1930ء میں علامہ عنایت اللہ المشرقی نے خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ یہ نیم فوجی قسم کی تنظیم تھی بندوق کی جگہ بیلچہ ان لوگوں کے کاندھے کی زینت بنا۔ علامہ صاحب کا تجزیہ یہ تھا کہ مسلمانوں کی زبوں حالی کا سبب دین سے دوری ہے۔ اگر وہ اپنے ایمان میں مضبوطی اور استحکام پیدا کر لیں، سپاہیانہ زندگی اپنا لیں، اخوت و مساوات اور خدمت خلق کو اپنا شعار بنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ انہیں گمشدہ عظمت دوبارہ حاصل نہ ہو جائے۔اس جماعت کے کارکن خاکسار کہلاتے ہیں اور وہ عمومی طور پر خاکی رنگ کا لباس پہنتے ہیں۔ زیر نظر کتاب’’خاکساری تحریک اور اس کا بانی ‘‘ مناظر اسلام ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو ان کی طرف سے جاری کردہ مجلہ ’’ اہل حدیث‘‘ امرتسر 30جو ن1939ء تاستمبر1939ء میں شائع ہوتی رہیں۔مولاناثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نےاس میں خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی کا تعارف ،اس کے عقائد نظریات ،خاکسار تحریک کا مقصد اور مذہب سے متعلق تفصیلاً تحریر کیا ہے۔(م۔ا)
دنیا میں موجود ہر انسان چاہے کسی بھی دور کا ہو یاکسی بھی علاقے کا ہووہ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا کے کامیاب کیسے ہونا ہے۔ کامیابی تو سبھی چاہتے ہیں لیکن اپنی شخصیت میں وہ خوبیاں نہیں لاتے جن کی بنا پر کامیابی ملتی ہےکامیابی کا انحصار کردار کی تعمیر پر ہے۔ کردار یا کاملیت ایک فطری اصول ہے۔ اگر اخلاق اور کردار میں انسان پختگی حاصل کرے تو اس بنیاد پر وہ کامیابی کی انتہاؤں کو چھو سکتا ہے پھر اس کی کامیابیاں لامحدود ہو سکتی ہیں۔کامیاب ہونے کیلئے ذمہ دار ہونا ضروری ہے ،جو انسان اپنے کام کی ذمہ داری نہیں لیتا وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔اور یہ بات یاد رہے کہ حقیقی کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔اور اسلامی تعلیمات کی روہ سے کامیاب زندگی وہ ہے جس میں دنیا اورآخرت دونوں کی مسرتیں حسین توازن کے ساتھ حاصل ہوجائیں۔ زیر نظر کتاب ’’کامیاب لوگوں کی خصوصی عادات ‘‘ شفاقت علی شیخ کے ایم فل مقالہ کی کتابی صور ت ہے ۔ فاضل مصنف نے سٹیفن آرکوے کی اپنے مندرجات کی دلچسپی اوراہمیت کےسبب مقبولیت کے ریکارڈ قائم کرنےوالی انگریز ی کتاب The Seven Habits Of Highly Effective People کو اسلامی تعلیمات کے اضافوں سے مزید بامقصد بنانے کی احسن انداز میں کوشش کی ہے ۔بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ آرکوے کی کتاب کو اسلامی تعلیمات کےسانچے میں ڈھال دیا ہے اورنہایت کامیابی کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ کامیاب زندگی کا کوئی ایک اصول بھی ایسا نہیں ہےجس کا ذکر قرآن وحدیث میں کسی نہ کسی اندازمیں نہ کیا گیا ہو۔(م۔ا)
اصطلاح سے مراد وہ لفظ ہے جو حقیقی یا اپنے اصل معنوں میں استعمال ہونے کے بجائے کسی فن، علم، ثقافت یا علاقے کے حوالے سے مخصوص معنوں میں استعمال ہو۔جیسے ادبی اصطلاحات، تنقیدی اصطلاحات، علمی، فنی و سائنسی اصطلاحات، لسانی اصطلاحات، قانونی اصطلاحات وغیرہ۔الغرض ہر شعبۂ علم و فن اپنی الگ الگ اصطلاحات رکھتا ہے۔اصطلاحات عموماً وہی الفاظ ہوتے ہیں جو روزمرہ زندگی میں بھی بولے جاتے ہیں۔ تاہم کسی خاص علمی یا تکنیکی میدان کے لوگ اس کے معانی کچھ مختلف طے کر لیتے ہیں تاکہ نئے الفاظ گھڑنے کی ضرورت نہ پڑے۔ زیر نظر کتاب’’اصطلاحاتِ قرآن‘‘خواجہ محمد اسلم صاحب کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں قرآن حکیم کی اہم اصطلاحات کی قرآن کی اپنی تفسیر کی روشنی میں بڑی خوبی سے تشریح کی ہے۔ قرآن حکیم کے معانی ومطالب کو ان کے صحیح تناظر میں سمجھنے کا ایک منفرد لغات ہے۔قرآن حکیم کےمعنی ومفہوم کو صحیح وجامع طور پر سمجھنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔(م۔ا)
رسم عثمانی سے مراد وہ رسم الخط ہے، جوسیدنا عثمان کے حکم پر سیدنا زید بن ثابت اور ان کے دیگر ساتھیوں نے کتابت ِمصاحف میں اختیار کیا۔قرآن مجید کی معروف کتابت کو رسم عثمانی یا رسم الخط کہا جاتا ہے۔تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن مجید کو رسم عثمانی کے مطابق لکھنا واجب اور ضروری ہے ،اور اس کے علاوہ لکھنا ناجائز ہے ۔لہذا کسی دوسرے رسم الخط جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ درحقیقت کتاب اللہ کے عموم و اطلاق، نبوی فرمودات، اور اجماع صحابہ و اجماعِ امت سے انحراف ہے ۔پاک وہند کے میں مطبوعہ مصاحف بالخصوص انجمن حمایت اسلام کی طرف سے مطبوعہ مصحف کو پاکستان کے ممتاز قراء علماء نے1973ء کو پاکستان کامعیاری مصحف قرار دیا۔لیکن ماضی قریب میں چند مخصوص افراد نےیہ صد ا بلند کی کہ پاک وہند میں رائج متداول مصاحف رسم عثمانی کےمطابق نہیں لہذا اس رسم کے متبادل یا اس کے متوازی ابن نجاح کے منہج کے مطابق عربوں والا رسم عثمانی متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ زیر نظر کتاب’’اقتباسات فتاویٰ رسم عثمانی ‘‘ مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل اور مولانا حافظ محمد ایوب گھرکی کی مشترکہ کاوش ہے مرتبین نے اس میں علمی مراکز کے فتاوی جات کے اقتباسات کو جمع کیا ہے جن میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ پاکستانی مصاحف امام دانی کے مسلمہ علمی منہج کی روشنی میں رسم عثمانی کے مطابق ہیں اور پاکستان میں اس متداول رسم عثمانی کے متوازی عربوں والا رسم ابن نجاح چھاپنے سے عوام میں اختلاف وانتشار کا اندیشہ ہے ۔(م۔ا)
حج وعمرہ ایک ایسی عبادت ہے جو روئے زمین پرسوائے مکہ مکرمہ خانہ کعبہ کے کہیں اورادا نہیں ہو سکتی۔یہ عبادت جس کے ادا کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے، مخصوص جگہ پر مخصوص لباس میں ادا کی جاتی ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتبِ حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہے کہ آپ ﷺنےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ۔حج وعمرہ کے احکام ومسائل کے متعلق اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’حج عمرہ اور زیارات‘‘ محترم جناب خالد بشیر مرجالوی کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔حصہ اول: عمرہ کے احکام ومسائل ،حصہ دوم: حج کےاحکام ومسائل اور حصہ سوم: زیارات سے متعلق ہے ۔حج وعمرہ اورزیارات کےاحکام ومسائل پہلے اختصار سے ساتھ خلاصے کے طور پر بیان کیے گئے ہیں ۔پھر قدرے تفصیل اور وضاحت سے ۔اپنےموضوع میں یہ کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتا ب ہے۔(م۔ا)
مذاہبِ عالم میں اسلام ایک واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے جو تعلقات قائم کیے انہیں عہد حاضر میں بطور نظیر پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے عملی نمونہ پیش کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے مراسم قائم کیے ۔ مجموعی طور پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے یہود ونصاریٰ کی طرف دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے باہمی معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا ۔ زیر نظر کتاب’’غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کےحقوق‘‘ عالم اسلام کےممتاز عالم دین ومحقق مولاناسید جلال الدین عمری صاحب کی تصنیف ہے ۔مولانا کی یہ تصنیف ایک مقبول کتاب ہےموصوف نےاس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات اور حقوق پر نہایت محققانہ او رداعیانہ بحث کی ہے۔نیز تعقات کے ذیل میں خاندانی،سماجی ،معاشرتی اور ہر نوع کےتعلق کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور بعض اختلافی مسائل میں معتبر علماء، مفسرین اور فقہاء کی آراء سےتائید حاصل کی ہے۔(م۔ا)
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے۔ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جاتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی اچھی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے ۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ زیرنظر کتاب’’ فرائض والدین‘‘ فضیلۃ الشیخ احمد القطان کی عربی تصنیف واجبات الاباء نحو الابناء کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں والدین کے سامنے وہ اصول پیش کیے ہیں جو اسلامی طریقے کے مطابق انہیں اپنی اولادوں کی تربیت کرنےکے لیے واضح راستے کی راہنمائی کرتےہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)
شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے ۔ قیامت کے روز عقیدۂ توحید کی موجودگی میں اعمال کی کوتاہیوں اور لغزشوں کی معافی تو ہوسکتی ہے لیکن شرک کی غلاظت وگندگی کے ہوتے ہوئے آسمان وزمین کی وسعتوں کےبرابر اعمال بھی بے کاروعبث ہوگے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ شرک وبدعت کے خاتمہ اور اثباتِ توحید میں عرب وعجم کےبے شمارعلماء نے گراں قدر کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ زیرنظر کتاب’’ فیضان قرآن(شرک کی نشاندہی بذریعہ قرآنی آیات) ‘‘ ناصر محمود غنے کی مرتب شدہ ہے مرتب نے اس کتاب میں زیادہ سےزیادہ قرآنی آیات کےحوالے سے شرک کی نشاندہی کی گئی ہے۔اس کتاب کے مطالعے سے شرک کےبارے میں کافی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے لوگوں کے لیےنفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)
کورونا (corona) لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تاج یا ہالہ کے ہوتے ہیں۔ چونکہ اس وائرس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے یعنی کورونا کے مشابہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا نام’’کورونا وائرس‘‘ رکھا گیا ہے۔کرونا وائرس کی عام علامات کھانسی، سانس پھولنا، سانس لینے میں دشواری وغیرہ شامل ہیں۔متاثرہ مریض میں ہفتہ دس دن میں سانس کے مسائل ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں جو شدید متاثرہ مریض میں جلد بگڑ کر شدید سانس کی تکلیف کی بیماری، نظام انہضام میں تیزابیت، خون جمنے میں مسئلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔کورونا سے بچاؤ کے لیے طبی اشیاء کے علاوہ مسنون دعائیں بھی کارآمد ہیں ۔ زیر نظرکتاب’’کورونا سے کیسا بچا جائے ‘‘ عامر خاکوانی (ایڈیٹر روزنامہ 92 نیوز) کی تحریر ہے موصوف چونکہ خود دو مرتبہ کورونا میں مبتلا ہوچکے ہیں اس لیے انہوں نے اس کتاب میں اپنے ذاتی تجربات ، مشاہدات کی روداد بیان کرتے ہوئے کورونا کے خطرات ، احتیاط اور اس کے علاج کو بیان کیاہے ۔علاج کے سلسلے میں چند مسنون دعائیں بھی اس کتاب میں شامل کی ہیں ۔(م۔ا)
اسلامی صحافت سے مرادوہ صحافت ہےجس میں اسلامی رنگ غالب ہواور جو زندگی کےتمام سیاسی،اجتماعی ، اقتصادی ،دینی اور قانونی پہلوؤں کو اسلامی نقطۂ نظر سے پیش کرے۔اسلامی صحافت نے ممالک اسلامیہ کی ثقافت اور ان کے علمی وادبی دائرہ کار کو وسیع کرنے میں بھر پور حصہ لیا ہےاور ایسے مصنفین ومؤلفین اور سیاسی لوگوں کی جماعتیں پیدا کیں جنہوں نے علم وادب کی آبیاری میں حصہ لینے کے ساتھ ثقافت اسلامیہ کےچشموں کو وسعت دی اور فکر اسلامی کو صحیح راہ پرگامزن کیا۔ہندوستان میں اسلامی صحافت کی دو قسمیں ہیں پہلی وہ ہے جس کاآغاز مسلمانوں کےہاتھوں ہوا۔دوسری قسم وہ ہےجس میں مسلمانوں کےمسائل اور مشکلات پر بحث ہوتی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’برصغیر میں اسلامی صحافت کی تاریخ اور ارتقاء‘‘ پروفیسر ڈاکٹر سلیم الرحمٰن خان ندوی صاحب کےعربی مقالہ’’الصحافة الإسلامية في الهند تاريخها وتطورها‘‘ کا اردوترجمہ ہےموصوف نےیہ مقالہ جامعۃ الامام بن سعود،الریاض میں ایم اے کے لیے1982ء پیش کیا تھا۔مصنف نے اس میں محمود غزنوی کے دور سے اسلامی صحافت کا آغازکرکےسیکڑوں سالوں پر محیط برصغیر کی اسلامی صحافت کو پیش کیا ہے۔یہ محض اسلامی صحافت کی داستان نہیں بلکہ برصغیر میں اسلامی افکار و نظریات کی قدم بقدم روداد اور ایک ایسا آئینہ ہےجس میں ہم اپنا ماضی بھی دیکھ سکتے ہیں اور مستقبل کی صورت گری بھی کرسکتے ہیں۔(م۔ا)
اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو ہدایت اور رہنمائی دینے کے لیے جن برگزیدہ بندوں کے ذریعے اپنا پیغام حق مخلوق تک پہنچایا انہیں نبی اور رسول کہتے ہیں اور ان کے منصب کو نبوت اور رسالت کہا جاتا ہے۔اسلامی عقائد کی رو سے ایمان بالرسالت سے مراد حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء سرور کائنات نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس تک تمام انبیا و رسل کی نبوت اور رسالت کو برحق ماننا ہے۔ زیر نظر کتاب’’عقیدۂ رسالت‘‘ جمشید عالم عبد السلام سلفی تحریر ہے صاحب تحریر نے اس کتاب میں ایمان کے تیسرے رکن ایمان بالرسل پر سیر حاصل بحث کی ہے۔موضوع کےتمام گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔(م۔ا)
اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر نظر مقالہ بعنوان’’ برصغیر میں اسلامی معاشی فکر کا ارتقاء‘‘ فاروق عزیز صاحب وہ تحقیقی مقالہ ہے جسے انہوں نے 2002ء میں کراچی یونیورسٹی میں پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔مقالہ نگار نےاس مقالہ کو نو ابواب میں تقسیم کر کے اس میں برصغیر میں اسلامی معاشی فکر کی ابتداء سے لےکر بیسوی صدی کے اختتام تک مسلم معاشی مفکرین کی فکر کا جائزہ پیش کیا ہے۔(م۔ا)
خوف اور ڈر کی ایک علامت ہے۔ ہر چھوٹا یا بڑا زندگی کے کسی موڑ پر اندیشے میں ضرور مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا کوئی مقصد ہوتا ہے یہ جسم کے الارم سسٹم کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ کسی خطرے کے لئے خبردار کرتا ہے۔ ہمارا جسم سوچتا ہے کہ اس کے پاس صرف دو راستے ہیں۔ خطرے سے نپٹا جا ئے یا پھر اس سے دور بھاگا جائے۔ اس سے پسینے کی زیادتی یا دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔جب بچے بڑے ہو رہےہوتے ہیں تو کچھ اندیشے تو نارمل ہوتے ہیں اور وہ گزر جاتے ہیں۔ بچے یہ پسند نہیں کرتے کہ انہیں کسی ناواقف کے حوالے کیا جائے۔ نومولود کو اگر اندھیرے میں چھوڑ دیا جائے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔ یہ خوف اور اندیشے نارمل ہیں اور عام طور پر چند مہینوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔ زیرنظر کتاب’’بچوں میں خوف اسباب، علامات،تدارک کی تجاویز‘‘ فوزیہ عباس کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نےاس کتاب میں ان انتہائی صورتوں اور عوامل کا اختصار کر کےساتھ ذکر کیا گیا ہےجو بچوں میں خوف کا سبب بنتی ہیں اور ان کی ذہنی وجسمانی اور جذباتی ونفسیاتی صحت کو متاثر کرتی ہیں۔(م۔ا)
عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ زیرتبصرہ کتاب’’ عقیدۃ الفرقۃ الناجیۃ‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی شہرہ آفاق تالیف ’عقیدہ واسطیہ ‘ کی شرح کاترجمہ ہے ۔یہ نفیس شرح فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر صالح بن فوزان کی ہے۔ شیخ موصوف نے نہایت سلیس شگفتہ انداز میں عقیدہ واسطیہ کی شرح فرمائی ہے۔شیخ صالح الفوزان کی یہ شرح کئی علماء کرام کی علمی شروح کاملخص اورمرقع ہے اس شرح کا یہ سلیس وآسان فہم ترجمہ وطن عزیز کی معروف شخصیت محدث العصر عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے کیا ہے۔(م۔ا)
آج جن اُمور مین اغیار کی مشابہت اختیار کی جاررہی ہے ان میں ایک مسئلہ لباس اورزیب وزینت کابھی ہے۔حالانکہ انسانی معاشرت میں لباس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی سے کسی قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص قائم ہوتا ہے اور برقرار رہتاہے ۔ لیکن آج مسلمان اسلامی لباس کے بجائے کفار کے لباس کوترجیح دیتے ہیں ۔بظاہر نام مسلمانوں کا ہے لیکن وضع قطع او ررہن سہن یہود وہنودکاہے ۔حجاب ونقاب کی جگہ تنگ اور عریاں لباس نے لے لی ہے ۔حسن وجمال اور خوبصورتی میں اضافے کےلیے ہر جائز وناجائز طریقہ اختیار کیا جارہا ہے ۔ زیرنظرکتاب’’ عورتوں اور محرم مردوں کے سامنے عورت کالباس‘‘ فضیلۃ الشیخ علی بن عبد اللہ النمی کی عربی تصنیف الأدلة الصوارم على مايجب ستره من المرأة عند النساء و المحارم کا اردو ترجمہ ہے ۔فاضل مصنف اس کتاب میں ایک عورت کا اجنبی مردوں کےسامنے لباس کیسا ہونا چاہیے ؟مسئلہ کو بہت عمدگی سے پیش کیا ہے اور کتاب وسنت کے دلائل کا انبار لگادیا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں انتہائی اہم کتاب ہے ۔(م۔ا)
شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی شخصیت کی تعارف کی محتاج نہیں۔آپ 31 مئی1945ء بروز جمعرات شہر سیالکوٹ کے محلہ احمد پورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حاجی ظہور الہٰی، مولانا ابراہیم میر سیا لکوٹی کے عقیدتمندوں میں سے تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ا ور دینی ابتدائی تعلیم ’’دارالسلام ‘‘ سیالکوٹ سے حاصل کی اس کے بعد محدث العصر جناب حافظ محمدگوندلوی کی درسگاہ جامعہ الاسلامیہ گوجرانوالہ چلے آئے ۔ 1960ء میں دینی علوم کی تحصیل سے فراغت پائی اور پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ’’بی اے اونرز‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر کراچی یونیورسٹی سے لاء کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کیلئے مدینۃ الرّسولﷺمیں، ملتِ اسلامیہ کی عظیم عالمی یونیورسٹی’’ مدینہ یونیورسٹی ‘‘ میں داخلے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ وہاں آپ نے وقت کے ممتاز علماء کرام سے علم حاصل کیا ،ان میں سرفہرست محدّث العصر امام ناصر الدین البانی ، مفسرِ قرآن الشیخ محمد امین الشنقیطی ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعطیہ محمد سالم ،سماحۃ الشیخ علامہ عبد العزیز بن باز ، محدّث ِ مدینہ علامہ عبد المحسن العباد البدر ۔ وغیرہ شامل ہیں۔ مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وطن واپسی پر آپ نے ابتداءًتحریر کے ذریعہ دعوت دین کے کام کا آغاز کیا اور چٹان لیل ونہاراور ملک کے دیگر معروف و مشہور رسائل میں لکھتے رہے ۔ نیز ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘، ہفت روزہ’’ اہلحدیث ‘‘ کے مدیر بھی رہے ۔ اور ترجمان الحدیث کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا۔ ملک بھر کےعلاوہ آپ نےکئی ممالک کے تبلیغی سفر کیے۔ دعوتی و تبلیغی اور ادارتی مصروفیات کے باوجود آپ نے عربی ادب میں شاندار اضافہ کیا ہے اوربھاری بھرکم کتب تالیف فرماکرعالمِ عرب میں اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔علامہ شہید کی کتب کودنیا بھر کے علمی وعوامی حلقوں میں یکساں مقبولیت کا شرف حاصل ہوا۔ علامہ کی اکثر کتب کے تراجم اردو ، فارسی و دیگر عالمی زبانوں میں موجود ہیں ۔آپ نے جس موضوع یا جس باطل فرقہ پر قلم اٹھایا اللہ کے فضل و کرم سے اس کا حق ادا کر کے دکھایا اور آج تک آپ کی کسی بھی کتاب کا کوئی علمی جواب نہیں دے سکا۔23 مارچ 1987 کو لاہور میں جلسہ سیرت النبی ﷺ میں مولانا حبیب الرحمن یزدانی کی تقریر کے بعد جناب علامہ شہید کا خطاب شروع ہوا ،آپ کا باطل شکن خطاب اپنے نقطہ عروج کو پہنچ رہا تھا، ابھی آپ 20منٹ کی تقریر کرپائے تھے کہ بم کا انتہائی خوفناک لرزہ خیز دھماکہ ہوا ،تمام جلسہ گاہ میں قیامت صغریٰ کا عالم تھا ،دور دور تک دروبام دھماکے سے لرز اٹھے۔اس دھماکہ میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور میوہسپتال میں زیر علاج رہے ۔ 29 مارچ کو سعودی ائیر لائن کی خاص پرواز کے ذریعہ شاہ فہد کی دعوت پر سعودیہ عرب علاج کے لئے روانہ ہوئےآپ کو فیصل ملیٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا۔علامہ صاحب 22 گھنٹے ریاض میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد قافلہ شہداء میں شامل ہوئے ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)مفتی اعظم سعودیہ عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز نے دیرہ ریاض کی مرکزی مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی ۔ نمازِ جنازہ کے بعد آپ کے جسدِ خاکی کو شہرِ حبیب ﷺمدینہ منورہ لے جایا گیا، مسجدِ نبوی میں دنیا ئے اطراف سے آنے والے وفود و شیوخ،مفتیان، اساتذہ علماء اور طلباء کی وجہ سے مسجد نبوی میں انسانوں کا سیلاب نظر آتا تھا اور تا حد نگاہ سر ہی سر دیکھائی دیتے تھے اژدہام کا یہ عالم تھا کہ آپ کا آخری دیدار کرنا محال تھا ۔مدینہ طیبہ میں ڈاکٹر شمس الدین افغانی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ مدینہ یونیورسٹی کے شیوخ و اساتذہ اور طلباء کے علاوہ سعودی عرب کے اطراف سے ہزاروں علماء کرام ، طلباء و عوام اشکبار آنکھوں سے جنازے میں شامل تھے ۔ آپ کے جسد خاکی کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔ علامہ کی شہادت کے بعد ان کی حیات وخدمات پر مختلف اہل علم نے بیسیوں مضامین تحریر کیے اور ہر سال ماہ مارچ میں کوئی نیا مضمون اخبار ، رسائل وجرائد کی زینت بنتا ہے ۔ زیر نظرکتاب’’علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید‘‘ علامہ شہید کے قریبی صحافی دوست جاوید جمال ڈسکوی کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے علامہ صاحب کی خدمات جلیلہ کاتذکرہ کیا ہے اور انکے بارے میں اپنے ثاثرات پیش کیے ہیں اور علامہ کی مختلف تصاویر بھی اس کتاب میں شامل کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ علامہ شہید کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے ۔(آمین)(م۔ا)
اسلام اللہ کےآخری نبی سیدنا محمد مصطفی ﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین یا نظام ِحیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام اللہ کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کرنے کے جملہ احکام ومسائل کی رہنمائی موجود ہے۔ یقیناً اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے لیے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے۔ زیرنظر کتاب’’آئینہ اسلام‘‘پروفیسر عبد القیوم رحمہ اللہ کی تصنیف ہےیہ کتاب اسلام کی بنیادی تعلیمات (اجزائے ایمان ،ارکان اسلام ،اسلامی اخلاق) اور ا س کے جامع تعارف پر مشتمل ہے ۔کتاب میں مذکور آیات واحادیث کی تخریج سے اس کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی ہے۔(م۔ا)
شریعتِ اسلامیہ میں دینی احکام ومسائل پر عمل کی تاکید کے ساتھ ساتھ ان اعمال کی فضیلت وثواب بیان کرتے ہوئے انسانی نفوس کو ان پر عمل کرنے کے لیے انگیخت کیا گیا ہے ۔یہ اعمال انسانی زندگی کے کسی بھی گوشہ سے تعلق رکھتے ہوں خواہ مالی معاملات ہوں، روحانی یا زندگی کے تعبدی معاملات مثلاً نماز، روزہ، حج زکوٰۃ ودیگر عباداتی امور۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ اعلیٰ مقام دینے کے لیے کتنے ہی چھوٹے چھوٹے اعمال کا اجر قیام ، صیام، حج وعمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ جیسی بڑی بڑی عبادات کے اجر کے برابر قراردیا ہے ۔ زیر نظر کتاب’’یہ اعمال اپنائیں اور حج کا ثواب پائیں‘‘ محترم جناب غلام مصطفیٰ کی مرتب شدہ ہے ۔مرتب موصوف نے اس میں قرآن وسنت کی روشنی میں چند ایسے اعمال ،افعال او ر عبادات کا تذکرہ کیا ہے۔جن کو اپنانے اور بجا لانے سے ایک مسلم ومومن اپنے گھر اور وطن میں رہتے ہوئے بن کچھ خرچ کیے اور بغیر سفر کی زحمت ومشقف اٹھائے حج بیت اللہ کا ثواب یا عمرہ ادا کرنے کا اجر حاصل کرسکتاہے۔(م۔ا)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات اور ا نسانی زندگی کی تمام مشکلات کا حل ہےلیکن اس سے اعتقادی اور عملی انحراف کےنتیجے میں انسانی زندگی میں مسائل بھی پیدا ہوتےہیں اورآخرت کی فوز وفلاح سے بھی محروم ہونا پڑتا ہے۔دعوت وتبلیغ کا کام اصل میں انبیاء کرام کا کام رہا ہےاوران کے علاوہ اہل حق بھی اس فریضے کو سرانجام دیتے رہے ہیں ۔اب چونکہ باب نبوت بند ہوچکا ہے اس لیے یہ اہم ذمہ داری امت مسلمہ پر ڈالی گئی۔اورقانون الٰہی ہے کہ قوموں کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتی جب تک لوگ خود اپنی حالت کو بدلنے پر تیار نہ ہوں۔ زیر نظر کتاب ’’امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور اس کا قرآنی حل ‘‘ کی تصنیف ہے فاضل مصنف نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں انسان اور ا س کی حقیقت سے متعلق مضامین ہیں ۔دوسرے باب میں قوموں کے عروج وزوال کے اسباب سے متعلق سیر حاصل بحث ہے ۔اور تیسرے باب میں مسلم امہ کے زوال کے اسباب او راس کا قرآنی حل نہایت تفصیل سے ذکر کیاگیا ہے۔باب چہارم میں قرآنیات کےعنوان سے اہم مضامین پر مشتمل ہے۔(م۔ا)
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’علوم السیرۃ‘‘ ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس کی ادب سیرت میں منفرد نوعیت کی کاوش ہے ۔فاضل مصنف نےاس کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلا باب سیرت کی تعریف ، علمی حوالہ سے تحدید، سیرت کے بنیادی وثانوی مآخذ،کتب سیرت کی انواع پر روشنی ڈالی گئی ہے۔دوسرے باب میں علوم السیرۃ کے تاریخی وتدوینی مراحل کو بیان کیا ہے ۔تیسرے باب میں علوم السیرۃ کو چار گروپس میں تقسیم کیا ہے ۔ اس کتاب میں موجود مواد سے ادارہ کا کلی اتفاق ضروری نہیں کیونکہ ا س میں صوفیت اور بریلویت غالب ہے ۔اپنے موضوع میں تحقیقاتی کتاب ہونے کا باعث اسے سائٹ پر پبلش گیا ہے تاکہ تحقیق وتنقید سے وابستہ حضرات اس سے مستفید ہوسکیں۔(م۔ا)
سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ زیرنظر کتاب’’شاتم کی سزا اور مصلحتوں کا لحاظ‘‘ علامہ محمد خلیل الرحمٰن قادری صاحب کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں ڈاکٹر محمد عمار خان ناصر کی کتاب’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ کےایک تفصیلی باب’’حکمت ومصلحت کی چنداہم پہلو‘‘ میں پیش کیے گئے واقعات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اورشاتم کی سزا کےحوالے سے پیدا کردہ تشکیک وشبہات کا ازالہ کیا ہے ۔(م۔ا)
سیدنا معاویہ ان جلیل القدرصحابہ کرام میں سے ہیں ،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابتِ وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی کی وفات کے بعد ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔ کئی اہل علم اور نامور صاحب قلم حضرات نے سیدنا معاویہ ابی سفیان کے متعلق مستند کتب لکھ کر سیدنا معاویہ کے فضائل ومناقب،اسلا م کی خاطر ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر کے ان کے خلاف کےجانے والےاعتراضات کی حقیقت کو خوب واضح کیا ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ خلیفہ راشدسیدنا معاویہ پر سو(100) اعتراضات کاعلمی تجزیہ‘‘پروفیسر قاضی محمد طاہر علی الہاشمی کی تحقیقی کاوش ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ پر معاندین کی طرف سے عائدکیے گئے 100؍اعتراضات کے قرآن وحدیث،تاریخ اور اسماء الرجال کے حوالے سے کافی ،شافی داندان شکن ،مسکت اور مدلل جوابات قلم بند کیے ہیں ۔یہ کتاب دفاعِ معاویہ کےسلسلے میں لکھی جانے والی کتب میں سے بڑی اہم کتاب ہےکیونکہ صاحب تصنیف کو براہِ راست آٹھ برس تک عدالت کے کٹہرے میں بھی سیدنا معاویہ کےدفاع کی توفیق نصیب ہوئی۔(م۔ا)
تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے کچھ دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔کتاب ہذا’’نخبۃ الصحیحین‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول عام فرمائے ۔اس سے پہلے اسی نوعیت کی 100 ؍احادیث پر مشتمل کتاب ’’نخبۃ الاحادیث ‘‘ازمولانا سید محمد داؤد غزنوی بھی ا نتہائی مختصراور جامع کتاب ہے جو اکثر مدارس سلفیہ میں شامل نصاب ہے۔ زیر نظر کتاب’’نخبۃ الصحیحین‘‘محترم قاری صہیب احمد میری ﷾(فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی ،مدیر کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیۃ،پھولنگر) کی کاوش ہے ۔یہ صحیحین (صحیح بخاری ومسلم) سے سو(100) ایسی احادیث مبارکہ کاانتخاب ہے جو آج کی نوجوان نسل کی اخلاقی،معاشرتی اور تربیت واصلاح کے لیے ممد ومعاون اور اانتہائی ضروری ہے۔قاری صاحب نے تربیتِ نسل جدید کےلیے جو امور ضروری ہوسکتے ہیں اس میں ان کی نشاندہی کردی ہے۔ مصنف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی دینی ،تبلیغی اور اصلاحی وعلمی کتب کے مصنف ہیں او رایک معیاری درسگاہ کے انتظام وانصرام کو سنبھالنے کےعلاوہ اچھے مدرس ،واعظ ومبلغ اور ولی کامل حافظ یحیٰ عزیز میر محمدی کے صحیح جانشین اور ان کی تبلیغی واصلاحی جماعت کے روح رواں ہیں ۔اللہ تعالیٰ محترم قاری صا حب کے عمل وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے اور دین اسلام کےلیے ان کی خدمات کو شرف ِ قبولیت سے نوازے (آمین) ( م۔ ا)
ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ (1943ء-2020ء) ہندوستانی نژاد سعودی عالم، متعدد کتابوں کے مصنف مشہور عالم دین اورعصر حاضر کے نامور محدث تھے۔ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی 1943ء میں اعظم گڑھ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام بانکے رام رکھا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو اپنی ہدایت کے لیے منتخب کرلیا تھا، اس کی تربیت کا اہتمام بھی اسی شان سے کیا۔ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی نے اپنے کئی انٹرویوز میں بتایا کہ کس طرح وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود دین اسلام کی طرف راغب ہوئے۔دینی تعلیم کے حصول کےلیے دارالسلام عمرآباد میں داخل ہوئے وہاں سے فارغ ہونے کے بعد مزید تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بآسانی مل گیا۔ چارسال جامعہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعدجامعۃ الملک عبدالعزیز، مکہ مکرمہ میں ایم اے میں داخلہ لیا۔ ایم اے میں ’’ابوہریرۃ فی ضوء مرویاتہ وفی جمال شواہدہ وانفرادہ‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ پیش کیا۔اس کےبعد رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ سے منسلک ہو گئے، رابطہ میں رہتے ہوئے بھی آپ نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ جامعہ ازہر (مصر) سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ میں ابن الطلاع المالکی کی کتاب ’’اقضیۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘۔پر تحقیق وتعلیق کا کام کیا ۔ان کا پی ایچ ڈی کایہ تحقیقی مقالہ 1978ء میں پہلی بار کتابی صورت میں مصر سے شائع ہوا۔ڈاکٹر صاحب کا سب سے عظیم کارنامہ ان کی تالیفِ ’الجامع الکامل في الحدیث الصحیح الشامل‘ ہے۔ اس میں تمام صحیح احادیث کو مختلف کتبِ احادیث ، مثلاً مؤطات ، مصنفات ، مسانید ، جوامع ، صحاح ، سنن ، معاجم ، مستخرجات ، أجزاء اور أمالی سے جمع کیا گیا ہے ۔ ہر حدیث کی تخریج کے بعد اس کے صحیح اور حسن کا درجہ بھی بیان کردیا گیا ہے ۔قارئین کی سہولت کے لیے اس کتاب کو فقہی ابواب پر مرتب کیا گیا ہے ۔ اس کا پہلا ایڈیشن دار السلام سعودی عرب سے 2016 میں 12 جلدوں میں شائع ہوا تھا ۔ دوسرا ایڈیشن 2019 میں دار ابن بشیر ، پاکستان سے 19 جلدوں میں طبع ہوا ہے ۔ ڈاکٹر اعظمی رحمہ اللہ اس عظیم الشان کتاب کےعلاوہ بھی ایک درجن سے زائد علمی وتحقیقی کتب کےمصنف ہیں۔موصوف کی بعض کتابیں سعودی عرب کی جامعات کے اعلیٰ درجوں کے کورس کا حصہ ہیں جس میں سر فہرست ’’دراسات فی الیہودیہ والمسیحیہ وادیان الہند‘‘ قابل ذکر ہے۔ڈاکٹر صاحب مرحوم 30 جولائی 2020ء اور 9 ذوالحجہ 1441 (یوم عرفہ )کو مدینہ منورہ میں ظہر کی اذان کے وقت اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور بقیع غرقد میں مدفون ہوئے۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔اوران کی تحقیقی وتصنیفی ،دعوتی وتبلیغی اور تدریسی جہود کو قبول فرمائے ۔(آمین) ان کے احوال واقعات ، حالات زندگی پر کئی اہل قلم نے مضامین تحریر کیے جو مختلف رسائل وجرائد میں طبع ہوئے ۔ زیر نظر کتاب’’منور وادیوں کاپھول‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ جوکہ ڈاکٹر صباح االدین اعظمی کی ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کی روشن شخصیت پر ایک تاثراتی تحریر ہے۔(م۔ا)
دور ِحاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ معروضی اصولِ تحقیق وتدوین‘‘ ڈاکٹر سعیدالرحمن بن نورحبیب کی مرتب شدہ ہےاس مختصر کتاب میں فاضل مرتب نے تحقیق واصول تحقیق سے متعلق 413 معروضی انداز کے سوالات بناکر کا ان کے جوابات پیش کیے ہیں۔اس کےبعد اقسام تحقیق،32؍مختلف تحقیقی اسالیب وطرق اور کتاب کے آخر میں تقریباً650؍ تعلیم تحقیق ،انفارمیشن کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کےاہم علمی،فنی،وتکنیکی اصطلاحات،مخففات ومختصرات کو پیش کیا ہے ۔(م۔ا)