کل کتب 83

دکھائیں
کتب
  • 21 #1268

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 25014

    برہان التفاسیر

    (جمعہ 27 اپریل 2012ء) ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ

    جب سے دینِ اسلام کا سورج طلوع ہوا ہے اسی وقت سے اس نور ہدایت کو بجھانے کے لیے اسلام دشمن قوتیں اپنی سی کوششیں کر رہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات کا بھی ظہور ہوتا رہا جنھوں نے حفاظت دینِ حق کی سعادت حاصل کی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کا شمار بھی ایسی عبقری شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے دفاع اسلام کا حق ادا کردیا۔ زیر مطالعہ کتاب کا پس منظر یہ ہے کہ سلطان محمد پادری صاحب نے اپنے رسالے میں ’سلطان التفاسیر‘ کے عنوان سے قرآن کریم تفسیر کی لکھنا شروع کی ظاہر سی بات ہے پادری صاحب کا مقصود قرآن کریم کو بائبل سے ماخوذ کتاب ثابت کرنا تھا ایسے میں مولانا ثناء اللہ امرتسری کاقلم کیسے خاموش رہ سکتا تھا انھوں نے اپنے رسالے میں موصوف کے اعتراضات کا شائستہ انداز میں محاکمہ کیا اور دلائل کی قوت سے ان کا رد کیا۔ پادری صاحب زیادہ دیر تک مولانا کے دلائل کا سامنا نہ کر سکے اور پہلے پارے کے چوتھے حصے پر پہنچ کر بواسیرلاحق ہونے کا کہہ کر اس سلسلہ کو جاری رکھنے سے معذرت کر لی۔ تب تک مولانا کے مضامین کی 81 اقساط شائع ہو چکی تھیں۔ اس کتاب میں ان اقساط کو یکجا کر کے پیش کیا گیا ہے۔(عین۔ م)
     

  • 22 #6968

    مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    مشاہدات : 875

    تبصیر الرحمن فی تفسیر القرآن جلد اول

    dsa (ہفتہ 25 مئی 2019ء) ناشر : مقبول عامر پریس لاہور

    سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم  علمی  شخصیات کو جنم دیا ہے  جن  میں مولانا ابراہیم میر  سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال،  شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷭ سرفہرست ہیں  مولانا ابراہیم میر 1874ء  کو  سیالکوٹ میں  پیدا  ہوئے سیالکوٹ  مرے کالج میں شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال کے  ہم جماعت  رہے   مولاناکا گھرانہ دینی تھا لہذا والدین کی خواہش  پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور   دینی تعلیم کے حصول کے لیے  کمر بستہ  ہوگے ۔ شیخ الکل سید نذیر حسین  محدث دہلوی ﷫ کے حضور  زانوے تلمذ طے کیا مولانا میر سیالکوٹی  سید صاحب کے  آخری دور کےشاگرد ہیں  اور انہیں  ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل  ہے ۔مولانا سیالکوٹی  نے  جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ  حافظ  عبد اللہ محدث روپڑی  ﷫نے  پڑہائی اللہ ان کی  مرقد پر اپنی  رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین )مولانا  مرحوم نے درس تدریس تصنیف وتالیف دعوت ومناظرہ وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں  مولانا نےنمایاں کردار اداکیا  مرزائیوں سے  بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے  اور مولانا  ثناء اللہ  امرتسری  ﷫کے دست وبازوبنے رہے  مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 ؍کتابیں تصنیف کیں ۔مولانا کی تصانیف میں تفسیر’’ تبصیر الرحمن‘‘  بھی شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبصیر الرحمٰن  فی تفسیر القرآن ‘‘ کی پہلی جلد ہے  جو کہ پارہ اول کی تفسیر  پر مشتمل ہے ۔سورۃ فاتحہ کی الگ تفسیر ’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن ‘‘ کے نام   سے بھی مطبوع ہے۔ مولانا  ابراہیم میر سیالکوٹی نے  طریقِ تفسیر کے  مسالک خمسہ(مسلک محدثین،مسلک متکلمین،مسلک صوفیائے کرام ،مسلک فقہائے مجتہدین،مسلک اہل ادب  ومعانی ) کو  ملحوظ رکھتے  ہوئے یہ تفسیر مرتب کی ہے ۔ اور مفسّر نےاپنی تفسیر میں جگہ جگہ تفسیر رحمانی  کا حوالہ دیا ہے ۔تفسیر تبصیر الرحمن کی  یہ جلد اول  تقریباً ستر سال قبل  1949ء میں  مسلمان  کمپنی ،سوہدرہ  نے شائع کی تھی  جواب نایاب ہے  ۔ استاد گرامی شیخ الحدیث مولانا  ابو عمارعمرفاروق سعید ی﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ ) سے  حاصل کر کے کتاب وسنت پر سائٹ پر پبلش کی گئی ہے  تاکہ  یہ    نایاب تفسیر  محفوظ ہوجائے اور دنیا بھر میں کتاب وسنت   سائٹ کے ہزاروں  قارئین   اس سے مستفید ہوسکیں ۔اگر کسی  کے پاس  پارہ  اول ،پارہ ،سوم اورتفسیر سورۃ کہف کے علاوہ  مولانا میر سیالکوٹی ﷫ کی   تفسیر  کے اجزاءہوں   ہمیں   عنائت  کریں   سکین کرنے کے بعد  قابل واپسی ہونگے   ۔ ان شاء اللہ ۔(م۔ا) تفاسیر قرآن ۔(م۔ا)

  • 23 #6969

    مصنف : محمد ابراہیم میر سیالکوٹی

    مشاہدات : 776

    تبصیر الرحمن فی تفسیر القرآن پارہ سوم

    (اتوار 26 مئی 2019ء) ناشر : حمایت اسلام پریس لاہور

    سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم  علمی  شخصیات کو جنم دیا ہے  جن  میں مولانا ابراہیم میر  سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال،  شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷭ سرفہرست ہیں  مولانا ابراہیم میر 1874ء  کو  سیالکوٹ میں  پیدا  ہوئے سیالکوٹ  مرے کالج میں شاعر مشرق  علامہ محمد اقبال کے  ہم جماعت  رہے   مولاناکا گھرانہ دینی تھا لہذا والدین کی خواہش  پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور   دینی تعلیم کے حصول کے لیے  کمر بستہ  ہوگے ۔ شیخ الکل سید نذیر حسین  محدث دہلوی ﷫ کے حضور  زانوے تلمذ طے کیا مولانا میر سیالکوٹی  سید صاحب کے  آخری دور کےشاگرد ہیں  اور انہیں  ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل  ہے ۔مولانا سیالکوٹی  نے  جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ  حافظ  عبد اللہ محدث روپڑی  ﷫نے  پڑہائی اللہ ان کی  مرقد پر اپنی  رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین )مولانا  مرحوم نے درس تدریس تصنیف وتالیف دعوت ومناظرہ وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں  مولانا نےنمایاں کردار اداکیا  مرزائیوں سے  بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے  اور مولانا  ثناء اللہ  امرتسری  ﷫کے دست وبازوبنے رہے  مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 ؍کتابیں تصنیف کیں ۔مولانا کی تصانیف میں تفسیر’’ تبصیر الرحمن‘‘  بھی شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبصیر الرحمٰن  فی تفسیر القرآن  ‘‘پارہ سوم کی تفسیر  پر مشتمل ہے ۔ مولانا  ابراہیم میر سیالکوٹی نے  طریقِ تفسیر کے  مسالک خمسہ(مسلک محدثین،مسلک متکلمین،مسلک صوفیائے کرام ،مسلک فقہائے مجتہدین،مسلک اہل ادب  ومعانی ) کو  ملحوظ رکھتے  ہوئے یہ تفسیر مرتب کی ہے۔ اور مفسّر نےاپنی تفسیر میں جگہ جگہ تفسیر رحمانی  کا حوالہ دیا ہے ۔  پارہ سوم  میں   سے آخری 56 آیات کی تفسیر اس  میں نہیں ہے  سورۃ آل عمران کی آیت  نمبر 35 تک تفسیر موجود ہے۔تفسیر تبصیر الرحمن کاپارہ سوم  مسلمان  کمپنی ،سوہدرہ  نے شائع کیاتھا  جواب نایاب ہے  ۔ استاد گرامی شیخ الحدیث مولانا  ابو عمارعمرفاروق سعیدی﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ ) سے  حاصل کر کے اسے کتاب وسنت پر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے  تاکہ  یہ    نایاب تفسیر  محفوظ ہوجائے اور دنیا بھر میں کتاب وسنت   سائٹ کے ہزاروں  قارئین   اس سے مستفید ہوسکیں ۔اگر کسی  کے پاس  پارہ  اول ،پارہ ،سوم اورتفسیر سورۃ کہف کے علاوہ  مولانا میر سیالکوٹی ﷫ کی   تفسیر  کے اجزاءہوں   ہمیں   عنائت  کریں   سکین کرنے کے بعد  قابل واپسی ہونگے   ۔ ان شاء اللہ ۔(م۔ا)

  • 24 #5325

    مصنف : ابو مسعود حسن علوی

    مشاہدات : 3217

    تدریس لغۃ القرآن جلد اول

    dsa (اتوار 07 مئی 2017ء) ناشر : اسلامک ریسرچ اکیڈمی راولپنڈی

    عربی زبان ایک زندہ  وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش  ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " تدریس لغۃ القرآن "محترم ابو مسعود حسن علوی صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے عربی زبان کے اصول وقواعد کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 25 #2265

    مصنف : ابو الکلام آزاد

    مشاہدات : 7091

    ترجمان القرآن جلد اول

    dsa (اتوار 20 جولائی 2014ء) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں ۔تاکہ خدمت قرآن کے  عظیم الشان شرف سے مشر ف ہوں۔زیر نظر ترجمہ وتفسیر ''  ترجمان القرآن '' ہندوستان کی تحریک آزادی کے فعال اور پرجوش رکن مولانا ابو الکلام آزاد کی ہے۔جس میں انہوں نے ترجمہ کے ساتھ ساتھ مختصر تفسیر اور فوائد بھی قلمبند کئے ہیں۔تفسیر لکھنے کے دوران آپ کو قید وبند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑیں،اور ہند کی جانب سے  بار بار اس تفسیر کے مسودات تفتیش کی غرض سے ضبط کئے جاتے رہے۔لیکن آپ نے ہمت نہ ہاری اور اس سعادت کے حصول میں مسلسل کوشاں رہے۔اس میں پہلے مسودات گم ہوجانے کی وجہ سے آپ کو کچھ پارے ایک سے زائد بار بھی لکھنے پڑے۔اس تفسیر کو مکمل کرنے میں آپ کو ستائیس سال کا طویل عرصہ  لگ گیا۔آخر کار آپ اس کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔یہ کتاب تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی مولف کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اجافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)
     

     

  • 26 #1063

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 22401

    ترجمہ وتفسیر تیسواں پارہ

    (جمعہ 16 دسمبر 2011ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    قرآن حکیم سرچشمہ رشدوہدایت اور منبع خیر وبرکت ہے،یوں تو دینی راہنمائی ،دین اسلام کی حقانیت ،توحیدکے بیان اور کفر و شرک کے ابطال کےلیے پورا قرآن ہی مجسم ہدایت ہے،لیکن عقائد کی اصلاح، جنت کی ترغیب ،روز قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم سے ترہیب تیسویں پارے میں زیادہ بیان ہوئی ہے ۔نیزاس پارہ میں تزکیہ نفس اور اصلاح نفس پر زیادہ زور دیا گیاہے ۔اختصاروجامعیت کے اعتبار سے بھی یہ پارہ خاص اہمیت کا حامل ہے ،اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ دار السلام نے اس پارہ کو الگ جلد میں شائع کیاہے تاکہ عوام الناس میں قرآن پڑھنے کاذوق اجاگر ہو اور وہ قرآنی تعلیمات سے کما حقہ بہرہ مند ہوسکیں۔(ف۔ر)
     

  • 27 #3981

    مصنف : ابو طاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادی

    مشاہدات : 5945

    تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہ جلد اول

    dsa (بدھ 20 جنوری 2016ء) ناشر : مکی دارالکتب لاہور

    قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی اجتماعیت کے لئے قیامت تک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے قرآنی تعلیمات پر نہ صرف ایک جماعت قائم کی بلکہ ایک زندہ وتابندہ سو سائٹی بھی قائم کر کے دکھائی، جس نے انسانی ترقی کا ایک ایسا منصفانہ نظام زندگی فراہم کیا جس سے آج کا  انسان بے نیاز نہیں رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔زیر تبصرہ کتاب"تفسیر ابن عباس "صحابی رسول ترجمان القرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس  کی طرف منسوب ہے، جسے ابو طاہر محمد بن یعقوب  فیروز آبادی ﷫نے مرتب کیا ہے۔اس تفسیر کی نسبت کے حوالے سے اسلاف کی مختلف آراء موجود ہیں۔اس کی اسناد کے متعلق بھی گفتگو کی خاصی گنجائش موجود ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی متعدد روایات صحاح ستہ ودیگر کتب حدیث میں موجود ہیں۔اس لئے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔یہ کتاب اردو میں تین ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 28 #543

    مصنف : حافظ عماد الدین ابن کثیر

    مشاہدات : 31105

    تفسیر ابن کثیر(تخریج شدہ) جلد1

    dsa (پیر 02 مئی 2011ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطی کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ بعض اوقات تو امام رحمہ اللہ خود ہی ایک روایت نقل کر کے اس کے ضعف یا وضع کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں لیکن ایسا کم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ تفسیر بالماثور کے اس مرجع ومصدر میں ان مقامات کی نشاندہی کی جائے جو ضعیف یا موضوع روایات یا منگھڑت اسرائیلیات پر مشتمل ہیں ۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے محقق اور مولانا مبشر احمد ربانی صاحب کے شاگرد رشید جناب کامران طاہر صاحب نے اس تفسیر  کی تخریج کی ہے اور حافظ زبیر علی زئی صاحب نے اس کی تحقیق اور  تخریج پر نظر ثانی کی ہے۔تخریج و تحقیق عمدہ ہے لیکن اگر تفسیر کے شروع میں محققین حضرات اپنا منہج تحقیق بیان کر دیتے تو ایک عامی کو استفادہ میں نسبتاً زیادہ آسانی ہوتی کیونکہ بعض مقامات پر ایک عامی الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جیسا کہ پہلی جلد میں ص ۳۷ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے ’صحیح‘ قرار دیا ہے لیکن اس کی سند منقطع ہے۔اسی طرح ص ۴۲ پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ اس روایت کی سند صحیح ہے اور اسے ضعیف کہنا غلط ہے۔ اب یہاں یہ وضاحت نہیں ہے کہ کس نے ضعیف کہا ہے اور کن وجوہات کی بنا پر کہا ہے اورضعیف کے الزام کے باوجود صحیح ہونے کی دلیل کیا ہے ؟اسی طرح ص ۴۳پر ایک روایت کے بارے لکھا ہے کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔ان مقامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محققین نے علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد نہیں کیا ہے بلکہ اپنی تحقیق کی ہے جبکہ ایک عام قاری اس وقت الجھن کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ اکثر مقامات پر یہ دیکھتا ہے کہ کسی روایت یا اثر کی تحقیق میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی تصحیح وتضعیف نقل کر دی جاتی ہے اور یہ وضاحت نہیں کی جاتی ہے کہ محققین نے ان مقامات پرمحض علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر اعتماد کیا ہے یا اپنی بھی تحقیق کی ہے اور اگر اپنی بھی تحقیق کی ہے تو ان کی تحقیق اس بارے علامہ البانی رحمہ اللہ سے متفق ہے یا نہیں ؟یہ ایک الجھن اگر اس تفسیر میں شروع میں منہج تحقیق پر گفتگو کے ذریعہ واضح ہو جاتی تو بہتر تھا۔ بہر حال بحثیت مجموعی یہ تخریج وتحقیق ایک بہت ہی عمدہ اور محنت طلب کاوش ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ زبیر علی زئی اورجناب کامران طاہر حفظہما اللہ کو اس کی جزائے خاص عطا فرمائے۔ آمین!

  • 29 #827

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 29210

    تفسیر احسن البیان

    (اتوار 28 اگست 2011ء) ناشر : شاہ فہد قرآن کمپلیکس

    امت مسلمہ کی ذلت ورسوائی کا ایک بڑا سبب ،صب تصریح حدیث پاک ،قرآن حکیم سے منہ موڑنا ہے ۔اگر کچھ لوگ قرآن پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی ومفاہیم سے بے خبر ہیں۔ضرورت ہے کہ ہر مسلمان خدا کی آخری کتاب کو سمجھنے کو شش کرے ۔اس کے لیے کسی ایسی مختصر تفسیر کی ضرورت تھی جس کا مطالعہ آسان ہو اور اس کی عبارت عام فہم ہو۔اس ضرورت کو ’تفسیر احسن البیان‘نے بہ خوبی پورا کیا ہے ۔یہ معروف عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر ہے۔جس میں منہج سلف کے مطابق قرآنی مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اسی بناء پر سعودی حکومت اسے شائع کر کے حجاج کرام میں تقسیم کرتی ہے ۔زیر نظر نسخہ بھی سعودیہ کا چھپا ہوا ہے ۔خدا کرے کہ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ فلاح وکامرانی ان کا مقدر بن سکے۔(ط۔ا)
     

  • 30 #1982

    مصنف : حافظ صلاح الدین یوسف

    مشاہدات : 5359

    تفسیر احسن البیان ( تفسیر مکی)

    (جمعرات 17 اپریل 2014ء) ناشر : نا معلوم

    امت مسلمہ کی ذلت ورسوائی کا ایک بڑا سبب ،صب تصریح حدیث پاک ،قرآن حکیم سے منہ موڑنا ہے ۔اگر کچھ لوگ قرآن پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی ومفاہیم سے بے خبر ہیں۔ضرورت ہے کہ ہر مسلمان خدا کی آخری کتاب کو سمجھنے کو شش کرے ۔اس کے لیے کسی ایسی مختصر تفسیر کی ضرورت تھی جس کا مطالعہ آسان ہو اور اس کی عبارت عام فہم ہو۔اس ضرورت کو 'تفسیر احسن البیان'نے بہ خوبی پورا کیا ہے ۔یہ معروف عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر ہے۔جس میں منہج سلف کے مطابق قرآنی مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اسی بناء پر سعودی حکومت اسے شائع کر کے حجاج کرام میں تقسیم کرتی ہے ۔زیر نظر نسخہ بھی سعودیہ کا چھپا ہوا ہے ۔خدا کرے کہ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ فلاح وکامرانی ان کا مقدر بن سکے۔(ط۔ا)

     

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1881
  • اس ہفتے کے قارئین 5745
  • اس ماہ کے قارئین 44139
  • کل قارئین49310501

موضوعاتی فہرست