دکھائیں کتب
  • 51 امام شافعی مجدد قرن ثانی (منگل 29 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:5148

    حضرت امام شافعی کا شمار فقہائے اربعہ میں ہوتا ہے۔آپ اہل سنت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ آپ  نے  علم الاستدلال میں ایک نیا منہج متعارف کرایا۔استدلال میں آپ امام ابوحنیفہ کی بہ نسبت زیادہ اقرب الی السنہ تھے۔اس کے علاوہ آپ کو شعرو ادب سے بھی بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رہتی دنیا تک شہرت دوام بخشی۔امت کا ایک کثیر طبقہ آپ کے علم الاستدلال کو بطور منہاج کے اپنائے ہوئے ہے۔امام شافعی انتہائی زیادہ متورع  اور معتدل شخصیت کے حامل تھے۔حالات و زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر آپ کو اپنی رائے میں تبدیلی بھی لانی پڑی تو آپ نے اس سے گریز نہیں کیا ۔ چنانچہ فقہ کی کتب میں آپ کے قول جدید اور قدیم کے نام سے جو آرا پیش کی جاتی ہیں وہ اسی بات کی عکاسی کرتی ہیں۔عقیدے کے اعتبار سے آپ اہل سنت کے مسلک پر تھے۔زیر نظر کتاب آپ کی سیرت  کے مختلف گوشے وال کرتی ہے۔جس میں بالخصوص  سب سے زیادہ  آپ کے مسلک یا  استدلال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اللہ آپ کو راحت ابدی نصیب فرمائے۔(ع۔ح)
     

  • 52 امام شافعی  کا علمی مقام (اتوار 23 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:2052

    اللہ تعالیٰ نے حدیث او رحاملین حدیث کو بڑی عزت فضیلت اور شرف سے نوازا ہے او رحدیث رسول ﷺ کی خدمت او رحفاظت کےلیے اپنے انہی بندوں کا انتخاب فرمایا جو اس کے چنیدہ وبرگزیدہ تھے ان عظیم المرتبت شخصیات میں بلند تر نام امام شافعی ﷫ کا ہے ۔امام شافعی 150ھ کو غزہ میں پیدا ہوئے۔اور204ھ کو مصرمیں فوت ہوئے ۔حضرت امام کی حدیث وفقہ پر خدمات اہل علم سے مخفی نہیں۔ امام شافعی اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فقیہ تھے۔ عربی زبان پر بڑی قدرت حاصل تھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے انشاپرداز تھے۔ آپ کی دو کتب کتاب الام اور الرسالہ کو شہرت دوام حاصل ہوئی۔آپ کی تالیفات میں سے ایک کتاب مسند الشافعی بھی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’امام شافعی﷫ کا علمی مقام ‘‘دار العلوم ندوۃ العلماء کےزیر اہتمام نومبر 2014ء کو منعقد ہونے والے دو رزہ تربیتی پروگرام بعنوان’’ ائمہ اربعہ کی خدمات اور عصر حاضر کی مسائل کے حل میں ان کی آراء اور منہج استنباط کی اہمیت ‘‘ میں فیصل ندوی کی طرف سے’’ امام شافعی کے علمی مقام اور فقہی بصیرت‘‘ پرپیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔اولاً یہ مقالہ تیس چالیس صفحات پر مشتمل تھا ۔بعد ازاں اس مقالہ کی نظر ثانی اور اس میں مزید اضافہ کیاگیا جس سے تین صد سے زائد صفحات پر مشتمل اچھی خاصی کتاب تیار ہوگئی۔فاضل مرتب نےبڑے علمی انداز میں اس کتاب میں امام شافعی ﷫ کے علمی مقام کو واضح کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 53 امام شوکانی اور تفسیر فتح القدیر (پیر 29 فروری 2016ء)

    مشاہدات:7275

    امام شوکانی ﷫ 1350 صدی کے مجدد اور مصلح دین تھے۔آپ کی اصلاحی کوششیں کسی خاص علاقے تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے عالم اسلام میں متعارف ہوئیں۔آپ نے کتاب وسنت اور عقیدہ توحید کو عوام تک پہنچانے کے لئے آخری دم تک اپنی کوششیں جاری رکھیں۔امام شوکانی ﷫ کا شمار یمن کے مشاہیر اور کبار علماء میں ہوتا ہے۔ آپ بے شمار کتب کے مصنف ومولف ہیں۔ آپ کا خاندان ایک علمی خاندان تھا اور آپ کے والد گرامی اپنے وقت کے ایک معروف عالم دین تھے۔ آپ نے متعدد اساتذہ کرام سے فیض حاصل کیا اور اپنے معاصرین پر فوقیت حاصل کر لی حتی کہ کبار شیوخ بھی آپ کے علمی مقام ومرتبے کے معترف ہو گئے۔آپ کے بے شمار تلامذہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" امام شوکانی اور تفسیر فتح القدیر " پروفیسر محترمہ نسیم اختر ایم۔ اےکی کاوش ہے، جو امام شوکانی ﷫ کی معروف تصنیف تفسیر فتح القدیر کے مصادر وماخذ پر مشتمل ہے۔ مولفہ نے اس کتاب میں فتح القدیر کے ماخذ اور ان کا تعارف قلم بند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 54 امام غزالی  (اتوار 02 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:3996

    مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام غزالی بھی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں امام غزالی کے حالات زندگی‘ ان کی خدمات اور تصانیف کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اور ان کی مشہور ابحاث کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔اس میں حوالہ جات کا اہتمام بھی کیا گیا ہے اور اہم باتیں جو کہ رہ گئی ہوں انہیں فٹ

  • 55 امام مالک  (ہفتہ 28 مئی 2016ء)

    مشاہدات:4230

    امام مالک﷫ کے فقہی مسلک کو مالکی فقہ کہتے ہیں۔ آپ کا نام مالک بن انس ہے۔ آپ امامِ مدینہ، امام اہلِ حجاز اور امام دار الہجرت کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ 93ھ میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار مجتہدین، فقہاء اور عظیم محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ نے حدیث و فقہ کا علم پہلے ربیعہ رائی، پھر ابن ہرمز سے حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں امام ابن شہاب زہری اور دیگر ستر اساتذہ شامل ہیں۔ امام مالک ﷫ نے سترہ برس کی عمر میں مدینے میں درس و تدریس کی مسند سنبھالی۔ آپ حدیث کا درس بڑے ادب و احترام سے دیا کرتے تھے، غسل کرتے، صاف ستھرا لباس پہنتے، خوشبو لگاتے اور پھر درس کی مسند پر تشریف فرما ہوتے۔ امام مالک بیک وقت حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ آپ کے طرزِ فکر میں حدیث اور فقہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔آپ کی تصانیف میں مدونہ الکبریٰ اور موطاء معروف تصانیف ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ امام مالک ﷫ ‘‘ مشہور مصری سوانح نگار پروفیسر محمدابو زہرہ کی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں امام دارالہجرت امام مالک بن انس کے سوانح حیات ،امام صاحب کے زمانہ ، ان کی آراء وافکار اور قانوں اسلامی میں مالکی فقہ کیاامتیازی شان کا مفصل بیان ہے ۔کتاب کو عربی اردو قالب میں ڈھالنے اور اس پرحواشی کا کام عبیداللہ قدسی نے انجام دیا ہے۔(م۔ا)

  • 56 امام محمد بن حسن شیبانی اور ان کی فقہی خدمات (جمعہ 27 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:6758

    امام محمد بن حسن شیبانی صاحبین یعنی امام ابوحنیفہ کے دو جلیل القدر شاگردوں میں سے ایک ہیں جن سے ان کی فقہی روایت آگے بڑھی ہے ، ان کے دوسرے شاگرد امام ابویوسف ہیں ۔امام ابوحنیفہ کی جانب اگر چہ عقائد اور تعلیم و تعلم سے متعلق چند رسائل منسوب ہیں ،مگر حدیث و فقہ پر ان کی اپنی مرتبہ کوئی کتاب محفوظ نہیں، ان کے علمی تبحر اور تفقہ فی الدین کا حاصل ان کے شاگردوں اور بالخصوص صاحبین کی تالیفات میں ملتا ہے ۔ امام ابو یوسف کا تحریری کارنامہ کتاب الخراج اور الرد علی سیر الاوزاعی جیسی کتابوں تک محدود ہے ۔ اس کے برعکس امام محمد بن حسن شیبانی کی تالیفات فقہ و قانون کے سارے پہلووں کی جامع ہیں ، اور نہایت مفصل ہیں ۔ امام محمد بن حسن کے اس کارنامے کے سبب جملہ متاخر حنفی فقہاء ان کے خوشہ چین ہیں ۔ امام شیبانی ، اسلامی فقہی روایت سے قطع نظر بنی نوع انسان کی تاریخ قانون میں منفرد مقام کے حامل ہیں ۔ ان کی کتاب الاصل یا المبسوط کا مقابلہ اگر  رومن قانون کی شہرہ آفاق کتاب مجموعہ قوانین جشی نین سے کیا جائے تو امام شیبانی کی ژرف نگاہی اور دقت نظر کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔ زیرنظر کتاب امام  صاحب کی زندگی کے مختلف پہلووں اور ان کی دینی خدمات پر مشتمل ہے ۔ اللہ مصنف کو اجر سے نوازے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔ ان محققین میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنف ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  علمائے اہل حدیث کی مساعی اور ان کی محنتوں اور کارناموں  کا تذکرہ ہے ۔  اس کتاب میں پانچ ابواب اور خاتمہ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ پہلے باب میں برصغیر کی دینی وسیاسی جماعتوں پر شیخ محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی دعوت اور شاہ عبد العزیز آل سعود  کی مخلصانہ جد وجہد کے اثرات کا سرسری جائزہ لیا گیا ہے‘ دوسرے میں شاہ عبد العزیز کے عہد حکومت سے پیشتر شیخ محمد بن عبد الوہاب کی اصلاحی دعوت کے بارے میں علمائے اہل حدیث کا موقف‘ تیسرے میں محمد بن عبد الوہاب کی دعوت اور شاہ عبد العزیز کی حکومت کے بارے میں ان کے ہم عصر علمائے اہل حدیث کا موقف ‘ چوتھے میں عبد الوہاب...

  • ہر مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کےوارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسل ﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اوراسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ ائمہ اربعہ میں سے ہر کوئی منفرد خصوصیات و صلاحیتوں کے مالک اور علم وعرفان کے بحر بیکراں تھے۔ بشری تقاضوں کے پیش نظر ائمہ، مجتہدین سے لغزشیں اور اخطاء بھی سرزد ہوئیں مگر اس کا مطلب ہرگزیہ نا ہو گا کہ ان کو شب و شتم کا نشانہ بنایا جائے۔ ائمہ اربعہ میں سے جو مقام امام ابو حنیفہؒ کو فقہ و اجتہاد میں حاصل ہوا وہ کسی اور کو نا مل سکا۔ امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت کے بارے امت مسلمہ تین طبقوں میں منقسم ہے۔ زیر نظر کتاب"امام محمدی امام ابو حنیفہؒ تاریخ بغداد کے آئینے میں"مشہور محدث و امام خطیب البغدادیؒ کی مایہ ناز کتاب"تاریخ بغداد" کے ایک جزء کا ترجمہ ہے جس کو مصنف مولانا محمد محدث جونا گڑھیؒ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ خطیب البغ...

  • 59 اور صلیب ٹوٹ گئی (جمعرات 17 فروری 2011ء)

    مشاہدات:10812

    ’اور صلیب ٹوٹ گئی‘ریاس پٹیر سے عبداللہ بن کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے مرد مجاہد کی داستان حیات ہے۔ جس میں انہوں نے بڑے خوبصورت انداز میں اپنے اسلام قبول کرنے کا پس منظر بیان کیا ہے اور اپنے تین سالہ تحقیقی دور کے حالات بھی بیان کیے ہیں۔ خاص طور پر اسلام کو  سمجھنے کے لیے انہوں نے مختلف اسکالرز سے ملاقاتوں اورمختلف اسلامی ریسرچ سینٹرز کے دوروں پر مبنی جو  رپورٹ تحریر کی ہے وہ بڑی سبق آموز بھی ہے اور دل آزار بھی جسے پڑھ کر ایک مسلمان کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے کہ مسلمان کس طرح طرح مختلف گروہوں میں بٹ چکے ہیں ہر ایک کا اپنا اسلام ہے جو دوسرے کے اسلام سے برعکس ہے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب میں بڑے اچھے اور مدلل انداز میں عیسائیت اور عیسائی مشینری کا پردہ بھی چاک کیا ہے کہ دنیا کو انسانیت کا درس دینے والے خود کس طرح مذہب کے نام پر عورت کا استحصال کر رہے ہیں۔

     

  • 60 اورنگ زیب عالمگیر (پیر 03 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:3610

    اورنگزیب عالمگیر3 نومبر ،1618ء کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ارجمند بانو بیگم تھیں۔ جو ممتاز محل کے نام سے مشہور تھیں۔ اورنگ زیب کی عمر دو سال کی تھی کہ شاہجہان نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ اورنگزیب عالم گیر پہلے بادشاہ ہیں جنھوں نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری ، تیراندازی ، اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔ سترہ برس کی عمر میں 1636ء دکن کے صوبیدار مقرر ہوے۔ اس دوران میں اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا۔ اور چند نئے علاقے فتح کیے۔ بلخ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ان کا دورِ حکومت 1658ء تا 1707ء ہےاورنگزیب ابوالمظفر محی الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کردی ۔ درشن جھروکا کی رسم ختم کی اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔ 1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ عالمگیر احمد نگر میں بیمار ہوا اور 3 مارچ، 1707ء کو نوے برس کی عمر میں فوت ہوا۔ وصیت کے مطابق اسے خلد آباد میں دفن کیا گیا۔ ۔ اورنگ زیب بڑا متقی ، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذات...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2166
  • اس ہفتے کے قارئین: 4364
  • اس ماہ کے قارئین: 38385
  • کل قارئین : 47853964

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں