کل کتب 336

دکھائیں
کتب
  • 126 #5283

    مصنف : خاں غازی کابلی

    مشاہدات : 3460

    حیات بخاری

    (جمعہ 16 فروری 2018ء) ناشر : احرار فاؤنڈیشن پاکستان
    #5283 Book صفحات: 218
    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص ان کی شخصیت وسوانح پر پہلی کتاب ہے جو شاہ جی کی زندگی میں شائع کی۔ مصنف کی اس کتاب کی تحریر میں کہیں اجنبیت اور کہیں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ قدیم وجدید اسلوبِ نگارش کا حسین امتزاج اور بے تکلفی بھی ہے۔اس کتاب میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی ہنگامہ خیز زندگی کو ضبط تحریر میں لانا بہت بڑا کام کیا گیا ہے‘ یہ مختصر تو کیا ضخیم کتاب بھی کافی نہیں ہو سکتی لیکن اس کتاب میں ان کے حالات ا...
  • 127 #3706

    مصنف : عبد العظیم اصلاحی

    مشاہدات : 8407

    حیات حافظ ابن قیم

    (اتوار 29 مئی 2016ء) ناشر : شیخ غلام علی اینڈ سنز پبلشرز لاہور ، حیدرآباد ، کراچی
    #3706 Book صفحات: 699
    علامہ ابن قیم ﷫ كا پورا نام محمد بن ابوبكر بن ايوب بن سعد حريز الزرعی الدمشقی شمس الدين المعروف بابن قيم الجوزيہ ہے۔ جوزيہ ايك مدرسہ كا نام تھا ، جو امام جوزى كا قائم كردہ تھا اس ميں آپ كے والد ماجد قيم نگران اور ناظم تھے اور علامہ ابن القيم بھی اس سے ايك عرصہ منسلك رہے۔علامہ ابن القيم 691 ھ میں پيدا ہوئے اور علم وفضل اور ادب واخلاق كے گہوارے ميں پرورش پائى ، آپ نے مذكورہ مدرسہ ميں علوم وفنون كى تعليم وتربيت حاصل كى ، نيز دوسرے علماء سے استفادہ كيا جن ميں شيخ الاسلام ابن تیمیہ كا نام ﷫گرامى سب سے اہم اورقابل ذكر ہے۔متاخرين ميں شيخ الاسلام ابن تیمیہ كے بعد ابن قیم كے پائے كا كوئى محقق نہیں گزرا، آپ فن تفسير ميں اپنا جواب آپ تھے اورحديث وفقہ ميں نہايت گہرى نظر ركھتے تھے، استنباط واستخراج مسائل ميں يكتائے روزگار تھےاور آپ ايك ماہر طبيب بھی تھے۔علمائے طب كا بيان ہے كہ علامہ موصوف نے اپنی كتاب "طب نبوى" ميں جو طبى فوائد، نادر تجربات اور بيش بہا نسخے پیش كيے ہیں ، وہ طبى دنيا ميں ان كى طرف سے ايك ايسا اضافہ ہیں کہ طب كى تاريخ ميں ہمیشہ ياد ركھے جائيں گے۔قاضى برہان الدين كا بيان ہے...
  • 128 #3707

    مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

    مشاہدات : 23844

    حیات حضرت امام ابو حنیفہ 

    (پیر 30 مئی 2016ء) ناشر : کشمیر بک ڈپو فیصل آباد
    #3707 Book صفحات: 771
    امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی ﷫ بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: "اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سےوزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا" آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ اما م موصوف کو صحابہ کرام سے شرف ملاقات اور کبار تابعین سے استفادہ کا اعزار حاصل ہے آپ اپنے دور میں تقویٰ وپرہیزگاری اور دیانتداری میں بہت معروف تھے اور خلافت عباسیہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ۔ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قو...
  • 129 #3990

    مصنف : شاہ معین الدین احمد ندوی

    مشاہدات : 7902

    حیات سلیمان

    (جمعرات 20 اکتوبر 2016ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #3990 Book صفحات: 600
    برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء ک...
  • 130 #3989

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 10399

    حیات شبلی

    (بدھ 19 اکتوبر 2016ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #3989 Book صفحات: 679
    علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ‌ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر ہیں ۔شبلی نعمانی 1857ء اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ حبیب اللہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا محمد فاروق چڑیا کوٹی سے ریاضی، فلسفہ اور عربی کا مطالعہ کیا۔ اس طرح انیس برس میں علم متدادلہ میں مہارت پیدا کر لی۔ 25 سال کی عمر میں شاعری، ملازمت، مولویت کے ساتھ ہر طرف کوشش جاری رہی،1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ وہاں فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1882 میں شبلی نے ’’علی گڑھ کالج‘‘ سے تعلق جوڑ لیا۔ یہاں وہ عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں سر سید سے ملے ان کا کتب خانہ ملا...
  • 131 #761

    مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

    مشاہدات : 31909

    حیات شیخ الاسلام ابن تیمیہ

    (پیر 14 نومبر 2011ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور
    #761 Book صفحات: 907
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ کی ذات مجمع علوم و فنون، منبع حرب و پیکار اور ذخیرہ گفتار و کردار تھی۔ امام صاحب ؒ نے علم منطق میں وہ دسترس حاصل کی کہ ارسطو کی منطق ایک بے حقیقت چیز بن گئی، فلسفہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس کی تلوار سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، تفسیر میں وہ نکات پیدا کیے اور وہ حقائق آشکار کیے کہ ایک نئے مدرسہ فکر کے بانی بن گئے، حدیث و نقد روایت میں ایسی دقت نظر کا نمونہ پیش کیا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، فقہ میں وہ مجتہدانہ کمال پیدا کیا کہ حنبلی نسبت ہونے کے باوجود اپنے اختیارات و اجتہادات میں وہ کسی متعین فقہ کے پابند نہیں تھے، تقابلی فقہ میں ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے، علم کلام میں درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور نام نہاد فکری تصوف نا قابل بیان علمی تردید فرمائی، فن جدال و مناظرہ میں قدم رکھا تو عیسائیوں، روافض، فلاسفہ اور مناطقہ اور متکلمین کے فکر کی دھجیاں بکھیر دیں، ایک عالم باعمل کی حیثیت سے ملوک و سلاطین کے درباروں میں کلمہ حق بلند کیا، وہ محض صاحب قلم نہ تھے بلکہ صاحب شمشیر بھی تھے، ان کے قلم نے جو نقوش بنائے وہ کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں لیکن ان کی...
  • 132 #4460

    مصنف : خلیق احمد نظامی

    مشاہدات : 9954

    حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی

    (ہفتہ 25 فروری 2017ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ لاہور
    #4460 Book صفحات: 380
    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے آباء واجداد اصل میں بخاراکے رہنے والے تھے ۔جو دہلی میں آکر سکونت پذیر ہوئے۔ آپؒ شہر دہلی میں 958ھ مطابق 1551ء پیداہوئے۔ آپ کا پورا نام شیخ ابو المجد عبدالحق بن سیف الدین دہلوی بخاری ہے، مغلیہ دور میں متحدہ ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین اور محدث تھے۔ ہندوستان میں علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد نے بڑی محبت اور محنت سے کی ۔حضرت شخ ﷫ نے صر ف تین ماہ میں پورا قرآن پاک مکمل قواعدکے ساتھ اپنے والد ماجد سے پڑھ لیا۔ اورایک ماہ میں کتابت کی قدرت اور انشاء کا سلیقہ حاصل ہو گیا اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ اپنے والد ماجد سے حاصل کر لیے۔ اس دوران آپ نے جید علماء کرام سے بھی اکتساب علم کیا۔ 996ھ / 1588ء میں حجاز کا رخ کیا اور کئی سال تک حرمین شریفین کے اولیاء کبار اور علماء زمانہ سے استفادہ کیا۔ بالخصوص شیخ عبد الوہاب متقی خلیفہ شیخ علی متقی کی صحبت میں علم حدیث کی تکمیل کی۔ آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔1642ء میں دہلی میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب’’حیات شی...
  • 133 #646

    مصنف : مرزا حیرت دہلوی

    مشاہدات : 9422

    حیات طیبہ شاہ اسماعیل شہید

    (پیر 13 جنوری 2014ء) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور
    #646 Book صفحات: 445
    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدایت کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا۔ جس نے  اپنی  قوت ایمانی اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحید خالص  کی اساس قائم کی۔   یہ شاہ  ولی اللہ محدث  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  محدث دہلوی تھے۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور امام محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے  بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی۔ ان کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا ...
  • حیات منشاوی

    (اتوار 05 فروری 2023ء) ناشر : قرآءت اکیڈمی، گجرات
    #6917 Book صفحات: 132
    قاری محمد صدیق منشاوی (20 جنوری، 1920ء - 20 جون، 1969ء) ایک مشہور مصری قاری تھے جو کہ اسلامی دنیا میں قرات کے میدان میں ایک ممتاز شخصیت سمجھے جاتے ہیں موصوف  قاری عاصم کوفی کی قرات میں ماہرتھے ۔ قاری محمد صدیق منشاوی نے مصر کے مشہور قاری صدیق منشاوی کے ہاں 20 جنوری، 1920ء کو سوہاج کے قصبہ المنشاہ میں آنکھ کھولی، آپ کے دادا طیب منشاوی بھی قاری تھے یوں آپ کا سارا خاندان قرآن کے قاریوں کا خاندان ہے۔ موصوف اپنے والد اور چچا کے ساتھ مختلف علاقوں میں تلاوت کے لیے جایا کرتے۔ 1952ء میں ایک دن سوہاج کے گورنر کے یہاں اکیلے پڑھنے کا موقع ملا اور یہیں سے ان کا نام ہر طرف گونج اٹھا۔اس کے بعد مصری ریڈیو کی جانب سے آپ کو باقاعدہ دعوت ملی اور وہاں انہوں نے مکمل قرآن پاک ریکارڈ کروایا، یوں آپ ملک سے باہر بھی مشہور ہوگئے اور آپ کو بیرون ملک سے تلاوت کے لیے دعوت نامے آنے لگےاور آپ نے دنیا کی بڑی بڑی مشہور مساجد میں تلاوتیں کرنا شروع کیں جن میں مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور دیگرمیں تلاوتیں کیں۔ قاری محمد نصیر الدین منشاوی  حید آبادی  کی زیر نظر کتاب’’ حیاتِ منشاوی&lsquo...
  • 135 #6627

    مصنف : محمد عبد الحلیم چشتی

    مشاہدات : 2245

    حیات وحید الزماں

    (منگل 15 فروری 2022ء) ناشر : نور محمد اصح المطابع و کارخانہ تجارت کراچی
    #6627 Book صفحات: 166
    علامہ وحید الزماں رحمہ اللہ  کا نپور میں پیدا ہوئے سال ولادت ۱۸۵۰ءہےموصوف معروف شخصیت ہیں انھو ں نے کئی کتب احادیث کے ترجمے کئے اور حنفی کتب کی شروحات بھی لکھیں۔علامہ وحید الزمان زندگی کے ابتدائی دور میں حنفی المسلک تھے بعض مسائل میں شیعہ کی طرف بھی  رجحان رکھتے ہیں'تیسرا الباری شرح البخاری '' میں  جا بجا اپنےآپ کو حنبلی ظاہر کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ حیات وحید الزماں‘‘ مولانا محمد عبد الحلیم چشتی  کی تصنیف ہے ۔انہون نے اس کتاب میں  مو لانا  وحید الزمان وقار نواز جنگ رحمہ اللہ کے سوانح حیات اور علمی وعملی کارنامے جمع کیے ہیں ۔(م۔ا)
  • 136 #2411

    مصنف : نواب صدیق الحسن خاں

    مشاہدات : 9208

    خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان

    (ہفتہ 21 مارچ 2015ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور
    #2411 Book صفحات: 396
    برصغیر  میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی  طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے  علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف  متوجہ کیا،ان کے لیے  خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب  محمدصدیق  حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی  وعلمی  موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ  لکھی  ہو۔حدیث پاک کی ترویج  کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا...
  • 137 #3712

    مصنف : محمد خالد سیف

    مشاہدات : 4915

    خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان ( جدید ایڈیشن )

    (بدھ 01 جون 2016ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور
    #3712 Book صفحات: 289
    برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا ـ اور اس پر معقول انعام مقرر کیاـ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرن...
  • 138 #1805

    مصنف : سید سلیمان ندوی

    مشاہدات : 7928

    خیام

    (بدھ 06 اگست 2014ء) ناشر : دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، انڈیا
    #1805 Book صفحات: 522
    حکیم عمر خیام چھٹی صدی ہجری کے  معروف فارسی شاعر اور فلسفی ہیں۔آپ نیشاپور میں پیدا ہوئے۔ علوم و فنون کی تحصیل کے بعد ترکستان چلےگئے۔ جہاں قاضی ابوطاہر سے تربیت حاصل کی ۔ اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں جا پہنچے۔ ملک شاہ سلجوقی نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر صدر خانۂ ملک شاہی کی تعمیر کا کام ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے یہیں سے فلکیاتی تحقیق کا آغاز کیا، اور زیچ ملک شاہی لکھی۔ وہ اپنی رباعیات کے حوالے بہت مشہور ہیں۔ ان کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام معروف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ آپ علوم نجوم و ریاضی کے بہت بڑے عالم تھے۔ آپ کی تصانیف میں ما الشکل من مصادرات اقلیدس ، زیچ ملک شاہی ، رسالہ مختصر در طبیعیات ، میزان الحکم ، رسالۃ اکلون و التکلیف ، رسالہ موضوع علم کلی وجود ، رسالہ فی کلیات الوجود ، رسالہ اوصاف یا رسالۃ الوجود ، غرانس النفائس ، نوروزنامہ ، رعبایات خیام ، بعض عربی اشعار ، مکاتیب خیام فارسی ’’ جو اب ناپید ہے‘‘قابل ذکر ہیں۔زیر تبصرہ کتاب (خیام)ہندوستان کے معروف اہل علم مورخ سید سلیمان ندوی ﷫کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے حکیم عمر خیام  کی سوانح...
  • 139 #6991

    مصنف : عنایت اللہ التمش

    مشاہدات : 8548

    داستان ایمان فروشوں کی حصہ اول

    dsa (بدھ 03 مئی 2023ء) ناشر : مکتبہ داستان لاہور
    #6991 Book صفحات: 252
    اسلامی تاریخ میں جو شخصیات مسلمانوں کے لیے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتی ہیں ان میں ایک نمایاں نام سلطان یوسف المعروف صلاح الدین ایوبی کا ہے جنہوں نے اپنی بے مثال شجاعت اور جرأت و استقلال سے قبلۂ اول فلسطین کو صلیبیوں کے پنجۂ استبداء سے آزاد کروایا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کی پوری زندگی ان کے دلیرانہ اور بہادرانہ کارناموں سے بھری پڑی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ داستان ایمان فروشوں کی‘‘عنایت اللہ التمش کی ناول کے انداز میں مرتب کردہ تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں سلطان صلاح الدین ایوبی کی طرف سے صلیبی جاسوسوں اور حسن بن صباح کے پیشہ ور قاتلوں کے خلاف لڑی گئی جنگ کی کہانیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پانچ حصوں پر مشتمل ہے جسے مختلف ناشرین نے شائع کیا ہے۔ یہ ایڈیشن مکتبہ داستان ،لاہور کا شائع شدہ ہے ۔ ان شاء اللہ (م۔ا)
  • 140 #735

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 24854

    دبستان حدیث

    (پیر 08 اگست 2011ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور
    #735 Book صفحات: 677
    حدیث پاک کی نشرواشاعت اور خدمت میں برصغیر کے علمائے کرام کا کردار انتہائی اہم ہے ۔تاریخ کے اوراق میں ان کے کارہائے نمایاں محفوظ ہیں۔اس خطے میں پیدا ہونے والے علمائے حدیث نے کتب حدیث کی بے مثال شروحات لکھیں اور اپنے اپنے انداز میں  یہ عظیم خدمت سرانجام دی۔اس ضمن میں اہل حدیث علما کی مساعی بہ طور خاص لائق تذکر ہ ہیں،کیونکہ یہ کسی خاص شخصیت یا مکتب فکر کے اصولوں کی روشنی میں حدیث کی تشریح نہیں کرتے بلکہ حدیث کو اصل قرار دیتے ہوئے اس سے مسائل اخذ کرتے ہیں ۔جماعت اہل حدیث کے معروف قلمکار جناب مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب نے زیر نظر کتاب میں برصغیر کے ان ساٹھ اہل حدیث علمائے کرام کا تذکرہ کیا ہے ،جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کی تدریسی یا تصنیفی صورت میں تبلیغ واشاعت کا اہتمام کیا یا کسی مدرسے میں طلبا کو کتب حدیث پڑھائیں یا حدیث کی کئی کتب کا ترجمہ کیا یا اس کی شرح لکھی یا فتوی نویسی کی۔اس سے علمائے اہل حدیث کی سوانح زندگی اور حدیث شریف سے ان کی محبت وتعلق سے آگاہی حاصل ہوگی۔(ط۔ا)
  • 141 #5590

    مصنف : قاضی اطہر مبارکپوری

    مشاہدات : 5110

    دیار پورپ میں علم اور علماء

    (پیر 17 ستمبر 2018ء) ناشر : دار البلاغ، انڈیا
    #5590 Book صفحات: 515
    مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ  ہےاس کو  پُورب  کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ  میں دار الامارت ، ہر دار الامارت  سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات  اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات  ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے  معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی  مسلسل فتوحات  کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص  طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد  سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی  تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس...
  • 142 #3435

    مصنف : عبد الرزاق ملیح آبادی

    مشاہدات : 6536

    ذکر آزاد (مولانا ابو الکلام کی رفاقت میں اڑتیس سال)

    (جمعہ 05 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور
    #3435 Book صفحات: 286
    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ مولانا آزادؒ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں دہلی میں ہی قیام پذیر رہے آپ کا گھرانہ خالص دینی ماحول سے ہمکنار تھا۔ تقسیم ہندوستان کے وقت آپ نے مسلمانوں کو فرنگیوں کی چالوں سے آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ تحریری و تقریری میدان میں بھی ہر لحاظ سے مصروف عمل رہے، آپ فن خطابت کے شہسوار شمارکئے جاتے تھے سامعین فرط حیرت میں مبہوت ہو کر رہ جاتے۔ زیر نظر کتاب"ذکر آزاد" مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کی مولانا آزادؒ کے ساتھ اڑتیس (38) سال کی رفاقت کو قلمی شکل میں ڈھالا گیا ہے جس میں مولانا آزادؒ کے اخلاق و عادات کی جھلکیاں، بے تکلف صحبتوں کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)
  • 143 #3506

    مصنف : فضل الرحمان بن محمد

    مشاہدات : 5235

    رئیس المناظرین شیخ الاسلام حضرت مولانا ثناء اللہ امر تسری

    (منگل 01 مارچ 2016ء) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور
    #3506 Book صفحات: 290
    شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی﷫ سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیر حسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔ مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔  مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسل...
  • 144 #547

    مصنف : محمد بن جمیل زینو

    مشاہدات : 15153

    راہ ہدایت کیسے ملی؟

    (اتوار 12 جون 2011ء) ناشر : دارالورقات العلمیہ للنشر و التوزیع
    #547 Book صفحات: 66
    شیخ محمد بن جمیل زینو سعودی عرب کے جلیل القدر عالم اور معروف مصنف ہیں۔ان کی تحریر کا اصل موضوع ’اصلاح عقائد‘ ہے اور اس سلسلہ میں متعدد کتابیں ان کے قلم سے نکل عوام و خواص میں سند قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔شیخ صاحب موصوف تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ میدان تدریس کے بھی شہسوار ہیں۔آپ شام کے شہر حلب میں 29سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔بعدازاں شیخ ابن باز ؒ کے کہنے پر اردن میں دعوت و تبلیغ کے لیے تشریف لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مکہ مکرمہ کے ’دارالحدیث الخیریہ‘میں بطور مدرس مقرر ہوئے اور تفسیر ،حدیث اور عقیدہ کے اسباق پڑھانے لگے۔زیر نظر کتابچے میں شیخ نے اپنے ذاتی حالات و کوائف بیان کیے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خالص عقیدہ توحید اختیار کیا۔یہ بات قارئین کے لیے یقیناً دلچسپ ہوگی کہ شیخ صاحب پہلے نقشبندی صوفی تھی،بعد ازاں سلفی عقیدہ کی نعمت سے مالا مال ہوئے ۔یہ کیسے ہوا،اس کتابچے میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے۔
  • 145 #1741

    مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

    مشاہدات : 3908

    رموز راشدیہ

    (ہفتہ 21 جون 2014ء) ناشر : مکتبہ الدعوۃ السفیۃ مٹیاری سندھ
    #1741 Book صفحات: 81
    علامہ سید بدیع الدین راشدی ﷫کا شمار ان کبار علماء کرام اور مشائخ عظام میں ہوتا ہے، جنہوں نے توحید وسنت کی اشاعت،باطل مذاہب کی تردید اور باطل وکفریہ عقائد کے خلاف جہاد میں اپنی زندگی کھپا دی۔آپ کی شخصیت راشدی خاندان کے ماتھے کا جھومر ہے۔آپ نے عالم اسلام کو بالعموم اور اہل سندھ کو بالخصوص شرعی تعلیم سے روشن کرتے ہوئے صحیح منہج ودرست عقائد پر گامزن کیا اور ان کو تقلید شخصی اور غیر اسلامی رسومات کے خلاف جہاد کرنے کا حوصلہ بخشا۔آپ تقریر وتحریر دونوں میدانوں کے شہسوار تھے۔آپ کا علمی وادبی مقام ومرتبہ بہت بلند ہے۔آپ ان علماء حق میں سے تھے جو باطل کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے تھے۔آپ عربی ،اردو،سندھی اور فارسی کے ماہر تھے۔آپ نے مختلف علوم وفنون پر ڈیڈھ سو کے قریب کتب تصنیف فرمائی ہیں،جو ہمارے لئے ایک سرمایہ صد افتخار ہے۔المختصر آپ گلشن اہل حدیث کے وہ پھول تھے،جس کی خوشبو آج بھی علمی ،ادبی سیاسی اور مذہبی میدان میں مہک رہی ہے۔زیر تبصرہ کتابچہ "رموز راشدیہ"آپ کے ایک طویل انٹرویو پر مشتمل ہے ،جو 1982ء میں آپ سے لیا گیا تھا،یہ انٹرویو آپ کی زندگی کے حوالے سے ایک دستاویز ہے۔جسے مولانا عبد الرح...
  • 146 #1782

    مصنف : محمد اسحاق بھٹی

    مشاہدات : 5842

    روپڑی علمائے حدیث

    (جمعہ 15 اگست 2014ء) ناشر : محدث روپڑی اکیڈمی لاہور
    #1782 Book صفحات: 352
    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی...
  • 147 #6783

    مصنف : ڈاکٹر جاوید اقبال

    مشاہدات : 4237

    زندہ رود ( علامہ اقبال کی مکمل سوانح حیات )

    (بدھ 31 اگست 2022ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
    #6783 Book صفحات: 850
    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی ،بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔ علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ) کو سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔اقبال کے آبا ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا ان...
  • 148 #5308

    مصنف : ڈاکٹر محمد یسین مظہر صدیقی

    مشاہدات : 5268

    سر سید اور علو م اسلامیہ

    (بدھ 25 اپریل 2018ء) ناشر : ادارہ علوم اسلامیہ علی گڑھ
    #5308 Book صفحات: 334
    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک سر سید احمد بھی ہیں جنہوں نے اسلامی تعلیمات کی ترویج واشاعت میں ان تھک محنت کی اور دین کی خدمت میں حصہ لیا اور کئی کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔زیرِ تبصرہ کتاب  سر سید احمد خان اور علوم اسلامیہ کے حوالے سے ہے جس میں سر سید  کے سوانح کے ساتھ ساتھ مختلف مضامین کو جمع وترتیب دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے سر سید اور علوم اسلامیہ کا تجزیہ بیان کیا گیا ہے‘ پھر تفسیر سر سید کے عربی مصارد پر تفصیل مضمون ہے‘ اس کے بعد سر سید کی تفسیر اور ما بعد ت...
  • 149 #5529

    مصنف : قاضی جاوید

    مشاہدات : 5252

    سر سید سے اقبال تک

    (جمعرات 12 جولائی 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #5529 Book صفحات: 247
    سرسید کو پاکستان کا معمارِ اول کہا جاتا ہے ۔ سرسید نے 1865ء میں کہا تھا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں بستی، مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں بستی ہیں۔ سرسید کے جانشین نواب محسن الملک نے انتخاب کے اس سوال کو اٹھایا اور قوم کے قریب ستر نمائندگان پر مشتمل ایک وفد لے کر گورنر جنرل کے پاس پہنچا۔ ہندوستان کی سیاست میں یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اس قسم کا قدم اٹھایا۔ یہ کیا تھا؟ سرسید کی ان کوششوں کا نتیجہ کہ مسلمان کو مغربی تعلیم سے بے بہرہ نہیں رہنا چاہیے ۔ اس جدوجہد نے آگے چل کر جداگانہ تنظیم کی شکل اختیار کی اور 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا وجود عمل میں آیا۔ جس کے جائنٹ سیکرٹری علی گڑھ تحریک کے روح رواں نواب محسن الملک اور وقار الملک تھے۔ لیگ کا صدر مقام بھی علی گڑھ ہی تھا۔ یہی وہ تنظیم تھی جو آگے بڑھتے بڑھتے تحریک پاکستان کی صورت اختیار کر گئی اور 1947ء میں یعنی سرسید کی وفات کے پچاس سال بعد مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے حسین پیکر میں نمودار ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیر سید سے اقبال تک ‘‘ قاضی جاوید صاحب کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب درا...
  • 150 #4504

    مصنف : ڈاکٹر اختر حسین عزمی

    مشاہدات : 5587

    سلطان زنگی کی بیوہ

    (ہفتہ 18 مارچ 2017ء) ناشر : منشورات، لاہور
    #4504 Book صفحات: 288
    خلفائے راشدین﷢ اور حضرت عمر بن عبد العزیز﷫ کے بعد جن مسلمان حکمرانوں کی عظمت کردار نے آسمان کی رفعتوں کو چھو لیا ان میں ملک العادل سلطان نورالدین محمود زنگی﷫ کا نام نامی امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی عظمت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوگا کہ ہردور کے مورخ، دوست اور دوشمن سبھی نے اسکی شہرتِ عام اور بقائے دوام کے دربار میں نمایاں جگہ دی ہے۔ بعض مورخین نےخلفائے راشدینؓ کےبعد تمام فرماں روایان اسلام میں اس کوسب سےبہتر قرار دیا ہے۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28 سال حکومت کی۔ اس نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ مصر پر قبضہ کرنے کے بعد نورالدین نے بیت المقدس پر حملہ کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ بیت المقدس کی مسجد عمر میں رکھنے کے لیے اس نے اعلیٰ درجے کا منبر تیار کروایا۔ اس کی خواہش تھی کہ فتح بیت المقدس کے بعد وہ اس منبر کو اپنے ہاتھوں سے رکھے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہ تھا۔ نورالدین ابھی...
< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ... 13 14 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 10046
  • اس ہفتے کے قارئین 10046
  • اس ماہ کے قارئین 1388765
  • کل قارئین99813309
  • کل کتب8672

موضوعاتی فہرست