کل کتب 82

دکھائیں
کتب
  • 41 #6087

    مصنف : ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی

    مشاہدات : 2672

    زندگی سے لطف اٹھائیے

    (منگل 12 دسمبر 2017ء) ناشر : دار السلام، لاہور

    اللہ  رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو کامل واکمل شریعت دے کر مبعوث فرمایا اور ایسی شریعت جو قیامت تک کے لیے ہے۔ اور زندگی کے ہر مرحلے میں نبیﷺ نے ہماری رہنمائی فرمائی۔ نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے  ہر زمانے میں  کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو اس شریعت کا پرچار کرتے رہے اور لوگوں کو زندگی کا اصل مقصد بتا کر انہیں زندگی سے اصل فائدہ اُٹھانے کی ترغیب دیتے رہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی  خاص اسی موضوع پر تالیف کی گئی ہے اس میں امت مسلمہ کے تمام مسائل کا حل اللہ کے رسولﷺ کی سیرت پاک کی روشنی میں دیا گیا ہے۔اس میں سیرت اور تاریخ کے چھوٹے چھوٹے واقعات اور مؤلف کی اپنی زندگی کے تجربات اس کتاب کا لوازمہ ہیں۔ اس میں عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے اور دلوں کا قلق واضطراب دور کرنے کے کتنے ہی طریقے بتائیں گئے ہیں اور مؤلف کی زندگی کا نچوڑ ہیں اور یہ کتاب اصلا عربی زبان میں ہے جس کا اردو ترجمہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب ’’ زندگی سے لطف اُٹھائیے ‘‘ ڈاکٹر محمد عبد الرحمان العریفی﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں۔ آپ نے سعودی جامعات سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی عربی تصنیفات بیس سے زائد ہوں گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 42 #6415

    مصنف : عبد السلام سلامی

    مشاہدات : 1418

    زندگی کے راستے جینے کے ہنر

    (اتوار 17 جون 2018ء) ناشر : قلم دوست کراچی

    کسی انسان کا طرزِ زندگی یاایک کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کوئی انسان جس پیشے کا انتخاب کرتا ہے وہ اس کا کیرئیر کہلاتا ہے۔اگر یہ انسان کا طرزِ زندگی ہے تو پھر اس کی سوچ،اس کا علم و ہنر، اس کی عقل و دانش، اس کی صلا حیتیں اور مہارتیں اور اس کی خوبیاں اور خامیاں۔یہ سب اجزاء مل کر ہی اس کے طرزِ زندگی کی تشکیل کر سکتے ہیں۔لیکن ان تمام اجزاء کی نشو و نما تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا ایک مناسب تعلیم و تربیت کے حصول کے بغیر ایک بہتر اور معیاری طرزِ زندگی کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔ایک درست کیرئیر کا انتخاب وہ فیصلہ کن مرحلہ ہے جو آپ کی زندگی کا معیار بدل سکتا ہے۔مگر اس فیصلے کے لیے بہت سوچ بچار اور گہرے تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔وسیع تر معلومات اور اپنی مہارتوں اور صلاحتوں کا صحیح ادراک اور تجزیہ ایک درست کیرئیر کے انتخاب میں مدد کر سکتا ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی حوالے سے ہے جس میں کیریر گائیڈینس اور کیریر پلاننگ  کی رہنمائی دی گئی ہے اور یہ کتاب پاکستان کے ہر حصے کے طلبہ‘ والدین اور اساتذہ کے لیے مفید ہے اور اس میں نوجوانوں کی دلچسپی کے حوالے سے بہت سے مضامین شامل کیے گئے ہیں  اور مختلف پیشوں کا تعارف کروایا گیا ہے۔ تعلیم کے ہر مرحلے پر درست تعلیمی پروگرام کا انتخاب‘ کامیاب پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور مستقبل کے لیے کار آمد اور مفید انسانی وسیلہ فراہم کرتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ زندگی کے راستے جینے کے ہنر ‘‘عبد السلام سلامی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 43 #7057

    مصنف : شمس الدین الذہبی

    مشاہدات : 863

    ستر بڑے گناہ

    (اتوار 15 ستمبر 2019ء) ناشر : المیزان ناشران و تاجران کتب، لاہور

    انسان خیروشرکا مجموعہ ہےاور اس کی فطرت میں نیکی اور بدی کی صلاحیتیں یکساں طور پر ودیعت کی گئی ہیں۔اورایساکیا جاناضروری  بھی تھااس لئے کہ اسے اس کائنات میں محض آزمائش اور امتحان کےلئے بھیجاگیاہے،اگروہ خالق کائنات  کے اس امتحان میں پورا اترا جائے تواس سا کوئی خوش نصیب نہیں،اور اگر اس کے پائے استقامت نے ٹھوکرکھائی اور وہ اس  امتحان میں کامیاب نہ ہوسکا تو اس سا کوئی  بدنصیب نہیں۔انسان کی یہی دوہری صلاحیت ہے جو ہمیشہ باہم معرکہ آراء رہتی  ہے،خدا ترسی نے غلبہ پایاتوعمل صالح کا صدور ہوتا ہے ،شر ور نفس نے فتح پائی تو انسان شیطان کے’’دام ہمرانگ زمین‘‘ میں گرتا ہے اور خدا کی نافرمانی کر گزرتا ہے،پھریہ نافرمانی بھی مختلف  درجات کی ہوتیں ہیں،مثلا کوئی گناہ   کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے  اور کوئی گناہ صغیرہ کا ،اور گناہ کبیرہ ایسا گناہ ہے جو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے اور رب العالمین  کی نارضگی کا سبب  بنتے ہیں ۔اسلئے کبائر کا معاملہ بٹرا سخت اور اہم ہے،یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے اس پر مستقل بحث کی ہے کہ  کبیرہ گناہ کا اطلاق کن کن گناہوں پر ہوتاہے۔مولانا عبدالقوی صاحب نے علامہ ذھبیؒ کی کتاب’’الکبائر‘‘کا اردو ترجمہ کیا  ہے  جسمیں انہوں ستر بٹرے گناہ کبیرہ کا ذکر کیا ہے۔اللہ  ان کی اس محنت کواپنےہاں شرف قبولیت بخشے۔آمین(شعیب خان)

  • 44 #5406

    مصنف : اشہد رفیق ندوی

    مشاہدات : 1944

    سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات

    (پیر 13 مارچ 2017ء) ناشر : ادارہ علوم القرآن علی گڑھ یوپی

    قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سماج میں پائی جانے والی برائیوں کو نظرانداز نہیں کیا بلکہ اسے ایمان کا تقاضا قرار دیا کہ مومن برائی کو برائی سمجھے اور حتی الوسع اس کی روک تھام کی کوشش کرے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس کے فرائض میں شامل اور داخل ہے ۔قرآن کریم نے اخلاق اور حقوق کےادا کرنے پر پورا زور دیا ہے۔ وہ والدین کے حقوق ہوں یا رشتہ داورں اور پڑسیوں کے یا عام انسانوں کے۔ جھوٹ، جھوٹی گواہی، حسد، غیبت، بہتان، تمسخر، کبر وغرور، فتنہ وفساد، چوری، ناحق قتل، ظلم وتشدد، ڈاکہ زنی، رہزنی، دھوکہ دہی اور باہمی کشیدگی سے روکا ہے کیونکہ یہ چیزیں سماج کو کھوکھلا کرنے والی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سماجی برائیوں کا انسداد اور قرآنی تعلیمات‘‘ ادارہ علوم القرآن علی گڑھ کے زیراہتما م مذکورہ موضوع پر منعقد کیے گئے سیمینار میں پیش کیے گئے تقریباً پچیش تحقیقی وعلمی مقالات کا مجموعہ ہے۔ ان مقالات کو جناب اشہد رفیق ندوی صاحب نے حسن ترتیب سے مرتب کرکے عامۃ الناس کے استفادہ کے لیے پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

  • 45 #279

    مصنف : سلیم رؤف

    مشاہدات : 17701

    شیطان سے انٹرویو

    (جمعہ 12 مارچ 2010ء) ناشر : صفہ دعوت اصلاح، گوجرانوالہ

    یہ چھوٹا سا کتابچہ محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتابچہ میں معاشرے میں رائج عمومی برائیوں، شیطان کے ہتھکنڈوں  اور اس سے بچاؤ کی تدابیر پر عام فہم انداز میں بحث ہے۔ دردمندانہ انداز میں لکھی گئی ایک خوبصورت اصلاحی تحریر ہے۔

  • 46 #2773

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3520

    صلہ رحمی اور اس کے عملی پہلو

    (ہفتہ 03 جنوری 2015ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    صلہ رحمی سے مراد ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدست اور کمزور ہے  تو اس کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔صلہ رحمی میں اپنے والدین، بہن بھائی، بیوی بچے، خالہ پھوپھی، چچا اور ان کی اولادیں وغیرہ یہ سارے رشتہ دار صلہ رحمی میں آتے ہیں۔ اپنے والدین کے دوست احباب جن کے ساتھ ان کے تعلقات ہوں، ان سب کے ساتھ صلہ رحمی کرنی چاہیے۔ جب ان رشتہ داروں کا خیال نہیں رکھا جائے گا، ان کے حقوق پورے نہیں کیے جائیں گے، ان کی مدد نہیں کی جائے گی تو یہ قطع رحمی کہلاتی ہے۔ یعنی اپنے رشتہ داروں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنا۔ صلہ رحمی ہرطرح کی جا سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ انسان مالی مدد ہی کرے، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ جس چیز کی وہ استطاعت رکھتا ہو، اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ مثلاً ان کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کی حوصلہ افزائی کرے، ان کے ساتھ اچھی گفتگو کرے، ان کے گھر جا کر حال احوال دریافت کرے۔ ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرے، غمی خوشی میں شریک ہو۔ یہ ساری باتیں صلہ رحمی میں آتی ہیں۔  اور قیامت کے دن صلہ رحمی کے متعلق پوچھا جائے گا کہ ہم نے ان رشتوں کے تقدس کا کتنا خیال رکھا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
    الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُّوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الأَرْضِ أُولَـئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ(البقرة، 2 : 27)’’یہ نافرمان وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے عہد کو اس سے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس (تعلق) کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات جوڑنے کا حکم دیا ہے، اگر اس کے خلاف کریں گے تو یقیناً دنیا و آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہونگے۔ اسی طرح بے شمار آیات میں اللہ تعالیٰ نے صلہ رحمی کا حکم دیا ہے اور حضور نبی اکرم ﷺنے بھی احادیث مبارکہ میں آپس میں صلہ رحمی کا حکم دیا ہےاور صلہ رحمی کی اہمیت اور فضیلت کو بیان کیا ہے اور قطع رحمی پر وعید سنائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں صلہ رحمی کا خیال رکھیں، ایسا نہ ہو کہ جو رشتے دار غریب ہوں، غربت کی وجہ سے ان سے تعلقات ختم کر لیں، جیسا کہ آجکل رواج ہے کہ اگر بعض رشتہ دار غریب ہوں اور بعض امیر تو امیر لوگ ان غریب رشتہ داروں سے قطع تعلق کر لیتے ہیں، اور ان کو اپنا رشتہ دار سمجھنا اور کہنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اپنےدوست احباب کے سامنے اپنا رشتہ دار قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ جیسے اولاد جب جوان ہوتی ہے تو اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتی ہے، ان کے حقوق کا خیال نہیں رکھتی، یہ ساری چیزیں گناہ کبیرہ ہیں اور اس کی سزا قیامت کے دن ملے گی، نبی کریم ﷺنے فرمایا والدین اولاد کے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی، جس نے ان کی خدمت کی اس نے جنت کو پا لیا ورنہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔  زیر نظر کتابچہ’’صلہ رحمی اور اس کے عملی پہلو‘‘ محترمہ ام عبد منیب اور ان کی لخت جگر   مریم  خنسا  کی   مشترکہ کاوش ہے  جس  میں انہوں نے صلہ رحمی کے معنی ومفہوم اور عملی پہلوؤں  ، قطع رحمی کی سزا اور اس کی  صورتیں  ،  قطع رحمی  کا سد باب  اور اسلامی  قانون کو     عام  فہم  انداز میں   بیان کیا ہے  ۔ اللہ تعالی ٰ اسے عوام الناس کی اصلاح  کا ذریعہ بنائے  اور  ہمیں صلہ رحمی کا صحیح مفہوم سمجھنے کی توفیق اور صلہ رحمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین ) کیونکہ اسی میں اتفاق و اتحاد ہے اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی ہے۔(م۔ا)
     

  • 47 #6738

    مصنف : سلطان احمد اصلاحی

    مشاہدات : 1182

    عصر حاضر کا سماجی انتشار اور اسلام کی رہ نمائی

    (منگل 14 اگست 2018ء) ناشر : مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، نئی دہلی

    سماجی ناہمواری آج کی ترقی یافتہ دنیا کا  ایک بڑا اہم مسئلہ ہے ۔انسانی معاشرہ شدید انتشار اور بحران  کا شاہکار ہے ۔ اخلاقی قدریں پامال ہورہی ہیں اورباہمی تعلقات خود غرضی اور مفاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں ۔ حتیٰ کہ خاندان کا ادارہ بھی اس لپیٹ میں آگیا ہے ۔افراد خاندان جن کے درمیان عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ قریبی تعلقات ہونے  ہیں اور انہیں ایک  دوسرے کےہم درد وغم گسار ہوناچاہیے وہ نہ صرف یہ کہ دوسروں کے حقوق کی ادائیگی سے بے پروا ہیں بلکہ ان پر ظلم ڈھانے اور ان کے حقوق غصب کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔جس کی وجہ سے  انسانی معاشرہ حیوانی سماج کا  منظر پیش کررہا ہے ۔یہی صورت عالمی سطح پر بھی ہے۔اس صورت حال میں اسلام انسانیت کے حقیقی ہم درد کی حیثیت سے سامنے آتا ہے ۔ وہ سماج کے تمام افراد کے حقوق بیان کرتا ہے اور ان کی ادائیگی پر زور دیتا ہے  خاص طور سے  وہ افراد خاندان کے درمیان الفت ومحبت کے جذبات  پر  پروان چڑھاتا ہے  اور اسے مستحکم رکھنے کی تدبیر بتاتا ہے ۔ اسلام کی بتائی ہوئی تدابیرپر عمل کر کے پہلے بھی ایک پاکیزہ اور مثالی معاشرہ وجود میں آچکا ہے اور موجودہ دور میں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب کودور کیا جاسکتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’عصرِ حاضر کا سماجی انتشار اور اسلام کی رہنمائی‘‘  مولانا سلطان احمد اصلاحی کی  تصنیف ہے  انہوں نے اس کتاب میں موجود سماجی اور خاندانی انتشار  واضطراب پر شرح وبسط کے ساتھ  اظہار خیال کیا ہے۔ انسانی  سماج کےمختلف پہلوؤں کی منظر کشی اعداد وشمار اور واقعات کی روشنی میں کی گئی ہے ۔ان میں  بے اعتدالی، فساد اوراننشار کو نمایاں کیا گیا ہےاور اس کی اصلاح اوردرستگی کے لیے اسلامی تعلیمات پیش کی  ہیں۔ اور عام انسانی سماج کے ساتھ خاندان کو بھی خاص طور پر موضوع ِ بحث بنایاگیا ہے او رموجودہ دور میں اس کی ابتری اور انتشار واضح کرنے کے ساتھ ساتھ  اسلام کے مطلوبہ نظامِ خاندان کے خدّول خال نمایاں کیے گئے ہیں۔(م۔ا) 

     

  • 48 #8061

    مصنف : ناصر بن عبد الکریم العقل

    مشاہدات : 603

    غیر مسلموں کی مشابہت اور اسلامی ہدایات

    (اتوار 29 دسمبر 2019ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ انڈیا

              اپنی حقیقت ،اپنی صورت، ہیئت اور وجود کو چھوڑ کر دوسری قوم کی حقیقت ، اس کی صورت اختیار کرنے اور اس کے وجود میں مدغم ہو جانے کا نام تشبہ ہے۔ شریعتِ مطہرہ مسلم وغیر مسلم کے درمیان ایک خاص قسم کا امتیاز چاہتی ہے کہ مسلم اپنی وضع قطع،رہن سہن اور چال ڈھال میں غیر مسلم پر غالب اوراس سے ممتاز ہو،اس امتیاز کے لیے ظاہری علامت داڑھی اور لباس وغیرہ مقرر کی گئی کہ لباس ظاہری اور خارجی علامت ہے۔اور خود انسانی جسم میں داڑھی اور ختنہ کو فارق قراردیا گیا ہے۔   نبی اکرم ﷺ نے موقع بہ موقع اپنے اصحاب ﷢  کو غیرمسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے ۔    تمام ادیان میں صرف دینِ اسلام کو ہی جامع، کامل و اکمل ہونے کا شرف حاصل ہے، دنیا کے کسی خطے میں رہنے والا، کوئی بھی انسان ہو ، کسی بھی زبان کا ہو، کسی بھی نسل کا ہو، اگر وہ اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے کے بارے میں راہنمائی لینا چاہتا ہو ،تواس کے لیے اسلام میں مکمل  راہنمائی کا سامان موجود ہے،اگر کوئی انسان اسلام میں داخل ہو کر اسلام کی راہنمائی کے مطابق اپنی زندگی کو ترتیب دیتاہے تو ایسے شخص کو دنیا و آخرت کی کامیا بی کا مژدہ سنایا گیا ہے، اور اس کے برعکس اگر کوئی مسلمان اپنی زندگی کے معمولات کے سرانجام دینے میں اسلامی احکامات کی طرف دیکھنے کے بجائے اسلام دشمن لوگوں کی طرف دیکھتا ہےاور ان کے طور طریقوں کو اختیا ر کرتا ہے، یہ طور طریقے، شکل و صورت میں ہوں یا لباس میں ، کھانے میں ہو ں یا سونے میں ، معاملات میں ہوں یا معاشرت میں، اَخلاق میں ہوں یا کسی بھی طریقے میں ہوں تو اس امر کو اسلام میں سخت ناپسند کیا گیا ہے، ایسے شخص کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، سرکار دوعالم ﷺ نے صاف فیصلہ سنا دیا ہے کہ” جو شخص دنیا میں کسی کی مشابہت اختیار کرے گا، کل قیامت میں اس کاحشر اسی شخص کے ساتھ ہو گا“اس لیے بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے کسی بھی موڑ پر ،کسی بھی کام میں غیر مسلموں کا طریقہ یا مشابہت اختیار نہ کریں، ہماری مسلمانی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنے محبوب ﷺکی صورت اور سیرت سے محبت کرتے ہوئے ان کی مبارک سنتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سرخرو ہوں اور اس خوفناک دن کی رسوایوں سے بچ سکیں۔ زیر نظر کتاب’’غیر مسلموں کی مشابہت اوراسلامی ہدایات‘‘ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ناصر الدین بن عبد الکریم العقل کی  عربی کتاب من تشبه بقوم فهومنهم   کا اردو ترجمہ  ہے شیخ موصوف نے اس کتاب میں کتاب وسنت کے  بین دلائل سےمرصع ان اہم امور کا ذکر کیا ہے جن میں ہمیں غیر مسلموں کی مشابہت اختیار کرنے سے روکا گیا ہے  اور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تساہل یا لاعلمی کی بنا پر ان کی تہذیب وتمدن اور طرز وبوند  ماندکی مقلد ہے اور اپنےآپ کو انہیں کے رنگ میں رنگ لینے ہی کو تہذیب وثقافت کی معراج سمجھتی ہے جب کہ یہ اپنے مضراثرات اور تباہ کن نتائج کےاعتبار سے ناسور سے کم نہیں ہے۔اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر محترم جناب عبد الولی  عبدالقوی﷾ (مکتب دعوۃوتوعیۃالجالیات،سعودی عرب )  نے اسے اردو قالب میں ڈھالنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔(م۔ا)

  • 49 #6794

    مصنف : رضوان اللہ ریاضی

    مشاہدات : 2047

    غیرت کا فقدان اور اس کا علاج قرآن و سنت کی روشنی میں

    (جمعہ 02 نومبر 2018ء) ناشر : فرید بک ڈپو، نئی دہلی

    غیر ت آدمی کا اندرونی ڈر اور خوف ہے جو اس لیے رونما ہوتا ہےکہ وہ سمجھتا ہےکہ اس کے بالمقابل ایک مزاحم پید ہوا ہے  عربی لغت کے مطابق غیرت خوداری اور بڑائی کا وہ جذبہ  ہے جو غیر کی شرکت کو لمحہ بھر کے لیے برداشت نہیں کرتا ۔ غیرت کا تعلق فطرت سے ہے فطری طور پر تخلیق میں غیرت ودیعت کی گئی ہے غیرت سے محروم شخص پاکیزہ زندگی سے محروم ہے او رجس کے اندر پاکیزہ زندگی معدوم ہو تو پھر اس کی زندگی جانوروں کی زندگی سے بھی گئی گزری  ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے  انسان کو اپنی ذات کے سلسلہ میں غیرت مند او رمنفعل بنایا  ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی مجبور ولاچار کیوں نہ ہو لیکن آخری دم تک اپنی عزت وآبرو کی حفاظت وصیانت میں  جان کی بازی لگائے  رکھتا ہے ۔جس قوم کے اندر غیرت وحمیت کا جذبہ موجود ہوگا اس کی نسل اور تعمیری زندگی گزار سکے گی اور وہی معاشرہ حسنِ اخلاق کا پیکر بن کر اعلیٰ اقدار کا مستحق بھی ہوگا۔حدیث کی رُو سے   اللہ تعالیٰ کے نزدیک غیرت  دو طرح کی  ہے غیر ت مبغوض اور غیر محبوب۔محبوب غیر ت وہ  ہے  جو  شک کی بنیاد پر ہو اورجوبغیر شک کے ہو وہ غیرت اللہ کےنزدیک  مبغوض اور ناپسندیدہ ہے۔ سب سے محبوب اور قابل ستائش غیرت وہ ہے جو خالق ومخلوق کے درمیان ہوتی ہے ۔ یہی وہ غیرت ہےکہ ایک بندۂ مومن اللہ کی محرمات  وحدود کو پامال ہوتے دیکھ کر طیش میں آجاتا ہےاور اس کی غیرت اس کو للکارتی ہے ۔ایک مرد مومن اپنے تیئں سب کچھ برداشت کرسکتا ہے  لیکن محرمات کی پامالی کو لمحہ بھر کے لیے بھی روا نہیں رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت میں غیرت مند مومن کے جذبات کا برانگیختہ ہوجانا اور اس کے تن من  میں شعلوں کا بھڑک اٹھنا ایک بدیہی امر ہے ۔دینی اعتبار سے سب سے زیاہ قوی وہی شخص ہوگا جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی محرمات وحدود پر سب سے زیادہ غیرت وحمیت ہوگی ۔حدیث میں غیرت ایمانی  اور غیرت زن کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ غیرت کا فقدان اوراس کا علاج قرآن وسنت کی روشنی میں ‘‘  جناب رضوان ریاضی  صاحب کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے  عورت کی عزت وآبرو پر غیرت وحمیت کے ایجابی وسلبیاتی پہلو پر واقعات ودلائل کی روشنی میں حقائق بیان کرنے کی بھر پور کوشش کی  ہے۔نیز مصنف نے ضمناً اسلامی غیرت وحمیت  کےگوشوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔(م۔ا)

  • 50 #6483

    مصنف : محمد موسی بھٹو

    مشاہدات : 993

    مادیت کی دلدل اور بچاؤ کی تدابیر

    (منگل 04 ستمبر 2018ء) ناشر : سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ

    آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں‘ یہ مغربی تہذیب کے غلبہ کا دور ہے۔یہ تہذیب اپنے طاقتور آلات کے ذریعہ ملکی سرحدوں کی حدود‘ درسگاہوں اور گھروں کی دیواروں کو عبور کر کے‘ افراد کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ  چکی ہے۔ عورت ومرد اس تہذیب کے مظاہر پر فریفتہ ہو رہے ہیں۔ اس تہذیب کی پیدا کردہ ایجادات نے اگرچہ انسان کو بہت ساری سہولتیں بھی پہنچائی ہیں‘ آمد ورفت اور رابطہ میں آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں‘ گرمی وسردی سے بچاؤ کےلیے انتظامات ہو گئے ہیں‘ خوبصورتی اور زیب وزینت کے نت نئے سامان ایجاد ہوئے ہیں‘ انسانی جسم کو لاحق بعض اہم بیماریوں کے علاج میں سہولتیں پیدا ہو گئی اور ظاہری روشنی اور چمک دمک میں اضافہ ہو ا ہے لیکن اس کے کئی ایک نقصانات بھی جیسا کہ رشتوں کی اہمیت گنوا دی گئی ہے لوگ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور مالداروں کو احساس برتری اور غریبوں کو احساس کمتری کے امراض میں مبتلا کر دیا گیا ہے غرض اس مادی تہذیب نے رونق اور زیب وزینت کے نت نئے سامان کی قیمت پر انسان کے دل اور روح کو آخری حد تک بے چین کر دیا ہے۔ دل روح کی بڑھتی ہوئی اس بے چینی نے ہی انسان سے انسانیت اور محبت ورواداری‘ ہمدردی اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی حسوں کو مسدود کر دیا ہے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  میں حقیقی بندہ مومن کے حالات‘ احساسات اور تفکرات کے حوالے سے انہی مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور معاشرہ کی مختلف طبقات کی کمزوریوں کی بڑی دردمندی وفکر مندی اور تفصیل سے نشاندہی کر کے‘ اصلاح کا لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے۔کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ مادیت کی دلدل اور بچاؤکی تدابیر ‘‘محمد موسیٰ بھٹو کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1032
  • اس ہفتے کے قارئین 2877
  • اس ماہ کے قارئین 54910
  • کل قارئین49458265

موضوعاتی فہرست