تنظیم اسلامی،لاہور

3 کل کتب
دکھائیں

  • 1 چہرے کا پردہ (پیر 23 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:15383

    عورت اور مرد کے جسمانی خدوخال کی مخالفت کی وجہ سے شریعت نے ان کے جسم کو چھپانے کے احکامات الگ الگ مقرر کیے ہیں-اس لیے عورت کو ہر وقت پردے میں رہنے کا حکم جبکہ مرد کے مختصر لباس کو بھی جائز قراردیا ہے-عورت کے پردے کے حوالے سے بہت ساری بحثیں موجود ہیں کچھ لوگ عورت کے پردے کے قائل ہیں لیکن چہرے کے پردے کے قائل نہیں اور کچھ چہرے کے پردے کے قائل ہیں-مصنف نے دونوں رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے جانبین کے دلائل کو پیش کرکے قرآن وسنت سے ان کی حیثیت کو واضح کرکے شرعی راہنمائی فراہم کی ہے-علامہ البانی کے چہرے کے پردہ کے قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اور غامدی اور اس طرح دوسرے لوگوں کے نزدیک عورت کے چہرے کے پردے کا قائل نہ ہونے کی وجوہات کچھ اور ہیں اس لیے مصنف نے ہر گروہ کے افکار ودلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے حساب سے جواب دیتے ہوئے قرآن وسنت سے اپنے موقف کی ترجمانی کو پیش کیا ہے اور اسی طرح کتاب کے آخر میں پردے کے حوالے سے پائے جانے والے مختلف شبہات کو الگ الگ بیان کر کے ان کا بھی علمہ محاکمہ کیا ہے اور کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف نے ہر بات دلائل کی روشنی میں کی ہے اور ہر باب کے آخر میں تمام حوالہ جات کو بھی پیش کیا ہے تاکہ قاری اگر اصل مراجع ومصادر سے استفادہ کرنا چاہتا ہو تو اس کو آسانی رہے-

  • 2 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (بدھ 18 مئی 2016ء)

    مشاہدات:3324

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہم...

  • 3 سود حرمت خباثتیں اشکالات (ہفتہ 13 مئی 2017ء)

    مشاہدات:1261

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے مامور کیا تھا جس کو سودخوروں سےاعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے ۔ سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ سود حرمت، خباثتیں، اشک...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1049
  • اس ہفتے کے قارئین: 11653
  • اس ماہ کے قارئین: 30946
  • کل قارئین : 47775498

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں