دکھائیں کتب
  • 21 دعوت دین اہمیت اور آداب (اتوار 30 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1684

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دعوت دین اہمیت اورآداب ‘‘ مولاناسیداحمد عروج قادری﷫ کے دعوت دینیہ کے سلسلے میں مامہ نامہ زندگی ،رامپور میں شائع مقالات کی کتابی صورت ہے ۔ان مقالات میں انہ...

  • 22 دعوت دین کا طریقہ کار عصر حاضر کے تناظر میں (جمعرات 21 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:1539

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم ﷤ سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔ دعوت وتبلیع  کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے  خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر  کی غیر مسلم  حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے  اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ دعوت دین کا طریقہ کار عصر  حاصر كے تناظر میں ‘‘  الشیخ عدنان عرعور﷾ کے   ایک تحقیقی مقالہ بع...

  • 23 دعوت دین کس چیز کی طرف دی جائے؟ (پیر 14 مئی 2012ء)

    مشاہدات:18796

    اسلام اپنی مکمل جامعیت اور پوری وسعتوں کے ساتھ دعوتِ دین کا موضوع ہے۔ اس حوالے سے ضروری ہے کہ مبلغ اسلام کے تمام گوشوں کی طرف دعوت دے۔ لیکن بنیاد عقیدہ توحید کو بنائے۔ کیونکہ اسوہ انبیاء سے یہی مترشح ہوتا ہے۔ زیر نظر کتاب میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی نے ان گوشوں کو بالتفصیل بیان کیاہے جن کی طرف دعوت دین دی جانی چاہیے۔ مؤلف کا کہنا ہے کہ مبلغ کو چاہیے کہ وہ توحید و رسالت کی دعوت کے بعد موضوعات کے انتخاب میں مخاطب لوگوں کے احوال و ظروف اور فکری، عقلی اور دینی استعداد سے چشم پوشی نہ کرے۔ انھوں نے کتاب میں اس چیز کی بھی وضاحت کی ہے کہ اپنی دعوت کو مخصوص فرقے، مذہب یا گروہ کی طرف بلانے کی بجائے صرف اور صرف کتاب و سنت کی طرف دعوت دی جائے۔ کتاب کی تمام تر معلومات کی بنیاد کتاب و سنت ہے اور کتاب کا موضوع اچھی طرح واضح کرنے کے لیے اہل علم کے اقوال بھی نقل کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 24 دعوت دین کسے دیں؟ (بدھ 25 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:19159

    ’دعوت دین کسے دیں؟‘ میں پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی نے تین سوالات کو موضوع بحث بنایا ہے۔ دعوت اسلامیہ کن کے لیے ہے؟ نبی کریمﷺ نے کن لوگوں کو دعوت دین دی؟ اس بارے میں پیش کردہ شبہات کی حقیقت کیا ہے؟ ان سوالات کے تشفی بخش جوابات کے لیے مولانا نے کتاب و سنت کو بنیاد بنایا ہے۔ نبی کریمﷺ نے جن متعدد اقسام کے لوگوں کو دعوت دین دی ان کے بارے میں متعدد شواہد کا تذکرہ کیا گیا ہے  اور ان شواہد میں سے دعوتی فوائد کو بھی احاطہ تحریر میں لایا گیا ہے۔ عوام الناس اور خصوصاً دعوت دین سے متعلق لوگوں کے لیے یہ کتاب نہایت مفید ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 25 دعوت دین کون دے؟ (جمعرات 29 دسمبر 2011ء)

    مشاہدات:16087

    دعوت دین ایک اہم دین فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین     پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پنہچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے،دعوتی تحریک اور تبلیغی جذبہ پیدا کرنے کےلیے ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کی یہ ایک اچھی کاوش ہے ،جو دعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہے۔(ف۔ر)
     

  • 26 دعوت دین کہاں دی جائے؟ (اتوار 08 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:18066

    پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی سو کے قریب عربی و اردو اور دیگر زبانوں میں تصنیف شدہ کتب کے مصنف ہیں۔ ان کا قلم بظاہر عام سے موضوع کو خاص بنا دیتا ہے۔ ’دعوت دین کہاں دی جائے‘ دیکھنے میں ایک مختصر سا مضمون نظر آتا ہے لیکن پروفیسر صاحب نے اس پر بھی اچھوتے اور نہایت دلچسپ انداز میں 200 سے زائد صفحات لکھ دئیے ہیں۔ انھوں نے تفصیل کے ساتھ ان مقامات کا تذکرہ کیا ہے جہاں پر دعوت حق پہنچانے کے شواہد موجود ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے تقریباً چودہ مقامات کا انتخاب کیا ہے۔ سب سے پہلے انھوں نے ’قید خانے میں دعوت‘ کے نام سے عنوان قائم کیا ہے اور اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت کا ذکر کرتے ہوئے مجدد الف ثانی اور جزائر انڈیمان میں مجرم قیدیوں کے قبول اسلام کا احوال لکھا ہے۔ اسی طرح انھوں نے ایوان اقتدار میں، جبل صفا پر، گھروں میں،لوگوں کی مجالس میں دعوت کی طرح متعدد عناوین قائم کرتے ہوئے نبی کریمﷺ کی سیرت سے استنباط کیا ہے اور بہت سے متعلقہ واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ مصنف نے دراصل اہل اسلام کے سامنے اس حقیقت کو آشکار کرنا چاہا ہے کہ دعوت دین مسجد و مدرسہ میں محصور نہیں، بلکہ ہر مناسب جگہ میں ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 27 دعوت دین کی اہمیت اور تقاضے (بدھ 03 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:5017

    اللہ تعالیٰ  نے انسان  کی فطرت  کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی  کے اختیار کرنے  اور بدی  سے  بچنے کی خواہش وودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو  لوگوں  تک پہنچایا او ران کو شیطان  سے  بچنے اور رحمنٰ  کے راستے   پر چلنے کی دعوت  دی ۔دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے  کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج  دعوت  اور اصول  دعوت  کے حوالے  سے   اہل  علم  عربی اور زبان  میں کئی کتب تصنیف کی  ہیں  ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی  کتب قابل ذکر ہیں  جوکہ آسان فہم  او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پید...

  • 28 دعوت دین کی ذمہ داری (جمعرات 04 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2844

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں  بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب "دعوت دین کی ذمہ داری " جماعت اسلامی پاکستان کے بانی مولانا سید ابو الاعلی  مودودی﷫  کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کی ذمہ داریوں،مبلغین کے اوصاف اور اس کے طریقہ کار پر بڑی مفید اور شاندار بحث کی ہے۔مبلغین اسلام کے لئے یہ کتاب ایک نادر تحفہ ہے۔اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے  کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

     

  • 29 دعوت دین کے لیے ہجرت (جمعرات 03 جنوری 2019ء)

    مشاہدات:1337

    شریعت اسلامیہ  میں دار الکفر سے دار الایمان کی طرف جانے کو'' ہجرت'' کہتے ہیں جیسے اوائل اسلام یا آغاز اسلام میں  ہجرت مدینہ اور ہجرت حبشہ معروف ہیں ۔جو شخص کسی شہر یا ملک میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائض دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے  اللہ تعالیٰ کے  حکم سے  اسلام کو بچانے اور اسلام کی دعوت وتبلیغ کی خاطر ہجرت مدینہ اختیار کی ۔اس سےپہلے چند صحابہ کرام  نے  اسلام  کے دعوت کو عام کرنے کےلیے ہجرت حبشہ کی ۔ڈاکٹر صلاح الدین سلطان  (مشیر شرعی برائے اسلامی امور مملکت بحرین) نے زیر نظر کتاب ’’ دعوت دین کے لیے  ہجرت ‘‘ میں داعیوں کی ہجرت کو         بیش کرتے  ہوئے اسلام کے داعی اول حضرت محمد ﷺ کی ہجرت مدینہ اور پھر عراق ومدائن ،ملک شام ،مصر ، مغرب،  اندلس،سندھ وہند ، ماوراء النہر،آذر بیجان ، ارمینیا، خراسان ،  بخارا، سمرقند اور قسطنطنیہ کی جانب داعیوں کی ہجرت کو  پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • 30 دعوت سلفیہ کے علمی اصول (جمعہ 19 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2557

    احوال وظروف کے لحاظ سے دین کی دعوت وتبلیغ اوراصلاح معاشر ےکی کوشش ہر مسلمان   پر حسب استطاعت  لازم اور ضروری  ہےتاکہ دین کی دعوت عام اور  لوگ بے دینی کی بجائے  دینداری کی طرف مائل ہوں۔ تبلیغ کی اہمیت کے لیے  یہی بات کافی ہے  کہ اللہ  تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے بے شمار انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا اورچونکہ یہ سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اس لیے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ  پر ہےتبلیغ کے موثر او رنتیجہ خیز  ہونے کے لیے  ضروری  ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کا اسوہ اور دیگر شرعی  اصول  مبلغ کے لیے  پیش نظر رہیں ۔زیر نظر کتاب ’’دعوت سلفیہ کےعلمی اصول ‘‘  کویت کے جید سلفی عالم دین  شیخ عبد الرحمن عبد الخالق﷾ کی عربی تصنیف ’’الاصول العلمیۃ للدعوۃ السلفیہ‘‘کاترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں دعوت سلفیہ کے علمی اصولوں (توحید  ،اتباع رسول ، تزکیہ نفس، سلفی دعوت کے اغراض ومقاصد) پر  بڑی شرح وبسط  کے ساتھ  روشنی ڈالی  ہے۔اپنی  افادیت کے  بیش نظر  حق وصداقت کے طلب گار کے لیے یہ کتاب ایک مینارۂ نور کی حیثیت رکھتی ہے ۔اللہ تعالی ٰ مؤلف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو  قبول فرمائے اور   دعاۃ ، واعظین کے لیے اسے مفید بنائے (آمین )(م۔ا) 

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1536
  • اس ہفتے کے قارئین: 6026
  • اس ماہ کے قارئین: 40047
  • کل قارئین : 47867966

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں