دکھائیں کتب
  • 31 دعوت قرآن و حدیث (ہفتہ 26 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1774

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین قرآن وحدیث ہے اور جب سے قرآن وحدیث موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب قرآن وحدیث کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ "اہل" ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین قرآن وحدیث کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت والجماعت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "دعوت قرآن وحدیث، منہج اہل حدیث اور تحریک اہل حدیث کا مختصر تاریخی جائزہ " محترم مولانا حافظ جلال الدین قاسمی صاحب کی تصنیف ہے، جس پر تخریج و تحقیق مولانا ابن شیر محمد ہوشیار پوری صاحب ک...

  • 32 دعوت و ارشاد (جمعرات 14 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3297

    دعوت سے مراد علماء اور دینی رہنماؤں کا عام لوگوں کی تعلیم وتربیت اس طرح کرنا کہ وہ حتی المقدور دین اور دنیا کے معاملات میں شعور اور بصیرت سے سرفراز ہوں۔یعنی لوگوں کو خیر وبھلائی، ہدایت، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ترغیب دینا تاکہ وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں سعادت کے حصول میں کامیاب ہو جائیں۔دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ امت مسلمہ کے اس عمومی رویے کے علاوہ اس میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو دعوت دین ہی کو اپنا فل ٹائم مشغلہ بنائیں ، دین میں پوری طرح تفقہ حاصل کریں اور پھر عوام الناس کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے آخرت کی زندگی کے بارے میں خبردار کریں ۔ارشاد باری تعالی ہے: اور سب مسلمانوں کے لئے تو یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اس کام کے لئے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اورجب (علم حاصل کرلینے کے بعد) اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان لوگوں کو انذار کرتے، تاکہ وہ (گناہوں سے ) بچتے۔ ‘‘(توبہ:122) زیر تبصرہ کتاب" دعوت وارشاد "پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دعوت وارشاد  کا مفہوم، اہمیت وضرورت ، داعی کی صفات اور انبیاء کرام کے دعوتی واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ...

  • اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم ؐ سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔ دعوت وتبلیع  کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے  خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر  کی غیر مسلم  حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے  اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔زیرنظرکتاب ’’دعوت واصلاح کے چند اہم اصو ل‘‘محترم نعیم الحق نعیم ﷫ (سابق مدیر ہفت  روزہ الاعتصام، وسابق  مدرس  جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور) کی دعوت واصل...

  • 34 دعوت و عزیمت (جمعرات 12 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1621

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ(661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔ امام صاحب صرف زبان اور قلم کے غازی ہی نہ تھے بلکہ وہ صاحب سیف وسنان بھی تھے ۔جنہوں نے محراب ومنبر کے ساتھ اچھے سپاہی اور مجاہد کی طرح میدان کارزار میں بھی شجاعت دکھائی۔جہاد کی تڑپ اور لگن ان کی رگ رگ اور نس نس میں رچی بسی تھی۔تاتاریوں کی بربریت کے خلاف جہاد بالقلم والسیف والسنان کا علم سب سے پہلے انہوں نےہی بلند کیا تھا۔عین اس وقت جب مصر وشام پر سراسیمگی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ان حالات میں امام ابن تیمیہ﷫ نے ایک خط لکھ کر وقت کے حکمرانوں او رعوام کو جہاد کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں عالم اسلام کو تارتاریوں کی بربریت سے چھٹکارا نصیب ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ دعوت...

  • 35 دعوت کا منہج کیا ہو (ہفتہ 20 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2428

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین  اسلام عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادات یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔:’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس کی دعوت اور پیغام  کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔زیر تبصرہ کتاب"دعوت کا منہج کیا ہو؟"اخوان المسلمین کے بانی راہنما سید قطب ﷫کے برادر خورد محمد قطب﷫  کی گرانقدر تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ایک منفر د انداز میں دعوت دین کا منہج بیان کیا ہے،اور مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی ہے۔مولف کا اپنا موقف اور طریقہ کار ہے ،جس سے ادارے کا  متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم حامد کمال الدین صاحب ﷾نے کیا ہے۔جو خود بھی اخوان  سے کچھ کچھ متاثر نظر آتے ہیں۔بہر حال یہ کتاب اہل علم خدمت میں اس مقصد سے پیش کرر ہے ہیں کہ وہ مولف کے اس...

  • 36 دعوتی تحریک ضرورت اور طریقہ کار (ہفتہ 09 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1428

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ دعوت وتبلیع کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر کی غیر مسلم حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کرتے رہے ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل پیرا ہونے بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دعوتی تحریک ضرورت اور طریقہ کار‘‘ محترم جناب سید عامر نجیب صاحب کی کاوش ہے ۔ اس کتابچہ میں انہوں نے غلبہ دین کی جدوجہد کی ضروت واہمیت اور اس حوالے سے درپیش چیلنج کی وضاحت کے ساتھ دین کے لیے ہونے والی جدوجہد کا درد دل کے ساتھ تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے ۔ اس جائزہ کا مقصد صرف اصلاح ہے اور آخر م...

  • 37 دعوتی سوالات اور میرے جوابات (منگل 07 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1215

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں مسلمانوں کی بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔’’زمانہ گواہ ہے کہ انسان ضرور ضرور خسارے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک عمل کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ ‘‘دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " دعوتی سوالات اور میرے جوابات "محترم شیخ محمد ریاض موسی ملیباری کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے دعوت دین کے میدان میں پیش آنے والے مختلف سوالات کے جوابات جمع فرما دئیے ہیں۔ اللہ تعالی اسے مولف ﷫سے قبول فرمائے اور ہمیں دعوتی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • 38 دعوتی نصاب تربیت (منگل 16 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5040

    قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے ہی بنی نوع انسان کافر و مسلم ، حزب اور حزب الشیطان جیسے دو گروہوں میں تقسم ہو گئے ۔ اس طرح انسانیت بنیادی طور پر دونظریات میں بٹ گئی ۔ تاہم یہ بات ایک طےشدہ حقیقت ہے کہ نظریہ دین اور منہج و مسلک کوئی سا بھی ہو اسے اپنے نفاذ کے مرحلے تک پہنچنے کے لیے کئی ادوار سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اگر انسانوں کی طرف سے ہو تو پہلا دور اسے وضع کرنے کا ہوتا ہے ۔ اور اگر خدا کی طرف سے ہو تو پہلا مرحلہ خدا کی طرف سے بذریعہ وحی اسے انسانوں تک پہنچانےکا ہوتا ہے ۔ دوسرا مرحلہ اس کی افادیت سے اگاہ کرنے کے لیے انسانوں کے درمیان اس کی تشہیر و دعوت کا ہوتا ہے ۔ چناچہ اس کام میں مذکورہ بالا دونوں متحارب گروہوں میں سے جس قدر کسی میں اخلاص اور لگن ہوگی وہ اسی کے حساب سے کامیاب ہو گا ۔ پھر تیسرا مرحلہ اس جماعت کے نظریہ اور سوچ کو عملی طور پر نافذ کرنے کا ہوتا ہے ۔ اور یہ تب ممکن ہے جب اس نظریے کو ماننے والی ایک جماعت ہو جو اس نظریے کے اصولوں پر پوری طرح ایمان رکھتی ہو ۔ اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہو ۔ زیرنظر کتاب انہی مقاصد کو پیش نظر رکھ کر تیار کی گئی ہے ۔ جس میں جناب ابویحی محمد زکریا زاہد صاحب نے قرآنی آیات اور احادیث نبوی جمع کی ہیں ۔ (ع۔ح)
     

  • 39 دعوتی نصاب تربیت ( زکریا زاہد ) (ہفتہ 15 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1354

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے جس سلسلۂ نبوت کا آغاز حضرت آدم سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ پر کیا گیا۔۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے ۔ دعوت وتبلیع اور اصلاح امت کی ذمہ داری ہر امتی پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر کی غیر مسلم حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کرتے رہے ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل پیرا ہونے بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دعوتی نصاب تربیت‘‘ مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد زکریا زاہد﷾ کی مرتب شدہ یہ کتاب انہوں نے جماعۃ الدعوۃ پاکستان کے زہر اہتمام کروائے جانے دورہ صفہ کےلیے بطور نصاب مرتب کی۔اس کتاب کو انہوں نے نوابواب میں تقسیم کیا ہے ہرباب ایک مکمل سبق کی حثیت رکھتا ہے۔ پھر ہر باب کی آگے مختلف فصلیں ہیں تاکہ ہر سبق کو بآسان...

  • 40 روشنی (پیر 06 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:1282

    امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  کا فریضہ ایک اہم ترین  عبادت ہے، بلکہ وراثت نبوت کی ایک واضح تصویر ہے۔ لیکن ابلیس نے بہت سارے لوگوں کو بایں طور دھوکہ میں ڈال رکھا کہ ذکر واذکار، قراءت وتلاوت، نماز وروزہ اور دنیا سے بےرغبتی اور لاپرواہی ولاتعلقی وغیرہ جیسے کام انجام دینے کو، ان کے سامنے آراستہ کر کے پیش کردیا اور امر بالمعروف اورنہی عن المنکر والی عبادت کو بےقیمت وبےوقعت بنا کر رکھ دیا اور ان کے دل میں اس کی ادائیگی کا خیال تک نہیں آنے دیا۔ جبکہ ایسے لوگ وارثین انبیاء یعنی علماء کے نزدیک لوگوں میں سب سے کم تر درجہ کے دین والے ہوتے ہیں کیوں کہ دین نام ہے اللہ کا حکم بجا لانے کا، اس لیے اپنے اوپر واجب اللہ کے حق کو پامال کرنے والا اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں معصیت اور گناہ کے کام کرنے والے سے زیادہ خراب ہے کیوں کہ حکم کی پامالی، منہی عنہ (روکے گئےکام) کے ارتکاب سے زیادہ بڑا جرم ہے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سماجی تعلقات کو صحتمند بنانے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اسلام میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کے مقاصد کے حصول کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کردار اور اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس کو بیان کیا گيا ہے یہاں تک کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے ہی مسلمانوں کو سب سے بہترین امت قرار دیا گيا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "روشنی "محترم حاجی محمد ابراہیم مہتمم جامع مسجد مبارک اہل حدیث شالا مار ٹاون لاہور  کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے خیروبھلائی کو اپنانے اور شر و...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1624
  • اس ہفتے کے قارئین: 6114
  • اس ماہ کے قارئین: 40135
  • کل قارئین : 47868932

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں