دکھائیں کتب
  • 31 تربیت نسواں (اتوار 01 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2314

    ہر انسان جس میں ادنی سی بھی معرفت ہو وہ جانتا ہے کہ بہت سے ممالک میں عورتوں کے اظہار حسن وجمال ،مردوں سے عدم حجاب اور نمائش زینت –جسے اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہوا ہےـ کے باعث ہی مصیبتیں عام ہوئی ہیں۔بلا شک وشبہ عورتوں کی بے پردگی عظیم منکرات اور اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہونے والی عقوبتوں اور مصیبتوں کے اسباب میں سے سب سے بڑا سبب ہے۔اسلام وہ عظیم الشان مذہب ہے جو عورت کی تعلیم وتربیت پر بہت زیادہ زور دیتا ہے،اور اسے پیکر عفت وعصمت اور شرم وحیاء کا مجسمہ مننے کی ترغیب دیتا ہے۔مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر  عرب وعجم کے کئی نامور علماء نے اس موضوع پر بلند پایہ کتابیں تصنیف فرمائی ہیں لیکن آج سے چند سال قبل   ایک فاضل مصری بہن محترمہ نعمت صدتی نے اس  موضوع پر جس دلنشیں انداز میں قلم اٹھایا ہے  اور سچی بات ہے کہ یہ انہی کا حصہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے رشحات فکر کا مجموعہ "التبرج"جب منصہ شہود پر آیا تو نہایت قلیل  مدت میں اس کے بیسیوں ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکل گئے۔یہ کتاب اختصار ،جامعیت ،دلنشینی اور شگفتگی کی وہ تاثیر اپنے اندر لئے ہوئے ہے جو بہت کم کتابوں کو نصیب ہوتی ہے۔کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ،تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکے۔ترجمہ محترم محمد خالد سیف صاحب ﷫نے کیا ہے ۔کتاب کے شروع میں سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز﷫ کے مقالہ "رسالۃ تبحث فی مسائل الحجاب والسفور" کا اردو ترجمہ بطور مقدمہ کے ڈال دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولفہ اور مترجم کی اس م...

  • 32 تفسیر النساء (پیر 27 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1441

    قرآنِ  مجید پوری انسانیت کے لیے  کتاب ِہدایت ہے  او ر اسے  یہ اعزاز حاصل ہے   کہ دنیا بھرمیں  سب   سے زیاد  ہ پڑھی جانے  والی  کتاب ہے  ۔   اسے  پڑھنے پڑھانے والوں کو   امامِ کائنات   نے    اپنی  زبانِ صادقہ سے   معاشرے   کے  بہتر ین  لوگ قراردیا ہے  اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ  تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت  کرتے ہیں۔قرآن مجید میں مرد وزن کے  احکام ومسائل کو یکساں بیان کیا گیا ہے ۔بعض سورتیں تو زیاہ خواتین کے متعلقہ احکام ومسائل پر مشتمل ہیں۔   دور ِصحابہ سے لے کر  عصر حاضر  تک بے شمار اہل  علم نے  اس کی تفہیم  وتشریح اور  ترجمہ وتفسیرکرنے کی  خدمات   سر انجام دیں اور  ائمہ محدثین نے  کتبِ احادیث میں  باقاعدہ  ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔اور مختلف ائمہ  نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں ۔جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم  بھی ہوچکے ہیں ۔اور  ماضی قریب   میں برصغیرِ   پاک وہند  کے   تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید   کی اردو  تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔میرے علم  کےمطابق کوئی ایسی تفسیر مرتب نہیں کی  گئی کہ  جس میں صرف خواتین یا صرف مردوں کے متعلق آیات کو یکجا کر کے اس کی تفسیر بیان کی گئی ہو ۔ زیر تبصرہ کتاب ’...

  • 33 تہذیب النسواں و تربیت الانسان (جمعرات 19 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1653

    زیر تبصرہ کتاب" تہذیب النسواں وتربیۃ الانسان " ریاست بھوپال کی  ملکہ نواب شاہجہان بیگم صاحبہ کی تصنیف ہے جو انہوں نے  انتہائی اخلاص کے ساتھ خاندان بھوپال کی مستورات اور بیگمات  کی تعلیم وتربیت اور راہنمائی کے لئے مرتب کی تھی۔اس دور کے اہل علم وفضل اور اصحاب تحقیق نے اسے نہایت پسند فرمایا اور اصلاح نسواں کے لئے اس کو بڑا مفید قرار دیا۔مصنفہ موصوفہ نے اس کتاب میں عورتوں کی امراض،ادویہ گھٹی،عقیقہ،تقریبات،غذا ولباس،بیماری وعلاج،منت ونذر،توہمات،ادعیہ،تربیت،والدین کا برتاو،گھر کی آرائش،زیورات،تعلیم،فنون سپہ گری،کھانا پکانا،کپڑا سینا،کپڑا رنگنا،ازدواجی تعلقات،حقوق الزوجین،نکاح وطلاق وخلع،عدت،تیمارداری،تعزیت،موت،جزع وفزع،تجہیز وتکفین،سوگ ،خیرات،مقبرہ،زیارت قبور وغیرہ کو نہایت عمدگی سے بحوالہ نصوص واحادیث سلیس عبارت میں بڑی شرح وبسط کے ساتھ تحریر کیا ہے۔آپ ایک پڑھی لکھی اور دیندار خاتون تھیں ۔آپ نے اس کے علاوہ بھی کئی کتب لکھی ہیں جن میں سے تاج الاقبال ،خزینۃ اللغات،مثنوی صدق البیان ،تنظیمات شاہجہانیہ اور تاج الکلام قابل ذکر ہیں۔ یہ کتاب اگرچہ شاہی خاندان کی عورتوں کے لئے لکھی گئی تھی مگریہ اس قابل ہے کہ تمام پڑھی لکھی خواتین کو چاہئے کہ وہ اس کا مطالعہ کریں اور اپنی خانگی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھائیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے درجات حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 34 جدید تحریک نسواں اور اسلام (اتوار 15 مئی 2011ء)

    مشاہدات:11312

    عورت چھپانے کی چیز ہے سو عورت پردہ اور گھر کی چار دیواری تک محصور ہو گی تو اس کی عزت و آبرو محفوظ ،معیار ووقار برقرار رہے گا اور دنیا میں معزز اور   آخرت میں محترم ٹھہرے گی۔کتاب وسنت کے بے شمار دلائل عورتوں کو گھروں میں ٹکے رہنے ،اجنبی مردوں سے عدم  اختلاط اور غیر محرموں سے پردہ و حجاب کی پر زور تاکید کرتے ہیں اور جاہلی بناؤ وسنگھار ،بے حجابی و بے پردگی اور مخلوط مجالس کی سخت ممانعت کرتے ہیں ۔نیز فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے پردگی،بدکاری و زنا کاری اور بے حیائی و بے غیرتی کے خفیہ و علانیہ جتنے بھی چور دروازے ہیں اسلام نے یہ تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔
    اللہ تبارک اسمہ وتعالی ٰ انسانوں کو با عزت و باوقار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اس لیے محرم و غیر محرم رشتہ داروں کی تقسیم ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط ،بامر مجبوری غیر محرم مردوں سے درشت لہجے میں گفتگو اور چار دیواری کا حصارعورت کی عصمت و ناموس کی حفاظت کے  مضبوط حفاظتی حصار  مقرر کیے ہیں ۔ان پر عمل پیرا ہو کر عورت پرسکون و پرکشش زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن یہ عظیم سانحہ ہے کہ اسلامی معیار ی تعلیمات کو قدامت پسندی اور فرسودہ تہذیب کا نام دیکر اور آزادی نسواں  کے پرکشش اور رنگین نعرے کی آڑ میں عورتوں  کو گھروں سے نکالنے ،مخلوط تقاریب و مجالس میں لتاڑنے ،مساوات مردوزن کی آڑ میں پردہ نشینوں کو ملازمتوں  میں دھکیلنے اور آئیڈیل کی تلاش میں عورت کو بے توقیر و غیر معیاری کرنے کی مغربی مہم نے اہل  اسلام سے دینی روحانیت ،مذہبی غیرت اور ملی حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔پھر اس ننگی مغربی ثقافتی یلغا...

  • 35 جنتی عورت (بدھ 23 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2451

    اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  یہ جاننا از بس ضروری ہے  کہ  اس کے لیے  تمام لوگوں سے خواں ماں باپ یا  اولاد ،شوہر  کامقام ان  سے افضل ہے  او ر وہی  اس کی  سب سے زیادہ توجہ کا حق دار ہے۔  بیوی کو شوہر کی اطاعت گزار ہونا چاہیے ۔یہاں یہ  امر اچھی طر ح سمجھ لینا چاہیے کہ عورت پر اپنے  شوہر کی اطاعت سے اہم  او رمقدم اپنے خالق کی اطاعت ہے لہذا اگر کوئی شوہر اللہ تعالی کی  معصیت کا حکم دے یا  اللہ کے عائد کئے ہوئے کسی فرض سےباز رکھنے کی کوشش کرے تو اس کی اطاعت  سے  انکار کردینا عورت پر فرض ہے۔زیر نظر کتاب’’جنتی عورت ‘‘تنظیم اسلامی حلقہ  خواتین ،کراچی  کی  نائب ناظمہ محترمہ ناہید بنت الیقین صاحبہ کی  کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں ایک صالحہ  عورت کے اوصاف وخصائص کو  بڑے عام فہم آسان  انداز میں بیان کیا  ہے  ۔اللہ تعالی مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور خواتینِ اسلام کے لیے  نفع بخش بنائے  (آمین) ( م۔ا)

     

  • 36 جنتی عورت ( انصار زبیر محمدی ) (جمعرات 24 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:12234

    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی خوش نصیبی کی علامات میں نیک عورت، کشادہ مکان، اچھا پڑوسی اور بہترین سواری ہے۔ایک اور حدیث میں  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بیوی کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا ہے ۔یہ کتاب بھی نیک اور جنتی عورت کی نشانیوں اور علامات کے بارے ایک مفصل کتاب ہے۔انصار زبیر محمدی صاحب کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں اور عموماً اصلاحی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں ایک عورت کو جنتی عورت بننے کے لیے کتاب وسنت میں جن کاموں سے منع کیا گیا ہے اورجن امور کی ترغیب وتشویق دلائی گئی ہے انہیں انتہائی خوبصورتی سے دلائل کے ساتھ مزین کرتے ہوئے حسن ترتیب سے پیش کیا ہے۔اگرچہ بعض مقامات پر مصنف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ کچھ ایسے واقعات بھی نقل ہوگئے ہیں کہ جن میں شوہرکی اطاعت  میں کچھ ضرورت سے زیادہ ہی زور محسوس ہوتا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک عمدہ کتاب ہے۔اسی طرح کی ایک کتاب اگر جنتی شوہر کے بارے بھی مصنف کی طرف سے آ جائے تو کم از کم عورتوں کی طرف سے اس شکوہ کا بھی ازالہ ہو جائے گا کہ مرد جب بھی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو اس میں اپنے حقوق کے بارے میںہی لکھتے ہیں جبکہ اسلام میں بیوی اور عورتوں کے حقوق کے بھی ایک طویل فہرست ہے جس پر مردوں کو توجہ دینی چاہیے۔

  • 37 جہنم میں عورتوں کی کثرت کیوں؟ (جمعرات 28 جولائی 2011ء)

    مشاہدات:21391

    جہنم سے آزادی اور جنت کا حصول شریعت کا مقصود و منشا رہا ہے۔شریعت اسلامی میں دیگر تعلیمات سماویہ کی طرح شریعت اسلامی نے بھی فلاح وکامرانی کے راستوں پر گامزن ہونے کے احکام ومسائل اور ذلت ورسوائی سے بچنے کی تراکیب ومنہاج کما حقہ بیان فرما دیےہیں۔اسلام تمام بنی نوع انسان کو عموما اور اپنے نام لیواؤں کو خصوصا اللہ کے عتاب وعذاب سے بچنے کی تلقین کرتا ہے، اور ان اعمال کی نشاندہی کرتا ہے جو عقائد سے متعلقہ  اور قبیح افعال پر مشتمل ہیں اور جن کی وجہ سے لوگ اللہ کے غیض وغضب کا نشانہ بن جائیں گے۔ جہنم کے عذاب  سےچھٹکارا از بس ضرور ی ہے ۔فرمان باری تعالیٰ ہے
    ’’اے ایمان والو!اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ‘‘(التحریم:6)
    زیر نظر کتاب  مصر کے معروف عالم اور جامعہ ازہر کے استاد الشیخ الدکتور مصطفیٰ مراد کی کتاب (نساء أہل النار )کا ترجمہ ہے جسے شیخ سلیم اللہ زماں نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اردو ترجمہ سہل اور سلیس ہے کتاب میں احادیث کی تخریج کا اہتمام بھی ہے ۔اگر حدیث کی صحت وضعف کی نشاندہی  کر دی جاتی تو عامۃ الناس کے لیے مزید سہولت میسر ہو جاتی ۔ بہر کیف اس کتاب کو  عورتوں سے متعلقہ ہونے کی وجہ سے ہر گھر کی زینت ہونا چاہیے۔
     

  • 38 حج میں چہرے کا پردہ (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2602

    قرآن حکیم میں عورت پر باہر نکلتے وقت جلباب (ایسا کپڑا جو اس کے جسم ،سر پاؤں اور زینت کوڈھانپ لے ) کو اوڑھنا فرض قرار دیا گیا ہے ۔ لہذا عورت جب احرام کی حالت میں باہرنکلتی ہے تو بھی اس جلباب سے جسم اور چہرہ ڈھانپنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں دورانِ حج جلباب نہ اوڑہنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔دوران ِ احرام عورت پر نقاب(سلا ہوا وہ مخصوص کپڑا جوصرف چہرے کوچھپانے کے کام آتاہے ) باندھنا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح دستانے یا زغفران سےرنگے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے یاجس طرح مرد پر دوران ِ احرام سر ڈھانپنایا سلے ہوئے کپڑے پہننا یا ٹخنے ڈھانپ لینے والے جوتے پہننا ممنوع ہے۔ نقاب ایک مخصوص کپڑے کا نام ہے حجاب کا نام   نہیں۔ دورانِ احرام عورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہے لیکن حجاب دورانِ حج ہو یا اس کے علاوہ ہر حالت میں اس پر فرض ہے۔ لہذا وہ دورانِ احرام بھی حجاب (چہرے کاپردہ) کرنے کی پابند ہے۔ جیسا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دوران ِحج اپنی جلباب(بڑی چادر) کو مردوں کےسامنے پر چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اسی مذکورہ مسئلہ کو قرآن واحادیث اور علمائے اسلام کے فتاویٰ کی روشنی میں اختصار کےساتھ عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

  • 39 حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں (پیر 12 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2831

    اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے۔ان خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خوبی شرم وحیا ہے۔شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے۔ دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی  کو دیکھا جو اپنے بھائی کوسمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا:اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا ءدوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔سیدنا شعیب علیہ السلام کی بیٹی جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لئے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی۔ اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں باقاعدہ اس کا تذکرہ فرمادیا۔ جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ زیر تبصرہ کتاب " حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب...

  • 40 حفظ حیا گفتگو اور تحریر (جمعہ 26 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2495

    انسان کے دل میں ہر وقت مختلف قسم کے خیالات و جذبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔یہی جذبات وخیالات جب کسی کام کا تانا بانا بنتے ہیں تو وہ نیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اور جب نیت اپنے اعضاء وجوارح کو عملی جامہ پہنانے پر پوری طرح چوکس کر دیتی ہے تو یہ عزم کہلاتا ہے۔اگر انسان کے دل میں خیالات وجذبات ،ایمان اور عمل صالح کے تحت اپنا تانا بانا بنتے اور باہر نکل کر کچھ کرنے کے لئے مچلتے ہیں تو انسان کی زبان سے خیر بھرے الفاظ کا اخراج ہوتا ہے لیکن جب انسان کی دل میں فحش قبیح اور گناہ آلود جذبات وخیالات ابھر رہے ہوتے ہیں تو زبان سے بھی گندے اور گناہ پر مبنی الفاظ نکلتے ہیں۔اسلام نے ہمیں سچی اور اچھی بات کہنے،اور فحش گوئی و بے ہودہ گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حفظ حیا ،گفتگو اور تحریر‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں   نے اپنی گفتگو اور تحریر میں حیاء کی حفاظت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بے حیائی وفحش گوئی کی مذمت کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1678
  • اس ہفتے کے قارئین: 3770
  • اس ماہ کے قارئین: 33028
  • کل قارئین : 48502858

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں