دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال کے بارے میں اہل علم نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مک...
متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن میلاد مناتے ہیں ۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منع...
نماز میں سورہٴ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے،علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ سری اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی،جن نمازوں میں بالجہر (زور) سے قراء ت کی جاتی ہے (جیسے مغرب، عشاء، فجر) ان میں سورہ فاتحہ ختم ہوتے ہی امام ومقتدی دونوں کو بآواز بلند آمین کہنا مشروع ومسنون ہے، اس کا ثبوت احادیث مرفوعہ صحیحہ صریحہ اور آثار صحابۂ کرام اور اجماع صحابہ سے ہے۔ سیدنا بوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جب امام غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہے تو تم بھی آمین کہو کیوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ آمین معنیٰ ومفہوم فضلیت ،امام ومقتدی کے لیے حکم ‘‘ مولانا منیر قمر حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) کا مرتب شدہ ہے فاضل مرتب نے اس میں قائلین آمین بالجہر اور قائلین آمین بالسر دونوں فریق کے دلائل ذکر کر کے ان کا بے لاگ جائزہ پیش کیاگیا ہے اور آمین بالجہر کو احادیث صحیحہ اور آثار صحابہ کرام وتابعین عظا...
شریعت اسلامیہ میں خرید و فروخت کے اصولوں کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ جن کا پاس و لحاظ رکھنا ہر مسلمان کے لیے از بس ضروری ہے۔ عہد موجود میں جہاں بہت سے شعبوں میں جدت آئی ہیں وہیں خرید و فروخت کی بھی نت نئی شکلیں وجود میں آ گئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’آن لائن تجارت : تعارف، خصائص، فقہی احکام‘ وسیع پیمانے پر پھیل جانے والی آن لائن تجارت کے موضوع پر ہے۔ آن لائن خرید و فروخت اب ہر ایک فرد کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ آپ کوئی چیز آرڈر کرتے ہیں اور کچھ ہی عرصے میں وہ چیز آپ کے دروازے پر ہوتی ہے۔ آپ بھاری بھرکم سامان اٹھانے اور بہت سا وقت بچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ شریعت مطہرہ میں تجارت کے جو احکامات دئیے گئے ہیں وہ انسانوں کے انسانوں کے ساتھ تعامل کو سامنے رکھ کر دئیے گئے ہیں۔ جبکہ آن لائن تجارت ایک مختلف صورت رکھتی ہے۔ ایسے میں جائز و ناجائز ہونے کے اعتبار سے متعدد فقہی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے بہت سے سوالات و اشکالات کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ موضوع بہت وسیع ہے جس کے لیے کئی کتابیں اور مقالہ جات لکھنے کی ضرورت ہے۔ ل...
نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام کو دین کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ ﷺ صحابہ سے سوال کرتے اگر ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم ﷺکے صح...
مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے...
قیامِ پاکستان تقسیم ہند 14؍اگست 1947ء کو آزادی کے وقت دونوں جانب جو ہندو مسلم فسادات ہوئے اس میں لاکھوں انسان مارے گئے اور لاکھوں گھر برباد ہوئے ۔دونوں طرف سے جو نقل مکانی ہوئی اس میں خاندان کے خاندان کے بے گھر ہوئے اور یہ اجڑے ہوئے لوگ ہندوستان کی طرف سےپاکستان اور پاکستان کی طرف سے سے ہندوستان گئے۔ان میں سب سے زیادہ مظلوم طبقہ عورتوں کا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’آوازیں جو سنائی نہیں دیتی‘‘ اروشنی بٹالیہ کی انگریزی تصنیف THE OTHER SIDE OF SILENCE کا اردو ترجمہ ہے ۔مصنفہ نے اس کتاب میں ان اجڑی ہو ئی عورتوں پر کیا بیتی؟ کے متعلق حقیقی واقعات کو درج کیا ہے ۔مصنفہ نے گھر گھر جاکر ان عورتوں سے بات چیت کی جو اپنے خاندانوں سے بچھڑ کر اب نئے گھر میں زندگی گزار رہی ہیں۔یہ کتاب آزادی کے وقت بچھڑ جانے والی عورتوں کی کہانیوں کے متعلق ایک مستند کتاب ہے ۔(م۔ا)
مولانا عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔آپ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر عیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے۔ آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ان کے حالات وخدمات پر متعدد رسائل وجرائد کے خصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں اور متعدد کتب بھی لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالہ جات بھی لکھے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آپ بیتی‘‘ اردو کے مشہور صاحبِ طرز ادیب اور مفسر قرآن مولانا عبد الماجد دریاآبادی کے قلم سے نکلی ہوئی آپ بیت...
جنت اور اس کے متعلق گفتگو کرنا ایک ایسا طویل موضوع ہے کہ اس سے نہ تو انسان اکتاتاہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔ بلکہ پاکیزہ نفوس اس سے مانوس ہوتے ہیں اور ذہن اس سے خوب سیراب ہوتا ہے۔ تو ہم میں سے کون ہے جو جنت کی امید نہ رکھتا ہو؟ہر مسلمان کی یہ خواہش اور ارزو ہے کہ اللہ اس کو جنت الفردوس میں داخلہ نصیب کر کے جھنم کی سختیوں سے بچائے،کیونکہ جنت ایک ایسی نعمت لا یزال ہے کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی اور نا ہی عقل اس کا ادراک کرسکتی۔بلا شک وشبہ جنت ہمارا مطلوبہ ہدف اور پختہ امید اور خواہش ہے۔ یہی وہ عظیم جزا اور بہت بڑا ثواب ہے جسے اللہ نے اپنے اولیاء اور اطاعت گزاروں کے لیے تیار کر رکھاہے۔ یہی وہ کامل نعمتیں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتاہے،اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس جنت کی جو تعریف کی اور اس کے جو اوصاف بیان کیے ان سے عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔اس لیے کہ ہم اس کی خوبصورتی، عظمت اور درجات کا تصور کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ جنت میں ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا تک نہیں اور نہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا ک...
شریعتِ مطہرہ کا قرآن پاک کے بعد سب سے بڑا ماخذ احادیث رسولﷺ ہیں۔ حق تعالیٰ نے جس طرح اس امت کے لیے حفظ قرآن کی نعمت کو آسان فرمادیا اسی طرح اس امت کےلیے علم حدیث کو بھی رائج فرمادیا ۔ خیرالقرون اور اس کےبعد کچھ عرصہ تک تو ایسے رجال کار موجود تھے ۔جن کے سینے حدیثِ رسول کےسفینے تھے اور سینہ بسینہ یہ علم منتقل ہوا پھر یہ علم سینوں سے منتقل ہو کر اوراق کتب میں جگمگانے لگا۔ اب اگرچہ علم حدیث اکثر کتب کے اندر تھا مگر اہل علم ایسے جید الاستعداد تھے جو مراجع تک باسانی پہنچ جاتےتھے ۔تخریج الحدیث کے موضو ع پر عربی زبان میں تو ڈاکٹر محمود الطحان وغیرہم کتب موجود ہیں لیکن اردو زبان میں اس کا دامن خالی ہے۔ زیر نظر کتاب ’’آپ حدیث کیسے تلاش کریں‘‘ جو کہ مولانا ابو محمد محسن گلزار نعمانی صاحب کی کاوش ہے۔ اس کتاب کو سامنے رکھ کر تخصصات حدیث وتقابل ادیان کےطلباء کرام کتب احادیث سے احادیث نکالنے کی عملی تربیت حاصل سکتے ہیں۔ اس کتاب کو ترتیب دیتے ہوئے کتاب ’’تخریج الحدیث الشریف للبقاعی سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔ احادیث کو تلاش...
جو شخص قرآن مجید کو حفظ کرنے کے بعداس پر عمل کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے اجر عظیم سے نوازتے ہیں ۔اور اسے اتنی عزت وشرف سے نوازا جاتا ہے کہ وہ کتاب اللہ کو جتنا پڑھتا ہے اس حساب سے اسے جنت کے درجات ملتے ہیں ۔سیدنا عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ صاحب قرآن کوکہا جائے گا کہ جس طرح تم دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن مجید پڑھتے تھے آج بھی پڑھتے جاؤ جہاں تم آخری آیت پڑھوگے وہی تمہاری منزل ہوگی ۔‘‘( جامع ترمذی: 2914 )’’ صاحب قرآن ‘‘سے مراد حافظِ قرآن ہے اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے یؤم القوم اقرؤهم لکتاب الله ’’یعنی لوگوں کی امامت وہ کرائےجو کتاب اللہ کا سب سے زيادہ حافظ ہو ۔‘‘تو جنت کے اندردرجات میں کمی وزیادتی دنیا میں حفظ کے اعتبار سے ہوگی نا کہ جس طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس دن جتنا وہ پڑھے گا اسے درجات ملیں گے ، لہذا اس میں قرآن مجید کے حفظ کی فضيلت ظاہر ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حفظ کیا گیا ہو۔ مزید مطالعہ۔۔۔
جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔ اور بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو نام رکھا اس کامطب معانی کیا ہے اور یہ کس زبان سے ہے حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔ اچھے ناموں سے بچے کی شخصیت پر نہایت مثبت اور نیک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔زیر نظر کتاب’’آپ نام کیسے رکھیں؟‘‘ محمد خالد خان قاسمی صاحب کی تصنیف ہےفاضل مصنف نے اس کتاب میں ناموں سے متعلق اسلامی تعلیمات وہدایات کو بڑے سلیقہ سے جمع کردیا گیا ہے ۔نام کی شریعت میں کیا اہمیت ہے؟ کیسےنام رکھنے چاہیں کن ناموں سے بچنا چاہیئے؟ نام کا انسان کے مزاج پر کیا اثر ہوتا ہے؟ اسلام سے پہلے نا...
موجودہ مادی دور میں جب کہ ہرشخص دنیوی آسائشات کےحصول میں مگن ہے ایسے لٹریچر کی اشد ضرورت ہے جو مختصر ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے میں سہولت ہو اسی کے پیش نظر یہ کتاب مرتب کی گئی ہے تاکہ قرآن حکیم کی کم ازکم ان آیات کو جن کاجاننا اور ان پر اپنی روز مرہ زندگی میں عمل کرنا ہرمسلمان کے لیے نہ صرف انتہائی ضروری ہےبلکہ فرض ہے ہر ایک کے علم میں لایا جاسکے بقول مؤلف یہ کتاب قرآن کے حوالے سے اللہ تعالی کا بتایا ہوا امن وسلامتی کاسیدھا راستہ دکھانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے یہاں یہ پہلو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ دینی تعلیمات کےلیے صرف اسی ایک کتاب پرانحصار کرنا سنگین غلطی ہوگی-
قادیانیت اسلام کے متوازی ایک ایسا مصنوعی مذہب ہے جس کا مقصد اسلام دشمن سامراجی طاقتوں کی سرپرستی میں اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا ہے۔قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر آج تک اسلام اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم نے قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، سیاست و قانون اور عدالت میں غرض کہ ہر میدان میں انہیں شکستِ فاش دی ۔ حکیم محمود الحسن کی زیر نظر کتاب بعنوان’’آپ کی امانت ‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔یہ خصوصاً احمدی حضرات کے لیے مرتب کی گئی ہے ۔تاکہ حقیقت سے ناآشنا افراد حق کو پالیں اور احمدی اسلام کو چھوڑ کر حقیقی دین اسلام کی آغوش میں آجائیں اور مرزا علام احمد قادیانی سے اپنا تعلق توڑ کر گنبد خضراء کے مکین سیدنا محمدﷺ سے اپنا ایمانی وروحانی تعلق جوڑ کر سچے اور کامل مومن بن جائیں۔ ( م۔ا)
خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دو چار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنے کی مانند بالکل آشکار ہو جاتی ‘‘اور نبیﷺ نے فرمایا ’’نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ‘‘خوابوں کی تعبیر، احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آپ کے خواب اور ان کی تعبیر‘‘ ابو محمد حامد خالد بن علی العنبری کی خوابوں کی تعبیر کے متعلق ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ اس میں انہو ں نے خواب کے آداب، تقاضے، کیفیت، اور احادیث کی روشنی میں بیان کردیے ہیں تاکہ قارئین اس کتاب میں بیان کیے گیے اصو ل و ضوابط سے اس...
اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالمِ دین اور احکام ِشریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے۔ فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے ۔ برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ کتاب صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔زیر نظر کتاب ''کتاب وسنت کی روشنی میں آپ کے مسائل اور ان کاحل''جماعت اہل حدیث کے مایہ ناز عالم دین،محقق،مناظر مولانا ابو الحسن مبشرربانی ﷾ کے علمی وتحقیقی فتاویٰ جات پرمشتمل ہے۔جسے مؤقر جریدہ''مجلۃ الدعوۃ''سے جمع کیا گیا ہے ۔اس کتاب میں متعدد اختلافی وغیر اختلافی،قدیم وجدید مسائل پر انتہائی عمدہ،مختصر وجامع اورسیر حاصل تحقیق موجود ہے ۔یہ کتاب عام مسلمانوں بلکہ علماء کرام لیے از حد مفیداوربیش قیمت علمی تحفہ ہے ۔اللہ ت...
سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے ۔ اور اللہ رب العزت کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت او ر دولت ہے۔ حب ِنبوی دنیا کی تمام محبتوں میں بالکل منفرد اور ان میں سب سے ممتاز ہے ۔یہ کوئی حادثاتی اور اتفاقی محبت نہیں کہ اچانک قائم کر لی جائے او راچانک سے ختم کردی جائے یا پھر کبھی کرلی جائے اور کبھی نہ بھی کی جائے تو کو ئی حرج نہ ہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیااور آخرت میں کامیابی کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔اور اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔ تمام انبیاء میں سی کسی بھی نبی پر کوئی دشنام طرازی کی جاتی ہے تو اس کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے ی...
افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ ﷺ کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)
حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفص...
نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ...
رہبرانسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ آپ ﷺ کے لیل ونہار ‘‘مولانا مشتاق احمد شاکر اور مولانا امان اللہ فیصل کی مشترکہ کاوش ہے ۔جوکہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات مجموعہ پر مشتمل ہے ۔مرتبین نے اس کتاب میں آپ ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت میں گزرنے والے اہ...
زیر تبصرہ کتاب زندگی کے اہم ترین گوشے شادی سے متعلق ترتیب دی گئی ہے۔ محترمہ ام منیب نے نہایت سادہ انداز میں منگنی ، نکاح و رخصتی کے تمام تر معاملات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نکاح کی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے نکاح میں کی جانے والی بعض رسومات بد کا شدو مد کے ساتھ رد کیا ہے۔ کچھ صفحات مثالی گھرانے کی صفات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ طلاق کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)
مذہب امامیہ، اہل تشیع کے رد میں تحفہ اثنا عشریہ کے بعد زیر تبصرہ کتاب آیات بینات اپنی نوعیت اور شان کی یہ منفرد تصنیف ہے۔ اس کتاب کا انداز مناظرانہ ہے لیکن اسلوب بیان میں اصلاحی پہلو نمایاں ہے۔ اس کی اہمیت اس لئے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ مصنف پہلے خود شیعہ مذہب سے منسلک رہے اور پھردونوں مذاہب کے اصول و فروع کا عمیق مطالعہ کر کے شیعہ مذہب کو خیرباد کہا اور پھر یہ کتاب تصنیف کی۔ اس کتاب کا انداز بیان نہایت دل کش ہے، اس میں سنجیدگی، وقار اور اثر و تاثیر ہر جگہ دکھائی دیتی ہے۔ ہر بات کی تائید یا تردید میں کئی کئی دلائل پیش کئے گئے ہیں اور وہ سب ہی قوی ہیں۔ یہ کتاب مناظرہ کرنے والوں کے لیے تو ایک قیمتی تحفہ ہے ہی، ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی ایک قابل مطالعہ کتاب ہے۔ ہر شخص کے واسطے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو تازہ اور عقائد کو مضبوط کرنے کے لیے یہ کتاب نہایت توجہ سے پڑھے۔ اور جہاں تک ممکن ہو گمراہی کے گڑھے میں گرے دیگر بھائیوں کی اصلاح کے لیے اس کتاب کو عام کریں۔
مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق ختم نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺاللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ ﷺکو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺکے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ حضور نبی اکرم ﷺکی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیت میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: ما كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا(الاحزاب، 33 : 40)ترجمہ:’’ محمد ﷺتمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور...
اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن حکیم بلا شبہ وہ زندہ و جاوید معجز ہے جو قیامت تک کے لئے انسانیت کی راہنمائی اور اسے صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے کافی و شافی ہے۔ قرآن کریم پوری انسانیت کے لئے اللہ تعالیٰ کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی دولت اس کی ہمسر نہیں کر سکتی۔یہ وہ کتاب ہےجس کی تلاوت، جس کا دیکھنا: جس کا سننا اور سنانا، جس کا سیکھنا اور سکھانا، جس پر عمل کرنا اور جس کی کسی بھی حیثیت سے نشر و اشاعت کی خدمت کرنا دونوں جہانوں کی عظیم سعادت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ آیات قرآنی کے شان نزول‘‘ امام نیشا پوری کی عربی کتاب ’’ اسباب النزول‘‘ کامولانا خالد محمود صاحب نے اردو ترجمہ کیا ہے۔اس کتاب میں قرآن مجید کی سورتوں کی ترتیب کے ساتھ قرآنی آیات کے شان نزول کو بیان کیا ہے۔علمائے امت نے شان نزول کے موضوع پر متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔جن میں سے مشہور ترین کتاب اسباب النزول کا پہلاسلیس اردو ترجمہ ہے۔لہذا یہ کتاب قرآنی آیات کے شان نزول کی معرفت کے لئے عظیم قدر تحفہ ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے...