کل کتب 107

دکھائیں
کتب
  • 76 #2786

    مصنف : محمد عبید اللہ الاسعدی

    مشاہدات : 3966

    سود اور اسلامی نقطہ نظر

    (اتوار 02 اگست 2015ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #2786 Book صفحات: 305

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالا...

  • 77 #5580

    مصنف : ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی

    مشاہدات : 4799

    سود اور اسکے احکام و مسائل

    (ہفتہ 25 اگست 2018ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور
    #5580 Book صفحات: 174

    دینِ اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال ق...

  • 78 #4440

    مصنف : حافظ انجینئر نوید احمد

    مشاہدات : 2719

    سود حرمت خباثتیں اشکالات

    (ہفتہ 13 مئی 2017ء) ناشر : تنظیم اسلامی،لاہور
    #4440 Book صفحات: 52

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنیٰ زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے مامور کیا تھا جس کو سودخوروں سےاعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے ۔ سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے ن...

  • 79 #2870

    مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

    مشاہدات : 3425

    سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

    (اتوار 20 ستمبر 2015ء) ناشر : صدیقی ٹرسٹ کراچی
    #2870 Book صفحات: 208

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی...

  • 80 #2176

    مصنف : مجلس البحث العلمی، کراچی

    مشاہدات : 3871

    سہ ماہی البیان، کراچی (جدید معیشت،تجارت مروجہ اسلامی بینکاری میزان شریعت میں)

    (منگل 14 اکتوبر 2014ء) ناشر : مجلس البحث العلمی، کراچی
    #2176 Book صفحات: 528

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اسلام کے انہی درخشندہ اصولوں کو فروغ دینے اور عامۃ الناس کو ان سے روشناس کرانے کے لئے کراچی کے سہ ماہی مجلہ "البیان" (سلسلہ نمبر 6/7جنوری تا جون2013ء ربیع الاول تا شعبان1434ھ)نے "جدید معیشت،تجارت مروجہ اسلامی بینکاری میزان شریعت میں"ایک خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا ہے۔جس میں متعدد ماہرین معیشت اوت علماء کرام کے تحقیقی مقالات جمع کئے گئے ہیں۔یہ مجلہ جماعت اہل حدیث کے مایہ ناز محدث اور عالم دین مولانا عبد اللہ ناصر رحمانی ﷾کی سر پرستی او...

  • 81 #2659

    مصنف : محمد نجات اللہ صدیقی

    مشاہدات : 8316

    شرکت و مضاربت کے شرعی اصول

    (منگل 30 جون 2015ء) ناشر : اسلامی پبلیکشنز،شاہ عالمی مارکیٹ،لاہور
    #2659 Book صفحات: 162

    شرکت اور مضاربت کاروباری معاہدوں کی وہ شکلیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کےوقت رائج تھیں۔شرکت ومضاربت کے طریقے نبیﷺ کے زمانے میں رائج رہے اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں کے سامنے آپ کے تربیت یافتہ صحابہ نے یہ طریقےاختیار بھی کیے ۔آپ نے ان طریقوں سے روکا نہیں بلکہ ان پر اظہار پسندیدگی فرمایا اور ان میں بعض طریقے آپ ﷺ نے خود بھی اختیار کیے تھے ۔شرکت سے مراد یہ ہے کہ دویا دو سے زائد افراد کسی کاروبار میں متعین سرمایوں کے ساتھ اس معاہدے کے تحت شریک ہوں کہ سب مل کر کاروبار کریں گے ۔مضاربت یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس سرمایے سے کاروبار کرے ۔ اس معاہدے کےتحت کے اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شرکت ومضاربت کے شرعی اصول ‘‘ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ شعبۂ معاشیات کے پروفیسر جنا ب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شرکت اور مضاربت کے شرعی احکام بیان کیے ہیں ۔ا س کتاب میں شرکت اور مضاربت کے تمام فقہی احکام کا احاطہ نہیں کیاگیا ہے بلکہ ان امور پر بحث کی گئی ہے ۔جن کابنکوں کی تنظیم ن...

  • 82 #5597

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 3510

    شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت

    (منگل 02 اکتوبر 2018ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #5597 Book صفحات: 395

    اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز  میں حلال  اور حرام  کے مشکل ترین مسائل کو کھول  کھول  کر بیان کردیا  ہے اس کےلیے  کچھ قواعد و ضوابط  بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت  رکھتے  ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے  ضروری ہے کہ تاحیات پیش  آمدہ حوائج  وضروریات کو اسی اصول  پر پر کھے  تاکہ اس کا معیارِ  زندگی اللہ  اور اس کے رسول کریم  ﷺ کی منشا کے مطابق  بن کر دائمی  بشارتوں  سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی  آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات ک...

  • 83 #2646

    مصنف : ڈاکٹر یوسف قاسم

    مشاہدات : 2969

    صنعت و تجارت کی زکوٰۃ اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ

    (اتوار 28 جون 2015ء) ناشر : چوہدری عبد الباقی نسم دار التبلیغ رحمانیہ لاہور
    #2646 Book صفحات: 74

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔مسائل زکوۃ میں سے مال تجارت کی زکوۃ کا مسئلہ بہت اہم ہے،اور موجودہ صنعتی دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔خصوصا اس کی ذیلی تفصیلات پر غور وفکر کی ضرورت ہے تاکہ اس کے عملی نفاذ میں آسانی رہے۔ زیر تبصرہ کتاب" صنعت وتجارت کی زکوۃ...

  • 84 #5563

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 1821

    طویل مدتی قرض اور موجودہ کرنسی

    (اتوار 12 اگست 2018ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #5563 Book صفحات: 405

    معاشی نظام کے بقا واستحکام میں  زر یعنی کرنسی کو بڑا دخل ہے  ایک  زمانہ میں کرنسی سونے اور چاندی کو بنایا جاتا تھا جس کی   خود ایک قیمت اور اہمیت تھی اور آدمی کےبس کی بات نہیں تھی  کہ  جتنے سکے  چاہے ڈھال لے  کیونکہ ان  سکوں کی ڈھلائی کےلیے  قیمتی دھالت مطلوب ہوتی تھی ۔کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔کہا جاتاہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کیے تھے ، انہی ڈرافٹ نے آگے چل کرکرنسی

  • 85 #4277

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 2982

    عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل

    (ہفتہ 11 فروری 2017ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #4277 Book صفحات: 622

    عقد استصناع سے مراد یہ ہے کہ کسی سے آرڈر پر سامان تیار کروانا۔منجملہ مالی معاملات میں سے ایک اہم ترین صورت عقد استصناع کی ہے۔اس کے بارے میں اگرچہ نصوص میں بھی اشارات ملتے ہیں، لیکن فقہاء کے بیان کے مطابق اس کی اصل بنیاد عرف وعادت اور تعامل ہے۔یوں تو استصناع بھی عقد معاوضہ ہی کی ایک شکل ہے، لیکن اس عقد کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ سلم کی طرح یہ بھی بیع معدوم کی ممانعت سے مستثنی ہےاور مزید ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں عوضین کو ادھار رکھا جا سکتا ہے۔اس لئے معاملات میں اس عقد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، موجودہ دور میں اسلامی مالیاتی ادارے اس کو تمویل و استثمار کی ایک شکل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےتیئسویں فقہی سیمینار مؤرخہ1 تا 3 مارچ  2014ء بمطابق 28 ربیع الثانی تا یکم جمادی الاول  منعقدہ جامعہ علوم القرآن جمبوسر گجرات انڈیا میں عقداستصناع کے  بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر...

  • 86 #4635

    مصنف : اوصاف احمد

    مشاہدات : 8685

    علم معاشیات اور اسلامی معاشیات

    (جمعرات 22 جون 2017ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #4635 Book صفحات: 184

    دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے۔ اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی ا...

  • 87 #2973

    مصنف : محمد نجات اللہ صدیقی

    مشاہدات : 4904

    غیر سودی بنک کاری

    (منگل 20 اکتوبر 2015ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #2973 Book صفحات: 227

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے۔ زیر تبصرہ کتاب''غیر سودی بنک کاری "انڈیا کے معروف عالم دین ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ معاشیات کے پروفیسرمحترم ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی صاحب کی تصنیف  ہے،جس میں انہوں نے غیر سودی بینکاری کا خاکہ پیش کیا ہے کہ اگر صدق دل سے سودی بینکاری کی جگہ غیر سودی بینکاری...

  • 88 #3375

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 5169

    قرآن کی معاشی تعلیمات

    (منگل 23 فروری 2016ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #3375 Book صفحات: 75

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئ...

  • 89 #330

    مصنف : ڈاکٹر فضل الٰہی

    مشاہدات : 19586

    قرض کے فضائل ومسائل

    (پیر 03 مئی 2010ء) ناشر : دار النور اسلام آباد
    #330 Book صفحات: 255

    بسااوقات انسان اپنےوسائل سےاپنی ضروریات یااپنےکاروباری منصوبےپورےنہیں کرسکتاایسے حالات میں پیدا ہونے والے  سوالات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔کیا وہ قرض لے سکتاہے؟،قرض  کی ادائیگی کس حد تک ضروری ہے؟،ادائیگی میں کیساطرزعمل  اختیار کرناچاہیے؟،قرض واپس کروانےکےلیے شریعت اسلامیہ  میں کون سے اخلاقی اقدامات ہیں ؟قرض لیتے وقت کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے؟ اس کتاب میں ان سوالات کےعلاوہ اور بھی بہت سارے سولات کےجوابات سمجھنےسمجھانےکی کوشش کی گئی ہے ۔
     

  • 90 #2063

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2990

    لاٹری

    (ہفتہ 22 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2063 Book صفحات: 40

    سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(بخاری:2059) دور حاضر میں مال حرام کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔۔ زیر تبصرہ کتاب " لاٹری"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے لاٹری کی حرمت،لاٹری کی مختلف شکلیں ،لاٹری کی ابتداء ،مسلم ممالک میں لاٹری کی آمد ،پاکستان میں لاٹری اور لاٹری سے متعلق متعدد دیگر موضوعات پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور...

  • 91 #3220

    مصنف : ڈاکٹر محمود احمد غازی

    مشاہدات : 6018

    محاضرات معیشت و تجارت

    (اتوار 17 جنوری 2016ء) ناشر : الفیصل ناشران وتاجران کتب، لاہور
    #3220 Book صفحات: 461

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہد...

  • 92 #311

    مصنف : محمد اکرم خان

    مشاہدات : 20433

    مسئلہ سود اور غیر سودی مالیات

    (جمعہ 16 اپریل 2010ء) ناشر : مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور
    #311 Book صفحات: 46

    احترام مساجد، حرمت قرآن اور ناموس رسول ﷺ کے معاملات میں جانیں قربان کر دینے کی حد تک زود حس واقع ہونے والی ہماری قوم سود کے معاملے میں جو بموجب حکم خداوندی "خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کھلی جنگ ہے" بالکل بے حس ثابت ہوئی ہے۔ اتنی بڑی تنبیہہ ہمارے جذبات و احساسات میں کوئی ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں کرپاتی اور سود سے ہم اتنی بھی کراہت محسوس نہیں کرتے جتنی  کہ شراب اور لحم خنزیر سے۔ اس میں ہمارے ان علماء کا بھی دخل ہے جو سود اور ربا کے درمیان فرق کر کے سود کو مباح قرار دیتے ہیں اور ان نام نہاد روشن خیال دانشوروں کا بھی جن کا ایمان ہے کہ آج کے دور میں سودی بینکاری کے بغیر کسی ملک کا معاشی نظام چل ہی نہیں سکتا۔

    زیر تبصرہ کتاب اسلامی معاشیات کے ماہر اور حکومت پاکستان کی آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں اعلیٰ عہدہ پر فائز شخصیت محمد اکرم خان کی تالیف ہے۔ اس کتاب کے پہلے حصے میں انہوں نے سود اور ربا میں تفریق کی گمراہی کا پردہ چاک کیا ہے اور دوسرے حصے میں غیر سودی مالیات کی معقول اور قابل عمل تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

  • 93 #5172

    مصنف : ڈاکٹر شاہ فیض الابرار صدیقی

    مشاہدات : 2501

    مضاربت میزان شریعت میں

    (اتوار 28 جنوری 2018ء) ناشر : جامعہ ابی بکر الاسلامیہ، کراچی
    #5172 Book صفحات: 376

    عصر حاضر کا اگر تجزیاتی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تیس سالوں میں دنیا میں جتنی تبدیلیاں رونما ہوئی وہ سابقہ ادوار میں نہ ہوئی اور انہی تبدیلیوں میں سے ایک خوش آئند تبدیلی جو سامنے آئی وہ کویت‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ملائشیا وغیرہ میں اسلامی بینکاری کے حوالے سے اُٹھائے گئے مثبت عملی اقدامات ہیں جو بلا شک وشبہ ایک مثبت آغاز  قرار دیے جا سکتے ہیں۔ عالم اسلام کو جس طرح عالم کفر کے سودی نظام معیشت نے اپنے تسلط مین لیا ہوا ہے اس کے بعد بجا طور پریہ  کہا جا سکتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں  محقق نے موضوع کی جملہ جزئیات کا احاطہ کرنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر میں پیش آمدہ مسائل اور ان کا حل سوالات وجوابات کی شکل میں دیا ہے جبکہ آغاز میں اقتصاد اور معیشت کی اساسیات‘ آداب اور احکام جامعیت کے ساتھ ذکر کیے ہیں۔ اسمیں چار ابواب ہیں‘ پہلے باب میں اسلام کے نظام اقتصاد کے بنیادی خصائص وضوابط کو‘ دوسرے میں مضاربت تاریخی واخلاقی پس منظر کو‘ تیسرے میں مضاربت‘ تعارف‘ اقسام واحکام کو اور چوت...

  • 94 #2941

    مصنف : عبد العظیم اصلاحی

    مشاہدات : 3578

    معاشی مسائل اور قرآنی معلومات

    (بدھ 30 ستمبر 2015ء) ناشر : ادارہ علوم القرآن علی گڑھ یوپی
    #2941 Book صفحات: 259

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں...

  • 95 #3363

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 7259

    معاشیات اسلام ( مودودی )

    (جمعہ 19 فروری 2016ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #3363 Book صفحات: 357

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئ...

  • 96 #5339

    مصنف : سید فضل الرحمن

    مشاہدات : 2865

    معیشت نبوی ﷺ

    (منگل 15 مئی 2018ء) ناشر : زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی
    #5339 Book صفحات: 160

    نبی اکرمﷺ کی حیات مبارکہ اور اسوہ حسنہ کے پہلوؤں اور جہتوں کو شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہر روز ایک نیا موضوع سامنے آتا ہے‘ انسانیت کسی حوالے سے مشکل سے دو چار ہوتی ہے‘ یا کسی نئے پہلو سے کائنات کے اب تک سر بستہ راز اس پر منکشف ہوتے ہیں‘ تو اہل علم سنت مطہرہ اور سیرت طیبہ کا مطالعہ کترے ہیں اور آخر اہل علم کو سیرت طیبہ میں روشنی میسر آجاتی ہے۔ جب نبیﷺ تشریف لائے تو اس وقت کی مختصر ‘ سادہ اور فطرت سے بھر پور زنگی میں ماحولیات بہ طور موضوع متعارف نہیں تھا۔ اس وقت اس موضوع کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ پھر جوں جوں انسان ارتقاء پاتا رہا‘ اپنے زعم میں مہذب کہلاتا رہا‘ اسی رفتار سے وہ فطرت سے انحراف کرتا رہا اور فطرت اسے سزا سناتی رہی۔ جب انسان اس ضرورت کی جانب متوجہ ہوا تواسے علم ہوا کہ اس حوالے سے جناب نبیﷺ تو بہت پہلے ہدایات فرما چکے ہیں کئی ایک ایسے موضوعات ایسے ہیں لیکن معیشت نبویﷺ کا موضوع اہم ہے اور ہر روز زندہ وتازہ بھی۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے لیکن اس میں ظن وتخمین سے زیادہ کام لیا گیا ہے جس کی وجہ سے قاری ک...

  • 97 #1020

    مصنف : حافظ ذو الفقارعلی

    مشاہدات : 20217

    معیشت وتجارت کے اسلامی احکام

    (ہفتہ 26 مئی 2012ء) ناشر : ابوہریرہ اکیڈمی، لاہور
    #1020 Book صفحات: 218

    بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اس چیز کو اہمیت دیں کہ ہمارے پیٹ میں جانے والا لقمہ حلال ذرائع سے حاصل شدہ ہے یا حرام ذرائع سے۔ کتاب و سنت میں نہایت شد و مد کے ساتھ حلال رزق کمانے اور کھانے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ معاش و تجارت میں حلال و حرام کی تمیز روا  نہیں رکھتے۔ حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت اور بینکاری کے موضوع پر ید طولیٰ ٰرکھتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ان کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں معیشت و تجارت سے متعلق نہایت سادگی کےساتھ بہت سے موضوعات آسان زبان میں ایک عام قاری کے لیے بیان کر دئیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سےعوام الناس اور کاروباری طبقہ دین قیم کی پاکیزہ اور روشن تعلیمات سے آگاہ ہوگا۔ اور یقیناً خرید و فروخت کے معاملات ان کے مطابق ادا کر سکے گا۔(ع۔ م)
     

  • 98 #4313

    مصنف : اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا

    مشاہدات : 2771

    مچھلی کی خرید و فروخت فقہ اسلامی کی نظر میں

    (جمعہ 03 فروری 2017ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #4313 Book صفحات: 400

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشی زندگی کے حوالے سے راہنما اصول مہیا کرتا ہے۔ اسلام نے ہر اس تجارت سے منع کر دیا ہے جس میں بائع یا مشتری میں سے کسی ایک کو بھی دھوکہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "مچھلی کی خرید وفروخت، فقہ اسلامی کی روشنی میں" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں...

  • 99 #5222

    مصنف : ڈاکٹر نور محمد غفاری

    مشاہدات : 5890

    نبی کریم ﷺ کی معاشی زندگی

    (جمعرات 01 مارچ 2018ء) ناشر : مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری، لاہور
    #5222 Book صفحات: 413

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نبی کریمﷺ کی مع...

  • 100 #5321

    مصنف : تنویر احمد مگوں

    مشاہدات : 2159

    نفع دونوں جہانوں کا سودی قرض کی حرمت اور اسلامی بینکاری کی اہمیت

    (ہفتہ 05 مئی 2018ء) ناشر : پاکستان بزنس فورم کراچی
    #5321 Book صفحات: 113

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اور رہی بات کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف پاکستان میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں اسلامی بینکاری کے نام پرکام ہو...

< 1 2 3 4 5 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2149
  • اس ہفتے کے قارئین 25809
  • اس ماہ کے قارئین 87833
  • کل قارئین65684985

موضوعاتی فہرست