دکھائیں کتب
  • 11 اسلام میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت (منگل 10 فروری 2015ء)

    مشاہدات:2190

    سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام میں ربا کے حکم امتناعی کی اہمیت " محترم شیخ عمران نذر حسین کی  کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔...

  • 12 اسلامی صورت (بدھ 14 جون 2017ء)

    مشاہدات:1187

    مردوں کی ٹھوڑی اور گالوں پر بالغ ہونے پر اگنے والے بال داڑھی اور بالعموم بلوغت کا نشان کہلاتے ہیں۔قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا میں اس کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اور یہودیوں اور رومن کتھولک عیسائیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی ڈاڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی ماضی قریب میں مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے،اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر داڑھی بڑھانے اور اس کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اعتبار سے دین اسلام میں داڑھی کی عظمت و فضیلت بہت زیادہ ہے۔ مسلمانوں پر مغربی تسلط کے بعد سے مسلمانوں میں یہ سنت بہت تیزی کے ساتھ متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی صورت ‘‘ خطبات کی معروف کتاب ’’ اسلامی خطب...

  • 13 اللہ کے ہاں حرام بندوں کے ہاں آسان (بدھ 28 جون 2017ء)

    مشاہدات:1518

    حرام چیزوں کابیان علمِ دین کا ایک اہم ترین جز ہے اورجب تک آدمی حرام چیزوں سے نہ بچے نہ اس کا اسلام معتبر ہے او رنہ ہی عبادت قبول ہوتی ہے ۔ بنی اسرائیل کی تباہی کا بڑا سبب اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنا ،احکام شریعت کامذاق اڑانا مختلف تاویلوں سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینا تھاجس کی وجہ سے اللہ تعالی نےان پر پے درپے عذاب نازل کیے۔حرام چیزوں کو بیان کرنے کے لیے علماء کرام نے متعدد کتب تالیف کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’اللہ کے حرام بندوں کے آسان ‘‘عالم اسلام کے مشہور عالمِ دین فضیلۃ الشیخ محمد صالح المنجد ﷾کی عربی تصنیف ’’محرمات استهان بها الناس یجب الحذر منها ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں شریعت اسلامیہ کے دلائل کی روشنی میں حرام چیزوں کوبیان کر کے ان کی قباحتوں کو بھی واضح کیا ہے ۔اور بيشتر ایسی محرمات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ جن میں لوگ بہت تساہل برتتے ہیں  محترم جناب قاری سیف اللہ ساجد قصوری نے اردو دان طبقہ کے لیے اس کتاب کواردو قالب ڈھالا ہے ۔ یہ کتاب روزہ مرہ کے معمول بن جانے والے 70 محرمات کامجموعہ ہے جن سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • 14 الٰہی عتاب برسیاہ خضاب (بدھ 07 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2990

    احادیث مبارکہ میں بالوں کی سفیدی کو بدلنے اور اسے خضاب لگانے کی ترغیب دی گئی ہے ،ان میں مہندی ،کتھم اور صفرہ(زردی) کا تذکرہ ہے۔لیکن سیاہ خضاب سے منع کیا گیا ہے ۔علامہ ابن حجر الہیتمی نے اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔کیونکہ اس سے تخلیق الہی میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس میں دھوکہ وفریب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  شیخ العرب والعجم علامہ ابو محمد بدیع الدین راشدی  کی تصنیف ہے ۔مولف  کی شخصیت اتنی معروف اور عالمگیر ہے کہ محتاج تعارف نہیں ہے ،انہوں نے اٹھارہ صفحات پر مشتمل اس چھوٹے سے کتابچے میں کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں سیاہ خضاب لگانے کی حرمت اور عدم جواز  کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالی مرحوم کی اس کاوش کو اپنی بارگا ہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

     

  • 15 اور سگریٹ چھوٹ گئی (جمعہ 13 اگست 2010ء)

    مشاہدات:18108

    قرآن شریف میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کاایک وصف یہ بیان کیاگیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاکیزہ وطیب چیزوں کوحلال ٹھہراتے اورخبیث وناپاک اشیاء کوحرام قراردیتے ہیں ۔اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے معلوم ہوتاہے کہ اسلام میں غلط اشیاء جوانسانی صحت کےلیے نقصان دہ ہوں‘حرام وناجائز ہیں ۔سگریٹ کےبارے میں یہ طے شدہ بات ہے کہ یہ انتہائی مہلک اورمضرہے۔سگریت کابنیادی عنصرتمباکوہے جوبنگسن کی نسل سے ایک نباتات ہے،جسےکھانےسے جانوربھی اجتناب کرتے ہیں ۔لیکن بعض لوگ سگریٹ کے ذریعے تمباکونوشی کرتے ہیں اوریوں زہرپھانکتےہیں ۔اس سے بے شمارجسمانی ونفسیاتی امراض پیداہوتے ہیں۔زیرنظررسالہ میں سگریٹ کے شرعی حکم کواجاگرکیاگیاہے اوراس کے مہلک نقصانات پربھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔بہت ہی مفیدرسالہ ہے ۔

     

  • 16 بنک کا سود اقتصادی اور شرعی نقطہ نظر سے (بدھ 01 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2219

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔سود کو عربی زبان میں ”ربا“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجار...

  • 17 بینک کا سود حلال ہے ؟ (جمعرات 29 جولائی 2010ء)

    مشاہدات:22952

    اسلام جس طرح عبادات کے بات میں ہدایات دیناہے اسی طرح معاملات میں بھی مکمل رہنمائی فراہم  کرتا ہے معاملات میں معیشت وتجارت کامسئلہ بہت اہم ہے میدان معیشت میں فی زمانہ ایسی بہت  سی جدید صورتیں پیدا ہوچکی ہیں جو اس سے پہلے نہ تھی انہی میں ایک مسئلہ بینکنگ کاہے علماء نے اس طرف بھی توجہ کی ہے اور اسلامک بینکنگ کے کامیات تجربے بھی کیے گئے ہیں اگرچہ بعض اہل علم کو اس پر تحفظات ہیں بینکاری  میں ایک اہم مسئلہ سود کا ہے کیونکہ غیراسلامی بینکاری کی اساس ہی سود پرقائم ہے جبکہ اسلام میں یہ انتہائی شدید گناہ ہے حتی کہ اسے خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف قراردیاگیاہے لیکن اس درجہ شناعت کے باوجود بعض لوگ مروجہ بینکوں کے سود کو جائز قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں زیر نظر کتاب میں اس کا مفصل رد کیا گیاہے نیز جدید بینکاری کے حوالے سے بھی پیش قیمت او رمفید معلومات اس میں شامل ہیں جس سے بینکنگ کے متعلق شرعی معلومات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے-


     

  • 18 تصویر ایک فتنہ (منگل 07 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2594

    اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،کیونکہ یہ شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ کرنا شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئیے جاتے،اور سیرت کی کتب میں ضرور  اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تصویر ایک فتنہ‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےتصویرکےنقصانات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بالخصوص ان امورکی نشاندہی کی ہے کہ جن کے کرنے سے انسا ن شرک کا مرتکب ہوجاتا ہے لیکن اسےاس   کا احسا س نہیں ہوتا ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی   تدریسی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اور...

  • اسلام شخصیت پرستی اور بت پرستی سے منع کرتا ہے،جو شرک کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔شرک کی ابتداء اسی امر سے ہوئی کہ لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر پہلے تو اپنے نیک اور بزرگ لوگوں کی تصویریں بنائیں،پھر انہیں مجسمے کی شکل دی اور پھر ان کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔مغرب کی بے دین   حیوانی تہذیب میں بت سازی ،تصویر سازی اور فوٹو گرافی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،اور بد قسمتی سے مسلمان سیاست دانوں کی سیاست بھی مصورین اور فوٹو گرافروں کے گھیرے اور نرغے میں آ چکی ہے۔نبی کریم ﷺ کی اسلامی تحریک اورسیاست نہ صرف تصویر سے خالی تھی بلکہ تصویروں اور مجسموں کو مٹانا آپ ﷺ کے لائحہ عمل میں شامل تھا۔اگر دعوت وجہاد اور سیاست وحکومت میں تصویروں کی کوئی اہمیت ہوتی تو حرمین میں نبی کریم ﷺ کی تصویروں کے بینر لٹکا دئے جاتے،اور سیرت کی کتب میں   اس کا تذکرہ موجود ہوتا۔فوٹو گرافی تو عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ ﷢میں موجود نہیں تھی،البتہ تصویر سازی کے ماہرین ہر جگہ دستیاب تھے۔اگر تصویر بنانا جائز ہوتا تو صحابہ کرام ﷢ضرور نبی کریم ﷺکی تصاویر بنا کر اپنے پاس محفوظ کر لیتے۔زیر تبصرہ کتاب" تصویر سازی اور فوٹو گرافی کی شرعی حیثیت اور شبہات کا ازالہ "تصویر سازی کی اسی قباحت اور حرمت کےبیان پر مشتمل ہے،جو ایک سوال کے جواب میں مولانا گوھر رحمن کے تفصیلی جواب پر مشتمل ہے۔مولانا موصوف نے اس میں کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 20 تصویر کی شرعی حیثیت (پیر 04 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:2132

    مسئلہ تصویر اتنا عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی کوئی گھر بلکہ کوئی جیب اس سے خالی ہو۔ فقہاء کرام کے ہاں ایک اصلاح زیادہ تر مستعمل ہے جسے عموم بلوٰی کہتے ہیں اس کا معنی ہے عام لوگوں کا اس مسئلہ میں گرفتار ہونا۔ علماء و فقہا کرام دیکھتے ہیں کہ اگر اس صورت میں جواز کی گنجائش ہو تو وہ جواز پر فتوی دیتے ہیں۔ بہت سارے مسائل میں فقہاء کرام نے عموم بلوٰی کی وجہ سے جواز پر فتوی دیا ہے۔ تصویر کے بارے میں احادیث میں مذمت بھی آتی ہے اور جواز کی صورت بھی موجود ہے۔ کرنسی

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1154
  • اس ہفتے کے قارئین: 5644
  • اس ماہ کے قارئین: 39665
  • کل قارئین : 47861189

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں