اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

محمد خالد سیف

  • نام : محمد خالد سیف

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #3045

    مصنف : محمد خالد سیف

    مشاہدات : 4218

    تذکرۂ شہید (شاہ اسماعیل شہید)

    (تذکرۂ شہید (شاہ اسماعیل شہید)) ناشر : مکتبہ غزنویہ، لاہور

    ہندوستان کی فضا میں رشد وہدیٰ کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے   اپنے فضل خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا جس نے اپنی قوت ایمان اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے خود تراشیدہ بتوں کو پاش پاش کر کے توحید خالص کی اساس قائم کی یہ شاہ ولی اللہ دہلوی کے پوتے شاہ اسماعیل محدث دہلوی تھے شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور محمد بن عبدالوہاب کے بعد دعوت واصلاح میں امت کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی امارت میں تحریک محاہدین میں شامل ہوکر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے 6 مئی 1831ء بالاکوٹ کے مقام پر شہادت کا درجہ حاصل کیا اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے حریت کی ایک عظیم مثال قائم کی جن کے بارے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی نہ گزارتے‘‘ زیر تبصرہ کتاب’’ تذکرہ شہید‘‘ معروف مترجم ومصنف کتب کثیرہ محمد خالد سیف کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب برصغیر پاک وہند کی اسلامی تاریخ کے عظیم جرنیل سید محمد اسماعیل شہید کی حیات مبارکہ ،تعلیم وتربیت ودعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف ، جہاد فی سبیل اللہ ، معاندینِ اہل بدعت کے اعتراضات اور ان کے جوابات اور سیرت وسوانح سے متعلق دیگر امور پر مشتمل ایک نہایت شگفتہ وشاداب تذکرہ ہے۔ فاضل مصنف نے سید شہید کی شخصیت کے بارے میں تمام گوشوں کو بڑے احسن انداز میں اجاگرکیا ہے۔اللہ تعالیٰ سید اسماعیل شہید کو جنت میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے اور مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • 2 #3523

    مصنف : محمد خالد سیف

    مشاہدات : 6148

    توبہ (فضائل و احکام اور سچے واقعات)

    (توبہ (فضائل و احکام اور سچے واقعات)) ناشر : دار السلام، لاہور

    انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے ... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں. زیر تبصرہ کتاب ’’توبہ۔۔۔ فضائل و احکام اور سچے واقعات‘‘ پاکستان کے نامور دینی سکالر مولانا محمد خالد سیف﷾ کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں   عام فہم شگفتہ اسلوب میں توبہ کے معانی ومفاہیم اجاگر کیے ہیں ۔ توبہ کی ضرورت اوراہمیت کا احساس دلایا ہے توبہ کی شرائط بتلائی ہیں۔ توبہ کے تمام احکام اور مسائل نہایت تفصیل سے بتائے ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث نبویہ ﷺ کے حوالوں سےثابت کیا ہے کہ توبہ ہی دین کی اصل حقیقت ،انبیائے کرام کا وظیفۂ خاص اور فوز وفلاح کا ابدی سرچشمہ ہے مصنف موصوف نے حضرت آدم ،حضرت نوح، حضرت موسیٰ اور حضرت یونس ﷩ کی توبہ کے واقعات کے علاوہ صحابۂ کرام کی توبہ کےاحوال نہایت اثر انگیز پیرائے میں بیان فرمائے ہیں ۔انہوں نے ہر صاحب ایمان کو ترغیب دی ہے کہ وہ توبہ استغفار کا خاص اہتمام اورالتزام کریں۔ اللہ رب العزت نہایت کریم اور رحیم ہے جو شخص گناہوں سےباز رہنےکا پکا ارادہ کرکے سچی توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیتا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع پر منفرد اہمیت کی حامل ہے ہر مسلمان مرد اور عورت کو نہایت توجہ سے پڑھنی چاہیے ان شاء اللہ اس سے توبہ کی توفیق ملےگی دل کی دنیا بدلے گی ، قدم صراطِ مستقیم پر چل پڑیں گے۔ اوران تمام مصائب ومکروہات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ جنہوں نے آج ہمیں اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ (م۔ا)

  • 3 #4513

    مصنف : محمد خالد سیف

    مشاہدات : 1932

    خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان ( جدید ایڈیشن )

    (خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان ( جدید ایڈیشن )) ناشر : دار الدعوۃ السلفیہ، لاہور

    برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں﷫ (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی رحمہ اللہ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان﷫ نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا ـ اور اس پر معقول انعام مقرر کیاـ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا ـجہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں ـدوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا ـ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر نظرکتاب’’ابقاء المنن بإلقاء المحن ‘‘ سید نواب صدیق حسن خان قنوجی کی خود نوشت سوانح حیات ہے جسے نواب صاحب نے بعض جليل القدر اسلاف کے تتبع میں مرتب کیا جس کی انہوں نے آغاز میں صراحت کی ہے ۔ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف ﷫ کے ایما پر مولانا خالد سیف ﷾ نے اس کی تسہیل اور قاری نعیم الحق نعیم ﷫نے تنقیح وتصحیح اور نظر ثانی کا کام بڑی محنت اور لگن سے سرانجام دیا ۔نواب صاحب کی اس تسہیل شدہ خودنوشت سوانح حیات کو دار الدعوۃ السلفیہ نے تقریبا تیس سال قبل طباعت سے آراستہ کیا ۔ یہ کتاب عوام وخواص ، اہل علم واہل دانش ،اہل دین واہل دنیا، حاکم ومحکوم، علماء وطلباء اور راعی ورعایا سب کےلیے یکساں مفید اورنہایت نصیحت آموز ہے ۔اس کتاب کے حصہ دوم میں میں نواب صاحب سےمتعلق دوسری کئی مفید اوراہم چیزیں بھی شامل اشاعت ہیں۔اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ، ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے او ر انہیں میں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #335

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    وہابی تحریک

    (جمعہ 30 اپریل 2010ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    ایک مصری بزرگ ڈاکٹر محمد بہی کی تصنیف "الفکر الاسلامی فی تطورہ" جس میں امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اور آپ کی تحریک احیاء و تجدید دین سے متعلق نہایت کچی، سطحی اور سنی سنائی باتوں پر انحصار کرتے ہوئے خوب زور قلم صرف کیا گیا ہے، کا نہایت متین اور شستہ انداز میں جواب زیر تبصرہ کتاب میں سعودی عرب کے ڈاکٹر محمد خلیل راس نے دیا ہے۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کے ایک ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور ایک ایک غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ثقاہت اور متانت کیلئے یہ عرض کر دینا شاید کافی ہو کہ اسے اسلامک یونیورسٹی مدینہ منوّرہ نے زیور طباعت سے آراستہ کرایا ہے۔
     

  • 2 #516

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    فتاوی اسلامیہ جلد 1

    dsa (جمعہ 22 اپریل 2011ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    شرعی  احکام اور مسائل دینیہ سے آگاہی  ہر مسلمان مرد اور عورت کی ضرورت ہے اور اس روحانی تشنگی کی سیرابی کے لیے شروع اسلام سے عامۃ الناس کی راہنمائی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سائلین کا خود تشفی بخش جواب دیتے ۔بعض اوقات مسائل کی پیچیدگیوں کی عقدہ  کشائی کے لیے  وحی کا نزول ہوتا ۔پھر صحابہ کرام ،تابعین ،تبع تابعین اور علماء و محدثین نے اس ذمہ داری کو نہایت اچھے انداز سے نبھایا۔اگرچہ قدیم علماء کے فتاویٰ کافی تعداد میں  موجود ہیں لیکن ہر دور میں فتویٰ طلبی  اور نت نئے مسائل جنم لینے کی وجہ سے ایسے مسائل کی وضاحت کی اہمیت برقرار رہی بلکہ فتویٰ طلبی کی ضرورت او رافتاء کی اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔پاکستان  میں کئی جید علماء اپنے طور یاکسی جماعت کے پلیٹ فارم پر عوام الناس کے دینی مسائل کے جوابات قلمبند کر رہے ہیں اور کئی علماء کے فتاویٰ منصہ شہود پر آکر داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔لیکن زیر نظر فتاویٰ اسلامیہ کا اسلوب عام فتاویٰ سے جداگانہ ہے کیونکہ یہ فتاویٰ جات مختلف نامور عرب علماء کے ہیں کہ جن کی علمی حیثیت کو دنیا تسلیم کرتی ہے اور عرب علماء کے پینل کے فتاویٰ میں علمی رسوخ اور پختگی تنہا عالم سے کہیں زیادہ ہے۔پھر عرب علماء کا  طریقہ استدلال انتہائی جانشین اور انداز بیان انتہائی شائستہ اور عام فہم ہے ایک عام قاری کو بھی ان فتاویٰ کے سمجھنے میں ذرا دقت نہیں ہوتی ۔پھر سونے پہ سہاگہ کہ  اس  کا ترجمہ نشرو اشاعت کے عالمی مسلمہ ادارے دارالسلام کی طرف سے کیاگیا ہے جس کی کتب کی طباعت و شستہ تحریر کے اپنے اور بے گانے سبھی معترف ہیں ۔مترجم فتاویٰ چار جلدوں پر مشتمل ہے مترجم کی سلاست روانی قاری کو پریشان نہیں ہونے دیتی اور مترجم نے مفتیان کی تحریروں کی ایسی جاندار ترجمانی کی ہے کہ یہ ترجمہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔یہ کتاب علمی ،فنی ،تکنیکی ہر اعتبار سے بے مثال ہے جو زندگی کے تمام مسائل،عقائد،نظریات،عبادات ،آداب و معاشرت الغرض زندگی  میں پیش آمدہ مسائل کے تمام پہلوؤں کو محیط ہے ۔لہذا صاحب استطاعت لوگوں اور علمی  ذوق کے حامل افراد کا اس کتاب کو خریدنا، گھر پر رکھنا اور زیر مطالعہ لانا از حد ضروری ہے ۔(وما توفیقی الا  باللہ )
     

  • 3 #1389

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    فتاوٰی ارکان اسلام

    (ہفتہ 16 جون 2012ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اس وقت آپ کےپیش نظر ’فتاوی ارکان اسلام‘ ہے۔ اس میں عقائد و عبادات کے بارے میں مخصوص سوالات اورمشکلات کے ایسے جوابات فراہم کیے گئے ہیں، جن سے کتاب و سنت اور ادلہ شرعیہ کا مؤقف واضح ہو کر سامنے آ جاتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت شاندار ہے، اس کو پڑھنے اور سمجھنے والا ایک خاص علمی اور تحقیقی ذوق محسوس کرے گا۔ عالم اسلام کے ممتاز محقق اور مفتی علامہ محمد بن صالح العثیمین کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ اور زہد و تقویٰ کی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا۔ انہوں نے فتاویٰ کی مختصر مگر جامع کتاب میں عقائد و عبادات پر عامۃ المسلمین کے اذہان میں پیدا ہونے والے تمام تر امکانی سوالوں کے ادلہ شرعیہ کی روشنی میں ایسے محکم، مدلل اور دلنشیں جوابات مرحمت فرمائےہیں کہ جن سے قلب ونظر کو طمانیت اور ذوق عمل میں یقین کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ مولانا محمد خالد سیف نے کیا ہے جو نہایت سلیس اور جاندار ہے اور کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہوتا کہ فتاوی جات اصل میں عربی میں تھے۔   (ع۔م)
     

  • 4 #1643

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    المصباح المنیر تہذیب وتحقیق تفسیر ابن کثیر جلد1

    dsa (پیر 01 اپریل 2013ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)
     

  • 5 #1852

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    وسیلہ انبیاء و اولیاء قرآن وحدیث کی روشنی میں

    (جمعہ 25 اکتوبر 2013ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    شرک وبدعت  امت مسلمہ کے لیے ایسے موذی امراض ہیں  جو امت کے لیے باعث ہلاکت ہیں۔ان کی وجہ سے جہاں امت کے عقائد  و اعمال میں دراڑیں پڑتی ہیں وہاں   اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ امت کا شیرازہ منتشر ہو جاتا ہے۔دینی اقدار ختم ہی نہیں بلکہ تبدیل ہو کر رہ جاتی ہیں۔جو ختم ہونے سے بھی   زیادہ نقصان دہ صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی شرک و بدعت کے خاتمے کے لیے اپنے لاکھوں کروڑوں انبیاء و رسل مبعوث  فرمائے۔ ان سب کا یہی مقصد تھا کہ اس دنیا سے یا اپنی اپنی امتوں سے شرک و بدعت کا خاتمہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کےلیے  انہوں نے دن رات کوششیں کیں۔پھر انبیاء کے بعد  ان نیک لوگوں نے بھی اسی تعلیم کا درس دیا۔ یعنی انہوں نے انبیاء والا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن شرک کی بنیا گہری عقیدت کا جذبہ ہے چنانچہ بعد میں انسانوں نے ان نیک شخصیات کوہی وسیلہ شرک بنا لیا۔ زیرنظرکتاب میں انسانوں کی  اسی گمراہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ  ان  دونوں طرح کی ہستیوں کو   اپنے اعمال  میں کہاں کہاں اور کیسے کیسے وسیلہ شرک بناتے ہیں۔ اور اس کے بالمقابل صحیح اسلامی تعلیم کی طرف  بھی رہنمائی فرمائی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 6 #2049

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    مسئلہ رفع الیدین ایک علمی و تحقیقی کاوش

    (بدھ 14 مئی 2014ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے '' نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو'' (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام ﷢ کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ ﷢ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 5 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب ''مسئلہ رفع الیدین'' شیخ ابومحمد عبد القادر بن حبیب اللہ سندھی ﷫ کی عربی تصنیف الكشف عن كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين کا ترجمہ ہے ۔ترجمہ کی سعادت مشہور ومعروف مترجم ومصنف مولانا محمد خالد سیف ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اس کتا ب میں مصنف نے فاضلانہ ومحدثانہ انداز میں مضبوط ومستحکم دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ رفع الیدین ہی حضور اقدس ﷺ کی دائمی سنت ہے۔اس کے منسوخ ہونے کا دعویٰ باطل ہے او رکسی ایک صحابی سے بھی صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت نہیں کہ وہ رفع الیدین نہ کرتےہوں۔نیز اس میں ایک حنفی عالمِ دین مولانا محمد ہاشم سندھی کی کتاب '' کشف الرین'' کا علمی وتحقیقی اسلو ب میں تجزیہ کیا گیا ہے۔ اثبات رفع الیدین کے موضوع پر یہ ایک عمدہ تالیف ہے ،جس کا مطالعہ قارئین کے لیے نہایت مفید ہوگا۔ شیخ عبد القادر سندھی  سندھ میں پیدا ہوئے اور پچپن میں ہی مدینہ منورہ میں ہجرت کرگئے تھے انہوں نے ابتدائی تعلیم مدینہ منورہ کے سکولوں میں حاصل کی۔آپ بہت ذہین وفطین تھے ان کی ذہانت او رتعلیمی قابلیت سے متاثر ہو کر شاہ سعود نے انہیں سعودی شہریت دینے کا حکم صادر کیا تھا۔آپ کا شمار مدینہ یونیورسٹی کے اولین طلباء میں ہوتا ہے ۔فراغت کے بعد بیت اللہ شریف میں قائم معہد الحرم مکی او رمدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔شیخ عبد القادر کو تصنیف وتالیف سے خاص دلچسپی تھی آپ نے بے شمار کتب اور رسائل تصنیف کئے ۔جامعہ علوم اثریہ ،جہلم (پاکستان) کا سنگ بنیاد آپ نے رکھا اور اس کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔1999 کومدینہ منورہ میں وفات پائی ۔اللہ تعالی سے دعاہے کہ وہ حق کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے-آمین( م۔ا)

     

     

  • 7 #2445

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    دعوت الی اللہ اور انبیاء کرام کا طریق کار

    (ہفتہ 20 ستمبر 2014ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔تبلیغ کی اہمیت کے لیے  یہی بات کافی ہے  کہ اللہ  تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے بے شمار انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اورچونکہ یہ سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اس لیے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ  پر ہے۔تبلیغ کے موثر او رنتیجہ خیز  ہونے کے لیے  ضروری  ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ  اور انبیا ﷩ کا اسوہ اور دیگر شرعی  اصول  مبلغ کے لیے  پیش نظر رہیں ۔ کیونکہ انبیاء  کرام ﷩ کی   زندگیاں ہی اپنے  اپنے دور اورعلاقے کے لوگوں کے لیے مشعل راہ تھیں جبکہ عالمگیر اور دائمی نمونۂ عمل  صرف سید الاولین وسید الآخرین  ،رحمۃ للعالمین  کی حیات طیبہ  ہے ۔ لہذا معیشت ہویا معاشرت ،حکومت ہو یا سیاست ،زندگی سےمتعلق ہر ہر شعبہ میں ہمیں    انبیاء کرام  ﷩ کے نقشِ قدم  پر چلنا ہے  ۔زیر نظر کتاب ’’دعوت الی اللہ اور انبیاء کاطریق ِکار ‘‘ شیخ  محمد سرور بن نایف زین العابدین  کی   منہج دعوت انبیاء کے  حوالے سے  موصوف  کی ایک  عربی  تصنیف’’ منہج الانبیاء فی الدعوۃ الی اللہ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ جس میں انہوں نے اس بات کو واضح کیاکہ  عصرِ حاضر میں دعوت دین کا کام کرنے والے افراد ،جماعتوں اور تحریکوں کےلیے بھی یہ بات  ازبس ضروری  ہے  کہ دعوت  کےمیدان میں  حضرات انبیاء ﷩ کی  مقدس سیرتوں کے مینارہ نور سے کسبِ فیض کریں تاکہ دعوت  کے میدان میں ہماری یہ کوششیں مفید،مؤثر اور موجبِ خیر وبرکت ثابت ہو سکیں۔(آمین)  (م۔ا)

     

  • 8 #2947

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    تربیت نسواں

    (اتوار 01 مارچ 2015ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    ہر انسان جس میں ادنی سی بھی معرفت ہو وہ جانتا ہے کہ بہت سے ممالک میں عورتوں کے اظہار حسن وجمال ،مردوں سے عدم حجاب اور نمائش زینت –جسے اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہوا ہےـ کے باعث ہی مصیبتیں عام ہوئی ہیں۔بلا شک وشبہ عورتوں کی بے پردگی عظیم منکرات اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی عقوبتوں اور مصیبتوں کے اسباب میں سے سب سے بڑا سبب ہے۔اسلام وہ عظیم الشان مذہب ہے جو عورت کی تعلیم وتربیت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے،اور اسے پیکر عفت وعصمت اور شرم وحیاء کا مجسمہ مننے کی ترغیب دیتا ہے۔مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر  عرب وعجم کے کئی نامور علماء نے اس موضوع پر بلند پایہ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں لیکن آج سے چند سال قبل   ایک فاضل مصری بہن محترمہ نعمت صدتی نے اس  موضوع پر جس دلنشیں انداز میں قلم اٹھایا ہے  اور سچی بات ہے کہ یہ انہی کا حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشحات فکر کا مجموعہ "التبرج"جب منصہ شہود پر آیا تو نہایت قلیل  مدت میں اس کے بیسیوں ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔یہ کتاب اختصار ،جامعیت ،دلنشینی اور شگفتگی کی وہ تاثیر اپنے اندر لئے ہوئے ہے جو بہت کم کتابوں کو نصیب ہوتی ہے۔کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ،تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکے۔ترجمہ محترم محمد خالد سیف صاحب ﷫نے کیا ہے ۔کتاب کے شروع میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز﷫ کے مقالہ "رسالۃ تبحث فی مسائل الحجاب والسفور" کا اردو ترجمہ بطور مقدمہ کے ڈال دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولفہ اور مترجم کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 9 #3125

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    مختصر الترغیب والترہیب

    (اتوار 19 اپریل 2015ء) ناشر : دار العلم، ممبئی

    امت محمد یہ ﷺ کا اعزاز وامتیاز ہےکہ حفاظت ِقرآن وسنت   کے تکوینی فیصلے کی تکمیل وتعمیل اس کے علمائے محدثین کے ہاتھوں ہوئی۔ ائمہ محدثین نے مسانید، مصنفات، سنن، معاجم وغیرہ کی صورت میں مختلف موضوعات پر مجموعہ ہائے حدیث ترتیب دئیے۔ کسی نے احادیث ِ احکام منتخب کیں تو کسی نے عمل الیوم واللیلہ ترتیب دیا۔ بہت سےعلماء نے الزہد والرقائق کے عنوان سے احادیث جمع کیں۔ تو کسی نے اذکار کا گلدستہ تیار کیا۔ یہ ایک طویل سلک مروارید ہے اور اسی سلک میں منسلک ایک نمایاں نام ’’ الترغیب والترہیب ہے۔ اس عنوان سے مختلف ائمہ نے کتابیں کیں ہیں۔ لیکن اس میں جو شہرت ومقبولیت ساتویں صدی ہجری کے مصری عالم دین امام منذری ﷫ کی تصنیف کوملی وہ انہی کا حصہ ہے۔ یہ عظیم کتاب اپنی جامعیت، حسن ترتیب ،عناوین کے تنوع اور ان کی مناسبت سےمجموعہ احادیث کا ایک دائرۃ المعارف ہے۔ یہ کتاب چار ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ نے اس کا اختصار کیا اور اختصار اس طرح کیا کہ اس کی جامعیت میں کمی نہیں آنے دی۔ زیرتبصرہ کتاب اسی اختصار کا اردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ کی سعادت معروف عالم دین مترجم کتب کثیرہ جناب محمد خالد سیف﷾ نےحاصل کی ہے۔ عام قارئین کی سہولت کے لیے مراجعت کرتے وقت محدث العصر علامہ ناصرالدین البانی ﷫ کی تعلیقات کی روشنی میں احادیث کی صحت وضعف کی طرف   اشارہ کردیاگیا ہے۔ ترغیب وترہیب اور فضائل اعمال میں ضعیف احادیث کے بیان کےجواز اور عدم جواز کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کے ایک مختصر بصیرت افروز کتابچہ کا ترجمہ بھی اس میں شامل اشاعت کردیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ عامۃ المسلمین کے لیے اس کتاب کو مفید بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • 10 #3806

    مصنف : صبیح رحمانی

    مشاہدات : 803

    وسیلہ کے انواع و احکام

    (پیر 07 دسمبر 2015ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد

    مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔ 1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے دو اسماء کو وسیلہ بنایا گیا۔ 2۔اللہ کی صفات کے ساتھ وسیلہ حدیث میں ہے: ’’اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي‘‘(سنن النسائی :1306)’’اے اللہ میں تیرے علم غیب او رمخلوق پر قدرت کے وسیلے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ جب تک تیرے علم کے مطابق میرے لیے زندہ رہنا بہتر ہے مجھے حیات رکھا او رجب تیرے علم کے مطابق میرا مرنا بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔‘‘اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفات، علم او رقدرت کو وسیلہ بنایا گیا ہے۔3۔ نیک آدمی کا وسیلہ ایسے آدمی کی دعا کو وسیلہ بنانا کہ جس کی دعا کی قبولیت کی امید ہو۔احادیث میں ہےکہ صحابہ کرام بارش وغیرہ کی دعا آپؐ سے کرواتے۔(صحيح بخاری :847)۔حضرت عمرؓ کے دور میں جب قحط سالی پیدا ہوئی تو لوگ حضرت عباسؓ کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ حضرت عمر اس موقع پر فرماتے ہیں: ’’اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا‘‘ (صحيح بخاری:1010)۔ ’’اے اللہ! پہلے ہم نبیﷺ کووسیلہ بناتے (بارش کی دعا کرواتے) تو تو ہمیں بارش عطا کردیتا تھا اب (نبیﷺ ہم میں موجود نہیں) تیرے نبیﷺ کے چچا کو ہم (دعا کے لیے) وسیلہ بنایا ہے پس تو ہمیں بارش عطا کردے۔اس کے بعد حضرت عباسؓ کھڑے ہوئے اور دعا فرمائی۔مذکورہ صورتوں کے علاوہ ہر قسم کاوسیلہ مثلاً کسی مخلوق کی ذات یافوت شدگان کا وسیلہ ناجائز وحرام ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب’’وسیلہ کے انواع واحکام‘‘علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کی وسیلہ کے موضوع پر اہم کتاب ’’ التوسل انواعہ واحکامہ‘‘ کا اردوترجمہ ہے ۔ یہ کتاب دراصل شیخ البانی ﷫کے مسئلہ وسیلہ کے موضوع پر دو لیکچرز کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1392ھ میں دمشق میں مسلمانوں کے ایک جم غفیر کے سامنے ارشاد فرمائے تھے۔انہوں نے ان لیکچرز میں اپنے مخصوص فاضلانہ ، محققانہ ومحدثانہ انداز میں وسیلہ کے شر ک کی بھر پور تردید اورمذمت بیان فرمائی۔کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں بہت خوبصورت طریقے سے وسیلہ کےلغوی وشرعی مفہوم کی تشریح وتوضیح فرمائی اور مخالفین کےاعتراضات اور شکوک وشبہات کے نہایت مسکت جواب دئیے۔آپ کے انہی لیکچرز کو آپ کے ایک شاگرد رشید محمد العید العباسی نے ٹیپ ریکارڈ کی مدد سے مرتب کیا اور پھر’’التوسل انواعہ واحکامہ ‘‘ کے نام سے زیور طباعت سے آراستہ کیا۔بہت ہی قلیل مدت میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔اہل علم کے ہاں اسے قبول عام کا درجہ ملا۔اس کی افادیت کی بنا پر اس محمد خالد سیف﷾ نے اس کا رواں وسلیس ترجمہ کیا جسے طارق اکیڈمی ،فیصل آباد نے تقریباً 25سا ل قبل حسن ِطباعت سےآراستہ کیا۔ اللہ تعالیٰ شیخ ناصر الدین البانی ﷫ ،مرتب ومترجم کی تمام کاوشو ں کو قبول فرمائے اوراس کتاب کو عامۃ المسلمین کے عقیدہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (م۔ا) 

< 1 2 >

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1696
  • اس ہفتے کے قارئین 13393
  • اس ماہ کے قارئین 51787
  • کل قارئین49420248

موضوعاتی فہرست