دکھائیں کتب
  • 71 اسلام کا نظریہ تاریخ (جمعرات 28 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2130

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔اسی تغیر حال اور انقلاب کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتا ہے:وتلک الایام نداولھا بین الناس(3:140)اور یہ زمانہ کے انقلابات ہیں جن کو ہم لوگوں میں گردش دیتے رہتے ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ تاریخ "محترم محمد مظہر الدین صدیقی کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اقوام کے عروج وزوال کی اسی تاریخ کو بیان ہے کہ جب قومیں اللہ کی نافرمانی کرتی ہیں تو اللہ تعالی انہیں پستی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ م...

  • 72 اسلام کی بیٹیاں (منگل 03 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7779

    موجودہ دور میں بعض مسلمان مغرب سے متاثر ہو کر انہی افکار و نظریات اور تہذیب کو اپنانا چاہتے  ہیں جو مغرب نے متعارف کروائے ہیں ۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی اسی طرح تشکیل کرنا چاہتے ہیں جس سے بہتر طریقے سے اہل مغرب کی تقلید ہو جائے ۔ کسی بھی انسانی سماج کی ترقی کا انحصار بہت حد تک اس پر ہے کہ وہ سماج اپنے اندر عورت کو کیا مقام دے رہا ہے ۔ اس سلسلے میں انسان نے اکثر طور پر ٹھوکریں ہی کھائی ہیں ۔ تاہم اسلام نے اس باب میں بھی ایک معتدل رائے اپنائی ہے ۔ آج اسلام پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام عورت کے دائرءکار کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیتا ہے ۔ جبکہ ایک غیر جانب دارانہ نظر سے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتراض بے بنیاد نظر آتا ہے ۔ کیونکہ تاریخ اسلام میں ہمیں ہرشعبہءزندگی میں خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ایک کڑی ہے جس میں مختلف اسلامی ادوار کی نمایاں خواتین کی سیرت و سوانح کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک تاریخی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے چناچہ سب سے پہلے امہات المؤمنین ، اس کے بعد بنات الرسول اور پھر جلیل القدر صحابیات کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح پھر سلسلہ وار اسلامی تاریخ کی ایک ترتیب کے ساتھ خواتین کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی صاحب  کے اخبار امروز جو کسی وقت ایک نمایاں اخبار ہوا کرتا تھا اس میں چھپے گئے قالموں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ مصنف کو جزائے خیر سے نوازے ۔ (ع۔ح)
     

  • 73 اسلامی تاریخ کے دلچسپ اور ایمان آفریں واقعات (ہفتہ 25 جون 2011ء)

    مشاہدات:20643

    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء،سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے ۔زیر نظر کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت و بسالت،رافت و رحمت فہم و فراست ،جو دوسخا،بدل وعطا،عفو و حلم،حق گوئی و بیباکی ،ہمدردی وغساری کے بے نظیر واقعات انتہائی دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب سے ہمیں اپنے روشن ماضی سے آگہی حاصل ہو گی جس سے حال کو سنوارنے میں مدد ملے گی اور درخشندہ مستقبل کی جانب پیش قدمی ممکن ہو سکے گی۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)

  • 74 اسلامی تمدن و تاریخ (جمعہ 20 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2274

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی تمدن وتاریخ "محترم پروفیسر عثمان غنی اور محترم پروفیسر نذیر احمد بھٹی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے  بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت  پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے...

  • ایک نکتہ داں شخص نے کسی قدر سچ کہا ہے کہ "ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کر لیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر یورپ کے مردوں نے فتح پا لی ہے۔"ہر موقع اور ہر محل پر جب شجاعت،ہمت،غیرت،علم وفن الغرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کی بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم سے قومی حمیت کا مادہ بالکل جاتا رہا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ےعلیم میں ابتداء سے انتہاء تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لئے جب خصائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا نام زبان پر آجاتا ہےجن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ" جماعت اہل حدیث کے معروف اور نامورمفسر مولف محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں "اسلامی ریاست کے تصور" کو اجاگر کرنے اور اسلامی کے نامور حکمرانوں اور مشاہیر کی سوانح حیات کو قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے نمونے کو اپنانے کی جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 76 اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں (جمعرات 27 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1745

    حکیم سید عبد الحی ندوی عالم اسلام کے معروف اسلامی سکالر و ادیب،مصنف کتب کثیرہ مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے والد گرامی ہیں۔ موصوف اپنے وقت کے معروف عالم دین اور مؤرخ تھے مولانا عبد الحی صاحب کی آٹھ جلدوں میں مبسوط نزھۃ الخواطر کو آج بھی دینی وعلمی حلقوں میں حوالے کی کتاب کے طور پر بلند مقام حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے ساڑھے چار ہزار سے زائد شخصیات کے حالات قلمبند کئے ہیں اس کے علاوہ گل رعنا اور معارف الموارف فی انواع العلوم و المعارف (عربی) جیسی ان کی تصانیف برصغیر پاک وہند کے علمی ذخیر ے میں امتیازی شان کی حامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں ‘‘مولانا حکیم سید عبد الحی کی ہندوستان کی تہذیب وثقافت کے متعلق تصنیف کردہ عربی کتاب ’’الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولاناابو العرفان ندوی نے کیا ہے یہ ترجمہ پہلے 1970ء میں شائع ہوا تھا   زیر تبصرہ ایڈیشن اسی کا جدید معیاری ایڈیشن ہے جسے دار المصنفین نے 2009ء میں شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہندوستانی علما ومصنفین کی تصانیف کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ یہ تنہاکتابوں کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس کے ضمن میں ہندوستانی مسلمانوں کی پوری علمی تعلیمی اور ذہنی و فکری تاریخ بھی آگئی ہے۔ (م۔ا)

  • ہندوستان میں  عہدسلطنت اسلامی  بہت سے خصوصیات کا حامل ہے ۔اس دور میں  جہاں سیاسی  وانتظامی  اداروں کوترقی ملی مسلم حکومت کی توسیع کا سلسلہ جاری ر ہا وہاں اس  سلطنت  اسلامی کے  دور میں علوم وفنون میں بڑی ترقی کی۔اس عہد اسلامی میں اہل علم وفن کے لیے ایسا ساز گار ماحول فراہم  ہواکہ  وہ اپنے اپنے میدانوں میں علمی خدمات انجام دے کر  مختلف علوم وفنون کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔ عہد سلطنت  کے ابتدائی دور میں علوم وفنون کا فروغ دہلی  ودوسرے مقامات پر سکونت اختیار کرنے والے بیرونی علماء کی مرہون منت رہا۔ رفتہ رفتہ ہند نژاد تعلیم یافتہ مسلمان اس لائق ہوگئے کہ وہ تدریسی وتالیفی کاموں حصہ لے سکیں۔علماء وقت  نےتدریس کے مشغلہ کو ایک عظیم دینی خدمت سمجھا اور بڑے ذوق وشوق سے اس میں حصہ لیا تو معاصر حکمرانوں نے اس  خدمت انجام دینے والوں کی سرپرستی فرمائی اور مکاتب ومدارس کے قیام وانصرام میں کافی دلچسپی لی ۔ علماء کی کوششوں اور اہل علم کے سلسلہ میں سلاطین  کےحوصلہ افزا رویّہ کا نتیجہ یہ  ہوا کہ علم کی روشنی شہروں وقصبوں کے علاوہ قریات میں بھی پھیل گئی۔اس عہد میں بہت سے علماء نے علوم اسلامیہ کو تصنیف وتالیف کاموضوع بنایا اور اس کےلیے   عربی وفارسی دونوں زبانوں کو اختیار کیا۔تفسیر ، حدیث  وفقہ کی جو کتابیں اس زمانہ میں درس وتدریس کے لیے معروف ومقبول تھیں ان کی شروح وحواشی تیار کرنے کے علاوہ  معاصر علماء وفضلاء نے ان علوم سے متعلق طبع زاد تحریریں بھی پ...

  • 78 اسلامی نظریہ اجتماع (پیر 02 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:805

    اسلام نے ا نسان کے یقین اور اس  کےاعمال کی بنیاد رکھی  ہے اس  ناقابل انکار حقیقت پر  کہ انسان خود بخو د  پیدا نہیں ہوا بلکہ کسی ذی شعور صاحب ادراک ہستی برتر نے اسے پیدا کیا ہے ۔ اور اس لیے انسانی  اعمال  وافکار کا محض اس کی رضا واطاعت کے لیے ہونا ضروری ہے ۔انسان کی زندگی انفرادی ، عائلی اوراجتماعی تمام تر اسی مقصد واصول کے تحت تو صحیح  ہے ورنہ غلط ہے۔انسان بولے تواس کے لیے  اور چپ رہے تو اس کے لیے ، شادی کرے بچوں سے محبت کر ے، پڑسیوں کی امداد  کرے یا ملی وقومی فرائض  کو ادا کر ے  الغرض تمام تر امور اسی  ذات واحد کی منشاء  کےلیے  ہوں۔ زیر تبصرہ کتا ب’’اسلامی نظریہ اجتماع‘‘   جناب حیدر زماں صدیقی کی   مرتب شدہ ہے ۔ اس کتاب میں  اسلام کے ہمہ گیر نظریہ اجتماع کی حقیقت اوراجزاء ترکیبی  سےبحث کی گئی ہے۔طرزِ بیان شگفتہ اور مدلل ہے مصنف نے دلنشیں انداز میں مسئلہ زیربحث سے متعلق تقریباً سب کچھ کہہ دیا ہے   پہلی دفعہ یہ کتاب تقسیم ہند کےوقت اگست؍1947ء کو  حید رآباد دکن سے شائع ہوئی۔موجود ہ ایڈیشن ادارہ  ترجمان القرآن ،لاہور نے  1989ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)

  • 79 اسلامی پیغام کے اولین علمبردار (ہفتہ 16 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1929

    صحابہ کرام  اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریمﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  صحابہ کرام  تمام کے تمام  عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام  کے بارے  میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ  ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں  نے صحابہ کرام کے باہمی اجتہادی اختلافات کو سامنے رکھ کر ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دینا شروع کر دی ہے۔مشاجرات صحابہ کے بارے میں امت نے ہمیشہ محتاط موقف اختیار کیا ہے اور ان کے باہمی اختلافات کو حسن ظن پر محمول کر کے  صحابہ دشمنی سے امکانی حد تک اجتناب کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی پیغام کے اولین علمبردار "ہندوستان کے معروف عالم دین علامہ سید محب الدین الخطیب﷫کی عربی تصنیف "حملۃ رسالۃ الاسلام الاولون"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت محترم محمد اسلم سیف فیروز پوری نے حاصل کی ہے۔مولف  ﷫نے اس کتاب میں مشاجرات صحابہ  پر بڑی اہم گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو  قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام  سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 80 اسماء الرسول (پیر 01 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:12799

    محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا نام نہ صرف تمام مسلمانوں کے ہاں نہایت عزت واحترام والا ہے بلکہ تمام مخلوقات میں اس اسم کونہایت افضل واکمل جانا اور توقیر کی نظر سے دیکھا گیا ہےاہل ایمان نے جس قدر اس اسم گرامی کی توقیر کی  وہ اظہر من الشمس ہے ،دوسرے مذاہب والوں نےبھی اس  نام کونہایت عزت واحترام کے ساتھ پکارا او رنظریاتی مخالفت کے باوجود اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کیا اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید  میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مقامات پر مخاطب فرمایا لیکن جب بھی آپ کا ذکر خیر آیا اکثر کسی صفاتی نام سے پکارے گئےجیسے اے رسول،اے نبی،اےاوڑھ لپیٹ کر سونے والےوغیرہ یہ اللہ تعالی کی خاص محبت وشفقت ہے اپنے اس بندے اور رسول کے ساتھ جس کا ذکر خیر اس کتاب میں ہوگا۔اور یہ مختصر کتابچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی وصفاتی ناموں پرمشتمل  ہے ناموں کےساتھ  ساتھ ان کے معانی اور مفاہیم کو بھی اجاگر کیا ہے جس سے آگاہی ہر اس آدمی کے لیے ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتاہے ۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1491
  • اس ہفتے کے قارئین: 12762
  • اس ماہ کے قارئین: 33455
  • کل مشاہدات: 45346824

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں