دکھائیں کتب
  • 61 ایک عہد ساز شخصیت حافظ محمد دین  (بدھ 01 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1483

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے  امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے  یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور  ہو ۔تمام حالات کو  حقیقت کی نظر  سے  دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین  وفطین ہو  اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے  کہ تاریخ  ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس  کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے  اور اسلام میں تاریخ ، رجال  اور تذکرہ  نگار ی کو بڑی اہمیت  حاصل ہے اور یہ  اس کے امتیازات میں سے  ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین  کے تذکرے لکھ کر ان  کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ  ہمارے سامنے ہے  لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی  اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں  محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا  حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا  محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ  کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین ۔ زیر نظر کتاب’’ایک عہد ساز شخصیت‘‘ عطاء محمد جنجوعہ  کی تالیف ہے  جوکہ  مولانا محمد صدیق سرگودھوی ﷫  کے   شاگرد رشید  شیخ...

  • 62 برصغیر کا اسلامی ادب چند نامور شخصیات (پیر 15 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:4715

    تیرہ سو سال پر محیط برصغیر میں اسلام اور اسلامی شخصیات کی داستان تاریخ اسلام میں ایک خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ اس کی ابتدا محمد بن قاسم الثقفی جیسے مہم جو اور انتہائی قابل قائد سے ہوتی ہے اور پھر سندھ کے راستے پورے برصغیر میں اسلام پھیل جاتا ہے ۔ جس کی ایک زندہ تصویر پاکستان اور جنوبی ایشیا کے مشرقی حصے میں بنگلہ دیش کی موجودگی ہے ۔ جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کی دوسری اور تیسری بڑی آزاد مسلمان ریاستیں ہیں ۔ برصغیر میں اسلام کے موضوع پر کئی مصنفین نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق لکھا ہے ۔ لیکن اب بھی کافی تحقیقی کام ہونا باقی ہے ۔ زیرنظر کتاب ڈاکٹر مجیب الرحمان کی اسی موضوع پر ایک قابل قدر اضافہ ہے ۔ پھر اس پر مستزاد یہ ہے کہ محترم ڈاکٹر صاحب کا تعلق بنگال سے ہے ۔ اور بنگال کی راج شاہی یونیورسٹی میں ایک طویل عرصہ تدریس و تحقیق کے لیے زندگی بسر کرتے رہے ۔ اس کتاب میں چند ایسے علما اور اسلامی شخصیات کے سوانح اور علمی کارنامے بیان کیے گئے ہیں جن کے متعلق اس سے پہلے اردو میں زیادہ کچھ نہیں لکھا گیا ۔ اسی لیے یہ کتاب قارئین کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ (ع۔ح)
     

  • 63 برصغیر کے منفرد حکمران (بدھ 02 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1864

    برصغیر میں ایک ہزار برس تک مختلف مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی۔ لیکن ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کی شخصیت وکردار میں کسی اعتبار سے انفرادیت تھی۔ اپنی ذاتی کاوشوں سے وہ ممتاز ومنفرد ثابت ہوئے یا پھر ان کے منفرد کردار نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ یہ تمام حکمران باہمت‘ بیدار مغز‘ قوت عمل کے مالک اور تعصب سے پاک تھے۔ ان تمام حکمرانوں کو زبر دست مشکلات ومصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے مخالفتوں‘ ناکامیوں اور حوصلہ شکن حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل جدوجہد کی بدولت آخر کار مثالی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔زیرِ تبصرہ کتاب بچوں کے لیے خاص طور پر افادہ کے لیے لکھی گئی ہے کیونکہ اس کتاب سے پہلے بچوں کے لیے ایسی کتاب موجود نہ تھی جس میں برصغیر کے ایک سے زیادہ حکمرانوں کے حالات زندگی اختصار کے ساتھ موجود ہوں۔ اپنی تاریخ سے آگاہی کے لیے طویل اور غیر ضروری تفصیلات پر مبنی واقعات پر مشتمل بہت سی کتب تھیں لیکن بچوں کے لیے انہیں پڑھنا آسان نہ تھا جس کی وجہ سے یہ  کتاب اختصار کا مرقع ہے۔ اس کتاب میں پہلا تذکرہ محمود غزنوی کا ہے اس کے بعد ظہیر الدین بابر‘ شیر شاہ سوری‘ جلال الدین اکبر‘ ٹیپو سلطان اور رضیہ سلطانہ جیسے حکمرانوں کا تذکرہ ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔  یہ کتاب’’ برصغیر کے منفرد حکمران ‘‘آغا امیر حسین کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تع...

  • 64 بزم ارجمنداں (اتوار 02 اکتوبر 2011ء)

    مشاہدات:20663

    ’بزم ارجنداں‘ کے نام سے ہم مولانا اسحاق بھٹی کے تیار کردہ سوانحی خاکوں کو ’کتاب و سنت ڈاٹ کام‘ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ جس میں مولانا نے برصغیر کی 19 مشہور شخصیات کا انتخاب کر کے ان کے زندگی کے بارے میں اپنے تاثرات قلمبند کیے ہیں۔ مولانا ان حضرات کے بارے میں اپنے تاثرات و مشاہدات ضبط تحریر میں لائے ہیں جن سے ان کے تھوڑے یا زیادہ مراسم و تعلقات رہے ہیں۔ اس فہرست میں مقرر و واعظ بھی ہیں، میدان صحافت کے شہسوار بھی اور درس و تدریس سے تعلق رکھنے والے بھی۔ مولانا ہر ایک بارے میں اپنی یادداشتیں اور واقعات نہایت بے تکلفی سے صفحات قرطاس پر منتقل کرتے چلے گئے ہیں۔ بھٹی صاحب کا اسلوب نگارش ایسا دلچسپ ہے کہ قاری اسے پڑھنا شروع کر دے تو اس میں جذب ہو جاتا ہے۔ الفاظ دست بستہ ان کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور لاکھوں کا جم غفیر ان کی مٹھی میں ہوتا ہے۔ انھوں نے جس شخصیت پر بھی لکھا ہے  اس کا پورا سراپا اپنے قارئین کے سامنے لے آئے ہیں۔(ع۔م)

  • 65 بستان المحدثین (منگل 22 اگست 2017ء)

    مشاہدات:2515

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے روز اول سے ہر دو میں اُ س دور کی ضرورت کے مطابق انبیاء﷩ کا سلسلہ قائم کیا اور ہر نبی کو کوئی کتاب یا صحیفہ عطا کیا ‘ اس نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی جناب حضور کریمﷺ ہیں جنہیں قرآن وحدیث جیسی عظیم کتب سے نوازا گیا  اور پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا کیونکہ شریعت محمدیﷺ قیامت تک کے لیے تھی اس لیے اس کی حفاظت نہایت اہم اور ضروری تھی۔ اور اللہ عزوجل نے نبیﷺ کے بعد یہ کام امت محمدیہ کے علماء پر عائد کر دیا کہ وہ اس کی حفاظت اور اس کے پھیلاؤ کا باعث بنیں اور اس پر علمائے امت نے بہت سی تصانیف لکھیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ان کتب کا تذکرہ ہے جو خاص حدیث کے موضوع پر لکھیں گئی ہیں اور پھر ان کتب اور مصنفین  کا اجمالی تعارف بھی دیا گیا ہے تاکہ اس نام کی کتب سے عوام الناس بہر ور ہو سکیں۔ یہ کتاب اصلاً فارسی میں ہے جس کے کئی عربی اور اردو  تراجم بھی ہوئے ہیں ۔ اس کتاب میں جو کہ اردو ترجمہ ہے میں لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ محاورہ اردو کے موافق  جس کی وجہ سے متن الفاظ کی تقدیم وتاخیر ہے۔ اور پہلے نسخوں میں موجود نقائص کو حد الامکان درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ مشکل الفاظ یا محدثین واہل فقہ کی اصطلاحوں کو حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب’’ بستان المحدثین ‘‘ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے او...

  • 66 بوئے گل ، نالہ دل ، دود چراغ محفل (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2928

    آغا شورش کاشمیری﷫ پاکستان کےمشہور و معروف شاعر،صحافی، سیاستدان اوربلند پایہ خطیب تھے۔آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالکریم تھا، لیکن آغا شورش کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آغا شورش کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔آپکی سیاسی علمی ادبی تربیت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ گھر میں ’’زمیندار‘‘ اخبار آتا اور مسجد شہید گنج کی تحریک نصف نہار پر تھی عبدالکریم اسکول سے فارغ ہوئے تو تحریک شہید گنج کا رخ کیا اور مولانا ظفر علی خان سے قربت میسر آ گئی تو مولانا ظفر علی خان کی سیاست، صحافت، خطابت آغا شورش کے مزاج میں سرایت کرتی چلی گئی ۔ اب شورش بھی برصغیر کا منفرد خطیب مانا جانے لگے۔ سارا ہندوستان انکے نام سے شناسا ہوا۔ آغا صاحب کا ایک سیاسی قد کاٹھ بن گیا جس دوران مسلم لیگ علیحدہ وطن کیلئے کوشاں تھی اس وقت آغا شورش کاشمیری مجلس احرار کے چنیدہ رہنماؤں میں شامل ہو کر مجلس کے ایک روزنامہ (آزاد) کے ایڈیٹر بن گئے اور قیام پاکستان کے بعد آغا شورش کاشمیری وطن عزیز کی بقا اور استحکام کیلئے آخری سانسوں تک میدان عمل میں رہے۔ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں پر کڑی تنقید اور اپنے نقطہ نظر کو دلائل کے ساتھ پُرزور انداز میں پیش کرتے ہوئے بڑے استقلال سے کھڑے ہو جانا آغا شورش کا مزاج بن چکا تھا۔ تحریک ختم نبوت آغا صاحب کی زندگی کا اثاثہ عظیم تھا وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے جب تک 1973ء کے آئین میں ختم نبوت کے عقیدے کو شامل کرا کے قادیانیوں کو خارج الاسلام نہ کر لیا...

  • 67 بیٹا ہو تو ایسا (پیر 12 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1455

    محترم طاہر نقاش صاحب  (مدیر ) دار الابلاغ  ،لاہور کی شخصیت اہل علم کے   ہاں محتاج تعارف نہیں  آپ  جامعہ محمد یہ ،گوجرانوالہ سے فارغ تحصیل ہیں اور ایک عرصہ جماعۃ الدعوۃ کے پلیٹ فارم سے  گراں قدر صحافتی خدمات دیتے رہے ہیں  ۔موصوف کا شمار  وطن عزیز کے چند قلمکاروں  میں ہوتا ہے جن کےقلم  کو اللہ تعالیٰ نے تاثیر کی دولت سےنوازا  ہے ۔ان کےمضامین میں چھوٹے  چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی حکمت وعمل کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔وہ اپنے قلم کی تبلیغ  سے تبلیغ کا اچھوتا انداز اپنائے ہوئے  ہیں ۔موصوف نے   دینی  صحافت  میں گراں قدر خدمات انجام دینے کے ساتھ  ساتھ ’’ دار الابلاغ‘‘ کے نام  سے اشاعت کتب دینیہ  کا ادارہ قائم کیا  جو چند سالوں میں معاشرےکی ضرورت کے اہم موضوعات پر  بیسیوں  دینی کتابیں شائع کرچکا ہے ۔طاہر صاحب  خودبھی کئی کتب کے مصنف ومترجم مرتب ہیں ۔8 نومبر 2012ء کو طاہر نقاش صاحب کا ہونہار بیٹا  ابو بکر نقاش  نواز شریف ہسپتال  میں  ڈاکٹر وں کی غفلت  سے اچانک اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جس  سے بچے کے والدین ، بہن  بھائی ،  عزیز واقارب کو بہت صدمہ پہنچا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بیٹا ہو توایسا! ‘‘ میں   جناب  طاہر نقاش صاحب   نے اپنے  بیٹے کی    مظلومانہ موت اور اس پر انہیں پہنچنے والے گہرے صدمے ، اور اس  ان   کی والدہ ، استاتذہ ،...

  • 68 تاريخ دعوت وعزیمت حصہ اول (پیر 05 ستمبر 2011ء)

    مشاہدات:23960

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(ط۔ا)

  • 69 تاریخ اسلام کی چار سو باکمال خواتین (پیر 17 جون 2013ء)

    مشاہدات:7393

    انسانیت کےسب سے بڑےمحسن اورمعلم  حضور اکرمﷺکےظہورقدسی کے وقت  عرب میں پڑےلکھے لوگوں کی تعداد کس قدر محدود تھی!لیکن یہ فیضان ہے رسولﷺکی تعلیم وتربیت کا جنہوں نے ہرمسلمان مرد اور عورت  کو تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی او ریوں انہوں نے نہ صرف یہ کہ علم وفن میں کمال پیداکیابلکہ صدیوں تک اس وقت کی دنیا کے معلم ہونےخوشگوار فریضہ بھی اداکرتےرہے۔ان میں جہاں بے شمار باکمال مردوں کےنام آتےہیں وہاں باکمال  عوتوں کے کارنامےبھی ناقابل فراموش ہیں۔زیرنظر کتاب میں محتر م طالب ہاشمی صاحب نے ان چارسو باکمال خو تین  کے احول لکھے ہیں جنہوں نے تاریخ اسلام میں کسی ناکسی لحاظ سے اہم ترین کردار اداکیاہے۔اور اس کامقصد یہ ہےکہ آج کے اس گئے گزر ے دور       میں خوتین کے اندر اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسرکرنےکا جذبہ پیداہو۔اللہ ان کے  سعی کو قبول فرمائے۔اور سعادت درین کاذریعہ بنائے۔(ع۔ح)
     

  • 70 تحفۃ الہند مع تکملہ و رسالہ کتھا سلوئی (جمعہ 01 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2224

    ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔عقیدے کے  بعض مسائل ایسے ہیں جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات  میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تحفۃ الہند مع تکملہ ورسالہ کتھاسلوئی"محترم مولانا عبید اللہ نو مسلم مالیر کوٹلوی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان تمام مسائل کو جمع فرما دیا ہے جن کو جاننا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔مولف پہلے ہندو تھے۔اللہ تعالی نے انہیں اسلام کی طرف راہنمائی کی اور وہ مشرف باسلام ہو گئے۔اس کتاب میں انہوں نے جہاں اسلامی عقائد کو بیان کیا ہے وہیں آخر میں رسالہ کتھاسلوئی کے نام سے ہندو مذہب کی خامیاں بھی بیان کی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1504
  • اس ہفتے کے قارئین: 5994
  • اس ماہ کے قارئین: 40015
  • کل قارئین : 47867532

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں