔جن کابنکوں کی تنظیم نو سےگہرا تعلق ہے ۔ دور ِ جدید...
  • 271 #5597

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 6957

    شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت

    (منگل 02 اکتوبر 2018ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #5597 Book صفحات: 395
    اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز  میں حلال  اور حرام  کے مشکل ترین مسائل کو کھول  کھول  کر بیان کردیا  ہے اس کےلیے  کچھ قواعد و ضوابط  بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت  رکھتے  ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے  ضروری ہے کہ تاحیات پیش  آمدہ حوائج  وضروریات کو اسی اصول  پر پر کھے  تاکہ اس کا معیارِ  زندگی اللہ  اور اس کے رسول کریم  ﷺ کی منشا کے مطابق  بن کر دائمی  بشارتوں  سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی  آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے...
  • 272 #271

    مصنف : سلیم رؤف

    مشاہدات : 20953

    شیطان سے انٹرویو

    (جمعہ 12 مارچ 2010ء) ناشر : صفہ دعوت اصلاح، گوجرانوالہ
    #271 Book صفحات: 12
    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ میں معاشرے میں رائج عمومی برائیوں، شیطان کے ہتھکنڈوں  اور اس سے بچاؤ کی تدابیر پر عام فہم انداز میں بحث ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔
  • 273 #1855

    مصنف : قاری محمد سعید صدیقی

    مشاہدات : 5380

    شیطان کی اذان

    (جمعہ 22 اگست 2014ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور
    #1855 Book صفحات: 162
    گانا بجانے کا  کام  سب سے پہلے شیطان نے ایجاد کیا یعنی  گانے بجانے کا  موجد اور بانی  شیطان ہے  اور یہ شیطان کی منادی  اور اذان  ہے  جس کے ذریعہ  وہ لوگوں کوبلاتا ہے  اور گمراہی  کے جال میں پھنساتا ہے  ۔قرآن  وحدیث    میں گانے بجانے کی  سخت ممانعت  اور وعید  بیان  ہوئی ہے  بلکہ  قیامت کی نشانیوں میں  سے  گانا بجانا بھی ایک  نشانی  ہے ۔گانا گانےاور بجانے کا پیشہ  اس  قدر عام  ہو گیا  ہے کہ اسے  مہذب شہریوں اور معزز خاندانوں نے  بھی اپنا لیا ہے ۔کمینے لوگوں کے نام بدل دئیے گئے ہیں  ۔آج ناچنے ،گانے والا کنجر نہیں گلوکار اور اداکار کہلاتا ہے  اور ڈھول بجانے والا نٹ اور میراثی نہیں بلکہ  موسیقار اور فنکار کے  لقب سے  نوازا جاتا ہے۔اور ان  لوگوں کوباقاعد ایوارڈ دئیے جاتے  ہیں  اور  برائی کی اس طرح حوصلہ  افزائی کی  کہ ان  کی عزت اور شہرت  کاچرچا دیکھ کر بقیہ لوگ بھی...
  • 274 #6604

    مصنف : محمد بن صالح العثیمین

    مشاہدات : 4449

    شیطانی وسوسے

    (جمعہ 21 جنوری 2022ء) ناشر : الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ
    #6604 Book صفحات: 191
    شیطان سے انسان کی دشمنی آدم  کی تخلیق کےوقت سے چلی آرہی  ہے  اللہ کریم نے شیطان کوقیامت تک  کے لیے  زندگی دے کر انسانوں کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی قوت دی ہے  اس عطا شدہ قوت  کے بل بوتے پر شیطان نے اللہ تعالی ٰ کوچیلنج کردیا کہ وہ آدم   کے بیٹوں کو اللہ کا باغی ونافرمان  بناکر جہنم کا ایدھن بنادے گا ۔لیکن اللہ کریم  نے شیطان کو جواب دیا کہ  تو لاکھ  کوشش کر کے دیکھ لینا حو میرے مخلص بندے ہوں گے  وہ تیری پیروی نہیں کریں گے   او رتیرے دھوکے میں  نہیں آئیں گے۔ابلیس کے وار سے   محفوظ  رہنے کےلیے  علمائے اسلام اور صلحائے ملت نے کئی کتب تالیف کیں او ردعوت وتبلیغ او روعظ وارشاد کےذریعے  بھی راہنمائی فرمائی۔ زیر نظر کتاب’’شیطانی وسوسے ‘‘ فضیلۃ الشیخ محمد بن  صالح العثمین  اور فضیلۃ الشیخ محمد بن عبد اللہ  الشائع کی  عربی تصنیف آفة المؤمن الوساوس کا اردو ترجمہ ہے۔اس کتاب میں       شیطان کی چالوں،اس کے وسوسوں اور طریق...
  • 275 #2195

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 11084

    صلہ رحمی اور اس کے عملی پہلو

    (ہفتہ 03 جنوری 2015ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2195 Book صفحات: 129
    صلہ رحمی سے مراد ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدست اور کمزور ہے  تو اس کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔صلہ رحمی میں اپنے والدین، بہن بھائی، بیوی بچے، خالہ پھوپھی، چچا اور ان کی اولادیں وغیرہ یہ سارے رشتہ دار صلہ رحمی میں آتے ہیں۔ اپنے والدین کے دوست احباب جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ جب ان رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ان کے حقوق پورے نہیں کیے جائیں گے، ان کی مدد نہیں کی جائے گی تو یہ قطع رحمی کہلاتی ہے۔ یعنی اپنے رشتہ داروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنا۔ صلہ رحمی ہرطرح کی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، اس کے سات...
< 1 2 ... 8 9 10 11 12 13 14 ... 17 18 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 15026
  • اس ہفتے کے قارئین 76087
  • اس ماہ کے قارئین 792967
  • کل قارئین100954805
  • کل کتب8701

موضوعاتی فہرست