• title-why-do-priests-and-preachers-enter-islam-copy
    Yusuf Estes

     Kazim Hussain Kazmi , born and bred in Soon Valley, Angah, Khushab, Pakistan, is  a well known literary figure. He has written a series of books. As a Poet , he has  written two  books of Urdu Poetry, Named “Ishaq Fsana Apna” (A book of Urdu Poetry). “Ik  Dua,Pur Asar Hogai” (A book of Urdu Na’atia Poetry) that are very much liked among the literary people.
    Kazmi , who Some Times , also Works as English/Urdu compare on various TV/Radio channels has been teaching O’Level Islamiyat in well established institutions of Pakistan for the last many years.
    He has also translated into Urdu…many lectures and religious talks of many religious scholars of international fame, like Haroon Yahya & Shaikh.Ahmad Deddat ,  Dr. Zakir Naik. Abdur Raheem Green Salfi ,Yusuf Estes…Yasir Fazaga and many others… Some of these projects were later on shown on Peace Tv Urdu Channel…. Suppose, Dr.Zakir Naik debate with Dr. William Campbell on Quran & Bible in the light of science was translated into Urdu by him and it had been shown on Peace Tv, Urdu many a times.
    He has also translated into Urdu the lectures of Shaikh. Abdur Raheem Green Salfi
     “Proof That Islam Is The Truth” that were delivered by him on Peace Tv Channel  and has compiled this very translated matter in the form of a book…”. By Shak Islam hi Deen-e- Barhaq Hy…”
    This very Book, “Why Do Priests And Preachers Enter Islam” is basically the research work of Shaikh Yusuf Estes…compiled by Kazim HussainKazmi.
    Yusuf Estes who once belonged to a deeply religious Christian (Protestant) family that not only practiced their faith but also actively participated in propagating it.  Whose father  had been there  to  built churches in America  and who  had close ties with famous anti-Islam Christian personalities like Jimmy Swaggart, Jim and Tammy Fae Bakker, Jerry Fallwell and the biggest enemy to Islam in America, Pat Robertson. Shaikh Yusuf Estes,who along with his father, opened piano and organ stores all the way from Texas and Oklahoma to Florida. Who had earned millions of dollars during those years, Who owned expensive homes, cars, boats and at one time he even owned airplanes….but could not find the peace of mind ……How did that very Yusuf Estes,   his wife, daughters and his father, both ordained ministers, plus a Catholic priest, builder of Christian schools; and the children, even a great-grandmother -  and his all family find the peace of mind? How and why did they all accept Islam, This Book would disclose all these secrets and facts to you. In Sha Allah.     This Book is basically a gift for all those ones who wish to have a comparative study of Christianity and Islam….Quran and Bible…and especially to those ones who wish to have “The Proof That Islam Is The Truth”

  • title-pages-aina-diyobandiyat
    ابو نعمان محمد زبیر صادق آبادی

    کسی بھی مذاکرہ ،مباحثہ ومناظرہ اور علمی گفتگو میں اصول وضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے بات کرنا آداب ِگفتگو کاحصہ ہے لیکن عموما مختلف مسالک کے حاملین اہل علم اور علماء علمی گفتگو ،مباحثہ ومناظرہ کے موقع پر اصول وضوابط کو سامنے نہیں رکھتے جس کے نتیجے میں اکثر مباحثے ومذاکرے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے ۔زیر نظر کتا ب ''آئینہ دیوبندیت'' اسی لیے مرتب کی گئی ہےکہ جب کوئی اہل حدیث کسی دیوبندی سے کوئی حدیث بیان کرتا ہے یاپھر کوئی دیوبندی کسی اہلِ حدیث کو تقلید کی دعوت دیتا ہے تو عام طور پر دیوبندیوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اصل موضوع کو چھوڑ کر طرح طرح کی دوسر ی باتیں شروع کردیتے ہیں ۔اورکبھی خود ساختہ اصول بنا کر اہل حدیث پر طعن کرتے ہیں۔آل دیوبند کےاس قسم کے اعتراضات کے جواب میں محترم ابو نعمان محمد زبیر صادق آباد ی ﷾ نے یہ کتاب مرتب کی جس میں علامہ حافظ زبیرعلی زئی﷫ کے بھی بعض مضامین بھی شامل ہیں اللہ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-aina-kitab-w-sunnat-copy
    محمد منیر عاجز

    مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا  ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث  ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ کتاب وسنت، مقلد اور غیر مقلد کب سے ہیں "محترم محمد منیر عاجز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں  نے بڑے ہمدردانہ انداز میں مقلدین کو مسلک اہل حدیث اختیار کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aina-qadiyaniat-allah-wasaya
    اللہ وسایہ

    اسلام کے بنیادی ترین عقائد میں سے ایک عقیدہ، عقیدہ ختم نبوت کا ہے ،جس پر ہر مسلمان کا ایمان لانا واجبات میں سے ہے،اور اس عقیدہ کا انکا رکرنے والا خارج عن الاسلام ہے، اور امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کا تو یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء کے بعد مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے۔ اس سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مدعی نبوت پر ایمان لانا تو کجا اس سے دلیل طلب کرنا کفر قرار دیا گیا ہے۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے جو عظیم قربانی دی وہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور جمیع صحابہ کرام ؓکی نظر میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی جو اہمیت تھی اس کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے جو معرکہ ہوا اس میں بائیس ہزار مرتدین قتل ہوئے اور 1200 کے قریب صحابہ کرام ؓنے جام شہادت نوش فرمایا جس میں600 کے قریب تو حفاظ اور قراءتھے۔ اس موقع پرصحابہ کرام نے جانوں کا نذرانہ تو پیش کر دیا مگر اس عقیدہ پر آنچ نہ آنے دی۔قرآن کریم نے بھی بہت وضاحت اور صفائی کے ساتھ بتایا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور احادیث مقدسہ نے بھی اس کی تصریح کی ہے بلکہ قرآن کریم و احادیث میں جس کثرت اور تواتر و قطعیت کے ساتھ عقیدختم نبوت کو بیان کیا گیا ہے‘ اس کی نظیر بہت کم ملے گی۔خود آنحضرت ﷺنے اپنے آخری دور میں سب سے پہلے جھوٹے مدعیان نبوت کا خاتمہ کرکے امت کے سامنے اس کام کا عملی نمونہ پیش کیا چنانچہ یمن میں ایک شخص جس کو اسود عنسی کہاجاتا تھا، نے سب سے پہلے ختم نبوت سے بغاوت کرکے اپنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اس کے جواب میں آنحضرت ﷺنے اہل یمن کو اس سے قتال وجہاد کا باقاعدہ تحریری حکم صادر فرمایا اور بالآخر حضرت فیروز دیلمی ؓ کے خنجر نے نبوت کے اس جھوٹے دعویداری کا آخری فیصلہ سنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آئینہ قادیانیت‘‘مناظر ختم نبوت اللہ وسا یا صاحب   کی تصنیف کردا ہے جس میں ان ہوں نے فتنہ قادیانیت سے   متعلق تیس سوالات کے جوابات دیے ہیں اور فرقہ قادیانیت کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-aagha-khaniyat-ulmai-ummat-ki-nazar-me-copy
    فیض اللہ چترالی

    پاکستان میں جن افراد کو آغا کانی کہا جاتا ہے ان کاا بتدائی تعلق اسماعیلی مذہب کی نزاری شاخ سے ہے۔اسماعیلی مذہب کی ابتداء دوسری صدی ہجری کے اواخر میں ہوئی۔اسماعیلیوں کے عقائد پر یونانی ،ایرانی ،مجوسی اور نصرانی فلسفوں کا شدید غلبہ نظر آتا ہے۔ان کے ہاں تعلیمات کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ایک ظاہری اور دوسری باطنی۔اس دور کے علماء نے ان کے عقائد پر نقد ونظر کے بعد ان کو خارج از اسلام قرار دیا۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر تاریخوں میں اسماعیلیوں کا ذکر روافض باطنیہ یا ملاحدہ کے عنوان  کے تحت کیا گیا ہے۔اسماعیلیہ سے متعلق زیادہ تر لٹریچر عربی یا انگریزی زبان میں موجود ہے ،جس کے سہل الحصول نہ ہونے کی وجہ سے  عوام اس سے مستفید نہیں ہو سکتے۔دوسرے اس ایک ہزار سال میں گمراہی میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔لہذا آغا خانیوں کے موجودہ عقائد کی روشنی میں دنیا بھر کے جید علمائے کرام سے فتاوی حاصل کر کے اس کتاب " آغا خانیت ، علمائےامت کی نظر میں " میں جمع کر دیئے گئے ہیں تاکہ عوام کو حقائق کا علم ہو سکے اور وہ گمراہی سے بچ سکیں۔ان فتاوی کو ایک جگہ جمع کرنے کی سعادت محترم مولانا فیض اللہ چترالی نے حاصل کی ہے۔موصوف نے اس کتاب میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی ،مولانا سلیم اللہ خان صاحب ،مفتی اعظم پاکستا ن مفتی ولی حسن صاحب اور فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن باز سمیت متعدد علمی وتحقیقی  اداروں کے فتاوی جمع فرمادیئے ہیں۔اللہ تعالی مرتب کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-al-e-deoband-sy-210-sawalat
    حافظ زبیر علی زئی
    برصغیرمیں دیوبندی اور اہل حدیث کی کش مکش ایک عرصے سے جاری ہے اس میں دونوں طرف سے اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں اور دوسرے کی تردید میں بہت کچھ لکھا جاچکاہے زیرنظر کتاب میں جناب حافظ زبیرعلی زئی نے دیوبندیوں سے 210 سوالات کیے ہیں کہ وہ ان کاجواب دیں اس لیے کہ ان کابھی یہی اسلوب ہے کہ وہ اہل حدیث سے سوالات ہی کرتے جاتے ہیں اگر ان سوالات کو غور سے پڑھا جائے تواوضح ہوگا کہ دیوبندی حضرات کے عقائد وافکار میں بہت سی غلطیاں موجود ہیں جن کی اصلاح ہونی چاہیے نیز ان سوالات کا جو اب بھی ان کےپاس موجود نہیں ہے کیونکہ جواب قرآن وحدیث او رامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال کی روشنی میں مانگاگیا ہے جبکہ ان کےعقائد ونظریات ان سے ثابت نہیں ہیں


  • title-pages-aale-deoband-k-300-jhot
    حافظ زبیر علی زئی
    حافظ زبیر علی زئی جماعت اہل حدیث کے نامور عالم اور کامیاب مناظر ہیں۔ تحقیق حدیث ان کا خاص موضوع ہے۔ حدیث کے دفاع کے لیے ہر ممکن کوشش بروئے کار لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی بھی اور جہاں کہیں بھی حدیث پر حملہ ہو، چاہے انکار کی صورت میں ہو یا دو ر ازکار تاویلات کی صورت میں موصوف بے قرار ہوجاتے ہیں اور ان کا خارا شگاف قلم حرکت میں آ جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے حافظ صاحب کی نظر میں دیوبندی علما کے 300 جھوٹوں پرمشتمل ہے۔ موصوف کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں:’’ بہت سے لوگ مسلسل دن رات اکاذیب و افتراء ات گھڑتے اور سیاہ کو سفید، سفید کو سیاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ان میں سے دیوبندی حضرات نے تو کذب و افتراء کو اپنا شیوہ و شعار بنا رکھا ہے۔ راقم الحروف نے اس کتاب میں بعض دیوبندی علما اور مصنفین کے تین سو (300) اکاذیب (جھوٹ) اور افتراء ات باحوالہ جمع کر کے عوام و خواص کی عدالت میں پیش کر دئیے ہیں۔ تاکہ کذابین کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔‘‘ وہ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس کا فیصلہ ہم قارئین پر چھوڑتے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-ayaat-e-bayyanat
    نواب محسن الملک سید محمد مہدی علی خان

    مذہب امامیہ، اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثنا عشریہ کے بعد زیر تبصرہ کتاب آیات بینات اپنی نوعیت اور شان کی یہ منفرد تصنیف ہے۔ اس کتاب کا انداز مناظرانہ ہے لیکن اسلوب بیان میں اصلاحی پہلو نمایاں ہے۔ اس کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ مصنف پہلے خود شیعہ مذہب  سے منسلک رہے اور پھردونوں مذاہب کے اصول و فروع کا عمیق مطالعہ کر کے شیعہ مذہب کو خیرباد کہا اور پھر یہ کتاب تصنیف کی۔ اس کتاب کا انداز  بیان نہایت دل کش ہے، اس میں سنجیدگی، وقار اور اثر و تاثیر ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ ہر بات کی تائید یا تردید میں کئی کئی دلائل پیش کئے گئے ہیں اور وہ سب ہی قوی ہیں۔ یہ کتاب مناظرہ کرنے والوں کے لیے تو ایک قیمتی تحفہ ہے ہی، ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ایک قابل مطالعہ کتاب ہے۔ ہر شخص کے واسطے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو تازہ اور عقائد کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کتاب نہایت توجہ سے پڑھے۔ اور جہاں تک ممکن ہو گمراہی کے گڑھے میں گرے دیگر بھائیوں کی اصلاح کے لیے اس کتاب کو عام کریں۔

  • title-pages-ibra-ahlul-hadith-w-al-quran-copy
    حافظ عبد اللہ محدث غازی پوری

    تقریباً1883ء بمطابق 1304ھ  مولولی امانت اللہ  غازی پوری نے شہر غازی پور میں  علمائے  اہل حدیث کےساتھ بے جا مزاحمت کرنی شروع کی اور ان کو بلاوجہ خلاف  دستور قدیم مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روک  ٹوک کرنے لگے ۔علماء اہل  حدیث  اور مسلک اہل حدیث کے خلاف فتوی جاری کیا ہے کہ  آمین پکار کر کہنا اور رفع الیدین اورنماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا اور امام کے پیچھے الحمد پڑھنے والے  اہل سنت سے  خارج  ہیں   اور دیگر فرق ضالہ  رافضی خارجی وغیرہما کے ہیں ۔اور اہل حدیثوں کو  اپنی  خوشی سے اپنی مسجد میں  آنے دیناشرعاً ممنوع ہے ۔ اور ان کےپیچھے نماز درست نہیں۔یہ  فتویٰ انگریز حکومت کی سرپرستی میں  چھپوا کر تقسیم کیاگیا۔جس کے بعد  اہل حدیث کو جبراً مسجدوں سے نکالنے کی پوری کوشش کی گئی ۔ جس سے مذہبی فسادات شروع ہوگئے او رنوبت عدالتوں میں مقدمات تک پہنچ گئی۔مذکور فتویٰ میں وہابیوں کی طرف جن ’’عقائد اور مسائل‘‘ کا انتساب کیاگیا ہے ۔ چونکہ وہ سب الزامات غلط بیانی اور مغالطوں پر مبنی تھے ۔اس لیے جید اور فاضل علمائے اہل حدیث نےان کے مفصل جوابات تحریر فرما کر شائع کیے ۔زیر تبصرہ رسالہ  ’’ابراء اہل الحدیث والقرآن مما فی جامع الشواہد من التہمۃ والبہتان‘‘ انہی جوابات میں  سےایک رسالہ ہے۔ یہ رسالہ استاذ الاساتذہ  محدث العصر  حافظ محمد عبد اللہ محدث غازی پوری ﷫ نے تحریر کیا ۔اس میں انہو ں  نے ان سب  بےبنیاد الزامات کے  جو ’’جامع الشواہد‘‘ میں اہل حدیث پر لگائے گئے تھے  مدلل طریقے سے  جوابات دیے  ہیں  اور ثابت  کیا کہ  وہ سب خلاف واقعہ ہیں ۔مولانا حافظ عبد اللہ غازی پوری ﷫کے رسالہ  ’’ابراء اہل الحدیث ‘‘ کو 1982ء میں    مولانا یوسف  راجووالوی ﷫ نے  دوبارہ  شائع کیا۔جس  پر مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے تقریظ لکھی  اور اس میں  حافظ عبد اللہ غازی پور ی﷫ کےمختصر حالات بھی شامل کیےگیے تھے۔حال ہی میں  گوجرانوالہ سے  حافظ شاہد محمود ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی) نے  مجموعہ رسائل غازی پور ی  میں   بھی اس رسالے ک و  شامل کر کے تحقیق وتخریج کے ساتھ بڑے خوبصور ت انداز میں شائع کیا ہے ۔جس سے اس رسالے کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-itihade-millat-ka-naqeeb-fikre-ahle-hadith-hi-kiyon
    سعید احمد چنیوٹی
    قرآن میں ہے’’ اسی طرح ہم نے تم کو میانہ روش بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔‘‘ اس آیت  کے تناظر میں  اہل حدیث فکر کے حاملین کا یہ کہنا ہے کہ  ہم حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔عقائد ، عبادات اور معاملات وغیرہ میں کسی بھی پہلو سے افراط و تفریط کا شکار نہ ہوں۔حضرات صحابہ کرام اور سلف صالحین کا یہی منہج اور مسلک تھا۔جس طرح اسلام باقی تمام مذاہب و ادیان کےمقابلے میں وسط و اعتدال پر مبنی ہے اسی طرح صحابہ کرام ؓ و سلف تمام فرق کےمقابلے میں اعتدال و وسط کے پیروکار ہیں۔مثلا خوارج اور روافض کے مقابلہ میں صحابہ کرام ؓ کے بارےمیں انہی کا موقف اعتدال ، میانہ روی کا آئینہ دار ہے۔خوارج، معتزلہ اور مرجئہ کے مابین مسلہ وعدہ و وعید کے بارے میں سلف کا موقف ہی معتدل و وسط ہے۔قدریہ اور جبریہ کے مابین تقدیر میں وسط پہلو سلف ہی کا ہے۔جہمیہ معطلہ اور مشبہ کےمابین مسلہ صفات باری تعالیٰ میں وسط مسلک سلف ہی کا ہے۔ نہ ان کے ظاہریت ہے نہ تقلید جامد، نہ جمود ہے نہ ہی آزاد خیالی، نہ رہبانیت ہے اور نہ ہی حیلہ سازی۔فکر اہل حدیث کے قائلین و حاملین کا کہنا ہے کہ ہم اسی منہج فکر کے پر کار بند ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ مصنف کی اسی طرز کی ایک کاوش ہے جس میں موصوف نے تاریخی اور علمی دلائل سے یہ بات ثابت کرنے کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-isbat-e-eadah-rooh-copy
    عاصم بن عبد اللہ آل معمر

    اس پر فتن دور میں ہر آئے دن بے شمار  نئے نئے فرقے اور گروہ مذہب کے نام پر سامنے آرہے ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے چند مخصوص اور شاذ نظریات وعقائد سنبھال رکھے ہیں۔جو شخص ان کے نظریات سے متفق ہو،اور ان کے تعاون کرتا ہو، ان کے نزدیک وہ مومن اور اہل ایمان میں سے ہے ،اور جو ان  کے عقائد ونظریات کا مخالف ہو  اس پر وہ بلا سوچے سمجھے شرائط وموانع کا خیال رکھے بغیر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں اور اس فتوی بازی یا کسی مسلمان کی تکفیر میں ذرا خیال نہیں رکھتے کہ وہ کوئی محترم شخصیت اور مخلص مسلمان کی ذات بھی ہو سکتی ہے۔اسی طرز عمل کے گروہوں میں سے ایک کراچی کا معروف عثمانی گروہ  ہے ،جو اپنے آپ کو کیپٹن مسعود الدین عثمانی کی طرف منسوب کرتاہے۔اس گروہ نے بھی بعض ایسے منفر د اور شاذ عقائد ونظریات اختیار کر رکھے ہیں ،جو امت کے اجماعی اور اتفاقی مسائل کے مخالف ہیں۔ان مسائل میں سے ایک مسئلہ اعادہ روح  کا ہے۔ عثمانی گروہ قبر کے عذاب اور اعادہ روح  کا منکر ہے، حالانکہ قرآن وحدیث سے عذاب قبر اور اعادہ روح ثابت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اثبات اعادہ روح"محترم جناب عاصم بن عبد اللہ آل معمر القریونی صاحب کی تالیف ہے ،جس میں انہوں عثمانی گروہ کے انہی غلط اور بے بنیاد عقائد ونظریات کا رد کرتے ہوئے قرآن وحدیث سےاعادہ روح کا  اثبات کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-asna-ashariya-aqaid-o-nazriyat-ka-jaiza-aur-ganaoni-sazishain
    فضیلۃ الشیخ ممدوح الحربی
    فی زمانہ پوری دنیا میں شیعہ حضرات کا معتد بہ طبقہ موجود ہے۔ بالائی عہدوں پر موجود ہونے کی وجہ سے شیعہ فرقہ کے حضرات اپنے عقائد و نظریات عوام الناس میں منتقل کرنے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو ان کے اصل چہرے سے آگاہ کیا جائے اور سب سے اہم یہ کہ اہالیان شیعہ کو دعوت اصلاح دی جائے۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر الشیخ ممدوح الحربی نے زیر مطالعہ کتاب لکھی۔ کتاب کا نام اگرچہ ’اثنا عشریہ عقائد و نظریات‘ ہے لیکن اس میں اثنا عشریہ کے علاوہ شیعہ کے دیگر فرقوں کے مخصوص مراکز و مقامات اور مختلف عقائد کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔ (عین۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-ahbabedeobandkeekaramfarmayainahlehadeespar-copy
    علامہ احسان الہی ظہیر
    دين اسلام كى ماننے والوں میں مختلف گروہ پائے جاتے ہیں-ہر گروہ کے پاس اپنی سچائی کے لیے دلائل اور براہین موجود ہیں لیکن سچا اور کھرا اس کو سمجھا جائے گا جو قوی دلیل کے ساتھ گفتگو کرے-بڑوں کی باتوں اور کثرت افراد کو دلیل بنانا کوئی اصول نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مشرکین کو تبلیغ فرماتے تو وہ بھی اپنے حق میں جو دلیل پیش کرتے وہ یہی ہوتی تھی کہ ہمارےآباؤ اجداد یوں کیا کرتے تھے یا یہ کام کرنے والے اتنی بڑی تعداد موجود ہیں اور تم نہ کرنے کے کہنے والے تھوڑی تعداد میں ہو-اسی لیے دین اسلام اطاعت اور اتباع کا حکم دیتا ہے تقلید جامد کا نہیں یہ وجہ ہے کہ دین اسلام ہر دورمیں مسلمانوں کی راہنمائی کر سکتا ہے جب اس میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے گا اور تقلید کا دروازہ بند رہے گا-مصنف نے اس کتاب میں مختلف فقہی مسائل کے تذکرے کے ساتھ مختلف کوتاہیوں کی طرف اشارہ کیا ہے-خاص طور پر نبوت ورسالت کا مقصداور انبیاء کی دعوت کا مقصد اور اس کے مقابلے میں پائی جانے والی اس دور کے کافروں کی تقلید اور آج کے مسلمانوں کی اپنے علماءتقلید کو سمجھانے کی کوشش کی ہے-اس کے لیے مختلف فقہی مسائل مثلا فاتحہ خلف الامام،رفع الیدین اور نماز بالجماعت میں آمین بالجہر کا حکم بیان کیا ہے اور دلائل سے گفتگو کی ہے-اور اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والے مختلف مخالفین کے گروہوں کا تذکرہ اور ان کے اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر قرآن وسنت اور صحابہ وسلف کے اصولوں کے ساتھ موزانہ کر کے ان کی حقیقت کو واضح کیا ہے-اسی طرح جب کوئی انسان راہ ہدایت سے بھٹکتا ہے توپھر اپنی مرضی کے اصول وقواعد وضع کرتا ہے اور پھر دین کو ان اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور اس کی واضح مثال احناف کے اپنے بنائے ہوئے اصول فقہ اور اصول حدیث ہیں کہ جن سے شریعت پر عمل کرنا تو دور کی بات ہے ایسے ایسے اصول وضع کر دیے کہ جن سے احادیث کو چھوڑنے کے چور رستے پیش کیے گئے جو کہ دین اسلام کے ساتھ زیادتی ہے-

  • title-pages-ahsan-al-ahadith-fi-abtal-al-taslees-copy
    رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ ﷤پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔زیر تبصرہ کتاب " احسن الاحادیث فی ابطال التثلیث"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی ہے۔آپ نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔اس کتاب کو لکھنے کا سبب یہ بنا کہ عیسائیوں نے چند اعتراضات لکھ کر  بطور اشتہار شائع کئے اور مسلمانوں سے ان کے جواب طلب کئے۔چنانچہ مولانا ﷫نے مسلمانوں کی طرف سے یہ قرض اور فرض ادا کرنے کا عزم کیا اور دو جلدوں میں "ازالۃ الشکوک " کے نام سے جوابات تحریر کئے۔شروع میں ایک مقدمہ لکھا جو ستر صفحات تک پھیل گیا اور طوالت وتفصیل کی وجہ سے ایک مستقل کتاب بن گیا ۔قدر شناسوں نےاسے اصل کتاب سے پہلے الگ چھاپ دیا جو اس وقت آپ کے سامنے  موجودہے۔اس کتاب میں موصوف نے توحید باری تعالی کا اثبات اور عیسائیت کے اساسی نکتہ "تثلیث فی التوحید"کو عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی ،جامع ومسکت اور بائبل کی رو سے باطل قرار دیا ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • title-pages-ahmadi-dosto-tumhain-islam-bulata-he-copy
    محمد متین خالد

    دنیا میں فرقےمختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے موجود ہیں ۔کچھ فرقےفکری و نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اورکچھ فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتےہیں ۔فکری و نظریاتی فرقوں میں سےایک باطل فرقہ قادیانیت ہے جس کی بنیاد ہی غلط ہے۔اور ان کی سب سے بڑی غلطی نبوت و رسالت پر حملہ ہے۔ملک وقوم کے دشمنوں نے اپنے اغراض ومقاصد کی تکمیل کےلیے مرزا غلام احمد قادیانی کو مجدد کا رنگ دیاجو بعد میں مسیح موعودنبی اور رسالت کا روپ دھار گیا۔ان کی اسی غلط نظریات کی وجہ سے بالخصوص حکومت پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک نے ان کو غیر مسلم قراردیا۔اس فرقے کو دبانے کےلیے علماء اسلام نے قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائےاور ہر میدان میں ان کا مدلل و منہ توڑ جواب دیاچاہے وہ تحریر ی میدان ہو یا مناظرے کا اسٹیج غرضیکہ مجاہدین ختم نبوت  ان کے ناپاک مقاصدکو نیست ونابود کرتے رہے اورکرتے رہیں گئے(انشاء اللہ) زیر نظر کتاب"احمدی دوستو! تمہیں اسلام بلاتا ہے" مجاہد ختم نبوت محمد خالد متین کی فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں حق کے متلاشی احمدی دوستوں کی مکمل خیر خواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے موصوف نے قرآن و سنت کی روشنی میں قادیانیوں کے پیش کردہ مغالطوں کا مدلل و مسکت جوابات دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-ahmadiyat-kiya-he-copy
    عابدہ سلطانہ

    اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت  کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں۔جن کی آمد سے سلسلہ نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔آپ کے بعد آنے والے متعدد کذابوں میں سے ایک  جھوٹا اور کذاب مرزا غلام احمد قادیانی ہے ،جس نے نبوت کا دعوی کیا اور شریعت کی روشنی میں کذاب اور مردود ٹھہرا۔لیکن اللہ رب العزت نے اس کےجھوٹ وفریب کوبے نقاب کرد یا اور وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں ذلیل وخوار ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب "احمدیت کیا ہے؟ " اسی قادیانی فتنے  کی حقیقت پر لکھی گئی ہے۔جو محترمہ عابدہ سلطانہ  کی کاوش ہے۔مولفہ موصوفہ نے اس میں ختم نبوت سے متعلق امت مسلمہ کا عقیدہ ،مسئلہ ختم نبوت قرآن مجید کی رو سے،ختم نبوت کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات،اجماع صحابہ،اجماع امت، اعلان نبوت سے قبل مرزا صاحب کے خیالات،اعلان نبوت کے بعد مرزا صاحب کے خیالات،امیر جماعت احمدیہ کے فرمودات اور احمدیوں کے سیاسی عزائم وغیرہ جیسے موضوعات کو بیان کرتے ہوئے قادیانی کلچر سے متعلق ہوش ربا مشاہدات وتجربات  کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی  تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے ان کی اس محنت کو قبول ومنظور فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اس فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ahnafkarasoolullahseikhtilaf-copy
    حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی
    یہ کتاب مولوی عمر پالن پوری دیوبندی کی کتاب "اہلحدیث کا خلفائے راشدین سے اختلاف" کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ فاضل مصنف حافظ فاروق الرحمٰن یزدانی چونکہ خود پہلے حنفی رہ چکے ہیں۔اور حنفیت ہی ان کا پسندیدہ موضوع بھی ہے۔ لہٰذا پالن پوری صاحب کے جواب میں انہوں نے  اپنے رشحہ قلم سے تقلید کی نامرادیوں کو خوب طشت از بام کیا ہے۔ مصنف اس حوالے سے مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ نہ صرف خود ہی شاہراہ توحید و سنت پر گامزن ہوئے بلکہ دیگر بھائیوں کی رہائی کیلئے بھی کوشاں نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ان کی ایسی ہی ایک بہترین کاوش ہے جس کے پہلے حصے میں احناف کی طرف سے تقلید کی تائید میں پیش کئے جانے والے تار عنکبوت دلائل و شبہات کا خوب محاکمہ کیا ہے۔ اور دوسرے حصے میں فقہ حنفی کے ان مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جو احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہیں۔ اس حصے میں مسئلہ کی تشریح و تبیین کیلئے پہلے احادیث ذکر کی گئی ہیں اور بعد میں احناف کے احادیث نبوی کی مخالفت مین اقوال پیش کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب راہ اعتدال کی نشاندہی کرتی ایک لاجواب تصنیف ہے۔

  • pages-from-ahnaaf-ki-tareekhi-ghaltiyaan
    محمد احسن اللہ ڈیانوی

    سو لہویں اور سترہویں صدی عیسوی تک تقریبا پورا ہندوستان شرک، بدعات، ہندوانہ رسم و رواج، مشرکانہ زندگی اور تقلید جامد میں بری طرح جکڑا ہوا نظر آتاہے۔ خانقاہی نظام اور ہر خانقاہ کا اپنا جدا مسلک تھا۔کہیں ’’فنا فی الشیخ‘‘ اور کہیں ’’وحدت الوجود‘‘کی تعلیم دی جاتی تھی۔ حاجت روائی کے لئے قبروں پر حاضری اور چلہ کشی عام تھی۔ اسی گورکھ دھندے میں صبح وشام صرف ہوتا تھا۔ لوگ قرآن وسنت سے نا آشنا ہو چکے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب’’احناف کی تاریخی غلطیاں‘‘محمد احسن اللہ ڈیانوی عظیم آبادی کی تصنیف کرداہے، مگر وہ اپنی وفات کی وجہ سے اس کو مکمل نہ کرسکے جو بعدمیں ان کے فر زندے رشید عزیزی محمدسلمہ اللہ نے اس نا مکمل تصنیف کی تکمیل کی، گوکہ اس موضوع پر اب تک متعدد کتابیں لکھی جاچکی ہیں، مگر بالخصوص یہ کتاب اپنے موضوع پر لکھی گی گزشتہ کتابوں سے ذرا مختلف ومنفرد ہے، اور اس کتاب کا موضوع محققین احناف کی تاریخی غلطیوں سے متعلق ہے، جن میں زیادہ تر غلطیاں سیدین شہیدین کی تحریک جہاد سے متعلق ہے ہیں۔ جب کہ چند ایک دوسرے موضوعات کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے، اور ان کا حقیقت پر مبنی تسلی بخش جوابات دیے گئے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین(شعیب خان)

  • title-page-ahnaf-ki-chand-kutub
    عبد الروؤف بن عبد الحنان بن حکیم محمد اشرف سندھو

    مسائل میں اختلاف  کاہونا کوئی بڑی بات نہیں ۔متعددوجوہ واسباب کی بناء پرایک ہی مسئلہ میں ارباب علم ونظر کی آراء میں اختلاف ہوجاتاہے ۔تاہم اس ضمن میں یہ خیال رکھناضروری ہے کہ حل اختلاف کےلیے کتاب وسنت کی طرف رجوع کیاجائے اورجوفیصلہ قرآن وحدیث سے مل جائے اس پرصادرکیاجائے۔نیز اختلاف رائے میں ایک دوسرے پرطنز وتعریض یاتوہین وتنقیص سے اجتناب کرناچاہیے ۔لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ بعض حضرات اختلاف رائے کوفرقہ وارانہ رنگ دے کردوسروں پرنارواالزامات واتہامات لگاتے ہیں ۔زیرنظرکتاب میں ایسی ہی چندتحریروں کاسنجیدہ اورٹھوس علمی جائزہ لیاگیاہے ۔امرواقعہ یہ ہےکہ جوشخص بھی کھلے دل او روسعت  نگاہ سےاس کامطالعہ کرےگا‘وہ یقیناً درست نقطہ نظرکوپہچان لے گا۔اس کتاب میں بے شمارعلمی نکات موجودہیں ‘جومؤلف کے تحرعلم وفضل پرشاہدعدل ہیں ۔فجزاہ اللہ خیراً

     

     

  • title-pages-earth-shaster-2
    کوتلیہ چانکیہ
    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)
  • title-pages-izala-tul-auham-1-copy
    رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ ﷤پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔زیر تبصرہ کتاب " ازالۃ الاوہام"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی ہے۔آپ نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔اس کتاب میں موصوف نے عقیدہ تثلیث،تحریف بائبل ،بشارات محمدی اور عیسائیوں کے متعدداعتراضات کا عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی، مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔رد عیسائیت پر اتنی علمی وتحقیقی کتاب آپ کو عربی زبان سمیت کسی زبان میں نہیں ملے گی۔عیسائیت کے خلاف کام کرنے والے اہل علم کے لئے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-izala-tul-auham-1-copy
    رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ ﷤پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا۔زیر تبصرہ کتاب " ازالۃ الاوہام"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی ہے۔آپ نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔اس کتاب میں موصوف نے عقیدہ تثلیث،تحریف بائبل ،بشارات محمدی اور عیسائیوں کے متعدداعتراضات کا عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی، مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔رد عیسائیت پر اتنی علمی وتحقیقی کتاب آپ کو عربی زبان سمیت کسی زبان میں نہیں ملے گی۔عیسائیت کے خلاف کام کرنے والے اہل علم کے لئے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • asbaabikhtilafalfuqaha-copy
    ارشاد الحق اثری

    زیر تبصرہ کتاب دراصل شیخ محمد عوامہ کی تصنیف "اثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء" ، جس کا خلاصہ دیوبندی آرگن ماہنامہ بینات میں شائع ہوا ، کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔ شیخ عوامہ نے اپنی کتاب میں ائمہ فقہاء کےاختلافات کے حقیقی عوامل بیان کرنے کے بجائے درحقیقت محدثین کرام رحمہم اللہ کے اس عام تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ میں حفظ و ضبط کی کمی تھی اور وہ دوسرے ائمہ حدیث کی نسبت حدیث کا کم علم رکھتے تھے۔ اس ضمن میں انہوں نے ائمہ حدیث کے بارے میں اپنے روایتی عناد کا مظاہرہ بھی کیا ۔ ان کی انہی بے اصولیوں کا جائزہ اس کتاب میں لیا گیا ہے ۔ جب قرآن ایک، نبی ایک، قبلہ ایک، دین ایک ۔۔ پھر امت میں اتنے اختلافات کیوں؟ اس سوال کا جواب جاننے کے متمنی ہیں تو اس کتاب کا مطالعہ یقیناً بصیرت مہیا کرے گا۔ چونکہ یہ ایک دقیق علمی موضوع ہے۔ اس لئے عام حضرات کیلئے یہ کتاب تفہیم کے لحاظ سے کچھ مشکل ہو سکتی ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ وہ پھر بھی اس کتاب کا مطالعہ ضرور کریں۔

     

     

  • title-pages-istaqbaliya-w-sadarti-khatabat-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’استقبالیہ وصدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ نے   دعوت وتبلیغ کی غرض سے  مرکزی  جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ  کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت واستقبالیہ  کو جمع کردیا ہے  موصوف نے  اولاً ان  خطبات کو تلاش کیا  مطبوعہ اور غیر مطبوعہ  خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوزکرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی  تب کہیں جاکر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا) 

  • title-pages-israil-main-yahoodi-buniyad-parasti
    اسرائیل شحاک
    پوری غیراسلامی دنیا عرب دہشت پسندی کے مترادف سمجھی جانے والی اسلامی بنیاد پرستی سے نفرت کرتی ہے ۔ امریکہ کی کلچر اور دانشور اشرافیہ عیسائی بنیاد پرستی کو جہالت ، اوہام پرستی ، عدم رواداری اور نسل پرستی کے مترادف سمجھتے ہوئے اس سے نفرت کرتی ہے ۔ عیسائی بنیاد پرستی کے پیروکاروں کی تعداد میں حال ہی میں ہونے والا اچھا خاصہ اضافہ اور اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات امریکہ میں جمہوریت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں ۔ اگرچہ یہودی بنیاد پرستی اسلامی اور عیسائی بنیاد پرستی کے تقریبا تمام عمرانی سائنسی خواص کی حامل ہے ، تاہم اسرائیل اور چند ایک دوسرے ملکوں کے خاص حلقوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی اس سے واقف نہیں ہے ۔ جب یہودی بنیاد پرستی کا وجود تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اس کی عم زاد اسلامی اور عیسائی بنیاد پرستی خلقی برائیوں کا شد و مد سے ذکر کرنے والے غیر یہودی اشرافیہ کے اکثر مبصر اس کی اہمیت کو غیر واضح مذہبی سرگرمی تک محدود کر دیتے ہیں یا اسے انوکھا وسطی یورپی لبادہ اوڑھا دیتے ہیں ۔ زیرنظر کتاب اسی تناظر میں لکھی گئی ہے کہ دنیا کے سامنے یہود بنیاد پرستی کو واضح کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں بنیاد پرستی کے سرچشموں ، آئیڈیالوجی ، سرگرمیوں  اور معاشرے پر اس کے مجموعی اثر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ عالمی انسانی اقدار مثلا آزادی اظہار رائے کی اسرائیلی  یہود مخالفت کرتے ہیں ۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-israel-qiyoon-tasleem-kiya-jaye

    اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہمیں یہودیوں اور عیسائیوں کی اسلام دشمن سازشوں سے بچنے کا حکم دیا ہے اور یہودیوں اور نصاریٰ کی دوستی سے منع کرتے ہوئے واضح طور پر فرمادیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ یہود تمہاری دشمنی میں بہت شدید ہیں ۔ یوں حضورﷺ کی تشریف آوری سےہی یہودیوں کا طرز اور طریقہ یہ رہا کہ وہ چھپ کر وار کرنےاور خفیہ سازشوں کے ذریعہ اسلام کو ختم کرنے کےدرپے ہیں ۔ یہودیوں کی سازشوں سے ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچا۔ان کی سازشوں کی وجہ سے نبی ﷺ نےان کو مدینہ منورہ   سے اور خلیفہ ثانی سید نا عمر فاروق ﷺ نے ان کو خیبر سے نکال دیاتھا۔اس وقت سے اب تک ذلت کی چادر اوڑھے یہ یہود اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ ساٹھ سال قبل یہودیوں نے سازش کے   ذریعہ ارضِ فلسطین پر قبضہ کیا اور پھر بیت المقدس پر قابض ہو کر سر زمین عرب میں ایک ناسور کی حیثیت سے اپنا ایک ملک ’’اسرائیل ‘‘ قائم کردیا جس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے اورآئے روز فلسطینی مسلمانوں کےخون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ۔اور بربریت ووحشت کا وہ طوفان برپا کیا جاتاہے ۔ کہ خود یہودی اس پر شرمسار ہوجاتے ہیں ۔مگر امریکہ اور یورپ کی پشت پناہی   روس ،چین کی سردمہری اور مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور برغیرتی سے یہودیوں کا ارض فلسطین کے مسلمانوں پر مظالم کا یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جار ہا ہے ۔ان کے ظالمانہ اقدامات کو ختم کرنے اور مظالم کوروکنے کی بجائے اقوام متحدہ اورامریکہ کا اصرار ہے کہ ان کی اس ناجائز اولاد اسرائیل کو تمام مسلم ممالک تسلیم کرلیں اور دوستی کے ہاتھ بھی دراز کریں۔حکامِ پاکستان کی جانب سے کچھ ایسے اشارے ملے کہ پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے پر غور کررہا تھا اس سلسلے میں پاکستانی علماء اور عوام نے   ایک مہم کے ذریعے حکومتی اقدامات کی مزامت کی اور یہ مسئلہ سردست سردخانے میں چلاگیا لیکن ایک بحث کا آغاز کردیا گیا ہےکہ ’’اسرائیل کو تسلیم ‘‘کرنے میں کیا حرج ہے۔ زیر نظر کتاب’’اسرائیل کوکیوں تسلیم کیاجائے ‘‘ مولانا محمدشریف ہزاروی کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے اس   مسئلہ کے شرعی پہلوؤں کواجاگر کرنے اور مذہبی نقطہ نگاہ سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے ایک گراں قدر فریضہ سرانجام دیاہے۔ اور اس کتاب میں انہوں نے اسرائیل کوتسلیم کرنے کےمضراثرات او ر تسلیم نہ کرنے کی شرعی وجوہات بیان کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

  • title-pages-islam-isaiyat-aur-sayyadena-eisa-as-copy
    خالد محمود سابق یوئیل کندن

    عیسائیت کے بارے میں جہاں عوام میں پھیلانے کے لئے مختصر اور عام فہم کتابچوں کی ضرورت ہے ،وہاں اس امر کی بھی شدید ضرورت ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ کو اس مذہب کی تحقیقی معلومات فراہم کی جائیں ،اور جو لوگ تقریر وتحریر کے ذریعے عیسائیوں میں تبلیغ اسلام کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، ان کو عیسائیت کے صحیح خدو خال سے آگاہ کیا جائے،ورنہ نامکمل معلومات کی بنیاد پر جو کام کیا جائے وہ بعض اوقات الٹے نتائج پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور عیسائیت اور سیدناعیسیٰ ‘‘ محترم خالد محمود صاحب کی تصنیف ہے موصوف نومسلم ہیں جنہوں نے 1988ء میں جامعہ عربیہ اسلامیہ نیو ٹاؤن کراچی میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔چونکہ خالد محمود صاحب کی پرورش وپرداخت ایک عیسائی گھرانے او ر عیسائی ماحول میں ہوئی تھی۔ او روہ اس کے اندرونی مزاج کو بخوبی سمجھتے تھے اس لیے ان کے پاس عیسائیوں کو ان کے اپنے مزاج کے مطابق دین اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کا ایک خصوصی موقع تھا۔کتاب ہذا ان کی ایک عیسائی پادری شمعون ناصر سے خط وکتابت کی کتابی صورت ہے۔اس میں انہو ں نے اسلام اور عیسائیت کا بڑے احسن انداز میں موازنہ کیا ہے ۔مصنف کی یہ تحریر نہ صرف مسلمانوں کےلیے بلکہ عصر حاضر کے ان عیسائی حضرات کے لیے بھی ذریعہ ہدایت ثابت ہوگی جو ہدایت کے طالب ہیں۔یہ کتاب پہلے ماہنامہ الفاروق کراچی میں مختلف اقساط میں شائع ہوئی بعد ازاں افادۂ عام کےلیے اسے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی عیسائیت کی تردیدمیں اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-islam-aur-rafahi-kam
    ام عبد منیب

    کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت اس کاکام کردینا یا معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں اور سہولتوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرنا چاہے وہ کوشش مال کے ذریعے ہو۔ چاہے خدمت او رمحنت کےذریعے چاہے معاشرے کو اس کی ضرورتوں اوراس سہولتوں کےشعور کو عام کرنے کےلیے معلوماتی تحریریں فراہم کی جائیں، ان سب کا نام رفاہی کام ہے جسے خدمت خلق بھی کہا جاتاہے ۔اورانسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اسلام اور رفاہی کام ‘‘ محرمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   رفاہی کام کی تعریف اور سابقہ شریعتوں میں رفاہی کاموں کا تصور بیان کرنےکے بعد شریعت محمدیہ میں رفاہی کا م کے تصور کو احادیث کی روشنی میں پیش کیاہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

  • pages-from-islam-aur-secularism
    ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور دنیا میں اسلامی نظام حکومت کا نفاذ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-aur-aalam-geeriyat
    ڈاکٹر خالد علوی

    مسلمانوں کو عالمی سطح پر جو چیلنج درپیش ہے اس کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔عالمی ساہوکاروں اور گلوبل کیپیٹلزم کے منتظمین نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔دنیا کے معاشی وسائل پر کنٹرول اور انسانی معاشروں کو مغربی معاشرت واخلاق کے نمونہ پر ڈھالنا ان کا ہدف ہے۔عالمی میڈیا عالمگیریت کو خوبصورت بنا کر پیش کر رہا ہےاور انسانیت کو یہ یقین دلایا جا رہا ہےکہ اس کی فلاح وبہبود اسی میں مضمر ہے،حالانکہ یہ عالمی استعمار کا دوسرا نام ہے۔چہرے کو روشن کر کے پیش کیا جارہا ہے اور اندرونی تاریکی کو چھپایا جا رہا ہے۔مسلمان اہل علم اور اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمگیریت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کریں۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام اور عالمگیریت)ڈاکٹر خالد علوی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ عالمگیریت کی حقیقت کو منکشف کیا جائے اور اس کے اسلامی معاشرے پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو سامنے لایا جائے۔انہوں نے داعیان اسلام کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ کفر کے دام ہمرنگ زمیں کا ادراک کریں اور نئی نئی اصطلاحات اور جدید اظہارات کی تہہ میں پوشیدہ مسلم مخالفت کو سمجھیں۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس گرانقدر خدمت کو قبول ومنظور فرمائے،اور اس کے ذریعے امت کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1641 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں