کل کتب 68

دکھائیں
کتب
  • 26 #3485

    مصنف : محمد ابو زہرہ مصری

    مشاہدات : 3515

    حرمت سود

    (جمعرات 13 اگست 2015ء) ناشر : ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد
    #3485 Book صفحات: 67

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی ط...

  • 27 #3689

    مصنف : عثمان بن عبد القادر الصافی

    مشاہدات : 1842

    حرمت شراب ایک شبہ کا ازالہ

    (اتوار 25 اکتوبر 2015ء) ناشر : پاک مسلم اکادمی لاہور
    #3689 Book صفحات: 50

    ہمارے معاشرے میں شراب نوشی اور اس کی شرعی سزا کے حوالے سے نت نئے شبہات پیدا کئے جاتے رہتے ہیں کہ یہ سزاقرآنِ کریم میں موجودنہیں، کبھی اس سزا کی شرعی حد ہونے اور اس میں کوڑوں کی تعداد پر اعتراض عائد کردیا جاتا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ احادیث مبارکہ میں بڑے مؤثر انداز میں شراب نوشی کی حُرمت اور دیگر منشیات کے اَحکام بیان کردیے گئے ہیں۔دین اسلام  نفس انسانی کا تزکیہ کرنا چاہتا ہے،اس لیے وہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ باطن کی تطہیر کے ساتھ کھانے اور پینے کی چیزوں میں بھی خبیث و طیب کا فرق ملحوظ رکھا جائے۔اسلام میں شراب کی ممانعت کا حکم اسی بنا پر ہے کہ یہ چیز طیبات میں نہیں آتی، بلکہ یہ خبائث میں آتی ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں: ’’ایمان والو ،یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، سب گندے شیطانی کام ہیں، اس لیے ان سے الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ (المائدہ:90) زیر تبصرہ کتاب " حرمت شراب، ایک شبہ کا ازالہ " عالم عرب کے معروف عالم دین محترم الشیخ عثمان بن عبد القادر الصافی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم ابو عبد اللہ ر...

  • 28 #4939

    مصنف : حافظ عبد السلام بن محمد

    مشاہدات : 2610

    حلال و حرام کاروبار شریعت کی روشنی میں

    (بدھ 07 دسمبر 2016ء) ناشر : دار الاندلس،لاہور
    #4939 Book صفحات: 42

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا اورانبیاء ورسل ﷩ کےذریعے اپنےاحکامات ان تک پہنچائے۔اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کی پابندی کرنا عین عبادت ہے ۔ منہیات سے بچنا اور حرام سے اجتناب کرنا ایک حدیث کی رو سے عبادت ہی ہے۔ حرام کےاختیار کرنے سے عبادات ضائع ہوجاتی ہیں اورایک شخص کو مومن ومتقی بننے کے لیے حرام کردہ چیزوں سےبچنا ضروری ہوتا ہےاور اسلام نےبہت سی اشیاء کوحرام قرار دیا ہے جن کی تفصیل قرآن وحدیث کے صفحات پربکھری پڑی ہے۔ بعض علما ء نےاس پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔ زيرتبصره كتاب ’’حلال وحرام کاروبار شریعت کی نظر میں ‘‘ جامعۃ الدعو ۃ الاسلامیہ مریدکے شیخ الحدیث مفسر قرآن محترم جناب حافظ عبد السلام بن محمد ﷾ کی حلال وحرام کےموضوع پر مختصر اور جامع تحریر ہے جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں انسان کی بنیادی ضروریات اشیائے خوردونوش کے حصول اور ان کےاستعمال کےسلسلہ میں حلال وحرام کےاحکامات کو آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔(آمین)(م۔ا)

  • 29 #2089

    مصنف : سعید بن علی بن وہف القحطانی

    مشاہدات : 3761

    خضاب کی شرعی حیثیت

    (اتوار 18 مئی 2014ء) ناشر : نا معلوم
    #2089 Book صفحات: 33

    شریعت اسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے کو جائز قرار دیا گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:'' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عب...

  • 30 #2291

    مصنف : عبد المنان نور پوری

    مشاہدات : 2537

    داڑھی

    (جمعہ 01 اگست 2014ء) ناشر : مکتبہ اصحاب الحدیث لاہور
    #2291 Book صفحات: 58

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی  جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں  کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتابچہ(داڑھی) جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نور پوری صاحب ﷫کی کاوش علمیہ ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وسنت کے دلائل سے  یہ ثابت کیا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض اور واجب ہے اور داڑھی کاٹنا یا مونڈنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مفید اور بڑی شاندار تصنیف ہے،جو موضوع سے متعلق تمام محتویات پر مشتمل ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ شیخ محترم کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین...

  • 31 #6815

    مصنف : محمد فاروق رفیع

    مشاہدات : 1438

    داڑھی اور خضاب حقیقت کیا افسانہ کیا ؟

    (ہفتہ 01 دسمبر 2018ء) ناشر : فصل الخطاب للنشر و التوزیع
    #6815 Book صفحات: 250

    شریعت ِاسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے  کو جائز قرار  دیا  گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ  ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: '' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام ﷢ سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ،...

  • 32 #2459

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2613

    داڑھی مرد مؤمن کا شعار

    (جمعرات 25 ستمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2459 Book صفحات: 95

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی مرد مومن کا شعار ہے‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں     داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلا...

  • 33 #4665

    مصنف : مختار احمد ندوی

    مشاہدات : 5331

    داڑھی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں

    (پیر 23 مئی 2016ء) ناشر : دار العلم، ممبئی
    #4665 Book صفحات: 116

    مردوں کی ٹھوڑی اور گالوں پر بالغ ہونے پر اگنے والے بال داڑھی اور بالعموم بلوغت کا نشان کہلاتے ہیں۔قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا میں اس کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اور یہودیوں اور رومن کتھولک عیسائیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی ڈاڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی ماضی قریب میں مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے، اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرتﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا...

  • 34 #1344

    مصنف : عبد اللہ بن محمد بن حمید

    مشاہدات : 17010

    درآمدہ گوشت کی شرعی حیثیت

    (جمعہ 06 اگست 2010ء) ناشر : توحید پبلیکیشنز، بنگلور
    #1344 Book صفحات: 79

    شرع متین میں حلت وحرمت کامسئلہ بنیادی واصولی مسائل میں شمارہوتاہے ،جسےکتاب وسنت میں مکمل شرح وبسط کےساتھ بیان کیاگیاہے ۔متعددآیات میں اسےکھول کربیان کردیاگیاہے۔شریعت میں اکل حلال کی بہت زیادہ تاکیدکی گئی ہے ۔اس سلسلہ میں یہ مسئلہ بھی بہت اہم ہے کہ جن جانوروں کاگوشت کھایاجاسکتاہے ،انہیں ذبح کون کررہاہے۔قرآن کی روسے اہل کتاب کاذبیحہ توجائزہے لیکن ان کے علاوہ کفارومشرکین کے ذبح کردہ جانورحرام ہیں ۔فی زمانہ مختلف اسلامی ممالک میں غیراسلامی ریاستوں  سے ذبح شدہ گوشت درآمدکیاجاتاہے ۔بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کے بارےمیں شرعی ہدایات سے آگاہ ہوں کہ کیاواقعی وہ شرعی ضوابط کےمطابق حلال ہے یانہیں ۔زیرنظرکتاب میں اسی مسئلے پرمدلل اورتحقیقی گفتگوکی گئی ہے۔جس کے مطالعے سے یقیناً یہ مسئلہ مکمل طورپرواضح ہوکرسامنے آجاتاہے ۔

     

     

  • 35 #3372

    مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    مشاہدات : 2931

    ربٰو اور بنک کا سود

    (منگل 07 جولائی 2015ء) ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد
    #3372 Book صفحات: 120

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں  وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔&q...

  • 36 #2484

    مصنف : محمد بن صالح المنجد

    مشاہدات : 1930

    رک جائیے

    (پیر 22 ستمبر 2014ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #2484 Book صفحات: 48

    اللہ تعالی نے انسان کی تخلیق کا مقصدِحیات محض اپنی عبادت اور اطاعت بنایا ہے اور اسے کئی امور کے کرنے اور کئی ایک سے بچنے کاامر فرمایا ہے ۔کرنے والے امور کو ’’اوامر‘‘ اور نہ کرنے والے امور کو ’’نواہی‘‘ کہا جاتا ہے ۔جس طر ح اللہ کے حکم کے مطابق کوئی کام کرنا عبادت ہے اسی طرح اس کے حکم کے مطابق منہیات سے بچنا بھی عبادت ہے ۔جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے :’’ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیا سے بچ جاؤ تمام لوگوں سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے ‘‘ زیر نظر کتابچہ میں شیخ محمد صالح المنجد ﷾نے ایسی منہیات کاذکر فرمایا ہے جو ہماری دنیوی زندگی میں اکثر پیش آتی ہیں اورہم بلا جھجک ان کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں ۔ہر مسلمان مرد وزن کو اس کا خوب مطالعہ کرنا چاہیے۔تاکہ وہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء سے بچ سکے ۔اللہ تعالیٰ ہر مسلم مومن کو منہیات سے بچائے اور اوامر کی پابندی کرنے کی توفیق فرمائے (آمین) (م۔ ا)

  • 37 #3558

    مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

    مشاہدات : 4557

    سود (مودودی)

    (پیر 21 ستمبر 2015ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #3558 Book صفحات: 351

    سرمایہ دارانہ نظام زندگی کے مختلف شعبوں میں جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا سب سے بڑا سبب سود ہے ۔ ہماری معاشی زندگی میں سود کچھ اس طرح رچا بسا دیاگیا ہے کہ لوگ اس کو معاشی نظام کا ایک لازمی عنصر سجھنے لگے ہیں اور اس کےبغیر کسی معاشی سرگرمی کو ناممکن سمجھتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اب وہ امت مسلمہ جس کو اللہ تعالیٰ نےاپنی کتاب میں سود مٹانے کے لیے   مامور کیا تھا جس کو سودخواروں اعلان جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اب اپنی ہر معاشی اسکیم میں سود کوبنیاد بناکر سودخوری کےبڑے بڑے ادارے قائم کررکھے ہیں اور سودی نظام کو استحکام بخشا جار ہا ہے ۔جس کے نتیجے میں امت مسلمہ کو معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑھ رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سود‘‘ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نےسود کے ہر پہلو پر تفصیل کے ساتھ ایسی مدلل بحث کی ہے کہ کسی معقول آدمی کواس کی حرمت وشناعت میں شبہ باقی نہ رہے ۔ اس کتاب میں سودپر نہ صرف اسلامی نقطۂ نظر سے بحث کی گئ ہے بلکہ معاشی نقطۂ نظر سےبھی یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ سود ہر پہلو سے انسانی معاشرہ...

  • 38 #3460

    مصنف : محمد عبید اللہ الاسعدی

    مشاہدات : 2224

    سود اور اسلامی نقطہ نظر

    (اتوار 02 اگست 2015ء) ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
    #3460 Book صفحات: 305

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالا...

  • 39 #3557

    مصنف : ڈاکٹر تنزیل الرحمن

    مشاہدات : 2183

    سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

    (اتوار 20 ستمبر 2015ء) ناشر : صدیقی ٹرسٹ کراچی
    #3557 Book صفحات: 208

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دینِ اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت ِاسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی...

  • 40 #7031

    مصنف : عبد العلیم بن عبد الحفیظ

    مشاہدات : 720

    سگریٹ نوشی اور تمباکو خوری کا شرعی حکم

    (پیر 19 اگست 2019ء) ناشر : شعبہ نشر و اشاعت، امام ابن باز تعلیمی و رفاہی سوسائٹی، جھار کھنڈ
    #7031 Book صفحات: 111

    سگریٹ نوشی ان ممنوعات میں سے ہے جو خبیث، نقصان دہ اورگندی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالی کا ارشادہے:وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ.  (نبی مکرم ﷺ) ان (اہلِ ایمان) کے لیے پاکیزہ صاف ستھری چیزیں حلال بتاتے ہيں اورخبائث کو حرام کرتے ہيں۔(الأعراف: 157) سگریٹ نوشی سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات واضح ہیں، یہی وجہ ہے کہ سارى انسانیت اس كے خلاف جنگ میں مصروف ہے یہاں تک کہ سگریٹ بنانے والے بھی ہر ڈبی پر 'مضر صحت ہے' لکھ کر اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔ شرعِ متین کا تو اولین مقصد ہی انسانی جان و مال کی حفاظت ہے اور اسی لیے ہر نقصان دہ و ضرر رساں شے حکمِ شریعت کی رو سے ممنوع ہے۔ اورہ اس میں ایک تو فضول خرچی پائی جاتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہ صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔اور شریعت نے فضول خرچی اور مضر صحت اشیاء ان دونوں سے منع فرمایا ہے۔یہ ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے خوش نصیب لوگ ہی محفوظ ہو نگے۔ روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے اس زہر کی خریداری پر یہ جانتے...

  • 41 #3110

    مصنف : انصار زبیر محمدی

    مشاہدات : 1780

    سگریٹ نوشی سے توبہ

    (پیر 13 اپریل 2015ء) ناشر : مکتب توعیۃ الجالیات الشماسیۃ، دہلی
    #3110 Book صفحات: 40

    شرعی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کے حرام ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔کیونکہ اس میں ایک تو فضول خرچی پائی جاتی ہے اور دوسرے نمبر پر یہ صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔اور شریعت نے فضول خرچی اور مضر صحت اشیاء ان دونوں سے منع فرمایا ہے۔یہ ترقی یافتہ زمانے کا ایسا زہر ہے جس سے چند خوش نصیب ہی محفوظ ہو نگے۔ روزانہ لاکھوں لوگ لاکھوں کروڑوں روپے اس زہر کی خریداری پر یہ جانتے ہوئے بھی خرچ کرتے ہیں کہ "تمباکو نوشی صحت کے لیے مْضر ہے۔"تمباکو میں شامل ایک کیمیائی مادہ نکوٹین ہے جو زہریلے اور نشیلے اثرات کا حامل ہوتاہے۔یہ انسانی بدن میں سرایت کر کے وقتی طور پر اسے تسکین و لذت فراہم کرتا ہے،مگر خون میں شامل ہو کر اسے گاڑھا کر کے دورانِ خون کے کئی ایک عوارض کا باعث بھی بنتا ہے۔گردوں کے لیے گاڑھے خون کو صاف کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور نتیجے کے طور پر سگریٹ نوش ہائی بلڈ پریشر،بلڈ شوگر،یورک ایسڈ ،کلیسٹرول،ہارٹ اٹیک،انجائنا،گردوں کے فیل ہونا جیسے جان لیوا اورخطرناک امراض کے چنگل میں پھنستا چلا جاتا ہے۔اسی طرح سگریٹ کا دھواں حلق کے کینسر،پھیپھڑ...

  • 42 #2366

    مصنف : علامہ احمد بن حجر آل بوطامی البغلی

    مشاہدات : 3959

    شراب اور نشہ آور اشیا کی حرمت و مضرت

    (جمعرات 21 اگست 2014ء) ناشر : اسلامک ریسرچ اکیڈمی نئی دہلی
    #2366 Book صفحات: 156

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی  ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی  کم وبیش  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنی  انسانی  تہذیب  کی تاریخ  یہ اندازہ لگانا  تو بہت مشکل ہے  کہ  انسان نے ام الخبائث کا  استعمال کب شروع کیا اوراس کی  نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام   میں اللہ تعالی نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے  استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا  شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات  اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔...

  • 43 #4333

    مصنف : ابو عدنان محمد منیر قمر

    مشاہدات : 2708

    شراب سے علاج کی شرعی حیثیت

    (اتوار 20 مارچ 2016ء) ناشر : مکتبہ کتاب و سنت، ڈسکہ سیالکوٹ
    #4333 Book صفحات: 66

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب، خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کےلیے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے حرمت شراب پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔شراب کے نجس وطاہر ہونے میں اہل علم...

  • 44 #3370

    مصنف : عبد القادر حصاروی

    مشاہدات : 2396

    شرعی داڑھی

    (پیر 06 جولائی 2015ء) ناشر : جامعہ کمالیہ راجووال
    #3370 Book صفحات: 99

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی  جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں  کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ بعض عاقبت نااندیش ملا نہ صرف داڑھی کاٹنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں بلکہ اسے نبی کریم ﷺکی سنت بھی قرار دیتے ہیں،جو نبی کریم ﷺ پر بہت بڑا بہتان اور الزام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"شرعی ڈاڑھی "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم مولانا عبد القادر عارف حصاروی صاحب کی کاوش علمیہ ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وسنت کے دلائل سے  یہ ثابت کیا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض اور واجب ہے اور داڑھی کاٹنا یا مونڈنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مفید اور...

  • 45 #470

    مصنف : محمد بن صالح المنجد

    مشاہدات : 11593

    شرعی منہیات پر واضح تنبیہ

    (پیر 14 مارچ 2011ء) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد
    #470 Book صفحات: 40

    شریعت اسلامیہ میں جہاں متعدد احکامات کی تعمیل ضروری قرار دی گئی ہے وہیں بہت سے کاموں سے رکنے کا بھی سختی سے حکم دیا گیا ہے۔ تاکہ نہ صرف دنیوی زندگی کو گل و گلزار بنایا جائے  بلکہ اخروی فلاح و کامرانی بھی انسان کے مقدر ٹھہرے۔ زیر نظر مختصر سے کتابچہ میں انہی تشریعی ممانعات کو قدرے اختصار سے قلم بند کیا گیا ہے۔ شیخ صالح المنجد نے تقریباً ان تمام منہایت الہٰیہ کو جمع کر دیا ہے جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے اس کی ترتیب فقہی ابواب پر رکھی ہے۔ مکمل نص ذکر کرنے سے احتراز کرتے ہوئے صرف جزء شاہد پر اکتفاء کیا ہے۔ کتاب میں بیان کردہ منہیات کے حوالہ جات مذکور نہیں ہیں اگر یہ اہتمام ہو جاتا تو کتاب کی افادیت مزید بڑھ جاتی۔

     

  • 46 #2365

    مصنف : قاری محمد سعید صدیقی

    مشاہدات : 2047

    شیطان کی اذان

    (جمعہ 22 اگست 2014ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور
    #2365 Book صفحات: 162

    گانا بجانے کا  کام  سب سے پہلے شیطان نے ایجاد کیا یعنی  گانے بجانے کا  موجد اور بانی  شیطان ہے  اور یہ شیطان کی منادی  اور اذان  ہے  جس کے ذریعہ  وہ لوگوں کوبلاتا ہے  اور گمراہی  کے جال میں پھنساتا ہے  ۔قرآن  وحدیث    میں گانے بجانے کی  سخت ممانعت  اور وعید  بیان  ہوئی ہے  بلکہ  قیامت کی نشانیوں میں  سے  گانا بجانا بھی ایک  نشانی  ہے ۔گانا گانےاور بجانے کا پیشہ  اس  قدر عام  ہو گیا  ہے کہ اسے  مہذب شہریوں اور معزز خاندانوں نے  بھی اپنا لیا ہے ۔کمینے لوگوں کے نام بدل دئیے گئے ہیں  ۔آج ناچنے ،گانے والا کنجر نہیں گلوکار اور اداکار کہلاتا ہے  اور ڈھول بجانے والا نٹ اور میراثی نہیں بلکہ  موسیقار اور فنکار کے  لقب سے  نوازا جاتا ہے۔اور ان  لوگوں کوباقاعد ایوارڈ دئیے جاتے  ہیں  اور  برائی کی اس طرح حوصلہ  افزائی کی  کہ ان  کی عزت اور شہرت&nbs...

  • 47 #2545

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2237

    صنف مخالف کی مشابہت ایک مہلک بیماری

    (منگل 21 اکتوبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2545 Book صفحات: 75

    دور  ِحاضر میں  مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق  مٹ چکا ہے  مساوات کے جنون  میں عورتیں  مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں  مبتلا  ہوچکے ہیں۔لوگ  آپریشن کروا کر اور زنانہ  یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی  جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ  قوانین  فطرت میں بے  جار ردوبدل کرنےکی  گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ  حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا  مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار  کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح  ہے جسے  تشبہ بھی  کہا جاتاہے  ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ  ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار   اپنی  صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ  کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار  اپنا لے  تو اسے  تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے  اسلام نے مشابہ...

  • 48 #3047

    مصنف : خالد عبد الرحمن العک

    مشاہدات : 2374

    عورتوں پر حرام مگر کیا؟

    (پیر 30 مارچ 2015ء) ناشر : دار الابلاغ، لاہور
    #3047 Book صفحات: 543

    آج کل میڈیا کادور ہے کفار موجودہ الیکٹرانک میڈیا کو مسلمانوں کےبچوں اور عورتوں کےخلاف خاص طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماڈرن ازم ، روشن خیالی ، فیشن ، تہذیب ، ثقافت ، کلچر او ر میک اپ جیسے بکھیڑوں میں پھنس کر وہ حلال وحرام کی تمیز کھو بیٹھیں۔ وہ جدیدیت کے مہلک زہر کواس طرح اپنی رگوں میں اتار لیں کہ ان کو روز مرہ زندگی میں یہ پتہ ہی نہ چل پائے کہ وہ جو کام کررہی ہیں یہ اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول اللہﷺ کو ناپسند ہے اوران کاموں سے منع کردیا گیاہے ۔ یہ کام حرام کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کامرتکب اللہ اوررسول اللہ ﷺ کا باغی ونافرمان قرار پاکر دونوں جہانوں میں ناکام ونامراد ہوتاہے۔ آج ہمارری خواتین آخرت کی جوابدہی کو یکسر بھول گئی ہیں جبکہ ان کوزندگی کالمحہ لمحہ اللہ کریم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنا چاہیے اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں ۔اگر انہوں نے حلال وحرام کی تمیز کو ترک کردیا مادر پدر آزاد زندگی گزاری تویہ اولاد قبر میں ان کےلیے دردناک عذاب کا باعث ثابت ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عورتوں پر حرام مگر کیا ‘‘ خالد عبدالرحمن الع...

  • 49 #2433

    مصنف : ابو الوفا محمد طارق عادل خان

    مشاہدات : 2559

    عکسی تصویر یا فوٹو کی شرعی حیثیت

    (پیر 08 ستمبر 2014ء) ناشر : نا معلوم
    #2433 Book صفحات: 15

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دیگر امو...

  • 50 #3374

    مصنف : رانا محمد شفیق خاں پسروری

    مشاہدات : 2379

    فوٹو گرافی کا جواز

    (بدھ 08 جولائی 2015ء) ناشر : الفلاح پبلیکیشنز لاہور
    #3374 Book صفحات: 98

    عصر حاضر کے جدید مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ فوٹو گرافی یا عکسی تصاویر کا بھی ہے، جسے عربی زبان میں صورۃ شمسیہ  کہا جاتا ہے، جو دور حاضر میں انسانی زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔آج کوئی بھی شخص جو فوٹو گرافی کو جائز سمجھتا ہو یا ناجائز سمجھتا ہو ،بہر حال اپنی معاشی ،معاشرتی اور سماجی تقاضوں کے باعث فوٹو بنوانے پر مجبور ہے۔اس مسئلہ میں اگر افراد کے اذہان ورجحانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت دو متضاد انتہاؤں پر پائی جاتی ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہر قسم کی تصاویر ،عکسی تصاویر اور مجسموں کو سجاوٹ اور (مذہبی اور غیر مذہبی)جذباتی وابستگی کے ساتھ رکھنے اور آویزاں کرنے میں کوئی مضائقہ اور کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔ان میں عام طور پر وہ لوگ شامل ہیں جن کا دین سے کوئی بھی تعلق برائے نام ہی ہے۔جبکہ دوسری انتہاء پر وہ لوگ پائے جاتے ہیں ،جو ہر قسم کی تصاویرخواہ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہوں یا مشین اور کیمرے کے ذریعے سے،انہیں مطلقا حرام سمجھتے ہیں ،مگر اس کے باوجود قومی شناختی کارڈ،پاسپورٹ ،کالج اور یونیورسٹی میں داخلے کا فارم اور بعض دی...

< 1 2 3 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1060
  • اس ہفتے کے قارئین 7091
  • اس ماہ کے قارئین 51901
  • کل قارئین50212418

موضوعاتی فہرست