جس طرح صالح اعمال کرنے ضروری ہیں اسی طرح اس سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا بھی لازم ہے کیونکہ انسان بڑی تگ ودو کے بعد اعمال کی لڑی پروتا ہے اور ذراسی بے احتیاطی سےیہ لڑی بکھر بھی سکتی ہے لہذا ایک مسلمان کی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزدنہ ہو جس کی وجہ سے اس کی ساری محنت ومشقت اکارت ہوجائے ۔کیونکہ انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’&rsqu...
ایمان اور اعمال صالحہ دو ایسی چیزیں ہیں جو اخروی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہیں ۔ ان دو چیزوں کی بربادی آخرت میں ملنے والی عزت و توقیر کی بربادی ہے۔ بعض لوگ بڑی محنت سے اعمال صالحہ انجام دیتے ہیں لیکن اس کےساتھ ساتھ وہ کچھ ایسے غیر شرعی کام کر بیٹھتے ہیں جن کی وجہ سے ساری نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ایسے کاموں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو نیکیوں کو برباد کر دینے والے ہیں۔ ایمان و عمل کو برباد کر دینے والے عوامل کون سے ہیں، ان کا علم ہر بندے کے لیے ضروری ہے۔ نیکیوں کو برباد کر دینے والے یہ شیطانی اعمال ہمارے بدترین دشمن ہیں۔ اس کتاب میں ایسے ہی دشمنوں کے چہروں سے نقاب اتارا گیا ہے۔ مصنف نے پہلے وہ اعمال بیان کیے ہیں جن سے نیکیاں مکمل طور پر برباد ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان اعمال کا تذکرہ ہے جن سے نیکیاں مکمل طور پر تو ضائع نہیں ہوتیں البتہ نیکیوں میں سے ایک بڑا حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔ کتاب کے مصنف تفضیل احمد ضیغم ہیں جن کی کتب اصلاح معاشرہ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ (ع۔م)
دین اسلا م میں نماز کی اہمیت مسلمہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے نماز کو مؤمن کی معراج اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے۔ لیکن بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر نماز سے غافل اور اس کا تارک ہو چکا ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو نمازوں کا خصوصی اہتمام کرتے اور اپنے اوقات کار کو اس کے مطابق ترتیب دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اہالیان اسلام کو اس فرض کی طرف راغب کرنے والی زیر مطالعہ مختصر سی کتاب ایک گرانقدر کاوش ہے جس میں مؤلف نے انسانی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے مسنون نماز کے ایک ایک عمل کے لیے زبردست فوائد بتائے ہیں کتاب میں نماز کے لیے گھر سے نکلتے وقت سے نماز سے فراغت کے بعد واپس گھر پہنچنے تک کے فضائل و برکات نہایت سہل انداز میں رقم فرما گئے دئیے ہیں۔ اصل کتاب عربی میں تھی جس کو اردو قالب میں مجلس التحقیق الاسلامی کے سابق رکن قاری محمد مصطفیٰ راسخ نے ڈھالا ہے۔ یہ کتاب اللہ کے فضل سے جہاں بے نمازی حضرات کو نماز کی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی نمازی حضرات کے اندر بھی ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کرے گی۔(ع۔م)
مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کے سامنے با وضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے۔ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمۂ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’نیکیوں کی مالا‘‘شیخ ابو عبد اللہ عادل بن عبداللہ آل حمدان کی نماز کی اہمیت وفضیلت کے موضوع پر ایک عربی کتاب&rsquo...
قرآن مجید انسانوں کی راہنمائی کے لیے رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی آخری کتاب ہے ۔اور قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے رشد و ہدایت کا سرچشمہ اور نوعِ انسانی کے لیے ایک کامل اور جامع ضابطۂ حیات ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلندی اور آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے کہ اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس و تدریس کا اہتمام کیا جائے اور اس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیا میں کم و بیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم و حواشی شائع ہو چکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے دو فرزند شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر ہیں۔ اب تو اردو زبان میں بیسیوں تراجم قرآن و حواشی اور تفاسیر دستیاب ہیں ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’واضح البیان‘‘شارح صحیح بخاری مولانا داؤد راز رحمہ اللہ کے تفسیری حواشی اور مولانا محمد...
قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی ﷺ کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔قرآن مجید کی خدمت کو ہر مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن‘‘ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی ہے۔ جس میں تفسیر...
واقعہ افک سیرت نبوی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ منافقین کی طرف سے خانوادہ نبوی کو نشانہ بنانے کی سب سے بڑی کوشش تھی جس میں سیدہ عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی۔اس الزام کی بنا پر سیدہ اور ان کے گھر والے خصوصاً ان کے والد حضرت ابو بکر ؓاور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر رسول خدا نبی کریم ﷺ سخت ذہنی اذیت سے دوچارہوگئے ۔ اس دوران میں تمام مسلمان بھی گومگو اور باہمی اختلاف و انتشار کی کیفیت میں مبتلا رہے۔ایک مہینے تک بہتان تراشی اور ایذا رسانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد کہیں جاکر سورہ نور کی ابتدائی آیات میں حضرت عائشہ کی براء ت اللہ تعالیٰ نے خود نازل کی اور یہ طوفان تھما۔اس کے بعد تہمت لگانے والے مسلمانوں کو اسی اسی کوڑے مارے گئے ،جو تہمت لگانے کی شرعی سزا ہے۔یہ ایک صحیح اور ثابت شدہ واقعہ ہے جس کا تذکرہ قرآن مجید اور متعدد احادیث صحیحہ کے اندر موجود ہے۔مگر بعض عقل پرستوں کو یہ واقعہ سمجھ نہیں آتا ،وہ اس کے راویوں پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے ان احادیث کو سرے سے ہی اڑا دیتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب"واقعہ افک"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحد...
نواسہ رسول ﷺ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی نے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے اور اس کا مکمل پس منظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مکمل کتاب 12 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب شہادت عثمان ؓ، خانہ جنگی، صلح حسین ؓپر ہے۔ ایک باب یزید کی ولی عہدی کی تجویز اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓکے عنوان سے ہے جس میں یزید کی ولی عہدی سے متعلق کھل کر بحث کی گئی ہے۔ باب دہم میں واقعہ کربلا کی مکمل سرگزشت بیان کی گئی ہے۔ جبکہ اس سے اگلے باب میں شہادت کے بعد کی کہانی کو کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کیا گیا ہے۔مولانا نے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین ؓمیں یزید کسی بھی حوالے سے ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی ق...
خطیبِ پاکستا ن مولانا محمد حسین شیخوپوری 1918ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے ازلى قانون كے تحت 6؍اگست 2005ء ميں ہميشہ كے لئے خاموش ہوگيا۔ آپ كو اللہ تبارك و تعالىٰ نے لحنِ داوٴدى عطا فرمايا تها اور جب آپ اپنى رسیلى اور سُريلى آواز سے قرآن كى آيات اور حضرت رسالت مآب كى مدح ميں اشعار پڑهتے تو لاكهوں سامعين وجد ميں آكر جهومنے لگتے۔ آپ نے كراچى تا خيبر چاروں صوبوں ميں لاتعداد جلسوں سے خطاب كيا، آپ كى زبان ميں الله تبارك و تعالىٰ نے بلا كى تاثير ركهى تهى۔جس جلسہ ميں آپ كا خطاب ہوتا اسے سننے كے لئے ديہاتوں كے گنوار اور شہروں كے متمدن لوگ يكساں طور پر كشاں كشاں چلے آتے۔ عموماً آپ كا وعظ رات ڈيڑھ دو بجے شروع ہوتا اور اذانِ فجر تك جارى رہتا۔ سامعين آپ كے وعظ كو يوں خاموش ہوكر سنتے جيسے ان كے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور اُنہيں يوں معلوم ہوتا تها كہ وحى الٰہى اب ہى نازل ہورہى ہے۔ بڑے سے بڑے مذہبى مخالف اپنے نرم و گرم بستروں كو چهوڑ كر آپ كى مجلسِ وعظ ميں آبیٹھتے تهے۔آپ ن...
اسلام حقوق اللہ او رحقوق العباد کےمجموعےکانام ہے۔بندوں کےحقوق میں سب سے زیادہ اہمیت اسلام نے والدین کو دی ہے ۔پھر جس طرح والدین کے اوپراولاد کے بارےمیں حقوق عائد کیے ہیں اسی طرح اولاد کے اوپربھی والدین کے کچھ حقوق عائد کیے ہیں ۔عام طور پرہوتایہ ہے کہ صرف والدین کے حقوق تو بیان کردیے جاتےہیں لیکن اولاد کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی جاتی ۔یہ کتاب اس الحاظ سے ایک معتدل کتاب ہے۔جس کےاند ردونوں پہلووں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔مزید برآں یہ ہےکہ مصنف نے صرف زیاد ہ سے زیاد ہ قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔بلکہ کہاجائے تو بےجانہ ہوگا اس کتاب میں بنیادی طور پر ہےہی یہ دونوں چیزیں ۔یعنی قرآن یا احادیث نبویہ ۔ اور انہیں معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک ترتیب کے ساتھ جمع کردیاگیاہے۔اللہ مصنف کو اجر جزیل سے نوازے۔ ان کی ا س سعی کو دنیاوآخرت کیلے کامیابی عطافرمائے۔(ع۔ح)
عمومی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کا احتساب کرنا چاہیے اور ان کی تربیت کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے لیکن یہ سوال بھی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان اپنے والدین کو کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب دیکھے تو وہ کیا کرے؟کیا وہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے کہ وہ شرعی فریضہ ترک کریں اور ناجائز کام میں لگے رہیں یا اپنے ذمے شرعی واجب کوادا کرنے کا حکم دے ارو برائی سے منع کرے ۔یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ والدین کے ادب واحترام اور ان سے حسن سلوک پر انتہائی زور دیا گیا ہے لہذا کسی صورت میں بھی ان کی بے ادبی کی اجازت نہیں۔مزید برآں والدین کی ناراضگی کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر فضل الہیٰ حفظہ اللہ نے قرآن وحدیث یک روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت کی ہے جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے۔(ط۔ا)
اللہ تعالیٰ نے نسلِ انسانی کی بقاء اور حفاظت اور دنیوی واخروی کامیابی کے پیش نظر ہمارے لیے ہر قسم کے رشتے اور تعلق کے حقوق وفرائض بیان فرمائے ہیں‘ جن کی بجا آوری کے ذریعے سے ہم اپنی زندگی کو سکون واطمینان والی بنا سکتے ہیں اور معاشرتی محبت ومودت کو پھیلا سکتے ہیں۔ ان رشتوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ اور اہم تعلق والدین کا ہے۔ جن کے ساتھ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے احسان کرنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا خصوصی حکم فرمایا ہے۔عصر حاضر میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اپنے بچوں کی اصلاح کے لیے ان کے سامنے والدین کے حقوق کو اُجاگر کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں انہیں ادا کرنے کی تلقین کی جائے‘ تاکہ مسلم معاشرے کی امتیازی صفات کو قائم رکھا جا سکے‘ جس میں ہر چھوٹا بڑے اور بڑا چھوٹے کے حقوق فرائض کو پورا کرتے نظر آئے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں کتاب وسنت اور حقیقی واقعات کی روشنی میں والدین کے حقوق کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی نافرمانی پر مترتب ہونے والے انجام سے خبر دار کیا گیا ہے اور نصیحت آموز واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ نصیحت کے ساتھ ساتھ...
کائنات میں امن وسکون اوراطمینان وچین اسی صورت میں ہوسکتاہے جب ہرانسان اپنی ذمہ داری پوری کرے اوردوسروں کے حقوق اداکرے۔اسلام نے حقوق العبادپربہت زوردیاہے ۔حقوق العبادمیں سرفہرست والدین کےحقوق ہیں ۔حقوق والدین کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی عبادت کے بعدجن ہستیوں کی اطاعت اورفکرگزاری کاحکم دیاہے وہ ہمارے والدین ہیں۔لیکن عام طورپردیکھاگیاہے کہ والدین شکوہ کرتے نظرآتے ہیں کہ بچے بات نہیں سنتے ،بچے بات نہیں مانتے ،گویاوہ والدین کے حقوق ادانہیں کررہے۔زیرنظرکتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق اوران کےمقام ومرتبہ کےبارےمیں انتہائی مؤثراسلوب میں بحث کی گئی ہے ،جوکہ لائق مطالعہ ہے۔دعاہے کہ اللہ تعالی ہمیں والدین کاادب اوران کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق والدین کا ہے ۔ اور یہ اتنا اہم حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق ِعبادت کے بعد جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے ان کا مکمل ادب واحترم کیا جائے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت و فرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآن وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور یہ ناراضگی اس کی دنیا اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس کی روشنی میں اپنے رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’وا...
قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہذارسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہذا ایک مسلمان کے ایمان کایہ تقاضہ ہے کہ وہ نبیﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی ہربات کو سچ سمجھے اوران کی شخصیت کو اپنے لیے آئیڈیل اور نمونہ بنائے۔ کیونکہ کامیابی کی طرف جانے والے سب راستے شریعت محمدیہ ﷺ سے ہوکر گزرتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کوچھوڑ کر کسی بھی بڑے کا دامن تھامنا نہ نجات دلاسکتا ہے اور نہ ہی صحیح راستے کی جانب راہنمائی کرسکتاہے اور ہماری کامیابی نبی کریم ﷺ کے ااقوال وافعال وااعمال پرعمل پیرا ہونے میں ہے۔ احادیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بہت سے کاموں کو قسم اٹھا کر ذکر فرمایا ہے ، یا اپنی خبروں کی حقانیت پر قسم اٹھائی اور قسم اٹھانے کے لیے بھی آپ مختلف الفاظ استعمال کیا کرتے تھے۔ مثلا واللہ، والذی بعثنی بالحق، والذی نفس محمد بیدہ، والذی نفسی بیدہ وغیرہ ۔نبی ﷺ کی زبان صادر ہونے والے یہ قسمیہ کلمات احادیث کی مختلف کتب میں موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ والذی نفسی&lsquo...
صخر الغامدی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"اے اللہ ! میری امت کے بکور یعنی دن کے پہلے حصے میں برکت دے دے۔"یہ وہ دعائے برکت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کے اللہ رب العزت سے مانگا۔دنیا کے مہذب اور غیر مہذب ،دانش ور اور کم علم ،شہری ودیہاتی سب انسان یہ حقیقت جانتے اور محسوس کرتے ہیں کہ صبح کا وقت اپنی برکات اور ثمرات میں دن کے دوسرے تمام اوقات سے منفرد بھی ہے اور افضل واعلی بھی۔رات کو زندگی کا ہنگامہ تھم جاتا ہے ،اور انسان ایک پرسکون اور اطمینان بخش نیند سو کر صبح نئی زندگی اور نئی توانائی کے ساتھ کارزار حیات میں اترتا ہے۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ذہن اپنے ارادوں اور ولولوں کو باہم متفق پاتا اور کچھ کر گزرنے کے لئے کمر ہمت باندھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ والفجر (فجر کی طبی اور روحانی برکات)‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےفجر کے وقت اٹھنے کی طبی وروحانی برکات کو جمع کر دیا ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی ا...
موت وہ منزل ہے جس سے آئے دن ہمارا گزر ہوتا ہے۔موت کہاں سے آتی ہے ،کہاں لے جاتی ہے کی کوئی تفصیل۔۔۔؟اس پر ہم توجہ نہیں دیتے ہیں۔دینا چاہتے نہیں ہیں۔حوصلہ نہیں رکھتے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دئیے یا بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔یہ باتیں اگر ابتداء سے ہی سمجھی نہ جائیں ،سمجھائی نہ جائیں تو پوری زندگی غلط سمت دوڑتے گزر جاتی ہےاور ایک دن اچانک ملاقات ہو جائے گی۔کس سے؟ملک الموت سے! اس وقت دم بخود انسان حیرت سے تکتا رہ جائے گا کہ ابھی تو سوچا ہی نہ تھا۔تیاری بھی نہ تھی،لیکن پوچھا جائے گا کہ اب؟اب ہوش آئی ہے؟ان آنکھ کھلی ہے،سوئے ہوئے جاگے ہو؟اب تو یونہی پلک جھپکنے میں مہلت ختم ہوگئی ،امتحان کا وقت ختم ہو گیا ۔شیطان ہمیں اصل حقائق کا سبق نہیں پڑھنے دیات ہے۔پوری زندگی مصروف رکھتا ہے ،جیسے آپ شرارتی بچے کو مصروف رکھتے ہیں تاکہ وہ آپ کے ناپسندیدہ کام نہ کرے۔اسی طرح شیطان زندگی کے بے شمار ایجنڈے ہمیں دئیے رکھتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کا اصل کام نہ کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب "واپسی،اس دنیا کی کہانی جو ایک سانس کے فاصلے پر ہے۔" محترمہ عا...
یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ کا موضوع مسلمانوں میں رواج پا جانے والے ہندوانہ عقائد و رسوم و رواج ہیں۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔
دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے ۔ دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔ اس لیے مشکلات کے ازالہ کےلیے خود ساختہ طریقوں سے پرہیز کیا جائے اور مسنون دعاؤ ں سے اپنی مشکلات کا مدوا کیا جائے ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ وایاک نستعین ‘&lsqu...
کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا مشکل کا شکار ہے۔ اس وبائی مرض نے نظامِ حیات تباہ کر کےرکھ دیا ہے ہنستے کھیلتے شہر وایرانی کا منظر پیش کررہے ہیں اور انسانوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے ۔ہر طرف نفسا نفسی اور افراتفری کا عالم ہے ۔جنگلی جانوروں نےشہروں میں بسیرا شروع کردیا ہے ۔یہ ایک آزمائش بھی ہے اور عذاب کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر کے حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ جن ممالک میں اس وائرس کی وبا شدت اختیار کر چکی ہے وہاں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ایسے میں بہت سے شرعی مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کیا اس وبا کی صورت میں مسجد جا کر نماز ادا کرنی چاہیے یا نہیں۔ بہت سے عرب ممالک میں اس وقت مساجد نماز کے لیے بند کی جا چکی ہیں اور عرب علماء کی اکثریت اس رائے سے متفق ہے۔ البتہ پاک و ہند میں اس پر علماء کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر علماء کرام کی مختلف پہلوؤں(جمعہ وجماعت کےلیےمساجد کوبند کرنے کی پابندی،کورونا وائرس کی حقیقت، کورونا مریضوں کےش...
کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا مشکل کا شکار ہے۔ اس وبائی مرض نے نظامِ حیات تباہ کر کےرکھ دیا ہے ہنستے کھیلتے شہر وایرانی کا منظر پیش کررہے ہیں اور انسانوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے ۔ہر طرف نفسا نفسی اور افراتفری کا عالم ہے ۔جنگلی جانوروں نےشہروں میں بسیرا شروع کردیا ہے ۔یہ ایک آزمائش بھی ہے اور عذاب کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر کے حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ جن ممالک میں اس وائرس کی وبا شدت اختیار کر چکی ہے وہاں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ایسے میں بہت سے شرعی مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کیا اس وبا کی صورت میں مسجد جا کر نماز ادا کرنی چاہیے یا نہیں۔ بہت سے عرب ممالک میں اس وقت مساجد نماز کے لیے بند کی جا چکی ہیں اور عرب علماء کی اکثریت اس رائے سے متفق ہے۔ البتہ پاک و ہند میں اس پر علماء کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر علماء کرام کی مختلف پہلوؤں(جمعہ وجماعت کےلیےمساجد کوبند کرنے کی پابندی،کورونا وائرس کی حقیقت، کورونا مریضوں ک...
دنیا میں اگر بہت سی بیماریوں کا وجود ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کا علاج بھی نازل فرمایا ہے۔ بیماریوں کی صورت میں جہاں دوا کی بہت ضرورت ہوتی ہے وہیں دعا بھی اللہ کی طرف سے بہت کارآمد طریقہ علاج ہے۔ اس چھوٹے سے کتابچے میں بھی ایسی دعاؤں اور شرعی طریقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کا اپنا کر وبائی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ کورونا وائرس سے پہلے بھی انسانوں کو بہت سی وبائی امراض کا سامنا رہا ہے۔ اس ضمن میں جہاں اللہ پر توکل کی بہت ضرورت ہے، وہیں ان دعاؤں کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ تاکہ بچے اور بڑے سب تندرستی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔(ع۔ا)
کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا مشکل کا شکار ہے۔ یہ ایک آزمائش بھی ہے اور عذاب کی صورت بھی ہو سکتی ہے۔ کورونا کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر کے حالات بالکل بدل گئے ہیں۔ وہ ملک جہاں اس وائرس کی وبا شدت اختیار کر چکی ہے وہاں مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ایسے میں بہت سے شرعی مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ کیا اس وبا کی صورت میں مسجد جا کر نماز ادا کرنی چاہیے یا نہیں۔ بہت سے عرب ممالک میں اس وقت مساجد نماز کے لیے بند کی جا چکی ہیں اور عرب علماء کی اکثریت اس رائے سے متفق ہے۔ البتہ پاک و ہند میں اس پر علماء کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ حافظ محمد یونس اثری صاحب نے وبائی امراض خصوصا کورونا وائرس کی صورت میں جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان پر قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی پیش کی ہے۔ خاص بات یہ کہ مقدمہ مولانا عبداللہ ناصر رحمانی صاحب نے لکھا ہے۔ ان حالات میں اس مختصر کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(ع۔ا)
صبر کے معنی ہیں کسی خوشی ، مُصیبت ، غم اور پریشانی وغیرہ کے وقت میں خود کو قابو میں رکھنا اور خلاف شریعت کاموں سے بچنا ہے۔ صبرکی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ قرآن پاک میں ستر بار اس کاذکر آیا ہے۔ہم نے اپنی زندگیوں میں شایدصبرکااستعمال ترک کر دیا ہے ۔ اس لئے ہم فرسٹریشن،ڈیپریشن یا ٹینشن جیسی مہلک امراض میں مبتلاہورہے ہیں۔ حالاں کہ صبرکااوراس کائناتی اور دنیاوی نظام کاآپس میں بڑا گہراتعلق ہے۔کائنات کے ہر عمل میں صبرکی آمیزش ہے۔ مثلاًچاندستارے اپنے اپنے مدار میں رہتے ہوئے اپناسفرطے کر تے ہیں اوررات کو دن اوردن کورات میںبدلتے ہیں ۔ا یک پودامکمل درخت راتوں رات نہیں بن جاتا ۔آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے۔ پہلے پھول اورپھرپھل آتے ہیں ۔ یہ کائناتی ربط ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی اسے شامل کر کے زندگی میں ربط پیداکریں۔اگرہم دنیاوی تناظرمیں بھی دیکھیں توکسی بھی منزل کوپانے کے لئے ہرانسان کوبہرصورت صبرکی سیڑھی پر چڑھنا پڑتا ہے۔ا یک ڈاکٹرکو بھی اپنی ڈگری لینے کے لئے پانچ سال تک انتظارکرنا پڑتا ہے۔گویا یہ صبرہی ہے کہ جو منزل بہ منزل اسے ای...
عورت کے لیے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا۔ پردہ کا شرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کی شہوانی کمزوریوں کا کافی و شافی علاج ہے۔ اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں متعدد بار آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کئی اہل علم نے عربی و اردو زبان میں پردہ کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’وجوبِ نقاب و حجاب‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے جو کہ ان کے ریڈیو ام القیوین متحدہ عرب امارات کی اردو سروس میں پیش کیے گئے پروگرامز کی کتابی صورت ہے۔موصوف نے اس کتاب میں قرآن و سنت ، آثار صحابہ رضی اللہ عنہم و ائمہ اور اقوالِ علماء فقہا...