خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی...
زیر نظر کتاب ’’ نوشتۂ قلم‘‘ ابو حمدان اشرف فیضی صاحب کے 15 دینی و اصلاحی مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف رسائل و مجلات میں شائع ہوئے ۔ان مضامین کی افادیت کے پیش نظر ابو حمدان صاحب نے تصویب و تنقیح اور نظرثانی کے بعد ان مضامین کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔ مضمون نگار نے پوری کوشش کی ہے کہ ہر مضمون زیادہ سے زیادہ قرآن و آیات اور احادیث مبارکہ سے مزین ہو۔اصلاح عقیدہ،اصلاح معاشرہ اور اصلاح اعمال میں عوام و خواس کے لیے یکساں مفید ہے۔(م۔ا)
نبی کریمﷺ کا ذکر جمیل تمام کتب سماویہ میں مذکور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کا ذکر مبارک اپنی ہر وحی اور اپنی ہر کتاب میں بیان فرمایا۔ چوں کہ اللہ تعالیٰ نے عالم میثاق میں انبیاء کرام کی ارواح طیبات سے حضور اکرمﷺکی نبوت و رسالت پر ایمان لانے اور آپﷺ کی مدد کرنے کا وعدہ لیا تھا، اس نے نہیں چاہا کہ یہ وعدہ صرف رازِ باطنی رہ جائے، بلکہ آنے والی نسل انسانی اس عظیم الشان نبی کی عظمت سے باخبر ہو۔ اسی لئے کتبِ سابقہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کا ذکر کیا اور قرآن پاک میں رہنمائی فرمائی کہ ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو اس رسول ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، جو امی نبی ہیں، جنکے اوصاف و کمالات کو وہ لوگ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الاعراف۔۱۵۷)رسول اللہ ﷺ کی آخری نبی کی حیثیت سے پیش گوئیاں سابقہ تمام انبیاء کی کتابوں میں موجود تھیں مگر بعد میں آنے والوں نےاپنی ضروریات کی خاطر ان کتابوں میں تحریفات کیں۔ ایک عرصہ تک یورپ ، افریقہ او رامریکہ میں غیر مسلم مبلغ...
قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکات القرآن " حنفی مکتب فکر کے شیخ زید الدین محمد بن ابو بکر بن عبد القادر الرازی(المتوفی 666ھ) کی عربی تصنیف"مسائل الرازی واجوبتھا من غرائب آی التنزیل"کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ ادارہ اسلامیات لاہور وکراچی کے زیر اہتمام مولانا خالد محمود صاحب،مولانا محمد انس صاحب اور مولانا سید عبد العظیم صاحب پر مشتمل کمیٹی نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے قرآن مجید کے علمی وادبی نکات واسرار کو 1...
قایادنی اور لاہوری مرزائیوں کو اسی لئے غیرمسلم قرار دیا گیا ہے کہ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی تھے ان کو اللہ سےہمکلام ہونے اور الہامات پانے کاشرف حاصل تھا۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کرنے کے آغاز سے ہی اس کی تردید وتنقید میں ہر مکتبۂ فکر کے علماء نے بھر پور کردار ادا کیا ۔ بالخصوص علمائے اہل حدیث او ردیو بندی مکتبۂ فکر کے علماء کی قادیانیت کی تردیدمیں خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ زیر نظر رسالہ ’’ نکاح مرزا‘‘ فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کا تحریر کردہ ہے۔ اس رسالہ میں مرزا قادیانی کے آسمانی نکاح والی پیشگوئی پر مفصل بحث کر کے اس کا کذب ثابت کیا ہے (م۔ا)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فق...
اسلام نے ولی سربراہ خاندان کویہ حق عطا کیا ہے کہ اگر سربراہِ خاندان اپنے علم ،تجربہ اور خیر خواہی کے تحت یہ محسوس کرتا ہے کہ فلاں فرد کےفلاں کام سے خاندانی وقار مجروح ہوگا ۔یااس فرد کودینی ودنیوی نقصان پہنچے گا تو وہ اسے اس کام سے بالجبر بھی باز رکھ سکتاہے۔ البتہ جوحقوق اسلام نے فرد کوذاتی حیثیت سے عطا کیے ہیں سربراہ کاجان بوجھ کر انہیں پورا نہ کرنا یا افراد پر ان کے حصول کے حوالے سےپابندی عائد کرنا درست نہیں اور اسلام میں اس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن&nb...
عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نکاح کوئیز " محترمہ مریم خنساء صاحبہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نکاح کے مسائل کو سوالا جوابا مرتب کر کے ایک خوبصورت مجموعہ تیار کر دیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اہمیت نکاح، پیغام نکاح، صحت نکاح کے لئے ضروری امور، حرام اقسام نکاح، عورت کی شرائط کا جواز، مسنون رسومات نکاح، غیر مسنون رسومات نکاح، نکاح میں شامل افراد کے فرائض، دلہا کے فرائض، دلہن کے فرائض اور حقوق الزوجین جیسے مسائل تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ اللہ...
ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں ۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں...
حضرت مولانا اسماعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ کثرت مشاغل کے سبب بہت تھوڑا لکھ سکے لیکن جتنا لکھا ہزاروں صفحات پر بھاری تھا کہ ہر قدر شناس نے اس کا خیر مقدم کیا اور ان کی تحریرات کو سلفی منہج و فکر کے احیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ قرار دیا گیا۔ زیر نظر مجموعہ میں حضرت سلفی کی تمام مطبوعہ منتشر تحریرات جمع کی گئی ہیں، جس میں ان کے تحریرفرمودہ کتب و رسائل، مضامین و مقالات، فتاویٰ، مکاتیب، مقدمات اور تعلیقات و حواشی شامل ہیں۔ ان مضامین میں جماعت اہل حدیث کی تاریخی خدمات کا بخوبی تجزیہ و تعارف کرایا گیا ہے اور مختلف حوادث و واقعات کے تناظر میں اس طائفہ کی کثیر الجہت جہود و مساعی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ سلفی فکر اور منہج اہل حدیث کو ایک دلنشیں اسلوب میں متعارف کرایا گیا ہے۔ مختلف گروہوں کی جانب اس گروہ پر لگائے جانے والے الزامات کی حقیقت کی نقاب کشائی کی گئی ہے۔ اس مجموعہ میں 40 نگارشات شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ عربی میں شائع ہوئے تھے جن کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ (ع۔م)
ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال: 17 دسمبر 2002ء) ڈاکٹر حمید اللہ ایک بلند پایا عالم دین ، مایہ ناز محقق، دانشور اور مصنف تھے جن کے قلم سے علوم قرآنیہ ، سیرت نبویہ اور فقہ اسلام پر 195 وقیع کتابیں اور 937 کے قریب مقالات نکلے ۔ڈاکٹر صاحب قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ ،حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن ا...
اسلامی کلینڈر میں سن ہجری کو بنیاد بنا کر قمری تقویم بنائی گئی جو کہ عین فطرتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہینوں کی تعداد کو بھی چاند کے ساتھ منسلک کیا ہے نا کہ سورج کے ساتھ ۔اس لیے شرعی احکامات پر جب طائرانہ نظر دوڑائی جاتی ہے تو تمام شرعی معاملات جن کا تعلق تاریخ بندی سے ہوتا ہے ان کی ادائیگی قمری کلینڈر سے ہی ممکن ہے عیسوی سے ناممکن ہے۔جیسے رمضان کے روزے ہوں یا عید الفطرو عیدالاضحیٰ،ادائیگی زکوۃ کا مسئلہ ہو یا ایام حج کا گویا کہ بہت ساری فرضی اور نفلی عبادات قمری کلینڈر کے بغیر ناممکن ہیں۔لیکن بنیادی مشکل جو آج کے دور میں نظر آتی ہے وہ اختلاف مطالع کی وجہ سے لوگوں کا متذبذب اور مشکوک ذہن ہے کہ یہ کیا سلسلہ ہے کہ ایک ہی اسلامی تہوار میں اسلامی دنیا میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اپنے اس کتابچہ میں اس حساسیت کو شریعت کی روشنی میں پیش کیا ہے کہ اختلاف مطالع کی باقاعدہ شرعی حیثیت ہے،رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور صحابہ کے دور میں بھی کئی مطالع کا ثبوت پایا جاتا ہے اور اس کے مطابق لوگ احکامات الہٰیہ کی ادائیگی کے پابند ہوں گے۔اسی طریق...
شخصیت انسان کی پہچان ہوتی ہے۔انسان جیسے اوصاف اپنے اندر پیدا کر لے وہی اس کی شخصیت ہے ۔اور مومن کا تشخص اس کے اوصاف ،اس کے اعلیٰ اخلاق ہوتے ہیں۔اور انہی اوصاف کی وجہ سے مومن کو شخصیت ملے گی اور جنت میں اس کا چہرہ پہچانا جائے گا۔اعلیٰ اخلاق کو اپنانا شریعت کا بنیادی مقصد ہے،اور اسلام نے اس کی بہت زیادہ ترغیب دی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اچھے اخلاق کی تعلیم دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ نیت سے اخلاق بدلنا ہے ‘‘النور انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نگہت ہاشمی صاحبہ کی مرتب کردہ موسوعہ نظرۃ النعیم سیریز کا حصہ ہے جسے انہوں نے اپنے ادارے کے تحت خواتین کو کروائے جانے والے مختلف کورسز کے لئے سوال و جواب کی صورت میں مرتب کیا ہے۔یہ کتاب اپنے اخلاق کو سنوارنے کے حوالے سے ایک مفید کوشش ہے افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)
نبی کریم ﷺ کو جو معجزات عطا کیے گئے ان میں ایک اہم معجزہ ’’جوامع الکلم ‘‘تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ گفتگو میں آپ ﷺ الفاظ تو بہت تھوڑے بولتے تھے مگر ان کے معانی اور دلالات بہت وسیع ہوتے۔بعض اہل علم نے خصوصیت سے ان احادیث کو جمع کرنے کی کوشش کی جن میں الفاظ کے اختصار کے ساتھ جامعیت کا یہ وصف بہت واضح اور نمایاں ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے حافظ ابن صلاح رحمہ اللہ نے 26 ایسی احادیث جمع کیں جن میں عقائد،عبادات اور اخلاق و آداب سے متعلق جامع تعلیمات بیان ہوئی ہیں، پھر ان کے بعد امام نووی رحمہ اللہ نے اسی مجموعے میں 16 احادیث کا اضافہ کیا اور یہ 42 احادیث کا مجموعہ ’’اربعین نووی‘‘ کے نام سے بہت مقبول ہوا اور ہر دور میں اسے پڑھا پڑھایا جانے لگا۔امام نووی رحمہ اللہ کی اس مقبول عام کتاب پر کئی علماء نے حواشی و شروح لکھیں۔ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے اس میں ایک کام یہ بھی کیا کہ 42 حدیثوں کے ساتھ مزید 8 احادیث کا اضافہ کیا اور پچاس احادیث کی تشریح کی جس کا نام انہوں نے ”
لفظ تفسیر در اصل ’’فَسْرٌ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: کھولنا،چونکہ اس علم میں قرآن کریم کے مفہوم کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے ،اس لئے اس علم کو’’ علم تفسیر ‘‘کہا جاتا ہے، ابتداء لفظ تفسیر کا اطلاق صرف قرآن کریم کی تشریح پر ہی ہوتا تھا،چناں چہ علامہ زر کشی لکھتے ہیں: علم یعرف به فهم کتاب الله المنزل علی نبیه محمدﷺ و بیان معانیه واستخراج احکامه وحکمه (البرہان:۱؍۱۳) یہ کتاب چونکہ خالق کائنات اللہ رب العزت کی کتاب ہے، اس لئے اس کےالفاظ کی تہہ میں معانی ومطالب کے ایسے سمندر موجود ہیں جن کی مکمل غواصی انسان کے بس میں نہیں، اور اس میں اتنے اعجازی پہلو موجود ہیں جن کا مکمل احاطہ بشری قوت وصلاحیت سے ماوراء ہے، کہ اس کتاب کے الفاظ بھی معجز ہیں، تو ترکیب واسلوب ونظم کے اعجاز بھی انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انسان ایسے معجزکلام پر قادر ہی نہیں ہے ۔اس کلام کی یہ بلندی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کی ضامن اس کتاب سے انسانوں کو جوڑنے اور اس کے معانی ومطالب تک انسانی ف...
اردو ادب میں سفر ناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہو گیا ہے ۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کا احاطہ کرتے ہیں ۔ اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی ۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتا ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ نیل کے ساحل تک ‘‘ مولانا محمود الرشید حدوٹی صاحب کے پانچویں سفرنامہ کی روداد ہے اس سفرنامہ میں یوگنڈہ، دار الحکومت کمپالا، دریائے نیل، جھیل ملکہ وکٹوریہ، یوگنڈہ میں مسلم عیسائی کشاکش، قادیانی سرگرمیوں کے احوال بیان کیے گئے ہیں اس کے علاوہ مولانا محمود الرشید نے اس ملک میں کیا دیکھا اور کیا سنا اس کے احوال بھی کتاب ہذا میں حسب بساط بیان کر دیے ہیں ۔(م۔ا)
’’صالحہ بیوی کی صفات‘‘یا ’’اللہ سبحانہ وتعالی نےخاوند کے اس کی اہلیہ پر جو حقوق فرض کیے ہیں ‘‘یہ اس کتاب کا موضوع ہے ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے دور کی خواتین کو اس موضوع کی معرفت حاصل کرنے کی انتہائی ضرورت ہے اوریہ اس لیے ہے کہ امت عمومی طور پر اس مسئلے میں کوتاہی وسستی کا شکار ہے جبکہ خواتین خاص طور پر انتشاروخلفشاراو رپس وپیش کا شکار ہیں وہ عمومی طورپر بری خصلتوں او ربرائیوں پر راضی ہیں ابلیس او راس کے لشکر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہیں او ریہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے اس چیز سے اعراض کیے ہوئے ہیں جسے اللہ تعالی نے لوگوں کے لیے مشروع کیا تھا کہ وہ اس کی حیات کےلیے منہج او ران کی نجات کے لیے سبیل ہو۔پس یہ وہ ہمہ گیر تباہی پھیلادینے والا ریلا تھا جس کی وجہ سے دل او رچہرے اپنے رب او راپنے خالق سبحانہ وتعالی سے پھیر دیئے گئے اور شیطان ان پر مسلط ہوگیا تو اس نے اس امت کو اس کادین بھلادیا۔یہ کتاب مسلمان زوجہ کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے شوہر او راس کے گھر کے متعلق جو ذمہ داریاں اس پر عاید کی ہیں وہ انہیں اداکرے...
شخصیت کی تعمیروترقی کا انحصارصحیح تعلیم و تربیت پر ہے، صحیح تعلیم و تربیت ایسا عنصر ہے جوشخصیت کے بناؤ اور تعمیر میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ یہ کام بچپن سے ہی ہو تو زیادہ موثر اور دیر پاہوتا ہے۔ بچوں کی تعلیم وتربیت اور شخصیت کی تعمیر میں صحیح رول ماں ہی ادا کرسکتی۔ اسی لیے کہا گیا کہ ’’ماں کی گودبچہ کا پہلا مدرسہ ہوتا ہے۔‘‘ بچوں کی تعمیر و ترقی کا سر چشمہ ماں کی گود ہی ہے، یہیں سے ان کی تعلیم و تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔ اس پہلی درسگاہ میں جو کچھ وہ سیکھتے ہیں اس کی حیثیت پتھر پر لکیر سی ہوتی ہے۔ یہ علم ایسا مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے جو زندگی بھر تازہ رہتاہے۔ اور ابتدائے زندگی کے نقوش خواہ مسرت کے ہوں یا ملا ل کے ہمیشہ گہرے ہوتے ہیں،یہی ابتدئی نقوش مسلسل ترقی کرتے رہتے ہیں۔ لہٰذا اگر ماں ابتدا سے اپنے بچوں کو کلمہ توحید کی لوری دےتویقینا وہی کلمہ ان کے دل و دماغ میں اتر جائے اور مستقبل میں تناور درخت کی شکل اختیار کرے گا، اس کے بر خلاف اگر مائیں بچپن ہی سے اپنے بچوں کو غیر اسلامی باتیں سکھائیں یابچوں کا اٹھنا بیٹھنا غلط قسم کے لوگوں کے سات...
نیکی صرف وہ عمل ہے جو رسول کریمﷺ سے حاصل ہو یعنی اس کا ذکر قرآن و حدیث میں ہو۔اور ہر وہ چیز برائی قرار پائے گی جو رسول اللہﷺ کی عطا کردہ نہ ہو یا پھر رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہو۔نیکی اور برائی کا معاملہ اس قدر متعین اور انتہائی دقیق ہے کہ ذرہ برابر نیکی اور ذرہ برابر برائی، کامیابی یا ناکامی پر اثر انداز ہو سکتی ہے قرآن مجید نے تو نیکیوں اور برائیوں کے تعلق سے دو ٹھکانے بیان کر کے نیکیوں اور برائیوں کے انجام کا تعین کر دیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’نیکی اور برائی کتاب و سنت کی روشنی میں پہچان‘‘محترم ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی حفظہ اللہ کی تصنیف ہے یہ کتاب اپنے مباحث میں ایک دلچسپ اور جامع کتاب ہے جو مدلل اور دلنشین پیرایہ میں لکھی گئی ہے۔ اس کتاب میں وہ تمام مسائل اچھے انداز میں بیان کیے گئے ہیں جو سنت کے عین مطابق ہیں اور جن کا مطالعہ کر کے انسان نیکی اور برائی کی راہ متعین کر سکتا ہے۔نیز غلط اور درست راہوں کی نشاندہی بھی کر دی گئی اور اسوۂ رسولﷺ سے...
اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو فرض کیا ہے جن باتوں کےساتھ امت کی دنیا وآخرت میں رفعت ومنزلت،شان وعظمت،سعادت اور خوش بختی کو وابسطہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک اہم بات امت کےتمام افراد کااس فریضے کو اپنی استعداد کے بقدر ادا کرناہے۔لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ جو کہ (امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھتے اور مانتے ہیں اس کو فکری اور عملی طور پر ،یاکم ازکم عملی طور پر مردوں میں محدود کردیتے ہیں کہ یہ مردوں کے کرنے کے کام ہیں خواتین کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں اس بھیانک سوچ سے نمٹنے کےلیے (امر بالمعروف او رنہی عن المنکر)کے متعلق خواتین کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے ارادے سے مولائےعلیم وقدیرپر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کتاب وسنت اور مسلمان عورتوں کی سیرت کی روشنی میں (نیکی کاحکم دینے او ربرائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری)کےعنوان سے اس کتاب کی تیاری کا عزم کیا گیاہے ۔
ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل و فطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی کے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہو سکتی ہے؟ قرآن وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکی کی راہ ترجمہ خطوت إلى السعادة‘‘ مسجد نبوی کے امام وخطیب ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم کی عربی کتاب ’’خطوت إلى السعادة‘&...
یکی اور بھلائی کے راستے کئی قسم کے ہیں تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے مختلف اوقات میں اطاعت کے مختلف کام سر انجام دے اور اس میں نشاط برقرار رہے۔ بندہ اگر ایک عمل سے اکتا جائے تو دوسرا عمل کرلے۔ وہ اس طرح کہ جس وقت میں جو کام کرنا ہے وہی کیا جائے، یعنی نماز کے وقت نماز ادا کی جائے، جہاد کے وقت جہاد اور اگر مہمان آجائے تو اس وقت اس کی ضیافت کی جائے اور اس کی مہمانی کا حق ادا کیا جائے۔ پس ایسا شخص جو رسم رواج کا پابند نہیں ہوتا بلکہ ہر کام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے وقت اور طریقے پر کرتا ہے تو اس کے لیے خوش خبری ہے اور اس کا انجام بھی بہتر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکی کی راہ‘‘ مسجد نبوی کے امام و خطییب ڈاکٹر عبد المحسن بن محمد القاسم کی کتاب ’’خطوات إلى السعادة‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ، شیخ محترم تقوی وطہارت اور حسن صفات کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی کے امام وخطیب ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔آپ نے اس کتاب میں مختلف موضوعات سے متعلق کتاب و سنت اور اقوال سلف...
بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ادارہ دار الابلاغ نے اس سلسلہ میں بہت اہم قدم اٹھایا ہے اور بچوں کےلیے بہت ساری کہانیاں مرتب کر کے شائع کی ہیں۔ اس حوالے سے محمد طاہر نقاش ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں جن کی شبانہ روز محنتوں سے یہ سلسلہ چلتا رہا ہے اور ہم امید کرتے ہیں اس کا تسلسل آگے بھی برقرار رہے گا۔ زیر نظر کتاب ’نیکی کی کلیاں‘ اسی سلسلہ میں ڈاکٹر انعام الحق کوثر کی ایک تصنیف ہے موصوف بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس کتاب میں بھی بچوں کے لیے متعدد کہانیاں اور واقعات شامل کیے گئے ہیں یہ واقعات اور کہانیاں بچوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ و طریقہ بتاتے ہیں۔(ع۔م)
ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں گناہوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیکی کس عمل یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا نیکی کا تصور محض نماز روزہ حج زکوٰۃ اور دیگر ظاہری عبادات تک محدود ہے یا اس کا دائرہ کار زندگی کے ہر معاملے تک پہنچتا ہے؟ کیا اس کی کوئی فہرست قرآن و سنت میں موجود ہے یا اسے عقل وفطرت سے بھی متعین کیا جاسکتا ہے؟کیا ہر نیکی کا وزن اس کی گنتی کے لحاظ سے ہے یا اس کی کمیت یعنی کوالٹی کے اعتبار سے متعین ہوتا ہے؟ کیا نیکی صرف ظاہری عمل کا نام ہے باطنی نیت بھی نیکی میں شامل ہوسکتی ہے؟ قرآن وسنت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ نیکی سے مراد ہر وہ عمل ہے جو خدا کی بیان کردہ حلا ل و حرام کی حدود قیود میں رہتے ہوئے خلوص نیت اور خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جائے اور جس کا مقصد کسی بھی مخلوق کو جائز طور پر فائدہ پہنچانا ہو۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نیکیاں مٹا دنیے والے اعمال ‘‘ محترم جنا ب امان اللہ عاصم صاحب کے مرتب کردہ سلسلہ اصلاح امت کا سلسلہ نمبر چار ہے ۔مرتب موصوف نے اس اصلاحی کتابچہ...
روزہ اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں،برکتوں، کامیابیوں اور کامرانیوں کا مہینہ ہے ۔اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک وہی مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔روزہ کے احکام ومسائل سے ا گاہی ہر روزہ دار کے لیے ضروری ہے ۔لیکن افسوس روزہ رکھنے والے بیشتر لو...