#5439

مصنف : محمد احمد حافظ

مشاہدات : 3372

سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ

  • صفحات: 288
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 7200 (PKR)
(ہفتہ 21 جولائی 2018ء) ناشر : الغزالی پبلی کیشنز کراچی

سرمایہ دارانہ نظام انگریزی ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت کی بجائے  کسی پرائیوٹ بینک کے اختیار میں ہوتا ہے۔اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس میں منڈی آزاد ہوتی ہے اس لیے اسے آزاد منڈی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آج کل کہیں بھی منڈی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی مگر نظریاتی طور پر ایک سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ جملہ حقوق، منافع خوری اور نجی ملکیت اس نظام کی وہ خصوصیات ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کے مطابق غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔ جدید دانشوروں کے مطابق آج سرمایہ دارانہ نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک متبادل نظام کی آوازیں شدت سے اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں۔ مختصراًسرمایہ دارانہ نظام یہ کہتا ہے کہ ذاتی منافع کے لئے اور ذاتی دولت و جائیداداور پیداواری وسا‏‏ئل رکھنے میں ہر شخص مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت کی طرف سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم دنیا میں سو فیصد (%100)سرمایہ دارانہ نظام کسی بھی جگہ ممکن نہیں، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح لوگوں کے کاروبار میں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کا سارا نظام سود پر مبنی ہیں۔ سود ہی کے ذریعے مغربی طاقتیں پورے پورے ممالک کو تباہ کر دیتی ہیں۔ سودی نظام جب ایک معاشرے میں کئی دہائیوں تک چلے تو اس کے بُرے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔ غریب، غریب تر ہو جاتا ہے جبکہ امیر، امیر تر ہو جاتا ہے۔ معاشرے کی ساری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جاتی ہے اور ملک کی معیشت پر چند افراد کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ ‘‘ جناب محمد احمد حافظ صاحب نے ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری کی نگرانی میں مرتب کی ہے ۔ یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے چھٹا باب خوصی مطالعہ کے عنوان سے اس کتاب میں شامل ہے جو کہ پوری کتاب کا حاصل ہے اس حصے میں ڈاکٹر جاوید اکبرانصاری کا خصوصی مقالہ بعنوان’’ عالم اسلام اور مغرب کی کشمکش ایک نئے تناظر میں ‘‘ شامل ہے اس مقالے میں ڈاکٹر صاحب نے سرمایہ داری پر نہایت بصیرت افروز نقد کیا ہے اور آخر میں اس خبیث نظام کے انہدام کی حکمت عملی کی طرف اشارات بھی دئیے ہیں جونہایت قابل توجہ ہیں ۔اس کتاب میں دوسرا اہم مقالہ علی محمد رضوی صاحب ’فلسفۂ یونان کا ابطال : امام غزالی کاطریقہ کار ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے یہ مقالہ انگریزی سے اردو زبان مین منتقل کر کے اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مدارس دینیہ کے علماء وطلباءلیے کے بیش قیمت تحفہ ہے تاکہ وہ اس کے مطالعہ سے سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت کو جان سکیں۔(م۔ا)

فہرست زیر تکمیل

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1737
  • اس ہفتے کے قارئین 14076
  • اس ماہ کے قارئین 110314
  • کل قارئین72725815

موضوعاتی فہرست