علوم نبویہ کی ایک شاخ علم حدیث ہے۔قرن اول سے ہی حدیث رسول پر خدمات کی انفرادی کاوشیں شروع ہو چکی تھیں۔اور یہ سلسہ ہنوز تا حال جاری و ساری ہے۔علم حدیث کی بیشمار جہات پر مختلف علماءکرام نے کار ہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں۔علم حدیث کا ایک اہم پہلو’’اختلاف الحدیث‘‘ ہے۔بادئ النظر میں بعض احادیث باہم متعارض و متضاد معلوم ہوتی ہیں۔جس سے عوام الناس کے فتنے میں مبتلا ہونے کااندیشہ ہوتا ہے۔چنانچہ اس قسم کی صعوبت و تشکیک کو رفع کرنے کے لئے بہت سا رے علماءحدیث میدان عمل میں اترے۔اور انہوں نے علم مختلف الحدیث میں ہونے والی ملحدین و مشککین کی ریشہ دوانیوں کا خوب احتساب کیا ہے۔ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات میں ایک حافظ ابن حجر عسقلانیؒ ہیں۔ایم ۔فل لیول پر لکھا گیا زیر نظر مقالہ اس لحاظ سے قابل ستائش کوشش ہے۔(م۔آ۔ہ)
رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق گمراہی اور ضلالت سے بچنے کا واحد طریق کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ لیکن جب اہل اسلام کے ایک بہت بڑے حصہ نے اس حوالے سے سستی کا مظاہرہ کیا تو سیدھے اور سچے راستے کو کھو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بدعت کو سنت کے مقابلے جلدی قبول کیا جاتا ہے بلکہ بدعات و خرافات مسلمانوں کی زندگی کا جزو لازم بن کر رہ گئی ہیں۔ ایسے میں سنت رسول کا دامن تھامنا اور سنن رسول کا زندہ کرنا از حد ضروری ہے۔ چونکہ بدعات کا ظہور رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد جلد ہی ہونے لگا تھا اس لیے علمائے سلف اس حوالہ سے متعدد صورتوں میں اقدامات کرتے رہے ہیں۔ محمد بن نصر مروزی نے اس موضوع پر ایک متہم بالشان کتاب ’السنۃ‘ کے نام سے تالیف کی جس نے صدیوں بعد آج بھی امام صاحب کو علمی حلقوں میں زندہ رکھا ہوا ہے۔ کتاب میں اس صافی منہج اور صحیح عقیدہ کی پہچان کرائی گئی ہے جس کو نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام نے اپنائے رکھا۔ کتاب کا بامحاورہ، سلیس اردو ترجمہ ابو ذر محمد زکریا نے کیا ہے۔ تخریج ونظرثانی حامد محمود الخضری اور حافظ سلیم اختر ہلالی اور فوائد لکھنے کے فرائض عمران ناصر نے اد...