• #6747
    عمر فاروق

    1 مسلمان بچے حصہ دوم

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے  ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔تربیت اولاد  پر عربی اردو زبان میں جید اہل علم کی متعددکتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ مسلمان بچے   کتاب وسنت کی روشن ہدایات حصہ دوم  ‘‘  محترم جناب شیخ عمرفاروق  صاحب  کے  ہفت رزہ ’’ الاعتصام ‘‘بچوں کی تعلیم وتربیت   کے متعلق  خاص طور لکھے گئے  مضامین اور  اسی طرح  ’’ اذان سحر ڈائجسٹ‘‘ میں درس قرآن اور درس حدیث  کے  طور پر لکھے مضامین  کا مجموعہ ہے ۔یہ کتا ب بچوں کی تعلیم وتربیت اور آداب زندگی  کے مختلف کرداروں کو بحسن خوبی   نبھانے  کےلیے بڑی اہم ہے ۔اس کتاب کا  حصہ اول پہلے کتاب وسنت سائٹ  پر موجود ہے  (م۔ا) 

  • #6748
    مشتاق اے چوہدری

    2 مسلمانوں کا بلدیاتی نظام

    کسی بھی مضبوط جمہوری نظام میں بلدیاتی اداروں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد 1959ء میں پہلی بار جنرل ایوب خان کے دور میں بلدیاتی جمہوریتوں کا نظام متعارف کرایا گیا۔ جسے بعدازاں 1962 ء کے دستور میں شامل کیا گیا۔ بنیادی جمہوریتوں کے اس نظام پر دس ہزار کی آباد ی پر مشتمل یونین کونسل سب سے نچلے درجے کی مقامی کونسل تھی۔ یونین کونسل کے ارکان میں دس منتخب اور 5 نامزد ہوتے تھے جنہیں بی ڈی ممبر کہا جاتا تھا۔ یونین کونسل کا سربراہ چیئرمین کہلاتا تھا۔ یونین کونسل کے دائرہ کار میں مقامی سطح پر امن و امان کے قیام اور زراعت کی ترقی میں کردار ادا کرنا اور مقامی آبادی کے مختلف مسائل حل کرنا تھے ۔ مقامی منصوبوں کیلئے یونین کونسل ٹیکس عائد کرنے کی مجاز ہوتی تھی ۔ صدر پاکستان کے انتخابات کیلئے یہی ارکان ووٹ ڈالتے تھے ۔ اسی طرح تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کے ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں کام کرتےتھے۔ 1969ء میں ایوب خان کی حکومت کی رخصتی کے ساتھ یہ نظام بھی رخصت ہو گیا۔ دوسری بار لوکل گورنمنٹ سسٹم جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں نافذ کیا جس کے مطابق شہری اور دیہی دو طرح کے ادارے وجود میں آئے۔ شہروں میں ٹاؤن کمیٹی، مپونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن وجود میں آئیں اور دیہی سطح پر یونین کونسل، تحصیل کونسل اور ضلع کونسل کے ادارے وجود میں آئے۔ ان اداروں کے ارکان کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوتا جو کہ اپنے میئر یا چیئرمین کا انتخاب کرتے۔ تیسری بار 2001 ء میں بلدیاتی نظام پھر ایک فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے نئے انداز میں دیا۔ نئے بلدیاتی نظام کے تحت تین سطح پر مقامی حکومتوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ضلعی سطح پر ضلع ناظم ضلعی حکومت کا سربراہ بنایا گیا۔ اسی طرح تحصیل ناظم اور یونین کونسل ناظم اپنی اپنی سطح پر سربراہ بنے۔ ڈی سی او کو ضلع ناظم کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ کا سربراہ بنایا گیا جس کے ماتحت مختلف محکموں کے ای ڈی او، ڈی او اور ڈی ڈی اوز وغیرہ تھے۔  زیر نظر کتاب ’’مسلمانوں کابلدیاتی نظام ‘‘ مشتاق اے چوہدری کی  اس موضوع پر اولین کاوش ہے ۔پاکستان میں  حکومت خود اختیاری کےتحت  جو بلدیاتی نظام چل رہا ہے  ۔مصنف نےاس نقطۂ نظر سے مسلمانوں کےبلدیاتی نظام  پر اجمالاً بحث کی ہے ۔یہ کتاب بلدیاتی  نظام کے موضوع پر متعدد اور مستند مآخذوں کا بہترین ما حاصل  اور جامع خلاصہ ہے۔مؤلف نے زیر بحث موضوع پر  نہایت  اچھے الفاظ میں گفتگو کی ہے اور تاریخی شہادتوں  سے یہ ثابت کیا ہ کہ یورپ میں  جو آج بلدیاتی نظام کے نہایت اور اعلی نمونے  دیکھتے  کوملتے ہیں وہ اسلام ہی کی تعلیمات کا نتیجہ  ہیں ۔(م۔ا)

  • #6745
    طارق محمود مغل

    3 معاشرتی نفسیات

    معاشرتی نفسیات  فرد کے اس تجربے اور کردار کے سائنسی مطالعہ کا نام کے  ہے  جو کہ اس کےدوسرے افراد گروہوں اور ثقافت سے تعلق کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ معاشرتی نفسیات فرد کے حوالے سے معاشرتی نظام اور معاشرتی اداروں کو زیر بحث لاتی ہے۔معاشرتی نفسیات کابنیادی موضوع فرد کے معاشرتی کردار کا تجزیہ کرنا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ معاشرتی نفسیات ‘‘ جناب طارق محمود مغل کی تصنیف ہے  یہ کتاب انہوں نے بنیادی طور پر ایم ایس  سی نفسیات کے پرچہ معاشرتی نفسیات کو سامنے رکھ کر طلباء کے لیے تیار کی ہے۔یہ کتاب چار حصوں اورسولہ ابواب پر مشتمل ہے ۔مصنف نے اس کتاب میں  معاشرتی نفسیات کو اس کے حقیقی مقام کےمطابق ایک جدید اطلاقی سائنس کے طور پر پیش کیا  ہے ۔معاشرتی نفسیات کے تمام اہم موضوعات پر اس کتاب میں اس طرح   بحث کی گئی ہے  کہ قارئین پر اس کی افادیت واضح ہوجاتی ہے۔یہ کتاب قارئین کو انگریزی  میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں سے بے نیاز کردیتی ہے ۔معاشرتی نفسیات کے طلبا اور دوسرے قارئین بھی اس سے ے بھر پور استفادہ کرسکتے ہیں۔(م۔ا) 

  • #6746
    محمد طاسین

    4 مروجہ نظام زمینداری اور اسلام

    اسلامی معاشی نظام کےایک حصّے کا  تعلق معاشی زندگی کے زراعت  وکاشت کاری کے شعبہ  سے ہے  جو پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے ۔ اس شعبہ  کے مسائل  میں سے  ایک مسئلہ مزراعت وبٹائی کا مسئلہ ہے جو اپنے عملی اثرات  ونتائج کے لحاظ سےبڑا اہم  مسئلہ ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے شرعی جواز وعدم جواز کےمتعلق فقہاء اسلام کےبابین قدیم سے شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض فقہاء اس کو بنیادی طور پر جائز اور بعض اس کو بنیادی  طور پر ناجائز قرار دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مروجہ نظام  زمینداری اور اسلام  ‘‘  مولانا طاسین صاحب کی کاوش ہے  ۔ اس کتاب انہوں نے   نظام ِ زمینداری کا مفہوم  ومطلب،مسئلہ ملکیت  زمین،اقسام اراضی،مزارعت کی شرعی حیثیت،تعریف  اور اس کی مختلف شکلیں ،احادیث مزارعت ،مزارعت  کے جواز وعدم جواز  پر ائمہ کرام  کے موقف  کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • #6569
    ڈاکٹر اے وحید

    5 کاروان ادب

    اردو کی بنیاددکن کے قدیم صوفی شعراء اور مذہبی مبلغین نے رکھی ۔ اردو   ابتدائی لڑیچر تمام تر مذہبی  ہے اور 1350ء سے لے کر 1590ء تک ڈھائی سوسال کے دوران دکن  میں اردو کےبے شمار مذہبی رسالے لکھے گئے ۔دکن میں اردو ادب  کا پہلا دور 1590ء میں شروع ہوا ۔ 1590ء  سے 1730ء تک دکن میں کئی اچھے شاعر اور نثر نگار پیدا ہوئے  سچ پوچھیئے تو باقاعدہ اردو ادب کی بنیاد اسی زمانہ میں  رکھی گئی۔اس دور کی  سب سےا  ہم اور مشہور شخصیت شمس الدین ولی اللہ تھے اسے  بابائے ریختہ اور اردو شاعری کاباوا آدم کہا جاتا ہے۔اردو ادب  کی تاریخ او رارتقاء کےمتعلق متعدد کتب موجود ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’کاروان ادب ‘‘ ڈاکٹر اے وحیدکی  تصنیف ہے ۔ اس کتاب کی ترتیب میں نہایت جانفشانی سلیقے اور خوش ذوقی سے کام لیا گیا  ہے  فورٹ ولیم کے نثر نگاروں سے لے کر  کتاب کے تصنیف   تک کے  تمام ادیبوں کا تذکرہ اس کتاب میں موجود ہے باب  اول  ادب او ر اس کے اصناف  کے متعلق ہے  جس میں جملہ ادبی مسائل پر تفصیل سےعالمانہ بحث کی گئی ہے۔اس کے بعد  اصل کتاب شروع ہوتی ہے۔کتاب کے حصہ اول میں انیسویں صدی کے انشاء پر داز سر سید اور ان کےرفقا شبلی ، حالی، آزاد اور مہدی  کےکارناموں کا مختصر  تذکرہ  واقتباسات شامل ہیں ۔ دوسرا   حصہ اردو افسانہ ؍ناول اور ڈرامے پر مشتمل ہے ۔یہ  کتاب اردو  میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ۔جس میں اردو ادب کےارتقاء کی تاریخی داستان  موجو د  ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1943ء میں شائع ہوا اور دوسرا ایڈیشن ترمیم نو کےساتھ 1969ء میں  شائع ہوا ۔(م۔ا) 

  • #6744
    ایمل برنس

    6 مارکسزم کیا ہے ؟

    سا ئنسی اشتراکیت مارکسیت کے بانی کارل مارکس 5 مئی 1818ء میں جرمنی کے شہر ترئیر صوبہ رائن پروشیا میں ایک قانون دان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ مارکس کا مقام پیدائش صوبہ رائن صنعتی طور پر بہت ترقی یافتہ تھا۔1830ء سے 1835ء تک مارکس نے ترئیر کے جمناسٹکاسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جس مضمون پر اُن کو بی اے کی ڈ گری دی گئی اُس کا عنوان تھا ’’پیشہ اختیار کرنے کے متعلق ایک نوجوان کے تصورات‘‘مارکس کے سائنسی اور سیاسی نظریات نما یاں طور پر اُس وقت متشکل ہو ئے جب جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں میں عظیم تاریخی واقعات کی زمین ہموار ہو رہی تھی۔مارکس کی معاشی اور سماجی مسائل سے بھرپور لگن نہ صرف جرمنی کے عوام کی تکلیف دہ بد حالی اور محرومی دیکھ کر جاگی تھی بلکہ نہایت ترقی یافتہ سر مائے دار ملکوں،برطانیہ اور فرانس کے حالات و واقعات سے بھی ابھری تھی۔مارکس نے صر ف مادیت کو سما جی مظاہر تک پھیلایا بلکہ اس نے مادیت کے نقطۂ نظر کو مزید ترقی دی۔ جو اس کے پہلے میکانکی اور ما بعد الطبیعاتی نوعیت رکھتی تھی ۔مارکس نے اپنے فلسفے کی بنیاد سائنس اور خصوصاً قدرتی سائنس کے مجموعی مواد پر رکھی۔ اس نے ہیگل کی جدلیات کو مادیت کے ساتھ ملاکر ایک اکائی بنائی اور دنیا کو ایک کُلیت کی صورت میں نئی تشکیل دینے کی کو شش کی۔ زیر کتابچہ ’’مارکسزم کیا ہے ؟‘‘ ایمل برنس کے انگریزی کتاب کاترجمہ ہے جناب محمد کلیم اللہ نے اس  کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔ اس کتاب میں  سا ئنسی اشتراکیت مارکسیت کے بانی کارل مارکس کے   سائنسی افکا ر و نظریات کو مختصراً پیش کیا  گی ہے ۔(م۔ا) 

  • #6742
    مفتی شوکت علی فہمی

    7 ہندوستان پر اسلامی حکومت

    ہندوستان دنیا کا قدیم ترین ملک ہے ۔ اس ملک  کوو ہی قدامت حاصل ہےجو دنیا کے کسی پرانے سے پرانے ملک  کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کےبارے میں مؤرخوں کی رائے  ہے کہ  اس  ملک کی تہذیب او ر تمدن یونان سے بھی قدیم ہے۔ہندوستان ابتداء ہی ایک نہایت زرخیز ملک ہے ۔ لیکن اس کی زرخیزی اس ملک کے باشندوں کےلیے  ہمیشہ مصیبت بنی ر ہے ۔ چنانچہ ہندوستان کے گرد وپیش  جب بھی کسی قوم کو ذرا بھی اقتدار حاصل ہوا   وہ ہندوستان پر چڑھ دوڑی تاکہ ہندوستان کی زرخیزی سے مالا مال ہو سکے ۔ ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا زیرتبصرہ کتاب ’’ ہندوستان پر اسلامی حکومت ‘‘ مفتی شوکت علی فہمی کی  ہندوستان پر مسلم دور حکومت کی تاریخی معلومات پر  ایک دلچسپ تاریخی کتاب ہے۔مصنف نے  اس کتاب میں  مستند تاریخی حوالوں سے ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سےمغلیہ حکومت کے قیام تک کی  مختصر تاریخ  جامع انداز میں  ہندوستان کےمسلمان بادشاہوں کی سچی تصویر پیش کی ہے ۔تاکہ غیر مسلموں کےذہنوں سے بدگمانیوں کا زہر  نچوڑ لیا جائے۔اس تاریخی کتاب میں  جتنے بھی واقعات درج ہیں و ہ تمام کے تمام ہندوستان کی ان قابل اعتبار پرانی تاریخوں سے اخذ کیے گئے ہیں  جو  ہندوستان کےتقریباً  ہر طبقہ میں مستند خیال کی جاتی ہیں۔یہ  کتاب    ایڈیشن ہذا پہلے   56 برس قبل ہندوستان کی راجدھانی دہلی سےشائع ہوئی تھی۔50 برس سے یہ کتاب مارکیٹ سے ختم ہوچکی  تھی 2005ء میں سٹی بک پوائنٹ  کراچی نے پاکستان میں پہلی بار شائع کیا۔(م۔ا) 

  • #6743
    اے ایس صدیقی

    8 کامیابی

    زندگی کو خوبصورت بنانا ہر انسان کا بنیادی فرض ہے  لیکن اس کے لیے کچھ ضروری باتوں کا خیال رکھا جائے تو کام  نہایت آسان ہوجاتا ہے اور ان چند باتوں پر عمل کر کے ہی ہم اپنی زندگی کو کامیابی سے گزار سکتے ہیں ۔ کسی کام کو شروع کرنے  سے پہلے سو چ بچار کرلینا بہت سی لغرشوں سے محفوظ رکھتا ہے مثبت سوچ آپکو بہت ساری پریشانیوں سے بچا سکتی ہے ۔منفی سوچ کے بجائے مثبت طرز فکر کے ذریعے آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔یہ مثبت سوچ ہی ہوتی ہے جو آپ کو آگے بڑھنے بھروسا کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں مدد کرتی ہے۔کامیاب زندگی کے لئے نظم و ضبط بہت ضروری ہے۔ اگر نظم و ضبط نہیں ہوگا تو آپکو کامیابی کا راستہ کٹھن معلوم ہوگا۔نظم و ضبط کی تربیت ہمیں اپنے بچوں کو بچپن ہی سے دینی چاہئے۔ جو لوگ ہر کام وقت پر کرنے کے عادی ہوتے ہیں انہیں کامیابی حاصل کرنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی ۔ جناب اے ایس  صدیقی  صا حب  نےزیر نظر کتاب’’ کامیابی ‘‘ میں زندگی میں  کامیاب ہونے کے رہنما اصول  اور طریقوں کو آسان فہم انداز میں پیش  کیا ہے ۔یہ کتاب زندگی کو سنوارنے اور نکھارنے کے سلسلے میں قارئین کے لیے دلچسپ کتاب ہے ۔(م۔ا)

  • #6740
    ڈاکٹر صادق علی گل

    9 فن تاریخ نویسی (ھومر سے ٹائن بی تک )

    تاريخ ايک ايسا مضمون ہے جس ميں ماضی ميں پيش آنے والے لوگوں اور واقعات کے بارے ميں معلومات ہوتی ہيں۔تاریخ کا لفظ عربی زبان سے آیا ہے اور اپنی اساس میں اَرخ سے ماخوذ ہے جس کے معنی دن (عرصہ / وقت وغیرہ) لکھنے کے ہوتے ہیں۔ تاریخ جامع انسانی کے انفرادی و اجتماعی عمال و افعال اور کردار کا آئینہ دار ہے۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف شعبوں میں گزشتہ نسلوں کے بیش بہا تجربات آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے، تاکہ تمذن انسانی کا کارواں رواں دواں رہے۔تاريخ دان مختلف جگہوں سے اپنی معلومات حاصل کرتے ہيں جن ميں پرانے نسخے، شہادتيں اور پرانی چيزوں کی تحقيق شامل ہے۔ البتہ مختلف ادوار ميں مختلف ذرائع معلومات کو اہميت دی گئی۔ زیر تبصرہ کتاب’’فن تایخ نویسی ھومر سے ٹائن بی تک ‘‘ جناب صادق  علی گل (چئیرمین  شبعہ  تاریخ جامعہ پنجاب )کی تصنیف ہے  فاضل مصنف نے یہ کتاب  بنیادی طور پر طالب علموں کی ضروریات کے پیش  نظر لکھی ہے اور حتی المقدور کوشش کر کے  اس کتاب  کو  زیادہ سے زیادہ قابل فہم انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔مصنف نے ہر باب میں  اہم انگریزی اور اردو  تاریخی ، ادبی اور علمی ماخذوں سے وسیع استفادہ کیا ہے ۔یہ کتاب تاریخ کی تاریخ اور اس کا اصل موضوع تاریخ نویسی کے وہ اصول وضوابط جن کا جاننا ہر پیشہ ور مؤرخ کے لیے ضروری ہے ۔ ان اصولوں کی عدم موجودگی میں تاریخ نہیں بلکہ قصے کہانیوں، افسانوں کے مجموعے اور داستانیں جنم لیتی ہیں۔یہ کتاب تاریخ نویسی کے تنقیدی نظریات  کے ارتقاء کی تاریخ نہیں بلکہ اس میں مختلف اصول پیش کرتے وقت  مصنف نے مغربی تاریخ سے متعلق بحثوں کو زیادہ ترنظر انداز کردیا ہے  اور محض اصولوں کے ذکر پر اکتفا کیا ہے ۔(م۔ا) 

  • #6741
    گلریز محمود

    10 ہمارے بچے اور والدین کی شرعی ذمہ داریاں

    اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا  واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا  جائے  ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے  اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں  کوئی شک نہیں  کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت  کی جائے  تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی  ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے  اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے  تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ بچے  اللہ تعالیٰ  کابہترین  عطیہ اور انسان کے لیے صدقہ جاریہ  ہیں ۔والدین اپنے بچوں کے مستقبل کےبارے  میں بہت سہانے خواب دیکھتے ہیں اور اپنا مال ودولت  بھی کھلے  دل سے ان کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں مگردین  کے  لحاظ سے   ان کی تربیت کا پہلو بہت کمزور رہ جاتا ہے ۔نتیجتاً اولاد صدقہ جاریہ بننے کی بجائے نافرمان بن جاتی ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ہمارے بچے اور والدین کی شرعی  ذمہ داریاں‘‘ محترمہ  گلریز محمود صاحبہ کی  مرتب شدہ ہے ۔ مصنفہ  کا  اس کتاب کو لکھنے  کا مقصد  والدین  کورسول اللہﷺ کے طریق تربیت کی جھلک دکھانا اور یہ بتانا  ہے کہ بچوں کی  تربیت کس انداز سےکریں کہ  وہ ان کےلیے حقیقتاً صدقہ جاریہ بن جائیں۔مصنفہ نے اس کتاب میں  کوشش کی  ہے کہ لوگوں کو نبی کریم ﷺ کےطریقہ تربیت کے چیدہ چیدہ واقعات  بتائے جائیں کہ پیغمبرانہ ذمہ داریوں  کےباوجود آپ ﷺ نے اپنی اولاد اور نواسوں سے کس طرح محبت کی اُن کا احتساب کس طرح کیا ۔عام بچوں سے آپ ﷺ کابرتاء کیا تھا  ۔ بچے کی پیدائش پر کون سے رسم  ورواج مسنون ہیں۔ ان کی اہمیت کیا ہے  اور آج کل کے دور میں لوگوں نےان رسوم ورواج میں کس طرح کے اضافے کر لیے ہیں۔آپ ﷺ نے اس دور  کےبچوں کوتربیت کے لیے   کون سے خصوصی طریقے اختیار کیے ۔ آج  والدین کو وہ طریقے  اپنانے کی ضرورت  ہے ۔ اگر وہ اولاد کی تربیت شریعت کے مطابق نہیں کریں گے  تو ان کی اہمیت اولاد کی نظر میں صرف اس وقت تک  ہوگی جب  تک کہ  وہ اولاد کے لیے مالی طور پر فائدہ مند ہیں ۔اس  کے بعد ان  کی حیثیت گھر میں پڑی ہوئی ایک فاتو چیز کی ہوجائے گی۔اس کتاب میں کچھ بزرگان دین کےبچپن کےواقعات بھی بیان کئے گئے ہیں او ربتایا گیا ہےکہ ان کی  ماؤں نے ان  کی تربیت کس طرح کی۔نیز اس کتا میں  بچوں کی تربیت کےحوالے سے  مفکرین کی آراء اور ماہر نفسیات اورڈاکٹروں کےانٹرویو بھی شامل کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ  مصنفہ کی  اس  کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتا ب کو  عامۃ الناس  کےلیے نفع بخش بنائے  ۔ (آمین)(م۔ا) 

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39825379

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں