دکھائیں کتب
  • 11 اسلام کا نظام عفت و عصمت (جمعرات 04 مارچ 2010ء)

    مشاہدات:15929

    زیر تبصرہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب ہے۔ اسلام کے "نظام حیا" کا اس میں دلنشین انداز میں احاطہ کرنے کے ساتھ اسلام کے قوانین عفت اور مغرب کے مابین بے لاگ تقابلی تجزیہ کیا گیا ہے۔۔ عصر حاضر میں بے حیائی کے سیل بے اماں نے اخلاقیات کے ہر بند کو توڑ دیا ہے۔ اور اسلام کا یہ محفوظ قلعہ اب ہر طرف سے دشمنان اسلام کی زد میں ہے۔ میڈیا کی یلغار نے خود مسلمانوں کو مغرب کی ذہنی غلامی اور فکری اسیری میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس کتاب میں اسلامی احکام کو خوبصورت و حکیمانہ انداز میں پیش کیا ہے اور یورپ کی جابجا اخلاقی بدحالی بیان کی ہے۔ اعداد و شمار کے ساتھ ان کے جھوٹے دعوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔ جس سے مغرب سے مرعوبیت کا خبط اتر جاتا ہے اور اسلام کی برتری دلوں میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔ یہ کتاب اس پرفتن دور میں یقیناً ہر گھر کی ضرورت ہے۔

  • 12 اسلام کی بیٹیاں (منگل 03 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:7886

    موجودہ دور میں بعض مسلمان مغرب سے متاثر ہو کر انہی افکار و نظریات اور تہذیب کو اپنانا چاہتے  ہیں جو مغرب نے متعارف کروائے ہیں ۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی اسی طرح تشکیل کرنا چاہتے ہیں جس سے بہتر طریقے سے اہل مغرب کی تقلید ہو جائے ۔ کسی بھی انسانی سماج کی ترقی کا انحصار بہت حد تک اس پر ہے کہ وہ سماج اپنے اندر عورت کو کیا مقام دے رہا ہے ۔ اس سلسلے میں انسان نے اکثر طور پر ٹھوکریں ہی کھائی ہیں ۔ تاہم اسلام نے اس باب میں بھی ایک معتدل رائے اپنائی ہے ۔ آج اسلام پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام عورت کے دائرءکار کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیتا ہے ۔ جبکہ ایک غیر جانب دارانہ نظر سے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتراض بے بنیاد نظر آتا ہے ۔ کیونکہ تاریخ اسلام میں ہمیں ہرشعبہءزندگی میں خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ایک کڑی ہے جس میں مختلف اسلامی ادوار کی نمایاں خواتین کی سیرت و سوانح کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک تاریخی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے چناچہ سب سے پہلے امہات المؤمنین ، اس کے بعد بنات الرسول اور پھر جلیل القدر صحابیات کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح پھر سلسلہ وار اسلامی تاریخ کی ایک ترتیب کے ساتھ خواتین کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی صاحب  کے اخبار امروز جو کسی وقت ایک نمایاں اخبار ہوا کرتا تھا اس میں چھپے گئے قالموں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ مصنف کو جزائے خیر سے نوازے ۔ (ع۔ح)
     

  • 13 اسلامی معاشرہ میں عورت کا مقام (جمعرات 29 اگست 2013ء)

    مشاہدات:6046

    اسلام زندگی کے ہر شعبوں میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ کسی پہلو کے متعلق اس نے کوئی تشنگی نہں چھوڑی ۔ ہر باب میں اصولی اور جامع رہنمائی اس نے فراہم کر دی ہے ۔ انسانی معاشرت کا ایک اہم ترین اور اساسی مسلہ عورت اور مرد کے باہمی تعلقات کا ان کے تعین میں کئی انسانی سماجوں نے  ٹھوکریں کھائیں ہیں ۔ اور اس باب میں افراط و تفریط کا شکار ہوئے ہیں ۔ اسلام  نے اس نازک ترین پہلو کی طرف ایک مناسب اور معتدل تعلیم دی ہے ۔ دوسری طرف وہ انسانی معاشرے جو اس حوالے سے  افراط کا شکار ہوئے ہیں ان میں سے ایک موجودہ مغرب بھی ہے ۔ صد افسوس کہ  اس سلسلے میں ان کے افکار و خیالات سے مسلمان بھی متاثر ہو رہے ہیں اور بالخصوص ہماری قوم کا وہ طبقہ ان سے متاثر ہو رہا ہے جو قیادت و سیادت کے منصب پر فائض ہے ۔ وہ ایک طرف تو دیکھتے ہیں کہ جس قوم کی وہ قیادت کر رہے ہیں وہ بڑی پختگی کے ساتھ  اسلامی روایات کو تھامے رکھنے کا عزم کیے بیٹھی ہے ۔ اور دوسری طرف وہ مغربی ذہن و فکر  کے حامل ہونے کی وجہ سے  مغربی اقدار کو بھی اپنانا چاہتے ہیں ۔ ان حالات میں انہوں نے منافقت کی روش بطور پالیسی  کے اپنا رکھا ہے ۔ تاکہ قوم کے اندر بھی اعتماد بحال رہے اور  اپنی مغرب نوازی کا فریضہ بھی ادا ہوتا رہے ۔ اور بتدریج قوم کے اندر تبدیلی لانے میں بھی کامیاب ہوجائیں ۔ زیرنظرکتاب میں انہی دو پہلوؤں کی طرف بالخصوص روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایک طرف عورت کے بارے میں اسلام کی دی گئی   اصولی  ہدایات واضح کرنے  کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف مسلم لیڈر شپ کے  منافقانہ ر...

  • 14 اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار (جمعہ 23 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2941

    اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا بلند مقام،اور ہر مسلمان کی زندگی میں مؤثر کردار ہے۔صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے۔عورت کے اسی نیک کردار کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین نے اپنے (اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار)نامی اس کتابچے میں قلم بند کیا ہے۔تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکے۔یہ کتاب ہر مسلمان ماں اور بہن کو پڑھنی چایئے ،کیونکہ یہ خواتین کے حوالے سے بڑی مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

     

     

  • 15 اعتکاف اور خواتین (ہفتہ 27 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2455

    رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت  و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ دنیوی مشاغل سے بالکل دور رہے، خریدو فروخت کا بالکل کوئی کام نہ کرے، مسجد سے باہر نہ نکلے، جنازہ کے لیے بھی نہ جائے اور نہ کسی مریض کی بیمار پرسی کے لیے جائے۔ بعض لوگوں میں جو یہ رواج پا گیا ہے کہ اعتکاف کرنے والوں کے پاس دن رات آنے جانے والوں کا تانتا باندھا رہتا ہے اور ان ملاقاتوں کے دوران ایسی گفتگو بھی ہو جاتی ہے جو حرام ہے تو یہ سب کچھ اعتکاف کے مقصود کے منافی ہے۔ہاں اعتکاف کے دوران گھر کا کوئی فرد ملنے کے لیے آئے اور باتیں کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺاعتکاف میں تھے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ملاقات کے لیے تشریف لائیں اور انہوں نے آپ سے کچھ باتیں بھی کیں۔خلاصہ کلام یہ کہ انسان کو چاہیے وہ اپنے اعتکاف کو تقرب الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا لے۔اعتکاف صرف مسجد میں ہوتا ہے، گھر میں نہیں ہوتا ۔ مسجد کے علاوہ کہ...

  • 16 امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ (جمعرات 23 فروری 2012ء)

    مشاہدات:2221

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین...

  • 17 اکیسویں صدی اور مسلمان عورت (پیر 27 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1719

    اللہ تعالی نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی کے حق سے محروم کیا تو جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی اور اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا ۔ جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی اور عورت اپنی عزت ووقار کھو بیٹھی آزادی کے نام پر غلامی کا شکار ہوگئی۔ ۔ لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔آج مغربی اقوام بھی عورت کی غلام بنام آزادی سے تنگ آچکی ہیں ۔ کیونکہ مغربی تمدن میں اس بے جا آزادی کے نتائج ،زنا کاری اور بے حیائی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں افسو س اس بات کا ہے کہ مسلمان عورت بھی آج اسی آزادی کے حصول کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہے جبکہ اسلام قرآن کے ذریعے اس کا قرآن وحدیث کے لیے ا...

  • 18 اگر آپ ماں بننے والی ہیں (پیر 24 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:23827

    انسان کی طرح انسان کی تخلیق کا عمل بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ تخلیقی عمل مختلف پیچیدہ مرحل سے گزر کر تکمیل پاتا ہے۔ شادی شدہ افراد کے لیے اس تخلیقی عمل کے تمام مراحل کے متعلق مناسب معلومات حاصل کرنی ضروری ہے۔ لیکن حمل اور زچگی کے عمل سے گزرنے والی خواتین، خصوصاً وہ خواتین جنھیں پہلی بار حمل ٹھہرا ہو، بعض اوقات اس سلسلے میں مناسب رہنمائی سے محروم رہتی ہیں۔ زیر نظر کتاب کی فاضل مصنفہ نے انسانی تخلیقی عمل کے تمام مراحل کے متعلق بڑی تفصیلی اور دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انھوں نے پیدائش کے بعد بچے کی دیکھ بھال اور تربیت کے متعلق خاطر خواہ لوازمہ پیش کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے نہایت معروضی اور آسان پیرایہ بیان اختیار کیا ہے تاکہ ہر طبقہ اور ہر معیارِ تعلیم کی خواتین کتاب سے بآسانی استفادہ کر سکیں۔ امید ہے کہ یہ خوبصورت کتاب انسانی زندگی کے اس اہم مرحلے کے حوالے سے بہت ممدو معاون ثابت ہوگی۔(ع۔م)
     

  • 19 اے میری بہن! (منگل 16 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:17643

    خانگی اور معاشرتی زندگی کاحسن بڑی حدتک عورت کے کردار پر موقوف ہے ۔عورت شرک سے بیزار اور وحدہ لاشریک کی پرستار ہوگی تو اس کی گود میں پلنے والے بچے بھی اللہ کے شیدائی ،رسولﷺ کے فدائی اور اسلام کے سپاہی بنیں گے ۔اس لحاظ سے عورت کی دینی تعلیم وتربیت کس قدر زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اے میری بہن‘‘عالمِ عرب کے نامور عالم دین اور دانشور محترم مجدی فتحی سید﷾ کی خواتین کی تربیت کے سلسلے میں ایک عربی کتاب’’عیوب النساء ‘‘ کا ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے بتایا ہےکہ عورت کی شخصیت میں سچائی کی روح بولے گی تو اس کے سارے خاندان میں صداقت کا اُجالا پھیل جائے گا۔یہ کتاب ان اہم دینی حقائق ومعارف کا گلدستہ ہے جنہیں سیکھے بغیر کوئی خاتون اچھی سیرت سازی کےتقاضے پورے نہیں کرسکتی ہے ۔ یہ کتاب توہم پرستی سے بچنے اور عقل وبصیرت سے کام لینے کاسبق دیتی ہے ۔اور شرک ،دروغ گوئی، غرور وتکبر، بغض وحسد،کدورت وعداوت او ر غیبت وچغل خوری سے دور رہنے کا سلیقہ عطا کرتی ہے اور یہ کتاب شوہر کےحقوق ومفادات کی نگہبانی اور اولاد کی تربیت کے گر سکھاتی ہے ۔اس لیے یہ کتاب خود پڑھنے اور خواتین کی خدمت میں بطور تحفہ دینے کے لائق ہے ۔ ان شاء اللہ اس کتاب کی تعلیمات سے   گھرانے گہوارۂ رحمت بن سکتے ہیں۔ اس اہم اور مفید کتاب کے سلیس اور رواں ترجمہ کی سعادت   دارالسلام کے ایک قابل سکالر پروفیسر عبد الرحمٰن ناصر ﷾نے حاصل کی ہے اور دارالسلام نےاسے طباعت کے اعلیٰ معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو   خواتین...

  • 20 بازار ضرور جاؤں گی (ہفتہ 13 فروری 2010ء)

    مشاہدات:17510

    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ کا موضوع خواتین کی بلا ضرورت شاپنگ ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1706
  • اس ہفتے کے قارئین: 6956
  • اس ماہ کے قارئین: 34650
  • کل قارئین : 45942957

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں