#2429

مصنف : محمد بن صالح العثیمین

مشاہدات : 4686

توحید اسماء وصفات

  • صفحات: 220
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 7700 (PKR)
(جمعرات 04 ستمبر 2014ء) ناشر : مکتبہ عبد اللہ بن سلام لترجمۃ کتب الاسلام

ایمان بااللہ کے ارکان میں سے ایک اہم رکن اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات پر ایمان لانا ہے ۔توحید اسماء وصفات توحید کی تین اقسام میں سے ایک مستقل قسم ہے ۔توحید اسماء وصفات کا دین میں مقام ومرتبہ بہت اونچا ہے اور اس کی اہمیت نہایت عظیم ہے۔ انسان کے لیے اس وقت تک مکمل واکمل طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت ممکن نہیں ہے جب تک اسے اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا علم نہ ہو ۔عقائد کی کتب میں   توحید کی اس قسم پر تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔ او ربعض علماء نے   توحید اسماء وصفات پر الگ سے کتب تحریر کیں ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’توحید اسماء وصفات ‘‘ سعودیہ کے ممتاز عالم دین   فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ﷫کی اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کے متعلق انتہائی اہم بنیادی اور زریں قواعد پر مشتمل کتاب ’’ القواعد المثلیٰ فی الاسماء الصفات ‘‘کا اردو ترجمہ ہے ۔ ترجمہ کی سعادت   پاکستان کے ممتاز عالم دین   مولانا عبد اللہ رحمانی﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مترجم ومصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے اہل اسلام کے لیے مفید بنائے (آمین) م۔ا

عناوین

 

صفحہ نمبر

تقریظ از شیخ عبد اللہ بن باز ﷾  

 

15

مقدمۃ از مترجم

 

17

مقدمۃ از مؤلف

 

27

اللہ تعالیٰ کے اسماء (ناموں) کے سلسلہ میں قواعد

 

30

پہلا قاعدہ :اللہ تعالیٰ کے تمام نام ’’حسنی‘‘ یعنی اچھے اور پیارےہیں

 

30

اللہ تعالیٰ کے ناموں میں حسن دو طرح سے ہے : (1) ہر نام میں انفرادی طور پر (2) ایک نام کودوسرے نام کے ساتھ ملا کر ذکر کرنے میں

 

33

دوسرا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے اسماء، اعلام و اوصاف ہیں

 

34

معطلہ کی گمراہی کہ وہ اسماء ، کو ان سے معانی سلب کر کے مانتے ہیں

 

35

’’الدھر‘‘ (زمانہ ) اللہ کا نام نہیں ہے

 

37

تیسرا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں جو صفات اور معانی ہیں وہ یا تو متعدی ہوں گے یا لازم

 

39

چوتھا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے اسماء اس کی ذا ت و صفات پر مطلقۃ و تضمناً و التزاماً دلالت کرتے ہیں

 

41

اللہ اور اس کے رسول کے نا فرمان کا لازم (اگر واقعتاً لزوم بنتا ہو ) حق ہے

 

42

اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی اور کے قول کے لازم کے حکم کی تفصیل

 

42

پانچواں قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء توقیفی ہیں اور ان میں عقل کی کوئی گنجائش نہیں ہے

 

45

چھٹا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے نام کسی مخصوص و معین تعداد میں محصور نہیں ہیں

 

47

اللہ تعالیٰ کے ننانوے (99) ناموں کی تفصیل

 

49

قرآن مجید سے

 

49

احادیث رسول سے

 

52

ساتواں قاعدہ : اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد

 

53

الحاد کا معنی اور اس کی صورتیں

 

53

الحاد کا حکم

 

55

اللہ تعالیٰ کی صفات پر ایمان لانے کے قواعد

 

56

پہلا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کی صفات ، صفات کاملہ ہیں ، ان میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں ہے

 

56

اللہ تعالیٰ کی   تمام صفات کے صفات کمال ہونے پر نقلی ، عقلی اور فطری دلائل

 

56

اگر ایسی صفت جس میں نقص ہو ، کمال نہ ہو وہ اللہ کے حق میں ممتنع ہے

 

59

کوئی صفت اگر ایک حالت میں صفت کمال اور دوسری حالت میں صفت نقص ہو ، تو جس حالت میں وہ صفت کمال ہے اس حالت میں وہ اللہ کے لیے ثابت ہے اور جس حالت میں صفت نقص ہے اس حالت میں ممتنع ہے

 

62

عامۃ الناس کا یہ کہنا باطل ہے کہ جو لوگ اللہ کے ساتھ خیانت کرتے ہیں اللہ ان کے ساتھ خیانت کرتا ہے

 

65

دوسرا قاعدہ : صفات باری تعالیٰ کے سلسلہ میں دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا دائرہ ، اللہ تعالیٰ کے اسماء کے دائرے سے وسیع ہے

 

65

تیسرا قاعدہ : صفات باری تعالیٰ کی دو قسمیں ہیں : ثبوتیہ اور سلبیہ

 

68

صفات ثبوتیہ

 

68

صفات سلبیہ

 

70

نفی صفت کمال نہیں الا یہ کہ وہ کمال کو متضمن ہو

 

70

چوتھا قاعدہ : صفات ثبوتیہ ، صفات مدح و کمال ہیں

 

73

صفات سلبیہ کےذکر کے اغلب احوال بمع امثلہ

 

73

پانچواں قاعدہ : اللہ تعالیٰ کی صفات ثبوتیہ کی دو قسمیں ہیں ( 1) صفات ذاتیہ (2) صفات فعلیہ

 

75

(1)صفات ذاتیہ

 

75

(2) صفات فعلیہ

 

75

اللہ تعالیٰ کی بعض صفت ذاتیہ اور فعلیہ دونوں ہو سکتی ہیں

 

75

اللہ تعالیٰ کی ہر وہ صفت جو اس کی مشیئت سے ہے وہ حکمت کے تابع ہے

 

76

چھٹا قاعدہ : اللہ تعالیٰ کی صفات کے اثبات کے سلسلہ میں دو انتہائی خطرناک اعتقادی گناہوں سے بچنا ضروری ہے ( 1) تمثیل (2) تکییف

 

76

تمثیل کا بطلان عقلی و نقلی دلائل سے

 

76

تکییف کا بطلان عقلی و نقلی دلائل سے

 

78

اللہ تعالیٰ کے استواء علی العرش کےمتعلق امام مالک کاقول ’’اور قول کی اہمیت ‘‘

 

80

تکییف سے چھٹکارا پانے کا طریقہ

 

80

ساتواں قاعدہ : اللہ تعالیٰ کی تمام صفات توقیفی ہیں جن کے اثبات میں عقل کو کوئی دخل حاصل نہیں

 

81

اللہ تعالیٰ کی کسی بھی صفت کے قرآن و حدیث میں اثبات کا طریقہ

 

82

اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کےمتعلق قواعد

 

84

پہلا قاعدہ : وہ ادلہ جن سے اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات ثابت ہوتے ہیں ، صرف دو ہیں : (1) کتاب اللہ (2) سنت رسول اللہ ﷺ ( بمع عقلی نقلی دلیل )

 

84

دوسرا قاعدہ: قرآن و سنت کے نصوص کے سلسلہ میں ایک ضروری اور اہم قاعدہ یہ ہے کہ انہیں ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے اور کسی قسم کی تحریف کا ارتکاب نہ کیا جائے ( بمع عقلی نقلی دلیل )

 

90

تیسرا قاعدہ : نصوص صفات کے ظاہر کی دو حیثیتیں ہیں ، ایک حیثیت ہمیں معلوم ہے جبکہ دوسری حیثیت مجہول ہے ( بمع عقلی نقلی دلیل)

 

92

مفوضہ کے مذہب کا بطلان

 

95

سلف صالحین مفوضہ کے مذہب سے بری ہیں

 

95

تفویض کے ابطال میں شیخ الاسلام کا قول

 

95

چوتھا قاعدہ : ظاہری نصوص سے مراد کسی بھی لفظ کا وہ معنی ہے جو اس لفظ کے سامنے آتے ہی فوراً ذہن میں آ جائے ۔ اسے ’’معنی متبادر الی الذہن ‘‘ کہا جاتا ہے ، بعض اوقات کسی لفظ کے معنی کا تعین سیاق کلام یا اضافت کی مناسبت سے ہوتا ہے

 

97

ایک لفظ کا ایک عبارت میں کچھ اور دوسری عبارت میں کچھ اور معنی ہوتا ہے ( بمع امثلہ)

 

87

معنی متبادر الی الذہن کے حوالے سے لوگ تین اقسام میں بٹے ہوئے ہیں

 

99

القسم الاول

 

99

القسم الثانی

 

101

القسم الثالث

 

103

معطلہ کے مذہب کے باطل ہونے کی وجوہ

 

104

معطلہ کے مذہب کو مان لینے سے پانچ باطل چیزیں لازم آتی ہیں

 

109

معطلہ کا تناقض ، ان میں سے بعض صفات کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں

112

ماتریدیہ اور اشاعرہ جن صفات کی بحجت عقل نفی کرتے ہیں ، ان کا بحجت عقل بھی اثبات ممکن ہے ، بالکل اسی طرح یہ حضرات بحجت عقل بعض صفات کو مانتے ہیں

 

112

اللہ تعالیٰ کی اسماء و صفات کے متعلق اشاعرہ اور ماتریدیہ کےمنہج سے معتزلہ اور جہمیہ کے شبہات کا رد ممکن نہیں ہے

 

115

ہر معطل ، ممثل ہے اور ممثل معطل ہے

 

117

اہل ، اویل کے چند شبہات اور ان کا ازالہ

 

119

بعض اہل ،اویل کے اہل سنت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ انہوں نے بھی بعض نصوص کوان کے ظاہری معنی سے پھیرا ہے اور ، اویل کے مرتکب ہوئے ہیں

 

119

اہل ، اویل کے اس شبہ کا دو طریقوں سے جواب

 

119

(1)مجمل جواب

 

119

(2) مفصل جواب بمع امثلہ

 

120

تین اشیاء میں ، اویل کے متعلق امام احمد کے متعلق جھوٹی حکایت

 

120

پہلی مثال : حجر اسود زمین پر اللہ کا دایاں ہاتھ ہے .... الحدیث ۔ اور اس کا جواب

 

121

دوسری مثال: تمام بندوں کے دل رحمن کی دو انگلیوں .... الحدیث ۔ کا جواب

 

122

تیسری مثال : میں رحمن کا نفس یمن کی طرف پاتا ہو ں ... الحدیث ۔ کا جواب

 

123

چوتھی مثال : [ثم استوي الى السماء .... الاية ] کا جواب

 

125

پانچویں اور چھٹی مثال : [وهو معكم اين ماكنتم ] کا جواب

 

127

صفت ’’معیت مع الخلق ‘‘ کے اختلاط اور حلول کے معنی میں لینا کئی وجوہ سے باطل ہے حق بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معیت اس امر کے متقضی ہے کہ وہ باعتبار علم قدرت ، سمع ، بصر ، تدبیر ، بادشاہت اور شان ربوبیت کی دیگر متقاضیات کے ساتھ پوری خلق کا احاطہ کیے ہوئے ہے ، جبکہ اس کی ذات اقدس پوری خلق کے اوپر عرش پر مستوی ہے

 

128

’’معیت ‘‘ قطعاً اس بات کی متقاضی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کےاندر موجود و مختلط ہے شیخ الاسلام کا کلام : ’’کہ اللہ اپنے عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے ، حق ہے اور اپنی حقیقت پر قائم ہے ‘‘ کی توجیہ

 

129

تتمہ بحث: اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق کے ساتھ معیت کے سلسلہ میں لوگوں کی اقسام

 

140

تنبیہ : علماء سلف سے اللہ تعالی ٰ کی معیت کی تفسیر

 

141

ایک اور تنبیہ : اللہ تعالیٰ کا علو قرآ ن وحدیث ، عقل ، فطرت اوراجماع سے ثابت ہے

 

142

ساتویں اور آٹھویں مثال : [نحن أقرب اليه من حبل الوريد] کا جواب

 

149

نویں اور دسویں مثال : [تجري باعيننا ] [ولتصنع على عينى] كا جواب

 

152

گیارہویں مثال : [وما يزال عبدى يتقرب..... الحديث] كا جواب

 

155

بارہوین مثال : [من تقرب منى شبر تقربت اليه ... الحديث] كا جواب

 

158

تيرہویں مثال : [اولم يرو انا خلقنا لهم مما عملت ايدينا انعاما] كا جواب

 

164

چودھویں مثال : [ان الذین یبایعونک انا یبایعون اللہ ] کاجواب

 

168

پندرہویں مثال : [یا بان آدم مرضت فلم تعدنی ] (الحدیث) کا جواب

 

171

خاتمہ

 

176

اشاعرہ کا مذہب باطل کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ان کی تعداد دنیا بھر کے مسلمانوں میں 95فیصد ہے اور ان کا اما م ابو الحسن الاشعری جیسی شخصیت ہے ۔ اس شبہ کا جواب

 

176

متاخرین اشاعرہ جوامام ابو الحسن الاشعری کی طرف سے اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ ان کی صحیح معنی میں اقتداء کا حق ادا نہ کر سکے

 

178

عقیدہ کے باب میں ، ابو الحسن الاشعری کی زندگی کے تین مراحل ، اور ان کا بیان

 

178

وہ سات صفات جنہیں اشاعرہ بال ، اویل مانتے ہیں

 

181

شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا اشاعرہ کےمتعلق کلام

 

181

شیخ الاسلام   کےشاگرد ابن القیم کا اشاعرہ کے متعلق کلام

 

182

متاخرین جن کا کہنا ہے کہ آیات صفات کا معنی ظاہر اور متبادل الی الذہن ماننے سے مخلوقات سے تشبیہ لازم آتی ہے کے متعلق شیخ محمد امین الشنقیطی کا کلام

 

183

امام ابو الحسن الاشعری نے آخری عمر میں اہل السنۃ کے مذہب کواختیار کر لیا تھا

 

186

اس بات کا جواب کہ اشاعرہ کیسے باطل ہو سکتے ہیں حالانکہ ان میں بڑے بڑے علماء اور معروف دعاۃ موجود ہیں

 

187

کسی کا قول قبول کرنے کےلیے محض اس کی نیت کا اچھا ہونا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ وہ قول اللہ تعالیٰ کی شریعت کے بھی موافق ہو

 

188

کیا اہل تاویل کی تکفیر یا تفسیق جائز ہے ؟

 

189

کسی بھی مسلمان پر کفر یا فسق کا فتویٰ لگانے سے قبل دوچیزیں کو دیکھنا ضروری ہے : ایک یہ کہ قرآن یا حدیث کی نص موجود ہو کہ اس شخص کا کوئی قول یا فعل کفر کو موجب و مستلزم ہے

 

191

دوسری چیز یہ کہ جس شخص معین کو اس کے کسی قول یا فعل کی بنیاد پر کافر یا فاسق کہا جا رہا ہے اس پر تکفیر یا تفسیق کی تمام شروط واقعتاً منطبق ہو رہی ہیں نیز یہ کہ تکفیر یا تفسیق کے جو موانع یا جو رکاوٹیں ہیں وہ ان سب کو عبور کر چکا ہے

 

191

فرائض کا انکار کرنےوالا اگر نیا نیااسلام میں داخل ہوا ہے تواس کی تکفیر نہ کی جائے

 

192

تکفیر مطلق اور تکفیر معین کے متعلق شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا کلام

 

194

اللہ تعالیٰ کی صفت معین کے متعلق شیخ ابن عثیمین ؒ کے ایک مقالے کا مکمل متن

 

201

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1393
  • اس ہفتے کے قارئین 15245
  • اس ماہ کے قارئین 70434
  • کل قارئین53015813

موضوعاتی فہرست