مقرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی...
بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ محترم مائل خیر آبادی نے اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کے لیے کہانیوں کے انداز میں تاریخ اسلامی کے سچے واقعات قلمبند کیے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں نور ایمان سے محروم رہ جانے والے بدنصیبوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان بدنصیبوں میں ابلیس، قابیل، کنعان، سامری، قارون، عبداللہ بن ابی، مسیلمہ کذاب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ۔ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا۔ اوراس پرمعقول انعام مقرر کیا۔ چ...
پروفیسر عبد القیوم رحمہ اللہ علمی دنیا خصوصاً حاملین علومِ اسلامیہ و عربیہ کے حلقہ میں محتاج تعارف نہیں۔ موصوف 1909ء کو لاہور کے ایک معزز کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ پروفیسر صاحب نے ابتدائی عمر میں قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے بعد اپنی تعلیم کا آغاز منشی فاضل کے امتحان سے کیا۔1934ء میں اورینٹل کالج سے ایم اے عربی کا امتحان پاس کیا۔ پھر آپ نے 1939ء سے لے کر 1968ء تک تقریبا تیس سال کا عرصہ مختلف کالجز میں عربی زبان و ادب کی تدریس اور تحقیق میں صرف کیا۔ ان کے سینکڑوں شاگرد تعلیم تدریس اور تحقیق کے میدان میں مصروف عمل ہیں ۔علمی زندگی کے ساتھ ساتھ ان کی توجہ محبت اور خدمت کا مرکز کالج کی سرگرمیاں ، مقالات نویسی اور مسجد مبارک تھی جس کی وہ بے لوث خدمت کرتے رہے اور مختلف ادوار میں انہوں نے علمی و تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ۔ پروفیسر عبد القیوم رحمہ اللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ’’نوادر الاخبار‘‘ کے مخطوطے کو 1934ء میں میکلوڈ سکالر شپ کے تحت مولوی محمد شفیع مرحوم کی زیرنگرانی میں ایڈٹ کیا جو کہ 2013 میں عکسی...
کلام الٰہی کے بعد سب سے افضل واعلیٰ اور سب سے نافع اور سچا کلام‘ کلام سید المرسلین ہے جن کے بارے میں خود اللہ رب العزت نے گواہی دی کہ اس ذات مقدسﷺ کی زبان مبارک سے جو بھی صادر ہوتا ہے وہ خواہش نفسانی سے نہیں بلکہ وہ وحی الٰہی اور ارشاد ربانی ہوتا ہے‘ اور نبیﷺ کے فرامین در حقیقت کلام الٰہی کی ہی توضیح پر مشتمل ہیں۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے اپنی اطاعت کے ساتھ ہی نبیﷺ کی اطاعت کو بیان کیا۔ اور قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا اور سنت رسولﷺ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا کیے جو ا س کی حفاظت اور اس کے پرچار کا ذریعہ بنے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں خطوط کی صورت میں مختلف سوالات کے جوابات کو مختلف موضوعات اور ابواب کے تحت مرتب کیا گیا ہے اور عنوانات کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ اگر ایک خط میں کئی ایک سوال تھے تو مرتب نے ہر سوال کو اس کے جواب کے ساتھ علیحدہ علیحدہ کر کے اس کو اسی موضوع اور باب سے ملحق کیا ہے اور باہمی تعلق کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ احادیث کی تحقیق ‘ رواۃ اور اسماء رجال کو حروف...
آج سے نصف صدی قبل حضرت مولانا نذیر احمدرحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک استفتاء آیا کہ '' کیا عشاء کی نماز،تراویح پڑھانے والے امام کی اقتداء میں ادا کی جاسکتی ہے؟اور کیا مقتدی کی نیت میں توافق ضروری ہے یا نہیں؟'' مولانا نے کتاب وسنت کی روشنی میں اس کا کافی وشافی جواب پیش کر دیا-جس پر حنفی مسلک کے معروف عالم دین مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ نے تعاقب کرتے ہوئے اپنے نقطہء نظر کی وضاحت کی-مولانا رحمانی نے اس کا جواب الجواب کافی تفصیل سے دیا-جس میں تمام سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سیر حاصل بحث کی-مولانا رحمانی کا یہ جواب اور اس کا جواب الجواب مرتب انداز میں اس کتاب میں پیش کر دیا گیا ہے-کتاب کے شروع میں مولانا نذیر احمد رحمانی ؒ تعالی کے حالات زندگی کو بھی قلمبند دیا گیا ہے-مولانا طارق محمود ثاقب صاحب نے تمام حوالہ جات کی از سر نو مراجعت کی ہے اور احادیث کی صحت وسقم کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے-یقیناً اس کتاب سے عامۃ الناس کی تشفی ہوگی اور اس مسئلہ میں کتاب وسنت سے موافقت رکھنے والا مؤقف نکھر کر سامنے آجائے گا-
رمضان المبارک میں عام طور پر یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ تراویح کی جماعت کےساتھ فرض نماز ادا کی جائے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں احادیث مبارکہ اور سلف صالحین کا نقطہ نظر ملاحظہ کیا جائے تو اس کے جواز کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ یہ کتاب بھی، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اسی مسئلہ پر تصنیف کی گئی ہے۔ کتاب کے مؤلف نذیر احمد رحمانی نے دونوں طرف کے نقطہ ہائے نظر پر بہت واضح اندازمیں روشنی ڈالی ہے اور نوافل کی جماعت کےساتھ فرض نماز کے عدم قائلین کے دلائل کا شدو مد کے ساتھ محاکمہ کیاہے۔ دراصل آج سے نصف صدی قبل شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد رحمانی سے اسی مسئلہ بارے سوال پوچھا گیاتھا جس کا آپ نے قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دیا۔جس پر ایک دیوبندی عالم دین مولانا عامر عثمانی نے ماہنامہ ’تجلی‘ کے دو شماروں میں رد و قدح کیا۔ مولانا رحمانی مرحوم نے اس کا جواب الجواب ’ترجمان دہلی‘ میں چار مبسوط قسطوں میں دیاجس میں مولانا نے اس موضوع پر اس عالمانہ انداز میں گفتگو فرمائی کہ کوئی پہلو تشنہ نہیں رہنے دیا۔ افادہ عوام الناس کے لیے آپ کا جواب الجواب یکجا کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ فاضل مدینہ ی...
نوجوان کسی بھی قوم وملت اور معاشرے کے اہم ستون اور حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں،اور اسے ترقی دینے کے لئے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ آج یہ نوجوان ذہنی خلفشار اور مختلف قسم کے نظریاتی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہیں۔جنہیں وہ خود بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق حل کرنے کی موششیں کرتے رہتے ہیں ،لیکن صحیح معلومات نہ ہونے کے سبب گمراہی کے راستے پر چل نکلتے ہیں۔نوجوانوں کی انہی الجھنوں کو دور کرنے کے لئے سعودی عرب کے معروف عالم دین سماحۃ الشیخ محمد بن صالح عثیمین نے یہ عظیم الشان کتاب تالیف فرمائی ہے ۔جس میں انہوں نے نوجوان کی الجھنوں،ان کی گمراہی کے اسباب اور پھر اس کا حل بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو نوجوانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)
یہ نوجوان نسل ہی ہے کہ جنہوں نے ملک وملت کی باگ ڈور سبنھالنی ہوتی ہے اور اس کو دنیا میں بامِ عروج پر پہنچا کر باعزت مقام عطاء کرنا ہوتا ہے باہمت باحیاء باصلاحیت ،غیور بہادر ،جرأت مند نوجوان ہی قوموں کو جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ۔ اپنی قوم کودشمن کےعسکری تہذیبی وثقافتی حملوں سے بچاتے ہیں اور دشمن پر کا ری ضرب لگا کر اپنی ملت کی کشتی ڈوبنے سے بچاتے ہیں۔لیکن آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ فکری اورعملی اعتبار سے بہت نازک ہے نوجوان کہ جنہوں نے ملت کی نیا کو ڈوبنے سےبچانا تھا وہ خود کفار کی سازشوں کاشکار ہو کر کفر ضلالت کے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں۔ نوجوان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس نے اپنی زندگی کیسے گزار نی ہے؟ تو وہ قوم وملت کی زندگیوں کوتباہی سے کیسے بچا سکتا ہے؟ وہ ہر وقت ڈش کیبل اور انٹرنیٹ پر بیٹھار رہتا ہے اور اپنی بہنوں کا پردہ اور دوپٹہ کھینچتا ہے ، عشق ومحبت کے نام سے عفت مآب بہنوں کے آنچل تارتار کرتاہے۔ والدین کےلیے ہمیشہ پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔تونوجوانوں کے ایسے اعم...
نوجوان لڑکیاں جہاں ماں ،بہن ،بیوی اور بیٹی کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں وہاں ہی وہ ایک مضبوط صالح باکردار طاقتور وتوانا اورروشن خیال،اور اسلام کی مخافظ پاسدار وعلمبردار نسل کو جنم دینے کی اہم ذمہ داریوں اور اپنے منصب کو فراموش کر کے کفار کی تہذیب وثقافت اورگمراہ کن اندھی راہوں پر چل پڑی ہیں۔ ا ن کے شب وروز ڈراموں فلموں کودیکھتے اور بیہودہ رسائل وجرائد اور ڈائجسٹوں کا زہر اپنی رگوں میں اتارنے میں صرف ہوتے ہیں۔وہ مغربی میڈیا او رگندی فلموں کے اثرات قبول کرتے ہوئے غلط قسم کی شہوانی اور غیر شرعی محبتوں کےچکروں میں پھنسی ہوئی ہیں۔ عبادات سے دور شرم حیاء سے عاری بہیودگیوں اور لچر افکار کا شکار ہوکر وہ اپنی زندگی کے عظیم مقصد اور نئی نسل کی تعمیر میں اپنے مثبت کردار کو یکسر بھول گئی ہیں۔ان کو یادہی نہیں رہا کہ انہوں نے اس زندگی میں بھی باعزت مقام حاصل کرکے اسکو کامیاب کیسے بنانا ہے اور پھر مرنے کے بعد کی زندگی کو کیسے پھولوں کی سیج بنانا ہے ؟زیر تبصرہ کتاب ’...
ہر وہ شخص جو کسی ایسے امام کے خلاف خروج (بغاوت)کرے جس پر مسلمانوں کی جماعت متفق ہو خارجی کہلاتا ہے خواہ یہ خروج صحابہ کرام ،تابعین یا بعد کے زمانے کے خلفاء کے خلاف ہو۔ خوارج وہ لوگ ہیں جو کبیرہ گناہوں کی بنا پر اہل ایمان کو کافر شمار کرتے ہیں اور اپنی عوام پر ظلم و زیادتی کرنے والے امرء المسلمین کے خلاف خروج و سرکشی کرتے ہیں۔خوارج کی مذمت میں نبی کریم ﷺ سے بہت ساری احادیث وارد بھی ہوئی ہیں۔ خوارج ایک ایسا فرقہ ہے جسے دین میں ظاہری دینداری سے مزین لوگوں نے ایجاد کیا۔ اہل علم نے ان کے عقائد و نظریات پر مستقل کتب بھی تصنیف کیں ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’نوجوانوں کو بھٹکانے کے لیے خارجی تنظیموں اور تحریکوں کے اسلوب اور ہتھکنڈے‘‘شیخ محمد بن رمز الھاجری ،شیخ دکتور محمد بن احمد الفیفی حفظہما اللہ کے خطابات کی کتابی صورت ہے ۔ڈاکٹر اجمل منظور المدنی صاحب نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اس کتابچہ میں سب سے پہلے ان پانچ امور کو بیان کیا گیا ہے بعد جن میں سارے فرقوں اور گروہوں نے اختلاف کیا ہے۔ پھر 30 ایسے اسالیب اور ہتھکنڈوں کا بیان کیا ہے کہ جن کا ت...
جوانی زمانۂِ نشاط، عصر ِکار کردگی، اور عبادت سے لذت حاصل کرنے کا وقت ہے، تاریخ نے چند نوجوانوں کے زندہ جاوید رہنے والے واقعات بھی محفوظ کیے ہیں، جنہوں نے معرفتِ الہی حاصل کی ، اور اپنے دین پر ڈٹ گئے، تو قرآن کریم نے انکا تذکرہ محفوظ کر لیا اور جنت کا حق دار بنا دیا۔جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ نوجوانوں کے لیے ایک سو 100 نصیحتیں‘‘ ابو مرجان انس مدنی کی ہے۔جس میں مصنف نے انتہائی قیمتی نصائح کا انتخاب کیا اور انہیں قرآن و سنت کے دلائل سے مزین کیا ہے۔مختصر اور جامع کتاب میں بیان ہونے والی نصائح م...
شریعت اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقہ رسول ﷺ لہٰذا نماز کے بارے میں آپ ﷺ کا واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے لیکن افسوس بہت سے دیگر مسائل کی طرح ’’ مسئلہ رفع الیدین ‘‘ بھی تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ جب صحیح مرفوع احادیث، آثار صحابہ، آثار تابعین اور آئمہ کرام سے رکوع جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین ثابت ہے تو اس کے مقابلے میں ضعیف، موضوع اور چند ایک تابعین کے عمل کی کیا وقعت رہ جاتی ہے ؟ رفع الیدین کو ایک معرکۃ الآراء مسئلہ بنا دیا گیا ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلیٰ کوشش مولانا حافظ زبیر علی زئی محقق حدیث...
نماز میں رفع الیدین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے اور حامیین اور مخالفین نے اس پر بہت کچھ لکھ کر اس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور انہی کوششوں میں سے ایک اعلی کوشش مولانا زبیر علی زئی محقق حدیث حفظہ اللہ تعالی کی ہے-جس میں انہوں نے رفع الدین کے مسئلے کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ،ان کا عالمانہ تجزیہ، اور پھر ان دلائل کا علمی محاکمہ پیش کیا ہے-اس لیے سب سے پہلے سنت کی اہمیت پر بیان کر کے ایک مسلمان کے لیے یہ چیز واضح کی ہے کہ مسلمان کی زندگی کا مقصد سنت کی پیروی اور اتباع ہونی چاہیے اس لیے اس موضوع کو نکھارنے کے بعد دوسرے مسائل کو پیش کیا ہے-رفع الیدین کے دلائل کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ بیان کرنے کے بعد اس کے مقابلے میں پائے جانے والے اعتراضات کو خوب واضح کیا اور ان کا علمی انداز سے جواب دیا ہے-جس میں رسول اللہ ﷺ کے عمل کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام کے عمل اور بعد کے تابعین اور تبع تابعین کے اعمال اور اقوال سے اس مسئلہ کو نکھارنے کی کوشش کی ہے-اللہ تعالی سے دعا کہ وہ حق کا علم ہو جانے کے بعد اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے-آمین
توحید کا معنی ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌکہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔ معبود برحق جو بےنیاز ہے۔ نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔ (سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی ؒ توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات 73)توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ رسالہ" نور توحید " جماعت اہل حدیث کے...
اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصدِ زندگی ہے جو صرف اور صرف توحیدِ خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے،اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔سیدنا نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ اورآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب’’نور توحیدشرح کتاب التوحید‘‘ امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ الل...
اس وقت امت کا ایک بہت بڑا طبقہ نبی کریمﷺ کی ذات کے حوالے سے افراط و تفریط کا شکار ہے۔ بہت سے لوگ آپﷺ کو اللہ کے نور کا جزو قرار دیتے ہیں اور نام نہاد ملاں اس سلسلہ میں عوام کو خانہ زاد دلائل اورمن مانی تاویلات و تشریحات کے ذریعے اپنے دامن فریب میں پھنسائے ہوئے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے نور من اللہ ہونے میں کس حد تک صداقت ہے زیر نظر کتابچہ میں مولانا خاور رشید بٹ نے اسی کا جائزہ لیا ہے۔ اور دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ دعوی شرک و ضلالت پر مبنی ہے جس کا انجام بہرحال اچھا نہیں ہے۔(ع۔م)
کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں سعودی عرب کے نام ور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی نے نور وظلمات سے متعلق آیات و احادیث کو جمع کیا ہے اور مفسیرین قرآن اور شارحین سنت کے اقوال کی روشنی میں ان کی تفسیر و تشیریح فرمائی ہے۔جناب عنایت اللہ سنابلی نے اسے اردو میں ڈھال کر عوامی حلقوں کے لیے اس دلچسپ اور معلوماتی کتاب استفادہ کی راہ ہموار کر دی ہے۔خداوند کریم مصنف ومترجم اور ناشرین کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔(ط۔ا)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ " نورانی قاعدہ " محترم مولانا نو ر محمد حقانی صاحب کا مرتب کردہ ہے ، جس میں انہوں نے قاعدے کی معروف تختیوں کے ساتھ ساتھ جا بجا تجوید کے قواعد بھی بیان کر دئیے ہیں اور ساتھ نماز اور مسنون دعائیں جمع کر دی ہیں تاکہ بچے قاعدے کے ساتھ نماز اور چند ضروری دعائیں بھی بچپن ہی سے یاد کر لیں۔ال...
قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجوید کے قواعد و ضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔ قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے کئی شیوخ قراء کرام نے قرآنی قاعدے مرتب کیے ہیں۔ جن میں شیخ القرآء قاری ادریس عاصم ، شیخ القراء قاری ابراہیم میر محمدی ، قاری عبد الرحمٰن ، قاری محمد شریف وغیرہ کے مرتب کردہ تجویدی قاعدے قابل ذکر ہیں۔ زیر نظر ’’نورانی قائدہ‘‘مکتب تعلیم القرآن الکریم کا مرتب شدہ ہے اس میں نورانی قاعدہ پڑھانے والے اساتذہ کرام کی راہنمائی کے لیے اہم تعلیمی ہدایات، تجوید کے قواعد، طریقۂ تعلیم اور مشق کرانے کے مختلف طریقوں کو بیان کیا گیا ہے۔(م۔ا)
قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجوید کے قواعد و ضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔ قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے کئی شیوخ قراء کرام نے قرآنی قاعدے مرتب کیے ہیں۔ جن میں شیخ القرآء قاری ادریس عاصم ، شیخ القراء قاری ابراہیم میر محمدی ، قاری عبد الرحمٰن ، قاری محمد شریف وغیرہ کے مرتب کردہ تجویدی قاعدے قابل ذکر ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’نورانی قاعدہ کیسے پڑھائیں‘‘ مفتی محمد منیر قاسمی صاحب کا مرتب شدہ ہے ۔فاضل مرتب نے اس کتابچہ میں اس موضوع سے متعلق مفید مضامین کو جمع کر دیا ہے اور ضروری قواعد و مفید تجربات بھی پیش کیے ہیں ۔ (م۔ا)
مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کے سامنے با وضوء ہو کر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے ۔نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جو کہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہو گا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر و حضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے ہر مسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نورانی نماز باتصویر ‘‘ محترم ابو عبد اللہ عابد میر حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ۔نماز کے موضوع پر یہ باتصویر کتاب ایک خوبصورت کتاب ہے اس میں صحیح احادیث کی روشنی میں نماز کا...
بحیثیت ہر مسلمان پر کتاب و سنت کی بنیادی تعلیمات سیکھنا اور ان پر عمل کرنا لازم ہے اور ہر مسلمان میں یہ جذبہء صادقہ بیدار ہونا چاہیے کہ کتاب و سنت کی بالادستی اور شرعی احکام کی اتباع اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہو ۔ وہ دنیا میں کتاب و سنت کا سچا پیروکار اور شریعت اسلامیہ کا حقیقی متبع ہو ۔ چناچہ شریعت سے سچی لگن اور اسلام سے دائمی تعلق ہی دنیاوی و اخروی زندگی کی کامیابی کا راز اور عظمت کا ضامن ہے ۔ زندگی کے ہر پہلو اور ہر موقع پر کتاب و سنت سے رہنمائی لینا اور عملی زندگی میں شرعی احکام کی تعمیل ہی مسلمان کی اصلی پہچان ہے ۔ سو عقائد و نظریات ، عبادات و معاملات اور اخلاق و عادات میں شریعت اسلامیہ کی اتباع ہی ملحوظ ہونی چاہیے ۔ لہذا دیگر احکام و فرائض کی طرح شادی شدہ اسلامی جوڑے پر یہ اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نیک اولاد کے حصول کا خواہش مند بھی اور طلب اولاد کا حریص بھی ۔ پھر اولاد طلبی کی شرعی حدود و قیود کی پابندی اختیار کرے اور حصول اولاد کی ناجائز صورتیں اور شرکیہ افعال سے بھی گریز کرے ۔ اور جب اللہ تعالی اس کی التجاؤں کو شرف قبولیت بخشے تو حمل ، وض...
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجوید کے قواعد و ضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ ایک تحقیقی جائزہ بعنوان نون مخفی یا تنوین کے بعد حروف مستعلیہ آنے پر آیا غنہ مفخم ہو گا یا مرقق ؟‘‘ شیخ القراء قاری و مقری محمد صدیق سانسرودی حفظہ اللہ کا مرتب شدہ ہے انہوں نے اس مختصر تحریر میں مسئلہ ہذا کے سارے پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ہر ہر اعتراض کا محقق و مدلل اور تسلی بخش جواب تحریر فرمایا اور نقلی و عقلی دلائل کی روشنی میں مسئلہ کو مدلل و مبرہن فرمایا اور ایسی تسلی بخش تفہیم فرمائی کہ مسئلہ کی حقیقت و صحیح نوعیت فن سے دلچسپی رکھنے والوں پر واضح ہو گئی ہے۔(م۔ا)
قرآن مجید کو غلط پڑھنا گناہ ہے اور تلاوت ِقرآن کا بھرپور اجر و ثواب اس امر پر موقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد و ضوابط اور اصول و آداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا اور سیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔ تجوید و قراءات پر مختلف چھوٹی بڑی کئی کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ نونیہ السخاوی فی علم التجوید‘‘علم الدین ابو الحسن علی السخاوی کی تصنیف ہے جو کہ قواعد تجوید کی عملی ادائیگی خصوصاً صفات کے تقاضوں کے مطابق نصائح پر مشتمل ہے۔محترم جناب حافظ قاری شہریار صاحب نے اس کا بہترین اردو ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی ہے مترجم اس سے قبل اربعین ابن جزری اور فن تجوید کی پہلی کتاب منظومہ خاقانیہ کا بھی ترجمہ کرنے کی سعادت کر چکے ہیں ۔ (م۔ا)