دکھائیں کتب
  • سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک پاکستان میں سود پورے زور وشور اور سرکاری سرپرستی میں جاری ہے اور حکومت اسے ختم کرنے میں ذرا ب...

    سود 
  • 42 انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت (بدھ 21 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2819

    جب سے مہذب انسانی معاشرہ وجود میں آیا ہےتب سے اس میں ٹیکسوں کا تصور کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یونان اور روم میں سب سے پہلے استعمال ہونے والی اشیاء پر ٹیکس لگایا گیا۔درآمدی ڈیوٹی کو اندرون ملک بننے والے مال پر وصول ہونے والی ڈیوٹی پر ترجیح دی جاتی تھی۔جنگ کے دنوں میں جائیداد پر بھی عارضی طور پر ٹیکس عائد کر دیا جاتا تھا ۔پھر اس کا دائرہ کار دیگر اشیاء تک وسیع کر دیا گیا۔چونکہ دنیا میں اسلام کے علاوہ جتنے بھی مذاہب ہیں ان میں موثر مالی نظام کا فقدان ہے۔لہذا دنیا کے غیر اسلامی ممالک کو اپنے مالی نظاموں کے لئے مروجہ نظام ٹیکس کا سہارا لینا پڑا۔جبکہ اسلام میں اس کمی کونظام زکوۃ کے ذریعےبحسن وخوبی پوراکر دیا گیا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف ہم اسلام کی عظمت وکاملیت کے دعویدار ہیں تو دوسری طرف عملی طور اس کی نفی کرتے ہیں اور غیر اسلامی نظام حیات پر عمل پیرا ہو کر ثابت کرتے ہیں کہ فی زمانہ اسلامی نظام قابل عمل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت، علمی وتحقیقی مقالہ "  محترم مولانا فضل الرحمن بن میاں محمد صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انکم ٹیکس کی شرعی حیثیت پر مدلل گفتگو کی ہے۔کیونکہ انکم ٹیکس کا نظام نہ صرف غیر اسلامی اور ظالمانہ ہے بلکہ اس میں جھوٹ کو اپنانے کی رغبت بھی پائی جاتی ہے۔اگر کوئی شخص صحیح طور پر انکم ٹیکس کا گوشوارہ بھرتا ہے تو پھر اس کے لئے اپنا کاروبار چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔خاص طور پر ان حضرات کے لئے تو بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے جو ٹیکس کے ساتھ ساتھ زکوۃ ادا کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔...

  • 43 بنک کا سود اقتصادی اور شرعی نقطہ نظر سے (بدھ 01 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2219

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجار...

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔اس وقت بینکوں کی جانب سے متعدد انواع کے کارڈ جاری کئے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر سودی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" بینک سے جاری ہونے والے مختلف کارڈ کے شرعی احکام "اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی جانب سے شائع کی گئی ہے جس میں اکیڈمی کے پندرہویں سیمینار منعقدہ 11-13 مارچ 2006ء میسور میں اے ٹی ایم کارڈ ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ سے متعلق پیش کئے گئے تحقیقی مقالات ومناقشات اور فیصلوں کا مجموعہ  پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 45 بینک کا سود حلال ہے ؟ (جمعرات 29 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:22947

    اسلام جس طرح عبادات کے بات میں ہدایات دیناہے اسی طرح معاملات میں بھی مکمل رہنمائی فراہم  کرتا ہے معاملات میں معیشت وتجارت کامسئلہ بہت اہم ہے میدان معیشت میں فی زمانہ ایسی بہت  سی جدید صورتیں پیدا ہوچکی ہیں جو اس سے پہلے نہ تھی انہی میں ایک مسئلہ بینکنگ کاہے علماء نے اس طرف بھی توجہ کی ہے اور اسلامک بینکنگ کے کامیات تجربے بھی کیے گئے ہیں اگرچہ بعض اہل علم کو اس پر تحفظات ہیں بینکاری  میں ایک اہم مسئلہ سود کا ہے کیونکہ غیراسلامی بینکاری کی اساس ہی سود پرقائم ہے جبکہ اسلام میں یہ انتہائی شدید گناہ ہے حتی کہ اسے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف قراردیاگیاہے لیکن اس درجہ شناعت کے باوجود بعض لوگ مروجہ بینکوں کے سود کو جائز قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں زیر نظر کتاب میں اس کا مفصل رد کیا گیاہے نیز جدید بینکاری کے حوالے سے بھی پیش قیمت او رمفید معلومات اس میں شامل ہیں جس سے بینکنگ کے متعلق شرعی معلومات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے-


     

  • 46 تجارت کے اسلامی اصول و ضوابط (جمعہ 10 اگست 2018ء)

    مشاہدات:2632

    عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے ، جس طرح عقائد اور عبادات کے بارے میں جزئیات واحکام بیان کیے گئے ہیں ،اسی طرح شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کرنے کا اہتمام کیاہے ، حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ، وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے۔تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت ؍کا روبار اگر  اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تجارت کے اسلامی اصول وضوابط‘‘پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری‘‘ (سابق استاذ انٹرنیشنل یونیورسٹی ،اسلام آباد،سابق ممبر قومی اسمبلی ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب اٹھ ابواب پر مشتمل ہے  پہلا باب تجارت کے مفہوم اور اس کی اہمیت   پر ہے دوسرے باب میں قبل از اسلام عربوں کی تجارتی سرگرمیوں ، قریش کے تجارتی اسفار ، ان کے معاہدات او راس دور کی چند جائز تجارتی شکلوں پر رروشنی ڈالی ہے۔اور مسلمانوں کی تجارتی ترقیات ، ان کی تجارتی گذرگاہوں اور اشاعت اسلام کے لئے ان کی عظمت ِ کردار کے اثرات کو زیر بحث لایا...

  • 47 ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ (اتوار 09 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1321

    ترقی یافتہ ملک یا زیادہ ترقی یافتہ ملک ایک خود مختار ملک ہے جس کی معیشت انتہائی ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ اقوام کے مقابلے میں اسکا بنیادی ڈھانچہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔اور کوئی ملک یا معاشرہ کسی بھی قسم کی ترقی کا تصور ہی نہیں کرسکتا جب تک وہ معاشرے یا قوم علم کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرلیتے اور اس کو اپنے ملک کی ترقی کیلئے ناگزیر نہیں سمجھ لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم جائزہ لیں تو وہی ملک ترقی کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں جنہوں نے علم کی اہمیت کو تسلیم کیا۔چونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ علم کے بغیر کسی شعبہ میں انسان ترقی و تعمیرکا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس تناظر میں معاشی واقتصادی ترقی کے لیے بھی اگر جدید علوم ، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق ومعلومات نہ ہوں تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے اس لئے ہمیں ہر شعبے میں جدید علوم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ‘‘ جناب عبد الرحمٰن فاتح کی تصنیف ہے کتاب کا طرزِ بیان دلنشیں اور عام فہم ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں سات ترقی یافتہ ممالک ( فرانس ، چین ، جاپان ،انگلستان ،جرمنی ، سوویت یونین ،امریکہ) کی معاشی ترقی کو جامع انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہےاور گرافوں اور گوشواروں سے مدد لی ہے یہ کتاب پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے ایم اے معاشیات کے پرچہ ’’ ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ‘‘ کے سلیبس کے مطابق مرتب کی گئی ہے طلبہ وطالبات کے لیے اس کتاب کا مطالعہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور منصوبہ بندی کےسلسلہ میں مفید ہے کیونکہ...

  • 48 ترقیاتی پالیسی کی اسلامی تشکیل (ہفتہ 24 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1413

    اسلام محض ایک مذہب نہیں جو بندے اور خدا کے درمیان ذاتی تعلق کا ذریعہ ہو، بلکہ یہ انسانیت کے جملہ مسائل بشمول معاشی امور میں رہنمائی مہیا کرتا ہے۔اس کی یہ سرگرمی حصول منزل اور اخروی انجام تک کا احاطہ کرتی ہے۔آج یہ دو سوال بنیادی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ان سوالوں کا جواب مسلم دنیا کے مفکرین کے ذمے انسانیت کا قرض ہے۔پہلا سوال یہ ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے مسلم دنیا میں بالخصوص اور تیسری دنیا میں بالعموم ترقی کا سفر،  ایک قابل ذکر خوشحالی اور فلاح وبہبود متعارف نہیں کر سکا ہے، تو کیا اس کے حصول کا کوئی دوسرا طریقہ موجود ہے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری اور اشتراکیت نے انسانیت کو جس بند گلی میں دھکیل دیا ہے کیا اس سے نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟مسلمان اس امر کا دعوی رکھتے ہیں کہ ان کے پاس متبادل راستہ موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " ترقیاتی پالیسی کی اسلامی تشکیل، مسلم دنیا کے لئے لائحہ عمل "اسی فخر وامتیاز کا ایک نمونہ ہے جو محترم پروفیسر خورشید صاحب کی کاوش ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اسلامی معاشیات کے خدو خال کی وضاحت کرتے ہوئے ترقیاتی حکمت عملی پر اس کے اثرات کا جائزہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 49 جانب حلال (ہفتہ 26 دسمبر 2015ء)

    مشاہدات:2200

    گزشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں   ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف پاکستان میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں اسلامی بینکاری کے نام پرکام ہور ہا ہے ۔ان میں بعض بینک تو مکمل طور پر اسلامی بینک کہلاتے ہیں ۔اور بعض بنیادی طور پر سودی ہیں  ایسی صورتِ حال میں رائج الوقت اسلامی بینکاری کا بے لاگ تجزیہ کرنےکی ضرورت ہےتاکہ معلوم ہوسکےک کہ یہ شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟ زیر تبصرہ کتاب ’’جانبِ حلال‘‘ ابو انشا ء قاری خلیل الرحمن جاوید ﷾کی تصنیف ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع کا ہمہ جہت اِحاطہ ، قرآنی آیات اوراحادیث سے مزین عبارتیں، عربی عبارات کا اعراب سےآراستہ ہونا ، برمحل حوالہ جات کا انداراج ،عام فہم تشریح وتوضیح،منقولات کے ساتھ ساتھ معقولات وامثلہ کابرجستہ استعمال اور اسلامی بینکاری پر مختلف اطراف سے کی جانے والی بلا جواز تنقید کا مثبت وشافی جواب اس کتاب کی قابل قدر اورامتیازی خصوصیات ہیں ۔کتاب ہذا اردو زبان میں اسلامی بینکاری کے حوالہ سے تصانیف میں ایک اہم اور عمدہ اضافہ ہے ۔ کتاب کےمطالعہ سے انداز ہوتا ہے کہ فاضل مصنف کو اپنے موضوع پر خاصی گرفت حاصل ہے اور انہو ں نے اپنے ژرف نگاہی سے کیے   ہوئے مطالعہ اورغوروخوض کا نچوڑ بڑے احسن انداز میں قارئین کے سامنے رکھ دیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر ﷫ کا’’ سودی نظام اوراسلامی بینک کاری کا علمی جائزہ ‘‘ کےعن...

    سود 
  • 50 جدید اقتصادی مسائل شریعت کی نظر میں (ہفتہ 26 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2677

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔عصر حاضر میں متعدد ایسے اقتصادی مسائل پیدا ہو چکے ہیں جن کے  بارے میں شرعی راہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب " جدید اقتصادی مسائل ، شریعت کی نظر میں"عالم اسلام کے جید  علماء اور ماہرین معاشیات کی تحقیقات کا ماحصل ہے جو البرکہ انٹر نیشنل کے زیر اہتمام عالمی سیمینارز میں پیش کیا گیا۔یہ کتاب اپنے موضوع ایک  انتہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 2177
  • اس ہفتے کے قارئین: 4375
  • اس ماہ کے قارئین: 38396
  • کل قارئین : 47854671

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں