کل کتب 1143

دکھائیں
کتب
  • 1051 #2383

    مصنف : عطا ء الرحمن شیخو پوری

    مشاہدات : 1984

    والدی و مشفقی

    (اتوار 31 اگست 2014ء) ناشر : جامعہ محمدیہ توحید آباد شیخوپورہ
    #2383 Book صفحات: 382

    خطیبِ  پاکستا ن مولانا محمد حسین شیخوپوری﷫ 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6؍اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا۔ آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحنِ داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے۔ آپ نے كراچى تا خيبر چاروں صوبوں ميں لاتعداد جلسوں سے خطاب كيا، آپ كى زبان ميں الله تبارك و تعالىٰ نے بلا كى تاثير ركهى تهى۔جس جلسہ ميں آپ كا خطاب ہوتا اسے سننے كے لئے ديہاتوں كے گنوار اور شہروں كے متمدن لوگ يكساں طور پر كشاں كشاں چلے آتے۔ عموماً آپ كا وعظ رات ڈيڑھ دو بجے شروع ہوتا اور اذانِ فجر تك جارى رہتا۔ سامعين آپ كے وعظ كو يوں خاموش ہوكر سنتے جيسے ان كے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور اُنہيں يوں معلوم ہوتا تها كہ وحى الٰہى اب ہى نازل ہورہى ہے۔ بڑے سے بڑے مذہبى مخالف اپنے نرم و گرم بستروں كو چهوڑ كر آپ كى مجلسِ وعظ ميں آبیٹھتے تهے۔آپ ن...

  • 1052 #4160

    مصنف : قاضی محمد اقبال چغتائی

    مشاہدات : 3491

    وسط ایشیاء کے مغل حکمران

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : چغتائی ادبی ادارہ لاہور
    #4160 Book صفحات: 106

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رش...

  • 1053 #4160

    مصنف : قاضی محمد اقبال چغتائی

    مشاہدات : 3491

    وسط ایشیاء کے مغل حکمران

    (پیر 29 فروری 2016ء) ناشر : چغتائی ادبی ادارہ لاہور
    #4160 Book صفحات: 106

    مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی۔جس کی بنیادظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا۔مغلیہ سلطنت کا سرکاری مذہب اسلام تھا۔ تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔ باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ باقی شہنشاہ بھی اسلام کی پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کیے اور اسلامی حکومت کو برصغیر کے کونے کونے میں پھیلانے کی بھرپور کوشش کی۔مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رش...

  • 1054 #5063

    مصنف : زبیر طارق

    مشاہدات : 1163

    وفا کی خوشبو

    (جمعہ 06 جنوری 2017ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    #5063 Book صفحات: 136

    اللہ تعالی اور نبی کریمﷺ نے ایک پاکیزہ مثالی معاشرہ قائم کرنے کے لئے اس کے جملہ خدوخال کو بیان فرمایا،ان خوبیوں کو بیان فرمایاجو کسی بھی کامیاب معاشرے کا حسن ہوتی ہیں اور ان مفاسد اور گمراہیوں کو بھی کھول کھول کر بیان فرمایا جو معاشرتی حسن کو دیمک کی طرح کاٹ لیتی ہیں اور پورا معاشرہ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید نے اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ جو ماضی کی اقوام وملل کے قصص بیان فرمائے ہیں ان کا مقصد محض واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان اقدار عالیہ اور اوصاف حمیدہ کو بیان کرنا مقصد ہے جنہیں اپنا کر مختلف اقوام کی تقدیر کا ستارہ کمال بلندی پر چمکا۔ دعوہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد اقدار اسلامیہ کو پروان چڑھانے اور اخلاقی برائیوں کے تدارک کے لئے جہاں مختلف ٹریننگ پروگرامز کا اہتمام کرتی ہے وہیں مختلف طبقات کے لئے آسان اور سلیس زبان میں قرآن وسنت کی روشنی میں ضخیم کتب کے ساتھ ساتھ کتابچہ جات کی طباعت کا بھی اہتمام کرتی رہتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" وفا کی خوشبو" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں دعوہ اکیڈمی کی جانب س...

  • 1055 #369

    مصنف : عبد الہادی عبد الخالق مدنی

    مشاہدات : 18892

    وفات مصطفی ﷺ

    (جمعرات 27 مئی 2010ء) ناشر : دارالاستقامۃ
    #369 Book صفحات: 70

    محمد مصطفیٰ ﷺ کے فضائل و مناقب اور امتیازات و خصوصیات کا شمار آسان نہیں۔ آپ کی سیرت نگاری ایک شرف ہے اور "آپ ﷺ" کی وفات سیرت کا ایک اہم موضوع ہے۔ جو نہ صرف موت کی یاد دلانے اور دنیا سے رشتہ کاٹ کر آخرت کی طرف لو لگانے کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ دور حاضر میں مروّج بہت سے عقائد کی تصحیح کا پہلو بھی اس موضوع میں بہت نمایاں ہے۔اگرچہ اس موضوع پر عربی زبان میں بہت کتب موجود ہیں، لیکن اردو میں غالباً مستقل اس موضوع پر کوئی تصنیف موجود نہیں تھی۔ زیر تبصرہ کتاب میں موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور قرآن کریم ، احادیث صحیحہ اور مستند تاریخی روایات سے مدلل مؤقف پیش کیا گیا ہے۔

     

  • وفاۃ النبی ﷺ

    (بدھ 31 مئی 2017ء) ناشر : اسلامک بک کمپنی لاہور فیصل آباد
    #5398 Book صفحات: 335

    عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصور...

  • وفاۃ النبی ﷺ

    (بدھ 31 مئی 2017ء) ناشر : اسلامک بک کمپنی لاہور فیصل آباد
    #5398 Book صفحات: 335

    عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصور...

  • 1058 #1720

    مصنف : طالب ہاشمی

    مشاہدات : 6884

    وفود عرب بارگاہ نبوی میں

    (جمعہ 14 جون 2013ء) ناشر : حرا پبلی کیشنز لاہور
    #1720 Book صفحات: 299

    تاریخ اس امر پرشاہد عادل ہےکہ حضورﷺنےمدینہ منورہ میں  جب  اسلامی ریاست کی تشکیل وتاسیس فرمائی تو اللہ تعالی کے فضل عمیم سے حضور کی تبلیغی مساعی کےنتیجےمیں  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں صرف دس برس  کے قلیل عرصےمیں سلطنت اسلامی کا حصہ دس لاکھ مربع میل  اور ایک رائے کے مطابق بارہ لاکھ مربع میل وسیع ہوگیا ۔اتنی تھوڑی سی مدت میں اتنی عظیم کامیابی  کاراز آپﷺکا وہ تبلیغی نظام تھاجو رب کائنات نےآپ کو سجھایا تھا۔اس وسیع تبلیغی نظام میں وفود کاکردار بھی بیحد اہمیت کاحامل ہے کیونکہ ان لوگوں نےاپنے قبائل میں تبلیغ کا فریضہ بڑی سرگرمی سے انجام دیا۔یہ کہانابجاہوگا کہ وفود کا تذکرہ سیرت طیبہ کاایک اہم باب ہے۔یہ وفود مختلف النوع مقاصد کی حاطر آنحضرت کی خدمت میں  آیاکرتےتھے۔ان مقاصدمیں سے تلاش حق،تفقہ فی الدین،مفاخرت،خوابوں کی تعبیر،صلح وامن کا پیغام اوربعض آپ کو شہید کرنےکے ناپاک عزائم کیلے آئے تھے۔زیر نظرکتاب میں ،محترم جناب طالب ہاشمی صاحب نےسیرت طیبہ کے اسی باب کو بڑے احسن اندازمیں بیان کرنےکی کوشش فرمائی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 1059 #3710

    مصنف : قاضی سلیمان سلمان منصور پوری

    مشاہدات : 3660

    وما ارسلناک الا رحمۃ اللعالمین

    (اتوار 25 اکتوبر 2015ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور
    #3710 Book صفحات: 990

    رسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے ۔اور ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت ﷜ سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ دنیا کی کئی زبانوں میں بالخصوص عربی اردو میں بے شمار سیرت نگار وں نے سیرت النبی ﷺ پر کتب تالیف کی ہیں۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب   الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہو...

  • 1060 #2965

    مصنف : سیموئل سٹرینڈ برگ

    مشاہدات : 4870

    ٹیپو سلطان (شیرِ میسور)

    (جمعرات 26 فروری 2015ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور
    #2965 Book صفحات: 119

    ٹیپوسلطان برصغیرِ کا وہ اولین مجاہد آزادی اور شہید آزادی ہے جس نے آزادی کی پہلی شمع جلائی اور حریت ِفکر، آزادی وطن اور دینِ اسلام کی فوقیت و فضیلت کے لیے اپنی جان نچھاور کردی تھی، ٹیپوسلطان نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق و امتیاز قائم کیا اور پرچم آزادی کو ہمیشہ کے لیے بلند کیا تھا۔ ٹیپوسلطان 1750 میں بنگلور کے قریب ایک قصبے میں پیدا ہوا ۔ٹیپوسلطان کا نام جنوبی ہندوستان کے ایک مشہور بزرگ حضرت ٹیپو مستان کے نام پر رکھا گیا تھا، ٹیپوسلطان کے آباؤ اجداد کا تعلق مکہ معظمہ کے ایک معزز قبیلے قریش سے تھا جو کہ ٹیپوسلطان کی پیدائش سے اندازاً ایک صدی قبل ہجرت کرکے ہندوستان میں براستہ پنجاب، دہلی آکر آباد ہوگیا تھا۔ٹیپوسلطان کے والد نواب حیدر علی بے پناہ خداداد صلاحیتوں کے حامل شخص تھے جو ذاتی لیاقت کے بے مثال جواں مردی اور ماہرانہ حکمت عملی کے سبب ایک ادنیٰ افسر ’’نائیک‘‘ سے ترقی کرتے ہوئے ڈنڈیگل کے گورنر بنے اور بعد ازاں میسور کی سلطنت کے سلطان بن کر متعدد جنگی معرکوں کے بعد خود مختار بنے اور یوں 1762 میں باقاعدہ ’’سلطنت خداداد...

  • 1061 #778

    مصنف : عبد الصمد مظفر

    مشاہدات : 23694

    پانچ عظیم مسلم سپہ سالار

    (جمعہ 29 مارچ 2013ء) ناشر : رابعہ بک ہاؤس لاہور
    #778 Book صفحات: 170

    دور جدید میں نئی نسل کی تاریخ اسلام میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کے تاریخی واقعات پر مبنی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے بوریت محسوس کرتے ہیں حالانکہ ہر دور میں نئی نسل کے لیے بہادری کی ان داستانوں کا پڑھنا نہایت ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ان عظیم لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور آنے والے دنوں کے لیے تاریخ میں  اپنا اور اپنے ملک کا نام رقم کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ایسے بے شمار سپہ سالاروں سے نوازا جنھوں نے مختلف مواقع پر مسلمانوں کی بہت بڑی بڑی فتوحات سے ہمکنار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب میں عبدالصمد مظفر نے ان میں سے 5 سپہ سالاروں کا انتخاب کیا ہے۔ جن میں خالد بن ولید ؓ، محمد بن قاسم، طارق بن یزید، یوسف بن تاشفین اور امیر تیمور کے نام شامل ہیں۔ اسلامی لشکر کے یہ جانباز سپہ سالار میدانِ جنگ میں دشمن کے لیے موت اور اپنوں کے لیےامن و راحت کے پیامبر تھے۔ اسلام کے ان عظیم سپہ سالاروں نے اپنی منزل کا تعین کرتے ہوئے جب بھی قدم بڑھائے تو رفعت و عظمت کے پھول ان کے استقبال کے لیے بکھرتے چلے گئے۔ ان عظیم سپہ سالاروں کی زندگی کے حالات و واقعات کے مطالعے سے قارئ...

  • 1062 #1845

    مصنف : پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذو الفقار

    مشاہدات : 5065

    پاکستان تصور سے حقیقت تک

    (جمعرات 17 اکتوبر 2013ء) ناشر : بزم اقبال کلب روڑ لاہور
    #1845 Book صفحات: 388

    جدوجہد پاکستان ایک تاریخی باب ہے ۔جو کئی فصول پر مشتمل ہے۔عام طور پر اس تاریخی جدوجہد کا آغاز شاہ ولی اللہ  کے حوالے سے بتایا جاتا ہے۔لیکن تاریخی طور پر یہ  ثابت ہے کہ شاہ صاحب نے جس  فکری و عملی تحریک  کی اساس رکھی تھی وہ خالصتا اسلامی تھی۔ مثلا سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل  شہید  نے پشاور او رخیبر پختون خوان میں ایک ایسی ریاست قائم کی جو حقیقی معنوں میں شاہ صاحب  کے خواب کی تعبیر تھی۔جس میں  صحیح معنوں  میں اسلامی نظام کا قیام کیا گیا۔  لیکن گزشتہ سے پیوستہ  صدی کے انتہائی اور گزشتہ صدی کے  ابتدائی عرصے میں تحریک جدوجہد پاکستان کی قیادت ایک ایسے گروہ کے ہاتھ آئی جس  کا تصور اسلام ،سلف کے تصور اسلام سے  بوجوہ مختلف تھا۔چنانچہ تخلیق پاکستان کے بعد اس ملک کو ایسی پالیسیوں کے مطابق چلانے کی کوشش کی گئی  جن کا قبلہ کعبے کی بجائے  کوئی اور تھا۔عام طور پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تخلیق پاکستان کے لیے  ہونے والی کوششوں کے  مرکزی کردار محمدعلی جناح اور اقبال  ہیں ۔ یہ کتاب انہی دونوں شخصیتوں کے...

  • 1063 #5262

    مصنف : میجر سید حیدر حسن

    مشاہدات : 1349

    پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے

    (جمعہ 07 اپریل 2017ء) ناشر : میجر سید حیدر حسن ماڈل ٹاؤن لاہور
    #5262 Book صفحات: 386

    " تحریک پاکستان اصل میں مسلمانوں کے قومی تشخص اور مذہبی ثقافت کے تحفظ کی وہ تاریخی جدو جہد تھی جس کا بنیادی مقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ اور بحیثیت قوم ان کی شناخت کو منوانا تھا ۔ جس کے لیے علیحدہ مملکت کا قیام از حد ضروری تھا ۔یوں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ 1940 کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس کی اصل شروعات تاریخ کے اس موڑ سے ہوتی ہے جب مسلمانان ہند نے ہندو نواز تنظیم کانگریس سے اپنی راہیں جدا کر لی تھی ۔ 1930 میں علامہ اقبال نے الہ آباد میں مسلم لیگ کے اکیسیوں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باضابطہ طور پر بر صغیر کے شمال مغبر میں جداگانہ مسلم ریاست کا تصور پیش کر دیا ۔ چودھری رحمت علی نے اسی تصور کو 1933 میں پاکستان کا نام دیا ۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938 میں اپنے سالانہ اجلاس میں بر صغیر کی تقسیم کے حق میں قرار داد پاس کر لی ۔ علاوہ ازیں قائد اعظم بھی 1930 میں علیحدہ مسلم مملکت کے قیام کی جدو جہد کا فیصلہ کر چکے تھے ۔1940 تک قائد اعظم نے رفتہ رفتہ قوم کو ذہنی طور پر تیار کر لیا ۔23مارچ 1940 کے لاہور میں منٹو پارک میں مسلمانان ہند کا...

  • 1064 #6383

    مصنف : سید حسن ریاض

    مشاہدات : 2271

    پاکستان ناگزیر تھا

    (پیر 07 مئی 2018ء) ناشر : شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی
    #6383 Book صفحات: 628

    مسلمانوں کی کوشش سے برصغیر ہند کی تقسیم اور خود مختار اعتقادی دولت کی حیثیت سے پاکستان کا قیام ایسا واقعہ ہے کہ اس پر ہمیشہ گفتگو رہے گی کہ ساری دنیا کی مخالفت کے باوجود یہ کیسے ہو گیا۔ برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے ساتھ ہی مسلمان ایسی سخت سیاسی الجھن میں مبتلا ہونے کہ دنیا کے کسی حصے میں کوئی دوسری قوم نہیں ہوئی۔ وہ برصغیر میں‘ جسے بڑے اہتمام سے اور بڑی بدنیتی سے‘ ایک ملک کہا جاتا تھا‘ تنہا ایک قوم نہیں تھے بلکہ ہندو دوسری قوم تھے جن کی آبادی میں کثرت تھی‘ جنہوں نے مسلمانوں کی فیاضانہ حکومت میں سات سو برس دولت سمیٹی تھی اور اپنے توہمات اور تعصبات کو ترقی دینے کے لیے بالکل آزاد رہے تھے۔ وہ مسلمانوں کی مخالفت کے لیے کھل کر سامنے آگئی۔ انہوں نے ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم کرنے میں انگریزوں کا پورا ساتھ دیا۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص تاریخ پاکستان کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے انگریزی مواد کو بھی اقتباسات کی شکل میں افادۂ عام کے لیے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور پاکستان کے وجود میں آنے کی تاریخ کو امت کے سالاروں کے کارناموں اور ان کی ان...

  • 1065 #4195

    مصنف : محمد الیاس خان

    مشاہدات : 1881

    پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کے تناظر میں

    (جمعرات 04 فروری 2016ء) ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد
    #4195 Book صفحات: 298

    قوموں کے عروج و زوال کی داستان اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قومی دفاع اور ملکی سلامتی سے غفلت برتنے والی اقوام با لآخر اپنی آزادی اور استقلال کو کھو دیتی ہیں اور اغیار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لی جاتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ برصغیر کے جذبہ ایمانی سے سرشار مسلمانوں کی ایک بھرپور تحریک اور لازوال شہادتوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں ہم جس عظیم ملک کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، پچھلے تقریباً پچاس(50) سالوں کے دوران اس کی بقاء اور سلامتی کے تقاضوں کو کما حقہ سمجھنے، ان کے حصول کے لیے مناسب پالیسیوں کی تشکیل اور پھر ہم ان پر خلوص نیت سے عمل پیرا ہونے میں مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کی سلامتی کو گوناگوں خطرات کاسامنا ہے۔ ایک طرف ہم بھارت کے جارحانہ عزائم کا نشانہ ہیں جس نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور دوسری طرف کرّاہ ارض پر اپنی بالادستی کے قیام کی خواہشمند مغربی اقوام کے خطرناک ارادے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو"خطرہ" اور"دہشت گرد" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور یہ باور کرانے کی کوشش کی...

  • 1066 #4002

    مصنف : پروفیسر محمد عثمان

    مشاہدات : 4148

    پاکستان کی سیاسی جماعتیں

    (جمعہ 29 جنوری 2016ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
    #4002 Book صفحات: 839

    دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہوں گے جہاں صرف دو یا گنتی کی تین، چار سیاسی جماعتیں ہوں گی لیکن پاکستان میں ان جماعتوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان ایک کثیر سیاسی جماعتیں رکھنے والا ملک ہے، جن کی تعداد اڑھائی سو کے قریب ہے۔ان میں سے کچھ مذہبی اور کچھ لسانی جماعتیں بھی ہیں اور بعض جماعتیں ایسی بھی ہیں جن کا نام کے سوا کوئی عملی وجود نہیں ہے۔ان میں سے ہر جماعت کا اپنا منشور اور آئین ہے جس کے مطابق وہ اپنی سیاسی زندگی گزار رہی ہے اور انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تھے۔اس کے بعد بے شمار جماعتیں وجود میں آتی گئیں۔ زیر تبصرہ کتاب" پاکستان کی سیاسی جماعتیں" محترم پروفیسر محمد عثمان اور مسعود اشعر صاحبان  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے پاکستان کی 16  بڑی سیاسی جماعتوں  کے پروگرامز اور ان کے منشور کو بعینہ یہاں جمع کردیا ہے اور اس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں کیا تاکہ ہر کوئی ان جماعتوں کے منشور سے آگاہی حاصل کر سکے۔یہ کتاب سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ایک مفید ترین کتاب...

  • 1067 #6080

    مصنف : عزیز جاوید

    مشاہدات : 1268

    پاکستان کی نامور خواتین

    (منگل 14 نومبر 2017ء) ناشر : دیبا پبلیکیشنز پشاور
    #6080 Book صفحات: 616

    برصغیر کے مسلمانوں نے حصول پاکستان کی جد و جہد میں جس ضبط و نظم، خلوص، ایثار اور قربانی کا عملی مظاہرہ کیاہے وہ یقینا ہماری تاریخ کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو ےنے والی نسلوں کے لئے مشعلے راہ کا کام دیتا رہے گا۔ یہ تریخی ورثہ ایک ایسا نادر سرمایہ ہےجس کی تانباکی ہر زمانے میں روشنی کے مینار کا کام دے گی۔ اس سرمائے کا تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے۔اگرچہ تحریک پاکستان پر مختلف زاویہ ہائے نظر سے کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن ان نامور خواتین کے حالات ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہو سکے جنہوں نے تحریک آزادی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخی حقائق اس امر کے متقاضی تھے کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ پاکستان کی نامور خواتین‘‘ عزیز جاوید کی ہے جس میں کہ قوم کی اُن مایہ ناز خواتین کی جدو جہد آزادی اور سماجی وملّی خدمات کو ایک جامع اور مبسوط کتاب کی شکل میں محفوظ کر کے تاریخی ذمہ داریوں کو پورا کیا گیا...

  • 1068 #6524

    مصنف : ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی

    مشاہدات : 2052

    پاکستان کے لیے مثالی نظام تعلیم کی تشکیل تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں

    (منگل 29 مئی 2018ء) ناشر : سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور
    #6524 Book صفحات: 244

    تعلیم اپنے وسیع تر معنوں میں وہ چیز ہے جس کے ذریعے لوگوں کے کسی گروہ کی عادات اور اہداف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں۔ اپنے تکنیکی معنوں میں اس سے مراد وہ رسمی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے ایک معاشرہ اپنا مجموعی علم ، ہنر ، روایات اور اقدار ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل کرتا ہے۔اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں...

  • 1069 #6639

    مصنف : ایس ایم شاہد

    مشاہدات : 5129

    پاکستانی معاشرہ اور ثقافت

    (پیر 28 مئی 2018ء) ناشر : ایورنیو بک پیلس لاہور
    #6639 Book صفحات: 545

    معاشرہ افراد کے ایک ایسے گروہ کو کہا جاتا ہے کہ جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ انکا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو۔ جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پھر عام طور پر اس کا نام معاشرے کے ساتھ اضافہ کردیا جاتا ہے جیسے ہندوستانی معاشرہ ، مغربی معاشرہ یا اسلامی معاشرہ۔ اسلام میں مشترکہ بنیادی ضروریات زندگی کے اس تصور کو مزید بڑھا کر بھائی چارے اور فلاح و بہبود کے معاشرے کا قرآنی تصور، ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مقابلے معاشرے کی تمام لغاتی تعریفیں اپنی چمک کھو دیتی ہیں۔ معاشرے کے قرآنی تصور سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی جانب راہ کھلتی ہے کہ جہاں معاشرے کے بنیادی تصور کے مطابق تمام افراد کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر ہوں اور ذہنی آسودگی بھی۔ اور کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا کہ جب تک اس کے ہر فرد کو مساوی انسان نہ سمجھا جائے، اور ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں جو ایک طاقتور کے پاس ہوں، خواہ یہ کمزوری ط...

  • 1070 #1606

    مصنف : آغا اشرف

    مشاہدات : 17248

    پتھر کا شہر پتھر کے لوگ

    (اتوار 23 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    #1606 Book صفحات: 22

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور &rsq...

  • 1071 #1606

    مصنف : آغا اشرف

    مشاہدات : 17248

    پتھر کا شہر پتھر کے لوگ

    (اتوار 23 دسمبر 2012ء) ناشر : دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی، اسلام آباد
    #1606 Book صفحات: 22

    جس طرح رنگ برنگے اور مختلف خوشبو والے نرم و نازک پھولوں کی آبیاری کے لیے مناسب غذا اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح بچوں کی نشو و نما کے لیے بھی اچھی تعلیم و تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بچوں تک مثبت تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انھیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس کے معلمین اور معلمات کی نہیں ہے اس میں والدین، رشتہ دار اور معاشرہ کے افراد بھی یکساں طور پر شریک ہیں۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد بہت سارے علمی، ادبی اور فکری منصوبہ جات شروع کرتی رہتی ہے۔ دعوۃ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ’شعبہ بچوں کا ادب‘ قائم کیاتاکہ بچوں کے ذہنوں میں نہ صرف راست فکر کے بیج بوئے جائیں بلکہ فکر کی نمو و ترقی میں آسانیاں پیدا ہو سکیں۔ زیر نظر کتابچہ ’پتھر کے شہر پتھر کے لوگ‘ بھی بچوں کے اخلاق و کردار سنوارنے میں اہم کردار ادا کرے گا جس میں نبی کریمﷺ کا طائف میں تبلیغ کے لیے جانا اور اہل طائف کا آپﷺ کے ساتھ نہایت برے سلوک کا واقعہ قلمبند کیا گیا ہے اس کےساتھ ساتھ ’وہ مائیں وہ بیٹے‘اور &rsq...

  • پرسکون علمی مباحثہ

    (پیر 25 مئی 2020ء) ناشر : نا معلوم
    #8185 Book صفحات: 504

    صحابہ کرام کی  مقدس جماعت  ہی وہ پاکیزہ جماعت  ہے جس کی  تعدیل قرآن نے بیان کی ہے ۔ متعدد آیات میں ان کے  فضائل ومناقب پر زور دیا ہے  اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔  اوران  کی راہ  سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر  کیا ہے ۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م﷢ کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے  پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن  وحدیث کےساتھ  تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔اور محدثین نے ’’الصحابۃ کلہم عدول‘‘  کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز  تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے  تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی  کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے ۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت ،کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہے گی ۔ لیکن مخالفینِ اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے  سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے ...

  • 1073 #8083

    مصنف : عنایت اللہ

    مشاہدات : 669

    پرچم اڑتا رہا

    (پیر 20 جنوری 2020ء) ناشر : علم و عرفان پبلشرز، لاہور
    #8083 Book صفحات: 109

    پاکستان کے مشہور و معروف مصنف عنایت اللہ مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ جب بھی تاریخی ناولوں کا ذکر ہو تو ان کا نام فورا ذہن میں آجاتاہے۔ اور اک بت شکن پیدا ہوا، شمشیر بے نیام، دمشق کے قید خانے میں، اور نیل بہتا رہا، ستارہ جو ٹوٹ گیا!، حجاز کی آندھی، اندلس کی ناگن، فردوس ابلیس جیسے کئی ناول ان کے قلم سے وجود میں آئے۔اس کے علاوہ  بی آر بی بہتی رہی، پرچم اُڑتا رہا، بدر سے باٹا پور تک جیسی بے شمار کتب ان کےقلم سے منظر پر آئیں۔ زیر نظر کتاب ’’ پرچم اڑتا رہا ‘‘  بھی  عنایت اللہ کی تصنیف ہے یہ کتاب جذبہ حریت پر مبنی سچی تاریخی15 داستانوں کا مجموعہ  ہےان میں سے دو کہانیاں سید احمد شہید کی تحریک مجاہدین کے جہاد کی ہیں۔دو کہانیاں الجزائر کی جنگ آزادی کی ہیں۔دو کہانیاں پاکستان کے پہلے میجر جنرل اکبر خان کی ہیں دو کہانیاں پہلی جنگ عظیم میں ترکوں کی ہیں اور اس کے علاوہ اس میں کچھ متفرق کہانیاں ہیں۔(م۔ا)

  • 1074 #4154

    مصنف : شورش کاشمیری

    مشاہدات : 3491

    پس دیوار زنداں

    (ہفتہ 27 فروری 2016ء) ناشر : مطبوعات چٹان لاہور
    #4154 Book صفحات: 462

    آغا شورش کاشمیری پاکستان کےمشہور و معروف شاعر،صحافی، سیاستدان اوربلند پایہ خطیب تھے۔آغا شورش کاشمیری 14 اگست 1917ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اصل نام عبدالکریم تھا، لیکن آغا شورش کاشمیری کے نام سے مشہور ہوئے۔ آغا شورش کاشمیری ایک مجموعہ صفات شخصیت تھے۔ صحافت، شعروادب، خطابت وسیاست ان چاروں شعبوں کے وہ شہسوار تھے۔ آغا شورش نے ایک متوسط گھرانہ میں جنم لیا اور بمشکل میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ آپکی سیاسی علمی ادبی تربیت کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ گھر میں ’’زمیندار‘‘ اخبار آتا اور مسجد شہید گنج کی تحریک نصف نہار پر تھی عبدالکریم اسکول سے فارغ ہوئے تو تحریک شہید گنج کا رخ کیا اور مولانا ظفر علی خان سے قربت میسر آ گئی۔ عبدالکریم پہلے ہی جوش و جذبہ کا سیل رواں تھے، بغاوت و آزادی کا ہدی خواں تھے، شمشیر برہاں تھے، آپ تخلص الفت کرتے اور زمانے میں شورش برپا کر رکھی تھی لہٰذا حسب مزاج الفت کو شورش کا نام دینا مناسب جانا بس مولانا ظفر علی خان تھے۔ تحریک شہید گنج تھی اور شورش کا جذبہ تھا کچھ کر گزرنے کا جنوں تھا۔ مولانا ظفر علی خان کی سیاست، صحافت، خ...

  • 1075 #4402

    مصنف : آباد شاہ پوری

    مشاہدات : 2106

    پہاڑی کے چراغ

    (پیر 18 اپریل 2016ء) ناشر : اسلامک پبلشنگ ہاؤس، لاہور
    #4402 Book صفحات: 206

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے  ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ دین حنیف کی سر بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں کچھ ایسے افراد کو پیدا کیا کہ حق گوئی، بے باکی جن کا خاصہ تھی جو جابر و...

< 1 2 ... 38 39 40 41 42 43 44 45 46 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1907
  • اس ہفتے کے قارئین 17360
  • اس ماہ کے قارئین 25904
  • کل قارئین54240866

موضوعاتی فہرست