کل کتب 284

دکھائیں
کتب
  • 51 #3729

    مصنف : امین احسن اصلاحی

    مشاہدات : 3472

    اسلامی قانون کی تدوین

    (منگل 03 نومبر 2015ء) ناشر : انجمن خدام القرآن، لاہور

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی قانون کی  تدوین" پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا امین احسن اصلاحی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی تیسری کڑی ہے ۔اگرچہ ادارہ محدث کا مولف موصوف کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئےاس کتاب  کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔(راسخ)

  • 52 #6836

    مصنف : ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں

    مشاہدات : 1224

    اسلامی قانون کی تشکیل میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا کردار

    (پیر 31 دسمبر 2018ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور

    اسلامی قانون سازی کو تشریع اسلامی بھی کہا جاتا ہے ۔شریعتِ اسلامی ایسا واضح راستہ  ہے جو انسانوں کو زندگی کے مآخذ تک پہنچاتا ہے۔تشریع کا معنیٰ قانون سازی کرنا ہے تشریع الٰہی اور تشریع رسول  ﷺ دونوں ہی مصدر اصلی اور حجت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو تشریع الٰہی کےبیان ،توضیح اور تشریعِ احکام کا مختار بنایا ہے۔ تشریع الٰہی اور تشریع رسول ﷺ دونوں کا نام شریعتِ اسلامی ہے ۔ ان دونوں ہی سے دین کی تکمیل ہوئی۔تشریع اسلامی یعنی اسلامی قانون سازی کا آغاز نزولِ وحی سے ہوا۔ تمام احکامِ شریعت ایک ہی بار نازل نہیں ہوئے بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہوتے رہے۔ اسلامی معاشرے میں انسانی ضرورتوں کے مطابق احکام دئیے جاتے رہے ۔ یہ احکام اللہ تعالیٰ اور سول اللہﷺ دونوں  کی طرف سےتھے۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کے بعد  قانون سازی کا  اختیار سب سے پہلے  صحابہ کرام﷢ کو تفویض ہوا۔اسلامی سلطنت کی وسعت اور امت مسلمہ میں عددی اضافہ کے ساتھ  نئے واقعات  ومسائل نے ظہور کیا ۔ان میں متعد مسائل ایسے تھے جن کے بارے میں قرآن وسنت سےبراہ راست رہنمائی نہیں ملتی تھی۔ ایسے مسائل کا شرعی حکم جاننے کے لیے لوگ صحابہ کرام﷢ کی طرف رجوع کرتے تھے  اور ان کے بتائے ہوئے حکم پر عمل کرتے تھے ۔ یوں رسول اللہ ﷺ کے بعد امورِ قانون سازی انجام دینے کی ذمہ داری براہِ راست صحابہ کرام﷢ پر آن پڑی اور صحابہ کرام   کی جماعت انبیاء﷩ کے  بعد  تمام انسانوں سے افضل ترین جماعت ہے ۔ صحابہ کرام کے  احکام ، فیصلوں ، فتاویٰ اور آراء کو اسلامی قانون سازی میں اہم  مقام حاصل  ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلامی قانون  کی تشکیل  میں صحابہ  کرام کا کردار‘‘ ڈاکٹر عرفان خالد ڈھلوں(چئیرمین شعبہ علوم اسلامیہ یو ای ٹی ،لاہور ) کی کاوش ہے۔ اس کتاب میں 123 صحابہ کرام ﷢ ،217 محدثین ، ماہرین قانون اسلامی ، اصولیین ، فقہاء اور علماء کرام  وغیرہ کا تذکرہ اور 113 ضروری انسانی مسائل پر فقہی احکام شامل ہیں۔مصنف موصوف نے اسلامی ادب کی 415 مستند کتب سے استفادہ کرکے اس کتاب کو مرتب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے(م۔ا)

  • 53 #3687

    مصنف : سید محمد متین ہاشمی

    مشاہدات : 2758

    اسلامی نظام عدل کا نفاذ مشکلات اور ان کا حل

    (ہفتہ 24 اکتوبر 2015ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور

    اسلام کا نظامِ عدل اپنے  تصور انسان ، صفتِ دوام ،مساوات، تصور آخرت وخوف  الہ ، نظام عقوبات ، تصور قضا ، شہادت کے معیار اور سیدھے سادے طریق کار کی بنا پر دنیا کےتمام نظامہائے عدل سے ارفع اور فائق ہے۔ مغرب کےنظامِ عدل کوترمیمات کےذریعہ اسلامی  نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ اس لیے  کہ اسلام کے نظام ِ عدل میں تصور انسان دوسرا ہے اور مغرب کے نظام میں دوسرا اور  تصور انسان ہی وہ بنیاد ہے جس پر قوانین کی تدوین عمل میں آتی ہے۔اس لیے وطن عزیز میں  اسلامی  نظام عدل کو ہی نافذ کرنا چاہیے۔ اور یہ سمجھنا کہ اسلامی نظام  کےنفاذ کی ذمے داری صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے غلط ہے بلکہ یہ پاکستان کے ہر باشندے کی ذمہ داری ہے  کہ جن بنیادوں پر اس مملکت کا  قیام ہوا تھا انہیں بہر صورت وبہر قیمت مستحکم کیا جائے  اور اس کام کی انجام دہی میں ہر شخص  حسبِ حیثیت اپنا فر ض ادا کرے ۔ جنرل ضیاء کےدور حکومت میں  پاکستان میں  اسلامی  نظام عدل کے نفاذ کی کوششیں کی  گئیں اور اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے لیکن  یہ کوششیں بار آور نہ ہوسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی  نظام ِعدل کا نفاذ مشکلات ان کا حل‘‘مولاناسیدمحمد  متین ہاشمی ﷫ کی کاوش ہے اس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ اسلامی نظامِ عدل کی ایسی  چند امتیازی خصوصیات جو  دیگر نظامہائے عدل سے ممتاز کرنے  والی ہیں کو بیان کر کےبعد  پاکستان میں اسلامی  نظامِ عدل کے نقاذ میں مشکلات اوران کا  حل  کو  بڑے احسن انداز میں  بیان کیا ہے۔ اللہ  تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 54 #3196

    مصنف : عبد المالک عرفانی

    مشاہدات : 2137

    اسلامی نظریہ ضرورت

    (جمعرات 28 مئی 2015ء) ناشر : شریعہ اکیڈمی اسلام آباد

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔چنانچہ فقہ اسلامی  کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی نظریہ ضرورت " بھی اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے،جس میں اسلامی نظریہ ضرورت پر جدید اسلوب میں بحث کی گئی ہے۔یہ کتاب محترم ڈاکٹر عبد المالک عرفانی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ضرورت،اکراہ،ضرر ،مشقت،حاجت ،عموم البلوی،خصوص البلوی،حرج ،خوف ،فساد اور تخفیف ورخصت کی مباحث پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 55 #7028

    مصنف : جمیل احمد سکروڈوی

    مشاہدات : 5455

    اشرف الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد اول

    dsa (جمعرات 01 اگست 2019ء) ناشر : دارالاشاعت اردوبازارکراچی

    الہدایہ امام ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی(593ھ) کی مشہور ترین تصنیف ہے جو کہ  بدایۃ المبتدی کی شرح ہے ۔ فقہ حنفی میں یہ سب سے اہم کتاب ہےصاحب الہدایہ نے فقہ میں متن کی کتاب لکھی ہے اس میں  قدوروی سے  بھی مسائل اخذ کیے ہیں  یہاں ‎‎‎‎قدوری سے مسئلے نہ مل سکے وہاں امام محمد کی کتاب جامع صغیر سے مسئلے لیے اور دونوں کو ملا کر کتاب بدایة المبتدی تصنیف کی۔پھر کفایۃ المنتہی کے نام سے اسی( 80 )جلدوں میں اس کی شرح لکھی ۔شرح سے فراغت کے قریب پہنچے تو محسوس ہوا کہ کتاب اتنی لمبی ہو گئی ہے کہ اس کو کوئی نہیں پڑھے گا۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اصل کتاب بدایة المبتدی ، ہی کو نہ چھوڑ دیں اس لیے بدایة المبتدی کی دوسری شرح مختصر لکھی جس کا نام ’ھدایہ‘ رکھا۔فقہ حنفی کی یہ معروف اور اہم کتاب ہونے کےپیش نظر   علماء احناف نے اس کی دسیوں شروحات لکھی ہیں ۔یہ کتاب برصغیر  وپاک وہند  کے اکثر جامعات ومدارس میں شامل نصاب ہے حتی کہ وفاق المدارس سلفیہ مرحلہ  العالیۃ کےنصاب میں بھی شامل ہے ۔اس لیے اکثر طلباء واساتذہ کو ضرورت رہتی ہے یہ کتاب مدارس احناف میں تو عموماً دستیاب ہوتی ہے  لیکن  مدارس سلفیہ  کی لائبریریوں میں   کم ہی پائی جاتی ہے  اگر ہے توالہدایۃ    مع حاشیہ   وشروح کے پرانے درسی سائز کے نسخہ جات موجود ہوتے ہیں  جن سے استفادہ کرنا ہی مشکل ہوتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اشرف الہدایۃ شرح اردو ہدایۃ‘‘ مولانا جمیل  سکروڈھوی کی تصنیف ہے اور ہدایۃ کی مفصل اردو شرح ہے جوکہ  16ضخیم  مجلدات پر مشتمل ہے  اور  یہ مزید اضافۂ عنوانات وتصحیح نظرثانی شدہ جدہ جدید ایڈیشن  ہے۔محض اس لیے کتاب کو کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے  کہ  طلباء واساتذہ اور اسکالرز حضرات بوقت ضرورت  اس سے مستفید ہوسکیں ۔(م۔ا)

  • اصول الشاشی

    (اتوار 11 فروری 2018ء) ناشر : انصار السنہ پبلیکیشنز لاہور
  • 57 #647

    مصنف : محمد عاصم الحداد

    مشاہدات : 19989

    اصول فقہ پر ایک نظر

    (منگل 28 جنوری 2014ء) ناشر : اسلام پبلیشنگ ہاؤس لاہور

    اصول فقہ سے مراد ایسے قواعد و ضوابط ہیں جن سے کتاب سنت سے احکام کشید کرنے کا کام لیا جاتا ہے۔ پیش نظر کتاب ’اصول فقہ پر ایک نظر‘ میں فاضل مؤلف محمد عاصم الحداد نے مختلف مکاتب فکر کے اختیار کردہ انہی اصولوں پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ہے۔ اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح فہم حاصل کرنے کے طریقوں کی وضاحت کی ہے۔ کتاب لکھتے ہوئے ان کے پیش نظر یہ مقصد یہ تھا کہ اصول فقہ کی صورت میں ہمارے پاس موجود موادکا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کی افادیت اور عدم افادیت سے عوام کو آگاہ کیا جائے۔ تاکہ امت مسلمہ چند مشہور ائمہ دین کے بیان کردہ اصولوں ہی پر تکیہ نہ کرے بلکہ ہر فرد کو فرمودات باری تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کے ارشادات عالیہ سے پوری طرح مستفید ہونے کا موقع میسر آ سکے۔
     

  • 58 #1339

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 25270

    اعلام الموقعین عن رب العالمین(جلد اول)

    dsa (پیر 09 اگست 2010ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور

    علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ ایک جلیل القدرعالم ربانی تھے ۔آپ نےبے شمارکتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں زیرنظرکتاب اعلام الموقعین ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس مفصل کتاب میں علامہ موصوف نے اصول فقہ خصوصافتوی،اجتہاداورقیاس کے موضوع پرقلم اٹھایاہے اورحق یہ ہےکہ حق اداکردیاہے ۔جولوگ تقلیداورقیاس کےباب میں افراط وتفریط کاشکارہیں ،ان کاتفصیلی ردکیاہے اورایک ایک مسئلے پربیسیوں دلائل پیش کیےہیں ۔حیلہ سازوں کی بھی تردیدفرمائی ہےاورصحابہ کرام وسلف صالحین کے حوالے سے واضح کیاہے کہ وہ ہرمسئلے میں کتاب وسنت مقدم رکھتے تھے ،لہذاہمیں بھی براہ راست کتاب وسنت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اقوال رجال کاسہارالیناچاہیے ۔ان لوگوں کی غلطی کوبھی واضح کیاہے جویہ گمان رکھتےہیں بعض احادیث خلاف قیاس ہیں ۔اس وضع کتاب کوخطیب الہندعلامہ محمدجوناگڑھی نے رواں اورشگفتہ اردوکے قالب میں ڈھالاہے ،جس سےاردودان طبقےکے لیے بھی اس سے استفادہ کی راہ  آسان ہوگئی ہے۔خداوندقدوس فاضل مؤلف اورمترجم کی اس عظیم خدمت کوشرف قبولیت سے نوازےاوراہل اسلام کواس سے اکتساب فیض کی توفیق  مرحمت فرمائے۔آمین

     

     

     

  • 59 #3112

    مصنف : محمد بن الفرج ابن الطلاح الاندلسی

    مشاہدات : 2401

    اقضیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ( اردو ترجمہ )

    (اتوار 26 اپریل 2015ء) ناشر : ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ اہم  کتاب امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پر مشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔یہ  عظیم الشان کتاب   ڈاکٹر اعظمی صاحب  کی تحقیق سے قبل  ناباب تھی  قدیم رسم الخط میں اس کے چند نسخے دنیا کی مختلف لائبریریوں میں موجود تھے ۔لیکن ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس  کتاب  گرانقدر کی تحقیق پر پی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے اس کتاب کو  نئی زندگی بخشی۔ موصوف نے  اس کی تحقیق وتدقیق میں انتہائی محنت اور جانفشانی  سے کام لیا  کتاب میں  وارد شدہ احادث  کی تخریج کی  اور فن  جرح تعدیل ک ےمسلمہ اصولوں کےمطابق ان  کی صحت وعدم صحت  و اضح کیا  اوراس کے ساتھ ساتھ  انہوں نے  ان احادیث سے مستنبط ہونے والے  فقہی اور قانونی احکام کے بارے  میں مختلف فقہی مسالک بھی بیان کردیے ہیں۔ او رکتاب کے آخر میں انہوں نے  استدراکات  کے عنوان سے آنحضور ﷺ کی مزید ان  احادیث وقضایا کا اضافہ بھی کردیا ہے  جو کسی وجہ  سے اصل کتاب میں شام  ہو نے  سے راہ گئے تھے ۔علاوہ ازیں انہوں نے کتاب کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ لکھ اسلامی قانون کی اہمیت اور قانون نافذ کرنے  والے  اداروں اور افراد کے کردار او رذمہ داریوں پر بھی  تفصیل سے روشنی  ڈالی ہے ۔ کتاب کے آخر میں  مراجع، اعلام اور  عنوانات کی تفصیلی فہارس کا اضافہ کر کے اس کے  استفادہ کو زیادہ سے زیادہ آسان بنادیا ہے۔ یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے  تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر اسے  حسن ِطباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • الاحکام السلطانیہ

    (ہفتہ 25 اپریل 2015ء) ناشر : قانونی کتب خانہ لاہور

    دنیا کے وجود میں آنے کے بعد اس دنیا میں رہنے والے انسانوں نے کئی حکومتی اور سیاسی نظام تخلیق کئے اور اختیار کیے، لیکن ہر نظام ایک مدت کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ ان سیاسی نظاموں کے تخلیق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انسان نے حاکمیت اپنے سر لے لی اور یہ مائنڈ سیٹ بنا لیا کہ افراد کی طاقت سے بالا اور زبردست ہوتی ہے، اور ان تمام سیاسی نظاموں کے برباد ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ انسان کے بنائے ہوئے نظام تھے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،اسلام نے مسلمانوں کو جہاں عبادات کے طریقے بتلائے ہیں وہاں ایک نظام حکومت بھی عطا فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام السلطانیہ "پانچویں صدی کے معروف فقیہ اور دولت عباسیہ کے قاضی أبو الحسن علي بن محمد بن حبيب البصری البغدادی الماوردی کی تصنیف عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولوی سید محمد ابراہیم صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں  اسلامی حکومت کے خدو خال اور طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور کتاب کو بیس ابواب میں تقسیم کیا ہے۔جن میں سے امام کا تقرر،وزراء کا تقرر،فوجی سپہ سالاروں کا تقرر،کوتوالی کا تقرر،عدالت ،اشراف کی دیکھ بھال،امامت نماز ،امارت حج،صدقات،جزیہ وخراج کے عائد کرنے کے ضوابط اور دفاتر کا قیام اور ان کے احکام وغیرہ جیسے ابواب قابل ذکر ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ مولف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں اسلامی نظام حکومت جیسی نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

< 1 2 3 4 5 6 7 8 ... 28 29 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1705
  • اس ہفتے کے قارئین 3631
  • اس ماہ کے قارئین 42025
  • کل قارئین49284408

موضوعاتی فہرست