کل کتب 82

دکھائیں
کتب
  • 31 #6233

    مصنف : ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    مشاہدات : 1523

    داڑھی اسلامی فریضہ اور مرد مومن کا شعار

    (پیر 12 فروری 2018ء) ناشر : صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے،اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔ گویا کہ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی اسلامی فریضہ اور مرد مومن کا شعار ‘‘ معروف مبلغ داعی،مصلح،مصنف کتب کثیرہ اور کالم نگار محترم ابو عبد اللہ عنائت اللہ سنابلی مدنی صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔مزید اس کتاب میں داڑھی کے اثبات میں دلائل کے انبار لگا دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترم مصنف صا حب کے عمل وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے اور دین اسلام کےلیے ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

  • 32 #6815

    مصنف : محمد فاروق رفیع

    مشاہدات : 1368

    داڑھی اور خضاب حقیقت کیا افسانہ کیا ؟

    (ہفتہ 01 دسمبر 2018ء) ناشر : فصل الخطاب للنشر و التوزیع

    شریعت ِاسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے  کو جائز قرار  دیا  گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ  ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: '' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام ﷢ سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ۔ تابعین اور بعد کے مشاہیر میں ابن سیرینؒ، ابو بردہؒ، محمد بن اسحاقؒ صاحب المغازی، ابن ابی عاصمؒ اور ابن الجوزی بھی کالا خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، ٥/٣٥٥، علامہ مبارک پوری نے اور بھی بہت سے تابعین و مشاہیر کے نام تحریر کیے ہیں۔ ٥/ ٣٥٧۔ ٣٥٨)زیر نظر کتاب ’’خضاب کی شرعی حیثیت ،کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں خضاب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے۔(راسخ)

  • 33 #8072

    مصنف : مختار احمد ندوی

    مشاہدات : 563

    داڑھی کے مسائل کتاب وسنت کی روشنی میں

    (جمعرات 09 جنوری 2020ء) ناشر : سلیمان اکیڈمی لاہور

    مردوں کی ٹھوڑی اور گالوں پر بالغ ہونے پر اگنے والے بال داڑھی اور بالعموم بلوغت کا نشان کہلاتے ہیں۔قدیم زمانے میں یورپ اور ایشیا میں اس کو تقدیس کا درجہ دیا جاتا تھا۔ اور یہودیوں اور رومن کتھولک عیسائیوں میں بھی اس کو عزت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کو مصر میں غلامی کی زندگی کے دوران داڑھی منڈانے کی اجازت نہ تھی۔ اس لیے وہ اپنی ڈاڑھیوں کو لمبا چھوڑ دیا کرتے تھے اور اسی نشانی سے ان میں اور مصریوں میں تمیز ہوتی تھی  ماضی قریب میں  مسلم دنیا میں صرف طالبان کی حکومت ایسی گزری جس نے افغانستان میں داڑھی منڈوانا ایک جرم قرار دیا اور داڑھی نہ رکھنے والوں کو باقاعدہ سزا دی جاتی تھی۔اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے،اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے متعدد مواقع پر داڑھی بڑھانے اور اس کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس اعتبار سے دین اسلام میں داڑھی کی عظمت و فضیلت بہت زیادہ ہے۔ مسلمانوں پر مغربی تسلط کے بعد سے مسلمانوں میں یہ سنت بہت تیزی کے ساتھ متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیرنظررسالہ’’داڑھی کےمسائل کتاب وسنت کی روشنی میں‘‘ ہندوستان کےمعروف عالم مولانامختار احمد ندوی﷫(مصنف کتب کثیرہ)  کی کاوش ہے مولانا موصوف نےاس رسالہ میں  شرعی  ومسنون داڑھی اور داڑھی  سے متعلق جملہ احکام ومسائل ، اعتراضات ، شیطانی وسواس   کے جوابات   کو آسان فہم انداز میں کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف مرحوم کی دعوتی وتبلیغی، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرفت قبولیت سے نوازے اور  انہیں جنت الفردوس میں اعلی وارفع  مقام دے۔(آمین) ( م۔ا) 

  • 34 #1255

    مصنف : خالدبن عبد اللہ بن محمد المصلح

    مشاہدات : 22510

    دلوں کی اصلاح

    (جمعہ 09 جولائی 2010ء) ناشر : مکتبہ دعوت توعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض

    اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضل و شرف کا معیار ظاہری افعال و اعمال نہیں بلکہ ایمان کے حقائق ہیں۔ عمال کی فضیلت و برتری صاحب عمل کے دل کے اندر قائم دلیل و برہان کے تابع ہوتی ہے یہاں تک کہ دو عمل کرنے والے بظاہر ایک رتبہ دکھائی دیتے ہیں لیکن فضیلت و برتری اور وزن میں ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ قلب کی اصلاح و تزکیہ اور اسے آفات سے پاک رکھنے اور فضائل و خوبیوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دینے والی چیزوں میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نےاپنے بندوں سے اپنی نگاہ کا مرکز ان کے دلوں کو قرار دیا ہے۔ اس ضمن میں ماضی قریب کے جید عرب عالم دین شیخ محمد صالح المنجد نے ’سلسلہ اعمال القلوب‘ کے نام سے کتاب لکھی جس کا اردو ترجمہ ’دل کی اصلاح‘ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اردو ترجمہ نہایت سلیس اور رواں ہے۔ کتاب کومتعدد عناوین میں تقسیم کرنے کے بعد دلوں کی صفائی پر نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان عناوین میں اخلاص و للّٰہیت، توکل، محبت، خوف و خشیت، امید کی حقیقت، تقویٰ کی حقیقت، تسلیم و رضا، شکر گزاری، صبر و تحمل، ورع اور مشتبہات سے بچاؤ، غور و فکر اور نفس کا محاسبہ شامل ہیں۔ 750 سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں ہر عنوان کے تحت الگ سے مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور ہر بحث کا مکمل تعارف کروانے کے بعد اصل موضوع سے بحث کی گئی ہے۔ انسان کی تمام تر کامیابی کا دارو مدار اسی پر ہے کہ دنیا میں وہ اپنی اصلاح کر لے اور اپنے آپ کو آخرت کےلیےتیار کر لے۔ اس ضمن میں یہ کتاب نہایت مددگار ثابت ہو گی۔

     

    (ع۔م)

  • 35 #3566

    مصنف : محمد عظیم حاصلپوری

    مشاہدات : 2816

    دکھوں کا علاج

    (پیر 28 ستمبر 2015ء) ناشر : مکتبہ حسین محمد بادامی باغ لاہور

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہدے میں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے   دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔ حدیث نبوی کےمطابق دعا کرنے سے بری تقدیر ٹل جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کرنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ اس کے مبارک اور قبولیت کےاوقات بھی شمار فرمائے ہیں۔مثلاً رات کےپچھلے پہر میں ، اذان اور اقامت کے دوران ، میں ، نماز میں سجدے میں ،نمازوں کے بعد ، جمعہ کے دن کی خاص گھڑی میں ، یوم عرفہ میں ، لیلۃ القدر میں ، بارش برستے وقت میں وغیرہ۔ نیز آپ ﷺ نے چند ایسے حالات بھی ذکر کیے جن میں دعا کبھی بھی رد ّ نہیں کی جاتی ۔ مثلاً مظلوم ، مسافر ، باپ کی بیٹے کے حق میں ، حج وعمرہ کرنے والے کی ، غازی فی سبیل اللہ کی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے ، عادل حکمران کی وغیرہ ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔زیر نظر رسالہ ’’ دکھوں کا علاج‘‘ مولانامحمد عظیم حاصل پوری ﷾ کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس میں ایسی دعائیں جمع کی ہیں جو انسان کی جسمانی وروحانی بیماریوں اور دکھوں کا بہترین علاج ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ذریعہ نجات بنائے (آمین) (م۔ا)

  • 36 #6507

    مصنف : عبد المحسن بن محمد القاسم

    مشاہدات : 1091

    دین کا اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر

    (منگل 14 اگست 2018ء) ناشر : سیف الاسلام لائبریری دارا نگر بنارس

    ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے  ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا  حکم دینا اور  نہی عن المنکر کا مطلب ہے  برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ  نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے  لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ  تعالیٰ  یہ بھی  چاہتے ہیں کہ  دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ  ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے  لوگ کم ہوں  اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی  سے بچنے کا حکم ہی  نہیں دیا  بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور  برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے  حکمرانوں ،علماء وفضلاء  کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن  وحدیث  میں اس  فریضہ  کواس قد ر اہمیت دی  گئی ہے کہ  تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے  اپنے  دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے ۔اوراللہ تعالیٰ  نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ  میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے  اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔   نیز ان  حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔اسلام صرف عقائد کانام نہیں  ہے۔بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں اوامر بھی  ہیں اور نواہی بھی۔ بعض اوامر ونواہی  کا تعلق تبلیغ ،تذکیر اوروعظ ونصیحت کے ساتھ ہے جس پر عمل کرنا والدین ، اساتذہ کرام، علماء وفضلاء اور معاشرے کے دیگر افراد پر واجب ہے جس سے افراد میں ایمان، تقویٰ ،خلوص، خشیت الٰہی جیسی صفات پیدا کر کے  روح کا تزکیہ اور تطہیر مطلوب ہے ۔ بعض اوامر ونواہی کا تعلق حکومت کی  طاقت اور قوتِ نافذہ کے ساتھ ہے ۔ مثلاً نظام ِصلاۃ ، نظام ِزکاۃ ،اسلامی نظامِ معیشت، اسلامی نظامِ عفت وعصمت اور قوانین حدود وغیرہ جس سے سوسائٹی میں امن وامان ، باہمی عزت واحترام اور عدل وانصاف جیسی اقدار کو غالب کر کے پورے معاشرے کی تطہیر اور تزکیہ مطلوب  ہے۔ جب تک اوامرونواہی کے ان دونوں ذرائع کو موثر طریقے  سےاستعمال نہ کیا جائے معاشرے کا مکمل طور پر تزکیہ اور تطہیر ممکن نہیں ۔عہد نبویﷺ میں  رسول اللہ  کی ذات مبارک خود بھی شریعت کے اوامر ونواہی  پر عمل کرنے  میں سب سے آگے تھی ۔ فرد اور پوری سوسائٹی کے تزکیہ اورتطہیر کے اعتبار سے آپ ﷺ کا عہد مبارک تمام زمانوں سے افضل اوربہتر  ہے ۔رسول اکرمﷺ کی وفات  کے بعد عہد صدیقی میں شدید فتنے اٹھ کھڑے ہوئے ۔  حضرت ابوبکر صدیق   نے بڑی فراست ،دوراندیشی اور استقامت کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل پیرا ہو کر تمام فتنوں کا استیصال  فرمایا۔ اوراسی طرح سیدنا عمر فاروق   نے بھی بعض دوسرے سرکاری محکموں کی طرح نظام احتساب اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کابھی باقاعدہ محکمہ قائم فرمایا۔ حضرت عثمان   اور حضرت علی  نےبھی اپنے عہد میں اس  نظام کو مضبوط بنایا  لیکن حضرت عمر بن عبدالعزیز ﷫ نےنظام احتساب کے حوالے سے ایک بار پھر حضرت عمر بن خطاب  کی یاد تازہ کردی۔اموی ،عباسی اوربعد میں عثمانی خلفاء کےادوارمیں بھی امر بالمعروف عن المنکر کانظام کسی نہ کسی صورت میں قائم رہا ۔دین کے مرکز حجاز یعنی سعودی عرب میں آج بھی نظام احتساب کا ادارہ  الرئاسة العامة لهئية  الامربالمعروف والنهى عن المنكر کے  نام سے  بڑا موثر کردار  کررہا ہے ۔روزانہ پانچ نمازوں کے اوقات میں  تمام چھوٹی بڑی مارکیٹوں کے کاروبار بند کروانا گلی گلی محلے محلے  نمازوں کے اوقات میں گھوم پھر کر لوگوں کونماز کےلیے مسجد میں آنے کی دعوت دینا، بے نمازوں کوتلاش کرنا ، انہیں پکڑ کر تھانے لانا چوبیس گھنٹے تک انہیں وعظ ونصیحت کرنا اورنماز پڑھنے کا وعدہ لے کر رہا کرنا ادارہ امربالمعروف  ونہی عن المنکر کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔اور اسی طرح  زکاۃ کی ادائیگی کے بغیر کوئی کمپنی  سعودی عرب میں  اپنا کاروبار نہیں کرسکتی، رمضان المبارک کے مہینے  میں غیر مسلموں پر بھی رمضان کااحترام کرنا واجب ہے ۔ ہر سال احترام رمضان کے بارے  میں رمضان سےقبل شاہی فرمان جاری ہوتا ہے اگر کوئی نام نہاد مسلمان یا غیر مسلم احترام ِرمضان کےفرمان کی پابندی نہ کرے  تو اس کا ویزہ منسوخ کر کے  اسی وقت اسے ملک بدر کردیا جاتا ہے ۔سعودی  عرب میں رہائش پذیر ہر آدمی یہ محسوس کرتا ہے کہ مملکت میں واقعی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ادارہ موجود ہے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن سرانجام دے رہا ہے۔سعودی حکومت دیگر اداروں کی طرح  امربالمعروف وعن المنکر اوردینی کی اشاعت وترویج  میں مصروف عمل اداروں کو اسی طرح سالانہ بجٹ میں فنڈ مہیا کیے جاتے ہیں جس  طرح مملکت کے دیگراداروں کومہیا کیے جاتے۔بلاشبہ سعودی  حکومت اس معاملے میں تمام اسلامی ممالک کےمقابلہ میں ایک   امتیازی شان رکھتی ہے۔  اور قرآن وحدیث کی روسے تمام اسلامی ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کے  ادارے قائم کریں اوراسلامی ریاست کو غیر اسلامی ممالک کے سامنے پورے اعتماد کے ساتھ ایک ماڈل کی  حیثیت سے پیش کریں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دین کا ایک اہم رکن امر بالمعروف نہی عن المنکر ‘‘ مسجد نبوی  کے مشہور امام  وخطیب عبد المحسن  القاسم کےمرتب  شدہ عربی رسالہ ’’ الأمر باالمعروف والنهي عن المنكر أصل من أصول الدين‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔ یہ کتابچہ  اگرچہ مختصر ہے  لیکن اپنے  موضوع پر بہت  مفید اور جامع  ہے جس میں  شیخ محترم  نے موضوع کے اہم  نکات کو نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔جناب محمد عمران سلفی صاحب نے  عربی رسالہ کو اردو میں منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ اس رسالہ میں مذکور احادیث کی مکمل تخریج بھی کی ہے  جس سے  اس رسالے کی افادیت  دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ  اس رسالے کو  امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور مصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) م۔ا) 

  • 37 #8031

    مصنف : ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    مشاہدات : 530

    روایت اور جدیدیت

    (جمعرات 28 نومبر 2019ء) ناشر : دار الفکر الاسلامی

    "روایت اور جدیدیت" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی گئی تھیں۔ بعض دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان تحریروں کو ضروری ایڈیٹنگ اور کچھ اضافوں کے بعد ایک کتابچے کی صورت جمع کیا گیا ہے کہ جسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اس کتابچے کا شان نزول یہ ہے کہ ہمارے ایک قریبی دوست جناب مراد علوی صاحب جو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ سیاسیات میں زیر تعلیم ہیں اور دین کا بہت ہی درد رکھنے والے طالب علم ہیں، کچھ عرصہ سے فکر اہل حدیث اور علمائے اہل حدیث پر گاہے بگاہے کچھ پوسٹیں لگا رہے تھے۔ خیر اہل حدیث علماء سے اختلاف یا ان پر نقد تو کوئی ایسا ایشو نہیں ہے کہ جس پر کوئی جوابی بیانیہ تیار کیا جائے کہ کسی بھی مسلک کے علماء ہوں، ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور ان پر نقد بھی ہو سکتا ہے لیکن فکر اہل حدیث ہماری نظر میں ایک ایسی شیء ہے کہ جس پر نقد کا جواب دینا ہم ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اور فکر اہل حدیث سے ہماری مراد کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت ہے جو کہ خود کتاب وسنت ہی کی دعوت ہے۔ مراد علوی صاحب کی اس تحریر میں رجوع الی القرآن کی ہر تحریک کو مارٹن لوتھر کی تحریک کا تاثر قرار دیا گیا تھا اور کچھ ایسا ہی موقف جناب حسن عسکری صاحب  رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "جدیدیت" میں بھی پیش کیا ہے کہ جس کا  تفصیل سے رد ہم نے اپنے کتابچے "اسلامائزیشن آف سائنس" میں  کیا ہے۔ فیس بک پر ہی ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  کی تحریک رجوع الی القرآن کو روایت ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں البتہ اہل حدیث کے بارے ان کا کہنا تھا کہ ان میں جدیدیت ہے۔  تو اس کے جواب میں ہمارا کہنا یہ تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  کو روایت پسند ہونے کا تمغہ صرف اس لیے دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو نیم مقلد کہتے تھے جبکہ فقہ، کلام اور تصوف کی تینوں روایات کے بارے جو سختی اور رد ان کے بیانات میں موجود ہے، اہل حدیث کے ہاں عام طور نہیں ملتی۔ تو اہل حدیث کو بعض فکری احناف کی طرف سے صرف اور صرف مسلکی تعصب میں جدیدیت کا نمائندہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  بھی وہی نعرہ لگاتے ہیں یعنی رجوع الی القرآن جو اہل حدیث نے لگایا ہے یعنی رجوع الی الکتاب والسنۃ۔ ڈاکٹر اسرار احمد  رحمہ اللہ  نے تو فقہ کو دور ملوکیت کی پروردہ ، علم کلام کو قوالی اور مروجہ تصوف کو بدعت قرار دیا ہے۔ اب لوگ پڑھیں تو معلوم ہو کہ کس کا کیا موقف رہا ہے۔ تو اہل حدیث کو جدیدیت کا نمائندہ قرار دینا یہ مسلکی تعصب کا شاخسانہ ہے۔ اور مسلکی تعصب، مسلکی تعصب ہی کو جنم دیتا ہے۔ بہرحال اس کتابچے میں ہم نے بہت اچھے سے کتاب وسنت کی روایت کے ساتھ ساتھ فقہ، کلام اور تصوف کی روایتوں کے بارے فکر اہل حدیث کا موقف بیان کر دیا ہے۔ اور یہ وہی موقف ہے جو ائمہ اربعہ کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو خیر القرون میں رائج تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو صحابہ وتابعین کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو سلف صالحین کا تھا کہ روایت دو قسم پر ہے؛ ایک کتاب وسنت کی اور یہی اصل روایت ہے اور اس کی تو غیر مشروط اطاعت کی جائے گی اور اہل حدیث اس کے  پورے طور قائل ہیں۔ اور رہی فقہ، کلام اور تصوف کی روایت تو اس کے ساتھ  ہمیں تمسک اختیار کرنا ہے لیکن اس کی اصلاح کی پوزیشن لیتے ہوئے نہ کہ تقلیدی جمود کی کہ جس کا نتیجہ روایت پسندی نہیں بلکہ روایت پرستی ہے۔ ( ڈاکٹر حافظ محمد زبیر )

  • 38 #6960

    مصنف : عبد العلیم بن عبد الحفیظ

    مشاہدات : 1293

    ریاء کاری اور اس کے مظاہر

    (جمعہ 17 مئی 2019ء) ناشر : المکتبۃ التعاونی للدعوۃ والارشاد

    یہ بات واضح ہے کہ اعمال کی صحت کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اور ساری اسلایم عبادات جیسے نماز ،روزہ، حج، زکاۃ، اور دیگر سارے کار خیر کی بنیاد اخلاص اوراتباع سنت ہےان دونوں میں سے کسی ایک کا نہ پایا جانا عمل وعبادت کی صحت پر اتنا اثر ڈالتا ہےکہ وہ عمل نہ یہ کہ صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتا بلکہ الٹا عامل کے لیے بوجھ اور سبب گناہ بن جاتا ہے  ۔ کیونکہ  اخلاص کافقدان عمل کو نہایت ہی خطرناک راہ یعنی ریاء کاری اور دکھاوے کی راہ پر ڈال دیتا ہے  جسے  نصوصِ کتاب وسنت میں شرک سے تعبیر کیاگیا ہے ۔کسی شخص کو اخلاص اور للہیت کا مل جانا اس کے کے لئے اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور نبی کریم  ﷺنے اپنی احادیث نبویہ میں اعمال میں جا بجا اخلاص  کو ختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔خلوص نیت کے ساتھ کیا جانے والا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی بارگاہ الٰہی میں بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔جبکہ عدم اخلاص ،شہرت اور ریاکاری پر مبنی بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہے۔ریاکاری انسان کے اعمال کو دنیا میں تباہ کر دیتی ہے۔نبی کریم کے فرمان کے مطابق قیامت والے دن سب سے پہلے جن تین لوگوں کو جہنم میں پھینکا جائے گا وہ ریا کار عالم دین ،ریا کار سخی اور ریا کار شہید ہیں،جو اپنے اعمال کی فضیلت اور بلندی کے باوجود ریاکاری کی وجہ سے سب سے پہلے جہنم میں جائیں۔زیر تبصرہ  کتاب’’ریا کاری اوراس کے مظاہر‘‘سعودی عرب  کےمعروف  ادارے مکتب تعاونی وجالیات سے منسلک   مولانا عبد العلیم بن عبد الحفیظ سلفی ﷾ کی کاوش ہے ۔  یہ موضوع عوام  اورخواص دونوں کےلیے یکساں مفید ہے اوراس کی ضرورت ہر  عبادات گزار کواور ہرزمانےمیں ہے اسی اہمیت کے پیش  نظر  مولانا عبد العلیم  صاحب نے یہ کتاب مرتب کی ہے  تاکہ اردو داں طبقہ  اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اعمال وعبادات کو برباد ہونے سے بچانے کی پوری سعی وکوشش کرےاور دوران ِعبادت شعوری وغیر شعوری اسباب زیاں کاری سےدورر ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ریا کاری سے بچائے اور ہماری عبادات کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ا)

  • 39 #7035

    مصنف : مریم دانش

    مشاہدات : 1137

    زبان کی حفاظت

    (جمعہ 23 اگست 2019ء) ناشر : العاصم اسلامک بکس لاہور

    زبان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے احساسات وجذبات کی ترجمانی کرتا ہے انسان اسی کی وجہ سے باعزت مانا جاتاہے اور اسی کی وجہ سے ذلت ورسوائی کا مستحق بھی ہوتا ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس کے منہ میں زبان ہے لیکن وہ اپنامافی ضمیر ادا نہیں کرسکتاہے۔اللہ کا فرمان ہے : أَلَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَيْنَيْنِ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ(سورۃالبلد) ’’ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنایا۔‘‘سب سے زیادہ غلطیاں انسان زبان سے ہی کرتا ہے۔لہٰذا عقلمند لوگ اپنی زبان کو سوچ سمجھ کر اور اچھے طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کو غلط اور بری باتوں سے بچا کر اچھے طریقے سے استعمال کرنا زبان کی حفاظت کہلاتا ہے۔ ہمارے دین اسلام میں زبان کی حفاظت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’زبان کی حفاظت ‘‘ نیویارک میں مقیم مولانا عبد اللہ دانش کی صاحبزادی   اور شیخ القراء قاری محمد ادریس العاصم کی بہو محترم مریم دانش  صاحبہ   کی کاوش ہے  ۔ اس مختصر کتابچہ  میں انہوں نے  قرآن واحاديث كی روشنی میں  زبان کی حفاظت کے طریقے کو  دلچسپ اور عام فہم انداز میں اختصار کے ساتھ یکجا کردیا  ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے قارئین کے لیے اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)  (م۔ا)

  • 40 #6270

    مصنف : ڈاکٹر نور الحسین قاضی

    مشاہدات : 2018

    زندگی جینے کا فن

    (اتوار 04 مارچ 2018ء) ناشر : اسلامک آرٹ آف لِونگ فاؤنڈیشن، شاہپور

    خوشگوار زندگی گزارنا ہر انسان کا ایک خواب ہوتا ہے۔ وہ پر سکون زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب کہ انسان دین اسلام پر عمل کرے‘ کیونکہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو زندگی کے ہر گوشہ میں انسان کی صحیح رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ رب العزت کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رُشد وہدایت دی گئی ہے‘ وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے۔ اس دین کا مقصد جس طرح انسان کی اخروی کامیابی ہے‘ اسی طرح اس دین کا مقصد یہ بھی ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے۔۔زیرِ تبصرہ کتاب خالص قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں زندگی گزارنے کے سنہرے اسلامی اصولوں کو بیان کرتی ہے۔ احادیث کی تشریح میں روایت انداز کے بجائے عملی اسلوب کو اختیار کیا گیا ہے‘ تاکہ قارئین آسانی سے سمجھ سکے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے اور کتاب کے مطالعے کے بعد قاری خوشگوار زندگی گزار سکے گا۔اس کتاب میں بہت سے اہم مضامین اور اسلامی اقدار کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے جیسا کہ صبر‘ نرمی‘ تواضع‘ غصہ نہ کرنا اور غنیٰ جیسے مضامین کو بیان کیا گیا ہے۔حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ زندگی جینے کا فن ‘‘ ڈاکٹر نور الحسن قاضی﷾ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

< 1 2 3 4 5 6 7 8 9 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1301
  • اس ہفتے کے قارئین 3146
  • اس ماہ کے قارئین 55179
  • کل قارئین49459305

موضوعاتی فہرست