رسول کریم ﷺتما م مخلوق سے اعلیٰ وارفع ہیں اور انبیاء و رسل اور اولیاء و اصفیاء سے آپ کا مقام ومرتبہ بلند تر ہے۔آسمانی کتابوں اور احادیث نبویہ میں آپ کی بہت زیادہ تعریف و توصیف بیان ہوئی اور آپ کی شان و عظمت کا لحاظ کرنے کی باقاعدہ تاکید و تلقین ہے ۔آپ ؐ اپنی صور ت و سیرت ،افکار و کردار اور عادات و اطوار ہر لحاظ سے اعلیٰ و افضل ہیں،اس مناسبت سے آپ کی تعظیم و تکریم اوراتباع و اطاعت ہر مسلمان پر لازم ہے ،اس مناسبت سے زیر نظر کتاب تالیف کی گئی ہے ،جو اس موضوع پر اچھی کتاب ہے ،جس میں آپ کے اوصاف حمیدہ ، عادات فاضلہ ،امت کے لیے مجسم رحمت ہونے کابیان ہے اورآپ کی ذات مبارکہ کے متعلق جو غلو پایا جاتاہے ،اس کا بہترین ازالہ کیا گیاہے ،کتاب ہذا کا مطالعہ سیرت مطفیٰ ﷺ کے متعلق معلومات کا بہترین خزینہ ہے۔(ف۔ر)
’’قواعد زبان قرآن ‘‘کا چھٹا اور نیا ایڈیشن پیش خدمت ہے اور یہ قلمی کتابت پر مشتمل پہلا ایڈیشن ہے جو دو ضخیم جلدوں میں مکتبہ سلفیہ لاہور سے مطبوع ہے۔ قرآن مجید کے مفہوم تک رسائی کے لیے عربی دانی ضروری ہے اور جن لوگوں کی مادری زبان عربی نہیں ہے ان کے لیے عربی زبان سیکھنا خاصا مشقت طلب کام ہے ۔عربی زبان وادب میں قواعد کی غیرمعمولی حیثیت کے پیش نظر محترم خلیل الرحمن چشتی صاحب نے ’’قواعد زبان قرآن‘‘کو مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب دراصل مولانا حمید الدین فراہی کی کتاب ’’اسباق النحو‘‘ کی تسہیل ہے ’’اسباق النحو‘‘گوکہ نہایت مفید کتاب ہے۔لیکن اس کو ایسے شخص کے لیے سمجھنا انتہائی مشکل ہے جو عربی زبان سے واقفیت حاصل کرنا چاہتا ہو مگر وہ نہ تو عربی مدارس کے مروجہ نظام تعلیم سے مستفید ہوا ہو اور نہ اس زبان کی معمولی شد بد رکھتا ہو ۔اس مشکل کو مدنظر رکھتے ہوئے موصوف نے مولانا فراہی کی کتاب کو نہایت سہل انداز میں ترتیب دیا ہے اور جابجا قرآنی مثالوں کے ذریعے عربی زبان کے اصول وقواعد سمجھانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔اس کتاب میں ایسا طریقہ اپنایا گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ بہت حد تک اسے بغیر استاد کے پڑھ بھی سکے اور سمجھ بھی سکے۔ اس کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام قواعد عربیہ کی مثالیں قرآن کریم سے پیش کی گئی ہیں ۔اس پر مستزاد یہ کہ مثالوں کی کثرت، مختلف مشقوں کے التزام ، مختلف نحوی اصطلاحات کا انگریزی زبان میں متبادل تحریر کرنے سے یہ کتاب انگریزی دان طبقے کے لیے بھی عربی زبان سیکھنے میں آسانی اور دلچسپی کا بہترین مظہر ہے ۔بہر حال موصوف کی یہ کوشش لائق تحسین ہے کہ انہوں نے گویا عربی قواعد پر ایک انسائیکلوپیڈیا تیار کردیا ہے جو عام طور پر سب کے لیے اور خاص طور پر جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لیے سہولت اور مسرت کا باعث ہے۔(آ۔ہ)
یہ بات بڑی تعجب خیز اور ناقابل فہم ہے کہ کوئی فرد اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور اپنی ذہنی صلاحیتیں علوم وفنون کی درس وتدریس میں اور ان تصنیفات وتالیفات کے مطالعے میں صرف کر دے جو عربی زبان میں لکھی گئی ہیں لیکن اس زبان میں خط وکتابت اور اظہار خیال سے بالکل معذور اور قاصر ہو ۔زبانوں کے سلسلے کا یہ بالکل انوکھا تجربہ ہے جو صرف برصغیر پاک وہند کے عربی مدارس کلیات اور جامعات کی خصوصیت ہے اس معذوری کی واحد وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کو قرآن وحدیث کی زبان اور زندہ وترقی یافتہ زبان کی حیثیت سے پڑھنے پڑھانے کے بجائے ایک نظری علم اور کتابی فن کی حیثیت سے دیکھا گیا ہے اور اس کی علمی مشق اور تحریر وانشاء کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ’’معلم الانشاء‘‘ تین مختصر حصوں پر مشتمل مولانا عبدالماجد ندوی کی علمی کاوش ہے جو عربی تحریر وتقریر سکھانے کی ایک بہترین فنی کتاب ہے اس کتاب میں انشاء وترجمہ کی تمرینات سے پہلے صرف ونحو کے ضروری قواعد بیان کردیے گئے ہیں جن پر انشاء وترجمہ کی بنیاد ہے ۔مختلف قسم کی رنگ برنگی مشقوں ، متنوع عملی مثالوں اور دلچسپ جملوں کے ذریعے قواعد کو ذہن نشین کروانے اور طلبہ میں صحیح جملے اور عربی عبارت لکھنے کی لیاقت پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دی گئی ہے ۔نیز جملوں اور الفاظ کے انتخاب میں بھی اسلامی ذہنیت اور دینی خیال نمایاں ہے۔بکثرت جملے قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں ۔بہر حال ان خصوصیات کے لحاظ سے یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کو، نہ صرف نصاب تعلیم میں داخل کیا جائے بلکہ پسندیدگی کی نظر سے بھی دیکھا جائے تاکہ یہ مدارس ، کلیات اور جامعات کے طلبہ کی اس کمی کو پورا کردے جو عرصہ دراز سے عربی زبان وادب کے حلقوں میں محسوس کی جارہی تھی۔پروردگار عالم قابل مصنف کی اس علمی کوشش کو عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آ۔ہ)
’’کلید جدید‘‘اور ’’عربی کا معلم‘‘ ہر دو کتابچے مولوی عبدالستار خان کی تصنیفی مساعی میں سے ہیں اول الذکر کتابچہ چار مختصر اجزاء پر مشتمل ہے جو ثانی الذکر کے چار اجزاء کی توضیح اور تحلیل ہے۔ جس طرح مقفل چیز کو کھولنے کے لیے کنجی کی ضرورت ہوتی ہے بعینہ جو شخص عربی کے معلم سے کماحقہ استفادے کا خواہش مند ہے اس کے پاس کلید جدید کا ہونا بہت ضروری ہے ۔خاص طور پر وہ شائقین جو بطور خود عربی سیکھنا چاہتے ہوں یا مدارس میں تعلیم پانے والے وہ ذہین اور شائق طلبہ جو اپنا مطالعہ مدرسہ کی محدود تعلیم سے آگے بڑھانا چاہتے ہوں ہر دو گروہوں کے پاس کلید جدید کا ہونا از بس لازمی ہے ۔عربی کے معلم (چار اجزاء)میں جو مشقیں عربی سے اردو اور اردو سے عربی بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں ان کو ’’کلید جدید‘‘کے چاروں اجزاء میں حل کردیا گیا ہے ۔نیز بعض مشکل سوالات کے جوابات اور مختلف مضامین ، خطوط اور مشکل اقتباسات کا ترجمہ بھی اس میں لکھ دیا گیا ہے ۔تاکہ طالبین اور شائقین اپنے کام کی صحت او رغلطی کو جانچ سکیں۔’’کلید جدید‘‘عربی زبان وادب کے شائقین میں تفہیم عربی کی استعداد پیدا کرنے کے لیے ایک مفید تر اور معاون کتابچہ ہے جس سے صرف نظر برتنا بہر حال مبتدی طلبہ کے لیے کسی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔(آ۔ہ)
زیر نظر کتابچہ ’’عربی کا معلم‘‘ اگرچہ حجم کے لحاظ سے چار چھوٹے چھوٹے اجزاء پر مشتمل ہے تاہم عربی قواعد اور عربی زبان دانی کی تعلیم وتعلم کے حوالے سے ناقابل فراموش اور مفید ترین ہے۔قابل مصنف نے اقتضائے وقت کے مطابق اس کتاب میں عربی قواعد کو آسان ترین مشقوں اور مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے تاکہ زبان دانی کے ضمن میں یہ قواعد باآسانی ذہن نشین ہوتے چلے جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان کی تفہیم اور افہام کے لیے اسباق کا انتخاب اور ان کی ترتیب کوئی معمولی کام نہیں ھے مگر اس کتابچے کے مشاہدے اور مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے شائقین عربی کی مایوسی اور مشقت کو کم کرنے اور تسہیل عربی کے حوالے سے قابل قدر اور کامیاب کوشش کی ہے ۔اسباق کے انتخاب اور ترتیب میں آسانی کے پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔پہلا جزء پندرہ اسباق پر ، دوسرا جزء دس اسباق پر ، تیسرا جزء اٹھارہ اسباق پر اور چوتھا چزء تیس اسباق پر مشتمل ہے ۔جزء اول کے علاوہ باقی سب اجزاء میں قرآنی امثلہ ، محاکموں او رتمرینات کا قابل قدر اضافہ نظر آتا ہے۔ اگر سب اسباق کو تطبیق کے ساتھ حل کرلیا جائے تو طالب علم میں عربی سمجھنے ، لکھنے اور بولنے کی لیاقت پیدا ہوجاتی ہے یہ کتابچہ برصغیر پاک وہند کے اکثر سرکاری وغیرسرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں شامل نصاب رہاہے ۔بہر حال یہ کتابچہ اس قابل ہے کہ اسے عربی دانی اور عربی گرائمر کے حوالے سے تمام سرکاری وغیر سرکاری مدارس ، کلیات اور جامعات میں داخل نصاب کردیا جائے تاکہ عربی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ متعلمین کے دلوں میں قرآن فہمی کا احساس بھی جاگزیں ہو جائے۔(م۔آ۔ہ)
دین اسلام کی بنیاد وحی الٰہی پر قائم ہے اور اس کے سرمدی اصول غیر متبدل اور ناقابل تغیر ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وحی الٰہی کی بنیاد پر ترتیب پانے والا معاشرہ نہ تو غیر مہذب ہوتا ہے اور نہ پسماندہ۔ مفکرین یورپ کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے کہ وہ کونسی چیز ہو جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے نئی سے نئی تھیوری و فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ صدی ’’جدیدیت‘‘ کی صدی تھی۔ جدیدیت اصل میں ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا نام ہے جو گزشتہ دو صدیوں کے یورپ میں ’’روایت پسندی‘‘ Traditionalism اور کلیسائی استبداد کے رد عمل میں پیدا ہوئیں اور ’’ما بعد جدیدیت‘‘ ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردّ عمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ ما بعد جدیدیت کے نظریہ کا گہرائی سے عام لوگوں کو اگرچہ علم نہیں ہوتا لیکن وہ محسوس و غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور روّیوں میں اس کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات، آفاقی صداقت، مقصدیت اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کر دیا جائے۔ اسلام کی نظر میں یہ خطرناک موڑ ہے کہ انسان اصول و مقاصد پر عدم یقینی کی کیفیت میں مبتلاء ہو جائے۔ چنانچہ ایم فل کے زیر نظر مقالہ میں قابل مصنف نے مابعد جدیدیت کا اسلام سے تقابل کیا ہے جو ایک مفید اور قابلِ ستائش کوشش ہے۔ (م۔آ۔ہ)
علوم نبویہ کی ایک شاخ علم حدیث ہے۔قرن اول سے ہی حدیث رسول پر خدمات کی انفرادی کاوشیں شروع ہو چکی تھیں۔اور یہ سلسہ ہنوز تا حال جاری و ساری ہے۔علم حدیث کی بیشمار جہات پر مختلف علماءکرام نے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں۔علم حدیث کا ایک اہم پہلو’’اختلاف الحدیث‘‘ ہے۔بادئ النظر میں بعض احادیث باہم متعارض و متضاد معلوم ہوتی ہیں۔جس سے عوام الناس کے فتنے میں مبتلا ہونے کااندیشہ ہوتا ہے۔چنانچہ اس قسم کی صعوبت و تشکیک کو رفع کرنے کے لئے بہت سا رے علماءحدیث میدان عمل میں اترے۔اور انہوں نے علم مختلف الحدیث میں ہونے والی ملحدین و مشککین کی ریشہ دوانیوں کا خوب احتساب کیا ہے۔ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات میں ایک حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ہیں۔ایم ۔فل لیول پر لکھا گیا زیر نظر مقالہ اس لحاظ سے قابل ستائش کوشش ہے۔(م۔آ۔ہ)
انبیاء و رسل کی بعثت کے مقاصد میں سے عظیم ترین مقصد عقیدہ توحید کی شمع کو روشن کرنا تھا اور اللہ کے بندوں کو شرک کی اندھیر نگری سے نکالنا تھا۔ چنانچہ انبیاء و رسل کے ذھبی سلسلہ کی ابتداء حضرت آدم اور انتہا سرور دو عالم حضرت محمدؐ ہیں۔ آپؐ نے جہاں عقیدہ توحید کو واضح کیا وہاں شرک کی تردید کے لئے بھی سعی مسلسل برقرار رکھی۔ رسول کریم ﷺ نے جو پیشین گوئیاں فرمائی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی میں شامل ہیں۔ ان پیشین گوئیوں میں سے ایک بڑی پیشین گوئی یہ بھی ہے کہ امت مسلمہ میں سے بعض لوگ مشرکین کے ساتھ مل جائیں گے اور اوثان (بتوں، قبروں وغیرہ) کی عبادت کریں گے۔ اس کے برعکس عصر حاضر میں بعض اہل بدعت نے عجیب و غریب بلکہ کتاب و سنت کے منافی دعویٰ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ امت مسلمہ میں شرک کبھی نہیں ہو گا۔ زیر نظر کتاب میں کتاب و سنت کی روشنی میں مذکورہ مسئلہ پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ (م۔آ۔ہ)
روزِ اوّل سے ہی حق و باطل کا معرکہ چلا آرہا ہے۔ دین اسلام کی دعوت و تبلیغ، درحقیقت حق کی طرف دعوت ہے اور دین غیر اسلام کی دعوت، در حقیقت شیطان لعین کے مذموم مقاصد کی تکمیل اور باطل کا ایک مظہر ہے۔ دینِ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے ہمیشہ ناکام و نامراد ہوئے ہیں۔ اگر دین اسلام کی دعوت و تبلیغ دیتے ہوئے کسی کے طریقہ کار یا طرزِ عمل پر کسی کو تحفظات ہیں تو دین اسلام نے ہی خیر خواہی کے جذبے تحت یہ رہنمائی کی ہے کہ دلائل کی بنیاد پر اس کی اصلاح کی جائے۔ فقط ’’تنقید برائے تنقید‘‘ نہ صرف تضییع اوقات ہے بلکہ ’’ادع إلی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ وجادلھم بالتی ھی احسن‘‘ کے بھی منافی ہے۔ الھدی انٹرنیشنل، تبلیغ دین کے حوالے سے شب و روز مصروفِ عمل ہے۔ زیر نظر کتاب میں مذکورہ تنظیم پر لگائے گئے الزامات کا مسکت جواب ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)
روزِ اوّل سے ہی شیطان اس کوشش میں مصروفِ عمل ہے کہ وہ مسلمانوں کے درمیان باہمی نفرت و قدورت اور تعصب و تہذب کا بیج بودے۔ نتیجۃً وہ مسلمانوں کو آتش جہنم کا ایندھن بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ استخفاف حدیث، تقلید شخصی اور فقہ حنفی کو مشروعیت کا درجہ قرار دینا، یہ وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر مقلد اور غیر مقلد کی اصطلاحات کو وجود ملا ہے اور مسلمانوں کے مابین اختلافات اور مذہبی مسائل کی خلیجیں وسعت پذیر ہوئی ہیں۔ کتاب اللہ اور اسوہ حسنہ کو مشعل راہ نہ بنانے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اہواء و آراء کی غیر مرئی اور خود ساختہ بندشوں میں جکڑا جاتا ہے پھر وہ شرعی نصوص اور حدیث سے بیزاری محسوس کرتے ہوئے تقلید شخصی، استخفاف حدیث اور فقہ حنفی کی مشروعیت پر مرنے مارنے پر تل جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں علامہ عصمت اللہ خان نے دلائل اور حوالہ جات کے ساتھ فقہ حنفی کے حقائق کی پردہ چاکی کر دی ہے۔ فقہ حنفی کے پوسٹمارٹم پر یہ مفید کاوش ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)
معاشرے کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے اور اسے امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کے لئے اخلاق فاضلہ سے تمسک اور اخلاق رذیلہ سے اجتناب بہت ضروری ہے۔اچھے اخلاق نہ صر ف ذہن وفکر اور دل ودماغ پر پاکیزہ اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ دین اسلا م سے تعلق و ہم آہنگی کی راہیں بھی استوار کرتے ہیں۔اس کے بر عکس برے اخلاق نہ صرف حضرت انسان کے سیرت و کردار کو گدلا کرتے ہیں بلکہ معاشرے کے امن و سکون کو بھی تہہ و بالا کر دیتے ہیں۔اسلامی اخلاق و اطوار کیا ہیں؟ کامیاب و کامران معاشرے کی بنیادی خصوصیات و آداب کیا ہیں؟اس لحاظ سے زیر نظر کتاب میں موصوف نے اخلاق کے پھولوں سے مشام جام کو معطر کر دیا ہے۔محاسن اخلاق پر یہ ا حادیث کا بہترین اور بے مثال مجموعہ ہے۔(م۔آ۔ہ)
دنیوی و اخروی فوز وفلاح کیلئے تعلیم و تعلم کا ذہبی سلسلہ ایک سنگ میل ہے۔حصول تعلیم سےلیکر مقاصد تعلیم تک ،متعلم کے آداب سے لیکر معلم کے اوصاف تک اور فضیلت علم سے لیکر طریقہ ہائے تعلیم تک کے تمام مراحل کے بارے ،سیرت طیبہ ہماری مکمل رہنمائی کرتی ہے۔تعلیمی میدان میں متعلمین کی نفسیات کا لحاظ رکھنا،متعلمین کا خیر مقدم کرنا،میسر تعلیمی وسائل کو بر وئے کار لانااور ہمہ وقت اسالیب تعلیم کو ملحوظ خاطر رکھنا،ایک کامیاب اور کامران معلم کے بنیادی اوصاف ہوتے ہیں۔بلا شبہ نبی کریم کی ذات ستو دہ ذکر کردہ تمام اوصاف سے متصف تھی۔زیر نظر کتاب اس حوالے سے نا قابل فر اموش ہے۔(م۔آ۔ہ)
پیغمبرِ اسلام کے رفعت ذکر کے متنوع مظاہر میں سے ایک مظہر یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات ستودہ صفات اورتعلیمات پر آئے روز نئی نئی کتابیں اور مقالات لکھے جا رہے ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں بسنے والے انسان اپنی ضرورت اور ذوق کے مطابق ان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ تاریخ و سیرت اور احادیث کی کتب کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو آقائے دو جہاںؐ کا برپا کردہ معاشرہ اپنی ساری رعنائیوں اور تابانیوں کے ساتھ پڑھنے والے کے سامنے آجاتا ہے۔ ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری نے زیرِ نظر کتاب ’’المجتمع المدنی فی عھد النبوۃ‘‘ میں سیرت نگاری کا ایک جدید منہج متعارف کرایا ہے جو محدثین کے اصولِ تحقیق کے بھی مطابق ہے اور جدید مغربی مؤرخین کے اختیار کردہ اصولِ تحقیق پر بھی پورا اترتا ہے۔ اس قابلِ قدر کتاب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کی سعادت مرحومہ عذرا نسیم فاروقی کے حصے میں آئی ہے۔ اور یہ ’’مدنی معاشرہ، عہد رسالت میں‘‘ کے نام سے مطبوعہ شکل میں پیش خدمت ہے۔ (م۔ آ۔ ہ)
ایک ہمہ گیر شخصیت، علم ہیئت کا ماہر، فلسفی اور ایک ہی وقت میں سائنسی اور عمرانی علوم پر دسترس رکھنے والا شخص تاریخ میں ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی کے نام سے مشہور ہے۔ اس عبقری شخصیت نے ہندوستان اور ہندوؤں کے حالات پر مشتمل ’کتاب الہند‘ کے نام سے ایک جاندار کتاب لکھی، جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ 1019ء میں البیرونی ہند کے حالات معلوم کرنے ہندوستان آیا۔ ہندوستان کی معاشرت، تہذیب و ثقافت، جغرافیہ، تمدن، یہاں کے مذاہب اور لوگوں کی اخلاقی حالت کا مطالعہ کرنے کے لیے اس نے سنسکرت زبان سیکھی۔ ہندوستان میں البیرونی نے کم و بیش دس سال گزارےاور اس دوران ہندو مذہب کے متعلق بہت سی معلومات حاصل کیں۔ یہ تمام معلومات زیر مطالعہ کتاب کا حصہ ہیں۔ ہندوؤں کے ہاں تصور خدا کیا ہے؟ دنیا سے نجات پانے کے کیا راستے ہیں؟ ہندوؤں کے دیگر مذاہب کے بارے میں کیا نظریات ہیں؟ اوربیوی کو خاوند کے ساتھ ستی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ ہندو ازم سے متعلق یہ اور اس طرح کے دیگر بہت سے حقائق کو نہایت عرق ریزی کے ساتھ اس کتاب میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب کو ہندوؤں سے متعلق معلومات کا انسائیکلوپیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہندوؤں کو دعوت دین دینے کے حوالے سے کہاں کہاں خامیاں موجود ہیں اور کن ذرائع کو ملحوظ رکھ کر ہم ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مائل بہ اسلام کر سکتے ہیں۔(ع۔م)
دعوت واصلاح دین حنیف کا بنیادی شعبہ ہے ، جس کا احیاء استحکام دین اور اسلامی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کا مؤثر ذریعہ ہے۔دین اسلام سے وابستہ افراد کی اصلاح اور شرعی مسائل سے آگاہی کے لیے مختلف اوقات اور مواقع پر دروس مشروع ہیں ،لیکن اصلاحی نکتہ نظر سے خطبہ جمعہ خاص اہمیت کا حامل ہے۔جو عوام کی عقائید و افکار اور اخلاق و آداب سنوارنے میں نہایت اہم ہے۔عام خطبا کی نسبت خطبائے حرم مکی خطبہ جمعہ کی تیاری میں زیادہ محنت کرتے ہیں اور عقائد و نظریا ت اور شرعی احکام کے احیا کے لیے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔زیر نظر خطبات امام الحرم محمد بن عبد اللہ بن السبیل کے خطبات جمعہ کا مجموعہ ہے ،جو بہترین علمی دستاویز اور خطباء کے لیے بیش قیمت مجموعہ ہے۔(ف۔ر)
امر بالمعروف و النھی عن المنکر دین اسلام کا اہم فریضہ ہے ، امت مسلمہ کو اسی فریضہ کی انجام دہی پر دیگر امتوں پر فوقیت حاصل ہے ۔کتاب و سنت میں اس ذمہ دار ی کو بطریق احسن ادا کرنے کی پر زور تاکید ہے،کیونکہ اس فریضہ ہی دین کا استحکام ، امت کی دین سے وابستگی ممکن ہے اور اس کی بدولت ہی شیطانی سازشوں ،باطل نظریات اور شرک و بدعا ت کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔اس فریضہ سے کوتاہی اور انحراف کی وجہ سے امت مختلف فتنوں اور سازشوں کا شکار ہے اور اس فریضہ سے غفلت ہی کی وجہ سےامت میں باطل نظریات اور من مانی تاویلات کا منہ زور سیلاب در آیا ہے۔پھر اس فریضہ سے گلو خلاصی کےلیے مختلف اعتراضات واشکلات وارد کیے جاتے ہیں ،ان اعتراضات و اشکلات کا زیر نظر کتاب میں خوب محاسبہ کیا گیاہے۔(ف۔ر)
خواب اور ان کی تعبیر پر ،دین اسلام نے بحث کی ہے۔کتاب و سنت کی متعدد نصوص اس کے وجود اور اسکی حقیقت پر شاہد ہیں۔خوابوں کے وجود کا ہی انکار کر دینا ،یا خوابوں کی بنیاد پر شرعی نصوص کا انکار کر دینا،ہر دو نقطہ ہائے نگاہ افراط و تفریط کا شکار ہیں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے کوسو ں دور ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خواب ،یا تو اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں یا پھر نفسانی خیالات اور شیطانی تصورات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔اچھے خواب سے خوش ہو کر رب کریم کا شکریہ بجا لانا اور مزید اعمال صالحہ کی متوجہ ہو نا چاہیے اور اگر خواب بظاہر برا محسوس ہو تو پھر اللہ کے سامنے شیطان لعین سے پناہ مانگنا اور اپنے اعمال کی درستگی کی فکر کرنی چاہیے۔خوابوں کی تعبیر میں علامہ ابن سیرین ؒ کو غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔زیر نظر کتاب ان کی سعی مسلسل کا نہ صرف بہترین نمونہ ہے بلکہ خوابوں کی تعبیر کا بے نظیر انسائیکلوپیڈیا ہےجو مختلف ازمنہ میں بڑے بڑے عماید ملت سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے۔(م۔آ۔ہ)
قرآن کریم کلام الہی اور زندہ و جاوید معجزہ ہے۔اس کا اعجاز در حقیقت اسکی تاثیری زبان،بلاغت و فصاحت،اسالیب و مضامین اور اس کے خاص کلیدی الفاظ اور خاص اصلاحات میں پنہاں ہے۔قرآن کریم چونکہ ہماری فوز و فلاح اور صلاح و اصلاح کا سچا ضامن ہےلہذا اس کی تفہیم و افہام کیلئے تراجم کے ساتھ ساتھ آیات و سور کے باہمی ربط و نظم کو ملحوظ خاطر رکھنا از بس ضروری و لازمی ہے۔قرآن کے نظم جلی اور نظم خفی پر واقفیت حاصل کرنا اس اعتبار سے بہت کارآمد ہے کہ اس کےذریعے سے ربط کلام اور وحدت کلام کو بآسانی دریافت کیا جا سکتا ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اس کے ذریعے سے قرآن کریم کا درست ترجمہ کرنے اور فہم قرآن کی استعداد و لیاقت کا ملکہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس طرح محدود وقت میں قرآن کریم کی تفہیم و افہام آسان ہو جا تا ہے۔ زیر نظر کتاب اس حوالے سے قابل تقلید ہے کہ اس میں موصوف کے وسیع تجر بات و مشاہدات ،قرآن فہمی اور اسکے عمیق مطالعے کی جھلک نظر آتی ہے۔(م۔آ۔ہ)
علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
علم انسانیت کی معراج ہے ،جس کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ کی پہچان حاصل کرتا ،دین کی اساسیات سے واقف ہوتا اور مقصد حیات سے آگاہی حاصل کرتاہے ۔علم عظمت و رفعت کی علامت ہے اور علم ہی کی بدولت اللہ مالک الملک نے انسان کو دیگر مخلوقات سے فوقیت دی ۔کتاب وسنت میں دینی علم حاصل کرنے کی کافی ترغیب اور علما کے مراتب عام امتیوں سے اعلیٖ و افع بیان ہوئے ہیں ۔وحی کے علم کی حفاظت و ذمہ داری اور تبلیغ و اشاعت کا فریضہ علمائے امت پر عائد ہے ، اس مناسبت سے علماء کا فرض ہے کہ دینی علوم میں دلچسپی لیں اور کتاب وسنت کے احکام و فرائض ،فقہی مسائل اور ضروریات دین کے متعلقہ امور سے کما حقہ بہرہ مند ہوکر تبلیغ دین کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوں۔دینی علم سیکھنا اور سکھانا بہت معزز پیشہ ہے اور دینی تعلیم سے وابستہ افراد انتہائی قابل احترام ہیں ۔زیر نظر کتاب حافظ ابن عبد البر کی معروف کتاب جامع بیان العلم و فضلہ کا ترجمہ ہے ، جس میں علم کی فضیلت و اہمیت ،علماء کے فضائل ومناقب ، حصول علم کے لیے مصروف طلباء کی عظمت اورتعلیم سیکھنے اور سکھانے کے آداب کا بیان ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع بہترین تصنیف ہے ، جو قارئین کی علمی ذوق کو ابھارے گی اوران میں حصول علم کا نیا ولولہ پیدا کرے۔(ف۔ر)
دعوت دین ایک اہم دین فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پنہچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے،دعوتی تحریک اور تبلیغی جذبہ پیدا کرنے کےلیے ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کی یہ ایک اچھی کاوش ہے ،جو دعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہے۔(ف۔ر)
دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے-دین کی اصلاح اور بقا بھی اسی میں ہے کہ دعوت واصلاح اور تبلیغ دین کے شعبہ کو فعال رکھا جائے،دعوت و تبلیغ کا شعبہ جتنا مؤثر ہوگا عامۃ المسلمین کی دین سے وابستگی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔پھر کتاب وسنت میں دعوت و تبلیغ کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہےاور داعیوں اور واعظوں کے بہت اوصاف بیان ہوئے ہیں،موجودہ دور میں شعبہ تبلیغ کو فعال کرنے کی اشد ضرورت ہےاور علما و فضلا اور مبلغین کو اصلاح امت کے حوالہ سے اپنا اہم کردار ادا کرنا چاہیے ۔دعوت دین کی فضیلت واہمیت اور ضرورت کے پیش نظر ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب نے اچھی کتا ب مرتب کی ہے ،جو مبلغین کی میں دعوت دین کا شوق پیداکرنے اور انہیں نیا ولولہ دےگی۔(ف۔ر)
ایمان ایقان وعمل کا نام ہے،جس میں نیک اعمال کی ادائیگی کی پر زور تاکید ہے۔اس اعتبار سے کتاب وسنت میں جابجا عبادات و اعمال کے فضائل کا بیان ہے ، جنہیں حیطہ اعمال میں لا کر انسان ایمان میں رسوخ پیدا کر سکتاہے ۔فضائل اعمال کا بیان کتاب وسنت میں منتشر ہے ،جن سے صحیح طور مستفید ہونا مشکل ہے ۔فضائل اعمال سے باآسانی مستفید ہونے اور ان سے بہتر طور بہرہ مند ہونے کی لیے زیر نظر کتاب ترتیب دی گئی ہے۔یہ کتاب فضائل اعمال پر مشتمل بہترین مجوعہ ہے ،جس میں تقریبا قرآن و حدیث میں موجود تقریبا بیشتر فضائل اعمال کا احصا کیا گیا ہے۔(ف۔ر)
جادو برحق ہےاور کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے جادو ،ٹونہ انسانی زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے ،جس سے انسان کئی قسم کے روحانی و جسمانی عوارض کا شکار ہوتا ہے۔جادو کے برحق ہونے کے باوجود کتاب وسنت میں جادو ٹونے کا توڑ موجود ہے ،اس لیے جادو ٹونے کو دماغ پر سوار کرنا اور ہرمشکل ،پریشانی اور بیماری کے پیچھے جادو ٹونے کو محرک سمجھنا قطعا درست نہیں۔ایک تو جادو کرنا اور کروانا حرام ہے،لہذا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو پریشان کرنے ، کسی کو نقصان پہنچانے یا اپنی دلی تسکین کے لیے جادو کرے یاکرائے ،پھر اگر کسی پر جادو کے اثرات ظاہر ہوں تو ایسے جادوگروں ، بے دین عاملوں اورکالے علم کے ماہرین کے پاس نہیں جانا چاہیے ،بلکہ مستند علما کے پاس جاکر ان سے مشاورت کی جائے یا جادو کے تو ڑ پر لکھی گئی کتب سے علاج کی کوشش کی جائے ،جادو ٹونے اور جنات کی شرارتوں کےتوڑ کے لیے یہ عمدہ کتاب ہے ،جس میں ہر قسم کے جادو ٹونےکا علاج کتاب وسنت کےدلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔(ف۔ر)
رفع الیدین نبی کریمﷺکی محبوب سنت ہے ،جس پر آپ نے ہمیشہ عمل کیا اور اپنی حیات مبارکہ میں کبھی کوئی نماز رفع الیدین کے بغیر نہیں پڑھی ۔نیز آپ نے تمام امتیوں کو اس بات کاپابند کیا کہ و ہ طریقہ نبوی کے مطابق نماز ادا کریں ،لیکن تقلید شخصی کے خوگروں نے عوام کا کتاب وسنت سے تعلق توڑ کر اتباع و اطاعت کا رخ ائمہ کی طرف موڑ دیا اور اعمال کی ادائیگی کے لیے قول وفعل امام کو ترجیح دی گئی ،یوں عوام کو سنت سے ناتا ٹوٹا اور شخصیت پرستی کا آغاز ہو ،آل تقلید کی اس گھناؤنی سازش سے اتباع رسولﷺکا جذبہ معدوم ہوا اور عبادات میں بدعات و محدثات کا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا کہ اسلام کا اصل چہرہ ہی مسخ کردیا گیا اور حاملین کتاب وسنت کو بے دین و بے ایمان قرار دیا گیا ،صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر غیر فقیہ ہونے کے بے ہودہ الزامات عائد کیے گئے اور جہاں مذہب کے خلاف احادیث آئیں انہیں مختلف تاویلات وتحریفات سے رد کر دیا گیا۔انہیں مسائل میں سے ایک مسئلہ نمازوں میں رفع الیدین کا ہےجسے آل تقلید مختلف حیلوں بہانوں سے منسوخ اور معدوم سنت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس کے برعکس سلفی علما نے آل تقلید کی ان چیرہ دستیوں کو ہمیشہ طشت از بام کیا اور رفع الیدین کے مسنون و مستحب ہونے کو دلائل قویہ سے ثابت کرکے مقلدین کی سازشوں کو بے نقاب کیا ۔رفع الیدین کے ثبوت اورمسنون عمل ہونے کے متعلق یہ ایک معلوماتی کتاب ہے ،جس کے مطالعہ کے بعدتقلیدی تعصب سے پاک شخص خود بخود رفع الیدین کا قائل و فاعل ہو جائے گا۔(ف۔ر)