شریعت اسلامی کے بنیادی مآخد عربی زبان میں ہیں لہذا قرآن وسنت اور شریعتِ اسلامیہ پر عبور حاصل کرنےکا واحد ذریعہ عربی زبان ہے۔ اس لحاظ سے عربی سیکھنا اور سکھانا امت مسلمہ کا اولین فریضہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی اکثریت عربی زبان سے ناواقف ہے جس کی وجہ سے وہ فرمان الٰہی اور فرمان نبوی ﷺ کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ حتی کہ تعلیم حاصل کرنے والے لوگوں کی اکثریت سکول ،کالجز ،یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل اسلامیات کے اسباق کو بھی بذات خود پڑھنے پڑھانے سے قا صر ہے ۔دنيا كي سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان دنیا کے نقشے پر اس لیے جلوہ گر ہوئی تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی اقدار اور دینی شعائر کا احیاء ہوگا۔علماء ومدارس کی اپنی حدتک عربی زبان کی نشرواشاعت کے لیے کوششیں وکاوشیں قابل ذکر ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر حکومت کی طرف کماحقہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ نصاب الادب ‘‘ مجلس المدینہ العلمیہ(دعوت اسلامی) کی کاوش ہے ۔ اس کتاب کی جدت ،ندرت،اہمیت اور افادیت یہ ہے کہ یہ جدیداحوال وظروف اور وزمرہ معاملات ومسائل کو پیش نظر رکھ کر مرتب کی گی ہے ۔ تدریس وتفہیم...
کسی بھی زبان کی تعلیم و تعلم کے لیے اس کے قواعد و ضوابط کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔ علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نصاب النحو‘‘ مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی) کی پیشکش ہ...
دين اسلام میں جس طرح نماز کی اہمیت مسلمہ ہے بالکل اسی طرح نماز کے اندر سورۃ فاتحہ کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے- كتاب وسنت كی نصوص اس سلسلے میں واضح راہنمائی فراہم کرتی ہیں اگر کوئی شخص غیر جانبداری سے ان کا مطالعہ کرے تویقینا راہ صواب اس کی منتظر ہے-علمائے اسلام کی جانب سے اس موضوع پر بہت سی کتب منظر عام پر آئیں-اس سلسلے میں امام بخاری نے ایک کتاب جزء القراء ۃ للبخاری کے نام سے تصنیف کی – جس میں انہوں نے فاتحہ خلف الامام کو موضوع بحث بناتے ہوئے تفصیل کے ساتھ اپنی علمی آراء کا اظہار فرمایا-حافظ زبیر علی زئی نے اسی موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے امام صاحب کی کتاب کا ترجمہ، تحقیق ، تعلیقات اور اضافہ جات کے ساتھ انتہائی سادہ انداز میں عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اتمام حجت کیا ہے-اس سلسلے میں انہوں نے احادیث مرفوعہ،آثار صحابہ،آثار التابعین اور اس ضمن میں علماء کرام کا تذکرہ کر کے ثابت کیاہے کہ کسی بھی مرفوع حدیث میں فاتحہ خلف الامام کی ممانعت وارد نہیں ہوئی-فاتحہ خلف الامام کی ممانعت میں جتنی بھی احادیث بیان کی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں ہیں ی...
ہر دور میں دشمنانِ اسلام نے اسلام کے خلاف بڑی گہری سازشیں کیں کسی نے اللہ کا انکار کیا، کسی نے انیباء و رسل کا انکار کیا اور کسی آسمانی کتابوں کا انکار کیا، لیکن ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے دشمنان اسلام کی سازشوں کو نا کام کیا کیونکہ اللہ نعالیٰ نے دین اسلام کو بھیجا ہی ادیان باطلہ پر غالب کرنے کے لئےہے۔لہذا اس دور میں بھی دشمنان اسلام نے قرآن مجید کا انکارایسے اندازمیں کیا ، وہ اس طرح کہ انہوں نے ایسی چیز کا انکار کیا ہے جس کے بغیرقرآن سمجھنا نا ممکن ہے اور وہ ہے رسول اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ کیونکہ جب احادیث کا انکار ہو گیا تو شریعت کی باقی چیزوں کا انکار خود بخود ہو جائے گا۔اور اللہ نے تعالیٰ کے فضل کرم سے منکرین حدیث کی کوششوں کو نا کام بنانے کے لئے علماء و محدثین نے محنتیں کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نصرۃ الحدیث‘‘ محدث جلیل حضرت مولانا ابو المآثر حبیب الرحمٰن الاعظمی کی ہے۔ جس میں نبی ﷺ کے فرامین کو مجروح کرنے اور انھیں معاذ اللہ نا قابل اعتبار ٹھرانے کے لیے منکرین رسالت جو وسوسے مسلمانوں کے دلوں میں ڈال رہے ہیں اور جو نکتے تراش رہے...
اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث "ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے،بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔"امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔اہل حدیث ہی وہ فرقہ ہے جو خالص کتاب وسنت کا داعی ہے۔ زیر نظر کتاب "نصیحت" حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کی ایک جماعتی تصنیف ہے۔ اور کتاب ہذا میں وہ ارشادات کو جمع کیا گیا ہے جو مولانا سلفیؒ نے جماعت اہل حدیث کے سربراہ اور منتظم ہونے کی حی...
یہ دنیا دار الامتحان ہے اس میں سانس لینے والے ہر شخص کو اس کے بِتائے گئے روز و شب کا جواب دہ ہونا ہے۔ کامیاب شخص وہ ہے جو دنیوی نعمتوں کے حصول کو اپنا مقصد اولین نہ بنائے بلکہ اپنے اللہ کو راضی کرنے کی تگ و دو میں رہے اور اپنے آپ کو جہنم سے بچاتے ہوئے جنت کا وارث بن جائے۔ پیش نظر مختصر سی کتاب میں فاضل مؤلف عبدالعزیز بن عبداللہ المقبل نے خواتین کو 50 ایسی نصیحتیں کی ہیں جو نہ صرف ان کی دنیوی زندگی کوحد درجہ پرسکون بنا دیں گی بلکہ ان پر عمل سے اخروی زندگی میں بھی انشاء اللہ کامرانیاں ایک مسلم عورت کی منتظر ہوں گی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کتاب ایسے اقوال زریں پر مشتمل ہے جو خواتین کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں نہایت خوش کن اثرات مرتب کریں گے۔
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت...
قرآن کریم کی تفسیرکی طرح رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کا موضوع بھی ایسا متنوع اور سد ابہار ہے کہ ہر دور کے اصحاب علم وتحقیق اور اہل قرطاس وقلم اپنے اپنے انداز اور اسلوب میں شانِ رسالت میں خراجِ محبت اور گل ہائے عقیدت پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ ماضی قریب میں اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ موسوعۃ نضرۃ النعیم فی اخلاق الرسول الکریم بھی اس سی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’موسوعۃ...
اسلام اللہ کا قانون ہے اور یہی اس کی صداقت اور عدالت کی مستند دلیل ہے۔اللہ تعالی نے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے انسانیت کی پاک باز اور معصوم شخصیات کا انتخاب کیا اور ان سے اسلام کے نفاذ کا عہد لیا۔چنانچہ ہر صاحب منصب نے اپنے اپنے عہد میں نظام اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے ساتھ ساتھ اسے نافذ بھی کیا۔ اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام...
تعلیم کا مسئلہ ہر ملک کےلیے ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کے لیے یہ ایسی شاہ کلید ہے ،جس سے سارے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔مسلمانوں نے جب تک اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا وہ دنیا کے منظرنامہ پر چھائے رہے اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ، لیکن جب مسلمانوں کی غفلت کے نتیجے میں پوری دنیا اخلاقی بحران کاشکار ہوگئ تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا۔اس کی سب سےبڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی بنیاد ہی فراموش کردی اور یورپ کے نظام تعلیم کو اختیار کرلیاجس نے پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔ خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے وہ جب اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ کرنکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ یورپ کے پروردہ ہیں جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں میں ایک کشمکش کی فضا پید ا ہوگئی ہے۔مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے اپنی تقریروں او رتحریر وں میں اسلامی ملکوں میں ذہنی کشمکش کا بنیادی سبب...
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبہ میں اصول فراہم کرتا ہے ، جاسوسی کے موضوع پر بھی اسلام نے راہنمائی فرمائی ہے۔ عام طور پر ہر چیز کے جواز عدمِ جواز کے حوالے سے دو جہت ،دو پہلو ہوتے ہیں چنانچہ جاسوسی کے بھی دو پہلو ہیں ایک جائز او ردوسرا ناجائز۔جائز پہلو یہ ہے کہ اسلامی ملک کونقصان دینے اور اس کو کمزور کرنے والے شرپسند عناصر کا کھوج لگانا اور ان کے منصوبوں کوناکارہ کرنا او ران کے غلط عزائم سے حکام کو اطلاع دینا یہ جائز ہے اور ناجائز پہلو یہ کہ مسلمانوں کی نجی زندگی میں کھوج لگانا اور ان کے بھید معلوم کرنا اس پہلو کوشریعت مطہرہ نے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے ۔زیر نظر ''کتاب نظام جاسوسی ایک جائزہ اور اس کا شرعی حکم '' جاسوسی کے موضوع پر ایک اچھی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس میں سب سے پہلے جاسوس کی لغوی واصطلاحی تحقیق اور جاسوسی کی تاریخ ،جاسوسی اصطلاحات اور پھر دورِ حاضر کی بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیوں کامختصراً تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں جاسوسی کےحوالے سے شرعی نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو شرف قبولی...
جس طرح اسلام عقائد وایمانیات اورعبادات یعنی اللہ تعالیٰ اوراس کے بندوں کے درمیان تعلقات کا نظام پیش کرتاہے اسی طرح دنیاوی معاملات یعنی بندوں کے باہمی تعلقات کا نظام بھی عطا کرتا ہے ۔انسانی معاملات وتعلقات اگرچہ باہم مربوط متحد ہیں تاہم تفہیم وتسہیل کے لیے ان کو سیاسی،سماجی ،اقتصادی اورتہذیبی نظاموں کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ان میں سے بشمول نظامِ حکومت اور ہر ایک نظام کے لیے اسلام نے تمام ضروری اور محکم اُصول بیان کردیئے ہیں۔اُسوۂ نبوی نے ان کی عملی فروعات بھی تشکیل دے دی ہیں او ر صحابہ کرام اور خلفاء عظام اور ان کے بعد اہل علم نے ان پرعمل کر کے بھی دکھایا ہے ۔عہد نبوی کا نظام حکمرانی یا اسلامی نظام ِحکومت کے متعلق متعدد کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ نظامِ حکومت نبویہ ‘‘ علامہ عبد الحی الکتانی کی عہد نبوی کے نظام ِحکمرانی کے متعلق م...
طاغوت، عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے متعد د معانی ہیں ۔قرآن کریم میں یہ لفظ 8 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ اسلامی اصطلاح میں اس سلسلے میں مزید وسعت ہے۔ طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الٰہی کے علاوہ کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ۔ قرآن مجید میں ایک آیت کے حوالے سے ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے، لے کر جانا ایمان کے منافی ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ نظام طاغوت سے برأت‘‘ مولانا صدر الدین اصلاحی کے ماہنامہ ’زندگی‘ رام پور ہندوستان نومبر ودسمبر1952ء میں شائع ہونے والے مضمون کی کتابی صورت ہے ۔اس میں طاغوت کی حیثیت مثالوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے اور دستور سازی وقانون سازی کی کیا حیثیت ہے؟نظام طاغوت کی خاص ملازمتیں جن سے نظام کو تقویت ملتی ہے ان کی کیا حیثیت ہے؟اور اس نظا م میں عام ملازمتوں کی حیثیت کیسی ہے، کس کو اس نظام میں شامل ہوکر رخصتِ شرعی مل سکتی ہے اور اس کی کیا واقعی صورتیں ہیں ۔(م ۔ا)
حق وباطل کے مابین عروج و زوال کی کشمکش اور غلبے کی مسابقت کو مشیت خداوندی میں ایک تکوینی مسلمہ کا مقام حاصل ہے ۔ اہل باطل اس امر سے واقف ہیں کہ اہل حق پر مکمل غلبے کے لیے محض جنگی مشینوں میں یورش اور فوجی یلغار کافی اور دیر پا نہیں ہو سکتی ، کیونکہ کہ دوسری اقوام سے مختلف ، ملت اسلامیہ کی قوت وتوانائی اور عزم وحوصلہ کااصل سرچشمہ اساسیات دین اور اس کی اسلامی تہذیبی اقدار اور اخلاقی ضابطے ہیں ۔ لہٰذا اس قوت کو مضمحل اور کمزور کر دینا صرف فکری و نظریاتی یلغار ہی سے ممکن ہے ۔ تاہم قرآن پاک کی آیت مبارکہ، انما المومنون اخوۃ کے مطابق تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان سب کا دکھ درد اور ان کے مسائل ایک ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’نظام عالم اور امت مسلمہ‘‘ محمد افضل احمدکی ہے۔ جس میں اصول و عقائد،عبادات و اطاعت، صفحہ ہستی یے مٹ جانےوالی معذب قومیں،مختلف فرقہ جات اور امت مسلمہ کا خون ارزاں کے حوالے سے مبحوث پیش کی ہیں اور امت مسلمہ کے ان افرادکو ان کا فرض منصبی یاد دلانے کی ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔ جن کی یہ آرزو ہو کہ امت مسلمہ دنیا ب...
جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو...
ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار،اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ ’’ نظر بد کا لگنا ‘‘ بھی ہے۔ نظر بد ایک ایسا موضوع ہے،جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں،لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں،اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کا غیر شرکیہ علاج جائز ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ نظر بد لگنا حقیقت ہے،کیفیت، بچاؤ، علاج، اعتراضات کے جوابات ‘‘محترم جناب عال سہیل ظفر صاحب کی تالیف ہے۔ موصوف قرآن وحدیث کی اشاعت سلف صالحین کے منہج پر کرنے کےلیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وحدیث اور اقوال صحابہ وتابعین سے دلائل کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا ہے کہ نظر بد لگ جانا شرعی نصوص کی رو سے حق ہے۔اور اس کا شرعی علاج ممکن ہے جوقرآن وحدیث کی روشنی میں کیا...
جادو کرنا او رکالے علم کےذریعے جنات کاتعاون حاصل کر کے لوگوں کو تکالیف پہنچانا شریعتِ اسلامیہ کی رو سےمحض کبیرہ گناہ ہی نہیں بلکہ ایسا مذموم فعل ہےجو انسان کو دائرۂ اسلام سے ہی خارح کردیتا ہے اور اسے واجب القتل بنادیتا ہے ۔جادو، جنات اور نظر بد سے تعلق رکھنے والی بیماریوں کے علاج کےلیے کتاب وسنت کے بیان کردہ طریقوں سے ہٹ کر بے شمار لوگ شیطانی اور طلسماتی کرشموں کے ذریعے ایسے مریضوں کاعلاج کرتے نظر آتے ہیں جن کی اکثریت تو محض وہم وخیال کے زیر اثر خود کو مریض سمجھتی ہے ۔جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے ہے جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے ذریعے تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے دن رات فساد پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں جنہیں وہ کمزور ایمان والے اور ان کینہ پرور لوگوں سے وصو ل کرتے ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ نظر بد ،جادو کے خطرے او راس کے نقصانات کے متعلق لوگو...
تحقیق کی طرح تنقید بھی دنیائے ادب کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تحقیق اور تنقید نہر کے دو کناروں کی طرح ہیں۔ جو کبھی بھی آپس میں نہیں مل سکتے مگر ہمیشہ ایک ساتھ رواں رہتے ہیں۔تنقید ایک ایسی اصطلاح ہے جس میں کسی بھی شخص چیز یا پھر صنف کے منفی اور مثبت پہلو گنوائے جاتے ہیں۔تنقید کے دائرہ کار میں تعریف وتحسین بھی شامل ہے اور فن پارے کےنقائص کی نشاندہی بھی۔ اسی باعث تنقید کاعمل توازن غیر جانب داری او رمعروضیت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے ۔ لیکن نظریاتی تنقید اور اس کے اطلاقی پہلو کےپس منظر میں سب سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ تنقیدی نظریے کا کوئی بھی عملی اطلاق نظریے اوراطلاق کی مکمل ہم آہنگی کےبغیر ممکن نہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نظریاتی تنقید مسائل ومباحث‘‘ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پروفیسر ڈاکٹر ابو الکلام قاسمی کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب ان تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے کہ جن کا تعلق تنقید کےنظری مباحث سے ہے ۔مشرقی اور مغر...
مادہ پرستی(Materialism) آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق موجودنہیں ہے یعنی فرعون ونمرود کی طرح اس فلفسہ کے قائلین نے بھی اس کائنات کے رب وخالق ومالک و رازق ومدبرکا انکار کیا ہے اور مادہ (Matter)ہی کو اصل یا کل حقیقت قرار دیا ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق مادہ قدیم اور ہمیشہ سے ہے اور ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے ۔ پس اس کائنات یا انسان کا وجود ایک حادثہ ہے جس کے پیچھے کوئی محرک، مسبب الاسباب یا علۃ العلل موجود نہیں ہے۔مادہ پرستوں یا منکرین خدا کی ایک الجھن ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کر دیں تو اہل مذہب کے بالمقابل اس کائنات اور انسان کے بارے کیا توجیہ پیش کریں کہ یہ انسان کہاں سے آیا ہے؟ کیسے پیدا ہوا ہے؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آ گئی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب مادہ پرستوں کے پاس نہیں تھا یہاں تک کہ ڈاروان نے اپنا نظریہ ارتقا پیش کیا تو مادہ پرستوں کی تو گویا عید اور چاندی ہو گئی اور انہیں اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے ایک عقلی ومنطقی توجیہ ہاتھ آ گئی۔ ڈارون نے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ ا...
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اسلام کی ابتداء غربت اور اجنبیت کی حالت میں ہوئی ،اور عنقریب اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ جائے گا۔پس خوشخبری ہے غریب اور اجنبی لوگوں کے لئے۔توحید اسلام کا بنیادی اور اہم ترین عقیدہ ہے یعنی اللہ تعالی اپنی ذات وصفات اور احکامات میں ہر طرح کی شراکت سے مبرا ہے۔آج اسلام کے دعویداروں کی اکثریت توحید باری تعالی کو چھوڑ کر شرک وکفر میں مبتلاء ہو چکی ہے۔شرک وکفر کے پھیلنے کی متعدد وجوہات میں سے ایک اہم وجہ محی الدین ابن عربی کا فلسفہ وحدۃ الوجود بھی ہے۔اس کی وجہ سے اسلام میں الحاد کے دروازے کھلے ،کشف وکرامات کے بے سند واقعات نے اسلام کی بنیادوں پر حملہ کیا ۔قرآن وسنت کے علم کو "علم ظاہری" کہہ کر علم اور علماء کا مذاق اڑایا گیا۔طریقت کے نام پر شریعت کے مقابلے میں ایک نیا دین گھڑ لیا گیا۔شریعت کی تحقیر اور طریقت سے کمتر سمجھنے کا رجحان عام ہوا اور من گھڑت وموضوع روایات نے نظریہ توحید میں شک پیدا کر دیا۔امام ابن تیمیہ اوران کے ہونہار شاگرد امام ابن قیم نےنہ صرف عقیدہ وحدۃ الوجود کا رد کیا بالکہ ابن عربی کو بھی گمر...
نظریہ پاکستان سے مراد یہ تصور ہے کہ متحدہ ہندوستان کے مسلمان، ہندوؤں، سکھوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے ہر لحاظ سے مختلف اور منفرد ہیں ہندوستانی مسلمانوں کی صحیح اساس دین اسلام ہے اور دوسرے سب مذاہب سے بالکل مختلف ہے، مسلمانوں کا طریق عبادت کلچر اور روایات ہندوؤں کے طریق عبادت، کلچر اور روایات سے بالکل مختلف ہے۔ اسی نظریہ کو دو قومی نظریہ بھی کہتے ہیں جس کی بنیاد پر 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔پاکستان کی تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں میں عموماً منفی نقطۂ نظر پایا جاتا ہے...
کوئی بھی جماعت ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے بنائی جاتی ہے ،جنہیں انفرادی کوشش سے حاصل کرنا یا تو سرے سے ممکن نہیں ہوتا ہے یا پھر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اجتماع ،اجتماعیت اور اجتماعی کوشش میں فرد اور انفرادیت سے یقینا کہیں زیادہ اثر اور برکت ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"ید اللہ علی الجماعۃ "جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ تاہم اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت سازی کا مقصد جائز اور ارفع ہو۔ایک اچھے مقصد کے لئے تشکیل دی ہوئی اچھی جماعت اجتماعیت کی برکت اور اللہ کی تائید سے اولا تو کامیابی کی منزل مراد تک پہنچتی ہے اور اگر بظاہر ایسا نہ ہوسکے تو بھی اس کے کارکن اور اس کے مقاصد کے لئے اخلاص کے ساتھ تن من دھن کی قربانی دینے والے اخروی سرفرازی سے یقینا ان شاء اللہ ہمکنار ہوتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ "اچھی جماعت" کیا ہوتی ہے اور کیسے بنتی ہے ؟جماعت کے کن مقاصد کو اچھا قرار دیا جا سکتا ہے ؟اور جماعتی مقاصد کے حصول کا طریق کار اور آداب وشرائط کیا ہیں؟ زیر تبصرہ کتاب"نظم جماعت کے آداب"محترم مولانا میاں محمد جمیل ایم اے صاحب کی تصنیف ہے جس می...
اسلام کی دعوت وتبلیغ اور نشرواشاعت کے لئے نثر کے ساتھ ساتھ نظم بھی ایک اہم ذریعہ ہے،مگر نظم کی صلاحیت سب افراد میں نہیں پاتی جاتی بلکہ یہ صلاحیت بہت کم اہل قلم میں پائی جاتی ہے۔شعر وشاعری کی استعداد وہبی ہوتی ہے نہ کہ کسبی،کوئی بھی شخص صرف اپنی کوشش سے شاعر نہیں بن سکتا ہے۔شاعر صرف وہی بن سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہ ذوق اور ملکہ عطا کیا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نعتوں نظموں کا گنجینہ المعروف گلشن چیمہ‘‘ہردلعزیز عوامی خطیب جناب مولانا محمد نواز چیمہ حفظہ اللہ کی کاوش ہے،جس میں انہوں نے منظوم انداز میں متعدد دینی واسلامی موضوعات (توحید باری تعالیٰ ، عبادات ، سیرت ، سیرت صحابہ ،تاریخ،اعمال،فکرت آخرت) کو ایک خوبصورت اور حسین انداز میں پیش کیا ہے ۔اہل ذوق حضرات کے لئے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔اللہ تعالی ٰمؤلف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے لیےذریعہ نجات بنائے۔آمین (م۔ا)
دور حاضر میں نعرہ بازی کسی انجمن،جماعت یا ادارے کے نظریات ومقاصد کی تشہیر کا سب سے آسان ،پرکشش اور عمومی ذریعہ بن چکا ہے۔یہ ایک ایسا ذریعہ تشہیر ہے کہ جس پر زیادہ لاگت یا خاص محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔گو یہ کام اکیلا آدمی بھی کر سکتا ہے،لیکن دو چار ہم نوا مل جائیں تو پھر کیا ہی کہنے !نعرے بازی کے لئے کسی پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔مطلوبہ نعرہ کسی بچے کو سکھلا کر اس سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔نعروں کے الفاظ ترتیب دیتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہےکہ اس کے الفاظ کم سے کم اور پر کشش ہوں،جو عوام کے دلوں میں تیر کی طرح اتر جائیں اور لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن اگر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل سراسر طلب شہرت ، جھوٹ اور انا خیر منہ جیسے متکبرانہ طرز عمل پر مبنی ہوتا ہے ،جس سے نبی کریم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔اور ایسا کرنے والوں کے سخت وعیدیں سنائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " نعرہ بازی "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگا...
اللہ تعالیٰ نے جہاں رسول اللہﷺ کے ذریعے سے تجوید و قراء ات کے بہترین تلامذہ صحابہ کرام کی صورت میں پیدا فرمائے وہیں پر حضرات صحابہ رسم قرآن کے بھی ماہر کے طور پر سامنے آئے۔ صحابہ کرام نے قرآن کے رسم میں جن امور کو ملحوظ رکھا وہ قابل داد اور حیرت انگیز ہیں۔ رسم قرآنی پر علما و ائمہ نے بہت سی کتب تحریر فرمائیں جن میں علامہ دانی، علامہ شاطبی اور علامہ الخراز وغیرہم کے نام شامل ہیں۔ اردو زبان میں اس موضوع پر بہت قلیل کام ہوا ہے۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے شیخ القرا قاری ادریس العاصم نے پیش نظر کتاب ترتیب دی ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ تاریخ رسم سے متعلق ہے، دوسرے حصے میں مصاحف عثمانیہ کی تصاویر اور دیگر مختلف ادوار کے مصاحف اور آنحضرتﷺ کے دو نامہ مبارکہ کی تصاویر ہیں جو اس لیے شامل کتاب کی گئی ہیں تاکہ مختلف ادوار میں طرز تحریر سے آگاہی حاصل ہو۔ تیسرے حصے میں رسم قرآن کے اصول بتائے گئے ہیں، چوتھے حصے میں ان اصولوں کے مطابق پورے قرآن کے غیر قیاسی کلمات قرآنی کو بیان کیا گیا ہے۔ پانچواں اور آخری حصہ علم الضبط پر مشتمل ہے۔(ع۔م)