کل کتب 284

دکھائیں
کتب
  • 21 #5475

    مصنف : محمد علی جانباز

    مشاہدات : 2416

    احکام قسم و نذر

    (اتوار 04 جون 2017ء) ناشر : مکتبہ جامعہ رحمانیہ سیالکوٹ

    اسلامی شریعت میں نذر ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےکسی خیر کے کام کا عہد کرلینا۔یعنی نذریا منت ایک وعد ہ ہے  جو اللہ تعالیٰ سےکیا جاتا ہے ۔ لہذا تمام وعدوں کے نسبت اس وعدے کو پورا کرنا زیادہ اہم اور قابل ترجیح ہے ۔ اگرچہ عہد کوئی بھی ہو اسے پورا کرنا مسلمان پر لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(الاسراء:34) ’’اور عہد پورا کرو بے  شک  عہد کے متعلق سوال کیاجائے گا‘‘۔ نذرماننے میں قسم  کھانے کامفہوم خود بخود شامل ہے  لہذا یہ ایک  وعدہ ہے  کہ جس کے متعلق قسم کھائی جاتی ہے کہ اسے  ضرور پورا کروں گا۔نذ ر ماننا  فرض نہیں  لیکن  جب کوئی نذر مان لے  توپھر اسے پورا کرنا فرض ہوجاتا ہے اور نذرپوری نہ کرنا سخت گناہ ہے ۔روزہ مرہ زندگی میں   اکثر وبیشتر قسم ونذر کا استعمال ہوتا ہے ۔اکثر لوگوں کو شریعت کے مسائل کا  علم نہیں ہوتا اس لیے ان مسائل میں اکثر غلطیاں کرجاتے ہیں  بلکہ بعض اوقات ایسی فاش غلطیاں ہوتی ہیں جو شرک کے دائرہ  میں آتی ہیں ۔ شارح سنن ابن ماجہ     شیخ الحدیث  مولانا محمد علی جانباز ﷫ نے زیر تبصرہ   رسالہ ’’ احکام قسم ونذر  ‘‘  میں لوگوں کو انہی مسائل سے  آگاہ کیا  ہے کہ لوگ جس میں اکثر وبیشتر غلطیاں کرتے  ہیں ۔مصنف موصوف نے   احکام  قسم کو بیان کرتے ہوئے  قسم کا  حکم ، قسم کی اقسام  او رکفار قسم کو  وضاحت سے پیش کیا ہے  اس کے بعد  احکام نذر کو بیان کرتے  ہوئے نذر کی تعریف ،  نذر کی اقسام  ، کفارہ  نذر  وغیرہ کو آسان فہم انداز میں تحریر کیا ہے ۔اردو طبقہ کےلیے  احکام  قسم ونذر سمجھنے کے لیے یہ رسالہ گراں قد ر تحفہ  ہے ۔اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی دعوتی ، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی  خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 22 #8065

    مصنف : محمد زبد الحق برکاتی مصباحی

    مشاہدات : 398

    احکام میں عرف و تعامل کی حیثیت

    (جمعرات 02 جنوری 2020ء) ناشر : فلاح ریسرچ فاؤنڈیشن انڈیا

    فقہ اسلامی  کا ایک  اہم ماخذ او رسرچشمہ عرف و عادت ہے ۔عرف سے مراد وہ  قول  یا فعل ہے  جو کسی ایک معاشرہ کےیا تمام معاشروں کے تمام    لوگوں میں  روا ج  پاجائے ۔اور وہ اس کے مطابق چل رہے ہوں۔فقہاء کے نزدیک  عرف وعادت دونوں کے  ایک ہی معنیٰ ہیں ۔عرف  شریعت اسلامیہ میں  معتبر  ہے او ر اس پر احکام کی بنیاد رکھنا درست ہے ۔کتب فقہ میں  اس کی حجیت اور اقسام وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ احکام میں عروف وتعامل کی حیثیت ‘‘   علامہ سید محمد امین المعروف ابن عابدین شامی       کے ’’ مجموعہ رسائل‘‘  میں  سے  ایک رسالہ   نشر العرف في بناء الأحكام على العرف  کا اردو ترجمہ ہے۔اس  رسالہ میں میں  علامہ ابن عابدین نے  یہ  ثابت کیا ہے کہ  بہت سے مسائل شرعیہ کی بنیاد عرف  پرہے  نیز کن مسائل میں عرف کا اعتبار ہے اور کن لوگوں کاعرف معتر  ہے۔یہ رسالہ  تخصص فی الفقہ کے طلباء  اور مفتیان کرام کےلیے بہت مفید ہے ۔جناب مولانا  محمد زبد الحق برکاتی نے اسے اردو  قالب میں ڈالا ہے ۔(م۔ا)

  • 23 #2355

    مصنف : ڈاکٹر سلمان فہد عودہ

    مشاہدات : 3641

    اختلاف رائے، آداب و احکام

    (منگل 19 اگست 2014ء) ناشر : المشرق ، لاہور

    امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اختلاف رائے احکام وآدا ب‘‘ فضلیۃ الشیخ دکتور سلمان فہد عودہ کی عربی تصنیف ’’ فقہ الاختلاف ولا یزالون مختلفین‘‘ کا   اردو ترجمہ ہے ۔مؤلف موصوف نے اس کتاب میں اساسی حیثیت سے اختلاف کی شرعی نوعیت کا تذکرہ کیا ہے ، اور اس کو کتاب وسنت ،نیز صحابہ وعلماء مجتہدین کی سیرت وکردار کی روشنی مین واضح کیا ہے ۔اور اس مشروعیت کےپیچھے نظری وعملی طور پر جو صالح نتائج وثمرات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور ان آداب کوبھی بیان کیا ہے جن کی رعایت اس غرض سے کی جانی چاہئے تاکہ اختلاف سے وہ صالح فائدہ وثمرہ حاصل کیا جا سکے جواس کی مشروعیت سے مقصود ہے خواہ یہ اس سلسلے کے اخلاقی آداب ہوں یا عملی وانتطامی۔اس کتاب کو اپنی پوری تفصیل میں اس انداز پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس میں علمی وبنیادی انداز میں اختلاف کے قضیہ کوپیش کیا گیا ہے اور بنیادی دلائل کو تاریخ کےعلمی واقعات کے ساتھ مرتبط کیا گیا ہے اور موقع بموقع بہت سی مناسب مثالیں بھی ہر قبیل کی ذکر کی گئی ہیں۔اور اپنی اس علمی وبنیادی خوبی کے ساتھ اس کاایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کا اسلوب نرم ،انداز سہل کہ جس کو امت کے عام پڑھے لکھے لوگ قبول کریں اور پسند بھی کریں۔اللہ تعالی ٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل علم کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین(م۔ ا )

  • 24 #2341

    مصنف : اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

    مشاہدات : 3972

    اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت

    (ہفتہ 09 اگست 2014ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

    شریعت اسلامی انسانیت کے لئے اللہ تعالی کا ہدایت نامہ ہے ،جس میں زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی راہنمائی موجود ہے۔شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں ،جو یقینی ذرائع سے ثابت ہیں،اور الفاظ وتعبیرات کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی دوسرے معنی ومفہوم کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ان کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ کہا جاتا ہے،اور شریعت کے بیشتر احکام اسی نوعیت کے ہیں۔جبکہ بعض احکام ہمیں ایسی دلیلوں سے ملتے ہیں،جن کے سندا صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جا سکتا ہے،یا ان میں متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح بعض مسائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس کی بعض جہتیں پائی جاتی ہیں۔تو ایسے مسائل میں اہل علم اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے ہیں،جو ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اہل علم اور ائمہ کرام کے ان اختلافات اور اجتہادی آراء کا شرعی حکم کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت "ایفا پبلیکیشنز دہلی انڈیا کی مطبوعہ ہے،جس میں اسی اہم ترین موضوع پر منعقد سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کو جمع کر دیا گیا ہے ،اور تمام مقالہ نگار اہل نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ان قیمتی مقالات کو جمع کرنے کی سعادت مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب نے حاصل کی ہے۔ادارہ کتاب وسنت ڈاٹ کام کا مقالہ نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن چونکہ یہ ایک خالص علمی اور تحقیقی مجموعہ ہے ،چنانچہ افادہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ تعالی تمام مقالہ نگار اور مرتب وتمام معاونین کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ ایزدی میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 25 #3190

    مصنف : عبد اللہ بن عبد المحسن الطریقی

    مشاہدات : 3572

    اسباب اختلاف الفقہاء

    (ہفتہ 23 مئی 2015ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور

    جن دین اسلام کی صداقت وحقانیت کا موضوع زیر بحث آتا ہے تو اکثر یہ شبہ پیش کیا جاتا ہے کہ یہ دین اختلافات ومجالات کی جولانگاہ ہے۔اس میں مختلف فرق ومذاہب پائے جاتے ہیں،ان میں کس کو اختیار کیا جائے اور کس کو ترک کیا جائے؟اعداء دین کی طرف سے تو اس شبہ کا ذکر وبیان چنداں حیرت خیز نہیں۔مگر مقام افسوس ہے کہ عصر حاضر میں نام نہاد مسلم اس شبہ کی آڑ میں سرے سے دین حنیف ہی سے کنارہ کشی کا جواز تلاش کرنے لگے ہیں۔حالانکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دور کے اکثر مذاہب میں اس قدر اصولی واساسی نزاعات پائے جاتے ہیں اور ان میں تفرقہ بازی کی اس قدر بھر مار ہے کہ ایک فریق دوسرے کو اس مذہب سے خارج کئے بغیر دوسری کسی بات پر مطمئن نہیں ہوتا۔یہودی ،عیسائی ،ہندو اور موجودہ  دور کے دیگر مذاہب اس کی بہترین مثال ہیں۔عیسائیوں کے دو مشہور فرقوں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی باہم نبرد آزمائی اور معرکہ آرائی تو تاریخ عالم کی مشہور داستان ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسباب اختلاف الفقہاء"سعودی عرب کے معروف عالم دین امام محمد بن سعود یونیورسٹی ریاض کے چانسلر  ڈاکٹر عبد اللہ  بن عبد المحسن  الترکی﷾ کی تصنیف ہے،جس میں اسی شبہ کا تسلی بخش جواب دیا گیاہے،اور فقہاء کرام کے اختلافات کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کا اردو ترجمہ پاکستان کی معروف شخصیت  پروفیسر غلام احمد حریری صاحب﷾ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 26 #125

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 19678

    اسباب اختلاف الفقہاء ( ارشاد الحق اثری )

    (منگل 10 مارچ 2009ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد

    زیر تبصرہ کتاب دراصل شیخ محمد عوامہ کی تصنیف "اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء" ، جس کا خلاصہ دیوبندی آرگن ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ شیخ عوامہ نے اپنی کتاب میں ائمہ فقہاء کےاختلافات کے حقیقی عوامل بیان کرنے کے بجائے درحقیقت محدثین کرام رحمہم اللہ کے اس عام تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں حفظ و ضبط کی کمی تھی اور وہ دوسرے ائمہ حدیث کی نسبت حدیث کا کم علم رکھتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے ائمہ حدیث کے بارے میں اپنے روایتی عناد کا مظاہرہ بھی کیا ۔ ان کی انہی بے اصولیوں کا جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ جب قرآن ایک، نبی ایک، قبلہ ایک، دین ایک ۔۔ پھر امت میں اتنے اختلافات کیوں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے متمنی ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بصیرت مہیا کرے گا۔ چونکہ یہ ایک دقیق علمی موضوع ہے۔ اس لئے عام حضرات کیلئے یہ کتاب تفہیم کے لحاظ سے کچھ مشکل ہو سکتی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ پھر بھی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

     

     

  • 27 #1836

    مصنف : پروفیسر قاضی مقبول احمد

    مشاہدات : 6872

    اسلام اور اجتہاد

    (پیر 07 اکتوبر 2013ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں زندگی گزار نے کے تمام تر اصول و ضوابط موجود ہیں۔بالفاظ دیگر انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی  ملتی ہے۔دوسری طرف یہ ایک حقیقت ہے کہ شرعی احکام و نصوص محدود ہیں جبکہ انسانی زندگی کے معاملات لامحدود ہیں ۔لہذا ان لامحدود مسائل کو حل کرنے کے لئے اجتہاد  کرنا ضروری ہے۔اجتہاد اسلامی شریعت کو متحرک کرتا ہے۔ عصری مسائل کو اسلامی فکر کے مطابق ڈھالنا اجتہاد سے ہی ممکن ہے۔بصورت دیگر  جمود آجائے گا۔لیکن اجتہاد کرنے کے لئے عقل انسانی آزاد نہیں اور نہ ہی خود ساختہ اصولوں کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ اس کے لئے بھی شریعت نے الگ سے اصول  و ضوابط دیے ہیں۔ان کی پابندی اور پاسداری کرنا ہر مجتہد کے  لئے ضروری ہے۔ اجتہاد کے بنیادی قواعد کیا  ہیں؟ اس کے اصول و ضوابط کیا  ہیں؟اس کے علاوہ اجتہاد کرتے وقت ایک مجتہد کے لئے  کون سے عمومی  مسلمات فکر کی پاسداری کرنی چاہیے؟اس سلسلے میں اہل سنت اور دیگر افکار و نظریات میں کیا فرق ہے؟یہ اور اس نوعیت کے دیگر بنیادی سوالات جن کی بہت زیادہ اہمیت ہے یہ سب  اس کتاب کا  موضوع  ہیں۔اللہ موصوف کو اجر جزیل سے نوازے۔ انہوں نے حتی الوسع کوشش فرمائی ہے کہ اس باب میں اہل سنت کی احسن طریقے سے ترجمانی ہو جائے۔(ع۔ح)
     

  • 28 #4011

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 2457

    اسلام اور برٹش لاء

    (جمعرات 14 جنوری 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا

    دنیابھر میں اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنے کے لیے بہت سے حلقے اور حکومتیں سرگرم ہیں۔مغربی میڈیا، نظام تعلیم، صحافت، داخلی و خارجی پالیسیاں اوردیگر ذرائع ابلاغ اس دوڑ میں سب سے نمایاں ہیں۔بارہویں صدی سے لگاتارمسیحی چرچ نے نبی کریم ﷺ کو طاقت اور ہوس کے جنون میں مبتلافردباور کرانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو خون کے پیاسے اور شہوت پرست مطلق العنّان عربوں کے روپ میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے۔ اسلام کے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو انتشار و خلفشاراورمختلف قسم کے شکوک و شبہات کا ایک جال بچھایا جارہاہے۔ خیر القرون سے لے کر دورحاضر تک یہودی و نصرانی ہمیشہ سے صفِ اوّل کے اسلام مخالف ثابت ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک حقیقت ہے کہ برٹش ایک سامراجی مملکت کا نام ہے۔ انسانی حقوق کےسب سے بڑےعلمبردار کہلوانے والے در حقیقت نسل انسانی کے سب سے بڑے غاصب اور قاتل ہیں۔ اگر حقائق پر نظر رکھی جائے تو پچھلے پچاس (50) برسوں میں برٹش کئی وسیع پیمانے پر ہونے والی جنگوں میں ملوث رہا ہے۔جبکہ اسلام اس کے برعکس امن و سلامتی، اخوت، اور مساوات کا دین ہے۔ اسلام ایک واحد مذہب ہے جو غیر مسلموں کو بھی تحفظ اور پناہ بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور برٹش لاء" مولانا ابو الوفا ثناء اللہ مرحوم امرتسریؒ کی تصنیف ہے۔ مولانا مرحومؒ نے ان حالات میں اپنی کتاب کو تصنیف کیا جب انگریز برصغیر پر اپنی پوری قوت کے ساتھ مسلط تھا۔ قانون سازی کے تمام اختیارات گورنر جنرل کے ہاتھ میں تھے۔ ان حالات میں حضرت مولانا مرحومؒ یہ کتاب لکھ کر جہاں رائج الوقت قوانین کی خامیوں اور کوتاہیوں پر انگشت نمائی کی ہے وہاں اس کے ساتھ ہی ساتھ اسلامی قوانین سے ان کاموازنہ کر کے شرعی قوانین کی برتری اور فضیلت ظاہر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحومؒ کو اجر عظیم سے نوازے اور امت مسلمہ کو فرنگیوں کی منافقانہ چالوں کو سدّ باب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 29 #5719

    مصنف : خالد سیف اللہ رحمانی

    مشاہدات : 2917

    اسلام اور جدید فکری مسائل

    (جمعرات 17 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ قاسم العلوم، لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور جدید فکری مسائل ‘‘ مولانا خالد سیف رحمانی کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور شریعت اسلامی سے متعلق ملکی و عالمی سطح پر پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی عقل ۃ فطرت اور حکمت و مصلحت سے ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موجودہ دور میں پیش آنے والے حدید فکری مسائل پر دعوتی و تذکیری اسلوب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی نقظۂ کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 30 #5719

    مصنف : خالد سیف اللہ رحمانی

    مشاہدات : 2917

    اسلام اور جدید فکری مسائل

    (جمعرات 17 اگست 2017ء) ناشر : مکتبہ قاسم العلوم، لاہور

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور جدید فکری مسائل ‘‘ مولانا خالد سیف رحمانی کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور شریعت اسلامی سے متعلق ملکی و عالمی سطح پر پھیلی ہوئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈوں کا سنجیدہ جائزہ لیا گیا ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات اور اس کی عقل ۃ فطرت اور حکمت و مصلحت سے ہم آہنگی پر روشنی ڈالی گئی ہے نیز موجودہ دور میں پیش آنے والے حدید فکری مسائل پر دعوتی و تذکیری اسلوب میں روشنی ڈالی گئی ہے اور اسلامی نقظۂ کو واضح کیا گیاہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 28 29 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1730
  • اس ہفتے کے قارئین 14380
  • اس ماہ کے قارئین 37920
  • کل قارئین49236716

موضوعاتی فہرست