دکھائیں کتب
  • 11 احکام الصیام (پیر 15 جون 2015ء)

    مشاہدات:2274

    رمضان المبارک کامہینہ سال کے باقی تمام مہینوں سے افضل واعلی ہے۔یہ اپنے اندر لامحدود، اور ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ نیکیوں کی موسلادھار بارش کی مانند ہے،جس سےہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے،جس میں ہر نیکی کاا جروثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے۔اسی مہینے میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے ،جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے۔ لہٰذا ہر عقل مند کے لیے ضروری ہے  کہ وہ رمضان میں اپنے اوقات کی تقسیم کرے اور بڑے پیمانہ پر قرآن کی تلاوت و تفہیم،ترجمہ اور کچھ حصہ حفظ کرنے کا اہتمام کرے۔چونکہ رمضان المبارک سال کے  تمام مہینوں میں سے افضل ترین مہینہ ہے اور اس کی عبادات کو تمام عبادات سے افضل قرار دیا گیا  ہے۔اس لیے احتیاط کے پیش نظر مختلف کوتاہیوں اور غلطیوں سے محفوظ رہنے کے لیے علماء نے بہت کچھ لکھا ہے۔اور عامۃ الناس کو راہنمائی فراہم کی ہے۔ زير نظر كتاب "احکام الصیام"سعودی عرب کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ سلیمان بن محمد بن سلیمان النصیان﷫کی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ  جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل محترم  ابو عکاشہ محمد ابراہیم شاہین صاحب نے کیا ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب   ميں انتہائی آسان اور عام  فہم انداز میں روزے سے متعلق تقریباً تمام مسائل کو ترتیب وار  یکجا کردیا ہے-اس میں انہوں نے روزے کے احکام،رمضان کے روزے فرض ہونے کی شرائط،روزے کے...

  • 12 احکام وتر (پیر 05 جون 2017ء)

    مشاہدات:1999

    وتر کےمعنیٰ طاق کےہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفروحضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔ آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم متعدد مرتبہ دیا ہے۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے۔رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم ﷺکا مستقل معمول بھی یہی تھا۔ البتہ وہ حضرات جورات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کےساتھ نماز وتر کی ادائیگی ثابت ہے۔کتب احادیث وفقہ میں نماز کے ضمن میں صلاۃوتر کےاحکام ومسائل موجود ہیں ۔ نماز کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی کتب میں بھی نماز وتر کے احکام موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وتر ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫کی تصنیف ہے۔مولانا کی یہ آخری تصنیف ہے اس کتاب کو لکھنے کا کام جاری تھا کہ اسی دوران مولانا بیمار ہوگئے اور کتاب کی تکمیل نہ کرسکے بالآخر تین سےچار مہینے بیمار رہنے کے بعد 13 دسمبرر 2008ء کومولانااپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔بعد ازاں ان کے معاون خصوصی محمد اشتیاق شاہد صاحب (مدرس جامعہ رحمانیہ ،سیالکوٹ ) نےاس کتاب کومکمل کیا شرح طلب امور ک...

  • 13 اخطاء المصلین (منگل 02 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:1057

    نماز  انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے ۔ کلمۂ توحید کے  اقرار کےبعد  سب سے پہلے  جو فریضہ  انسان  پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی  ہے ۔ بے نماز  کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن  اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال  ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر  اہم ہے کہ سفر وحضر  ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور  عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز  ادا کرنا لازمی ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب’’ اخطاء المصلین ‘‘شیخ ابو عبیدہ  مشہور بن حسن آل سلمان کی نماز کی اہمیت وفضیلت کے موضوع پر ایک عربی کتاب ہے جس كا اردو ترجمہ ریاض احمد محمد سعید السلفی نے کیا  ہے۔اس کتاب میں شیخ ابو عبیدہ  مشہور بن حسن آل سلمان نے وضو، اذان، تکبیرتحریمہ، نماز کے لیے  آنا او رجانا، باجماعت نماز، جمعہ اور  نمازعیدین وغیرہ کی اہمیت وفضلیت پر خو ب روشنی ڈالی  ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف،مترجم   وناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے  عامۃ المسلمین کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین) (رفیق الرحمن)

  • 14 ازالۃ الاوھام فی وجوب الفاتحہ خلف الامام (منگل 14 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1177

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ازالۃ الاوہام فی وجوب الفاتحۃ خلف الامام‘‘ ابو الوفا عبد الحمید ثافب کی علمی کاوش ہے یہ رسالہ اگرچہ مختصر تاہم مسئلہ وجوب قرأت خلف الامام کے موضوع پر سیرحاصل اور عمدہ گفتگو فرمائی ہے ۔محتاط اور مضبوط انداز میں دلائل کا تذکرہ فرمایا ہے ۔آخرمیں فریق ثانی کے دلائل...

  • 15 اسلام میں ترک نماز کا حکم (جمعہ 28 مئی 2010ء)

    مشاہدات:19528

    باجماعت نماز کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لیے دین اسلام کی یہ ہدایات ہی کافی ہیں کہ میدان جہاد میں موت کے مدمقابل بھی نماز ترک نہ کی جائے بلکہ جماعت بھی ترک نہ کی جائے۔ ایمان و اسلام کی سلامتی نماز کے قیام سے ہی مشروط ہے۔ تارک نماز کے گناہ گار ہونے پر تو امت کا اجماع ہے۔ لیکن اس کے مشرک، کافر اور ابدی جہنمی ہونے پر اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مصنف نے دلائل قطعیہ اور استنباطات فقہیہ سے تارکین نماز کو گناہ کی شدت کا احساس دلایا ہے۔

     

     

  • نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاعلام بجواب رفع الابھام وتایید الدلیل التام " پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے رسالے "رفع الابھام فی جواب دلیل تام"کے جواب میں لکھی ہے۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ یہ مسئلہ اپنے زمانے میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ رہا ہے ،جس میں حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ اور محترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫اپنے اپنے موقف کو بیان کرتے رہے ہیں۔چونکہ دونوں مص...

  • اتباع سنت خصوصاً امور عبادۃ میں ہر عمل کے اصل اور وصف میں ضروری ہے اور شرط قبولیت ہے ورنہ جرم اور موجب عذاب  و مواخذہ ہے اور چونکہ دعاء بھی امور عبادۃ میں سے ہے بلکہ مخ العبادہ یعنی عبادت کامغز ہے پس اس میں بھی وہی دعاء عمل صالح اورمقرون بالاجابت ہوگی جو کہ طریقۂ مسنونہ کےمطابق ہو اور وہ دعاء جو طریقۂ مسنونہ کے خلاف مانگی جاتی ہے بدعت اور غیرمقبول ہے ۔چونکہ آجکل اکثر بلاد میں دعاء کا مسنون طریقہ متروک العمل ہوچکا ہے اور خلاف سنت طریقہ پر دعاء مروج ہے ۔اور اسی وجہ سے بے اثر بھی  ہے اس رسالہ میں دعاء کی شرعی حیثیت اور مسنون کیفیت مدلل بیان کی گئی ہے او رخلاف سنت کرنے والوں کے تمام بنیادی شبہوں کا جواب دیاگیا ہے تاکہ سنت پر عمل کرنے والوں کےلیے دعاء کاشرعی اور مؤثر طریقہ واضح ہوجائے اور خلاف سنت کرنے والوں پر اتمام حجت ہونے کے ساتھ فریضۂ تبلیغ بھی حق کاحق اداہوجائے ۔
     

  • 18 التحقیق الراسخ (بدھ 02 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2367

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لہا ناسخ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی ﷫ کی رفع الیدین کے موضوع پر علمی اور تحقیقی کتاب ہے یہ درا...

  • 19 الرسائل فی تحقیق المسائل (جمعرات 16 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2015

    رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے، جنہیں صحابہ کرام ﷢کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔اور اس کا ترک یا نسخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔سیدنا وائل بن حجر﷜آخری ایام میں مسلمان ہونے صحابہ میں سے ہیں۔صحیح مسلم میں ان سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔ زیر تبصرہ کتاب " الرسائل فی تحقیق المسائل "مولانا عبد الرشید انصاری کی رفع الیدین جیسے معرکۃ الآراء مسئلے کی تحقیق پر ایک عظیم الشان تصنیف ہے،جو انہوں نے انتہائی محنت اور شوق سے جمع فرمائی ہے۔ اس کتاب میں مولف نے پہلے اثبات رفع الیدین پر 22 بائیس کتب حدیث سے 44 چوالیس صحابہ کرام ﷢سے مروی 339 تین سو انتالیس احادیث جمع کی ہیں،پھر عدم رفع الیدین کے قائلین کے 38 اڑتیس دلائل بیان کر کے ان میں سے ایک ایک دلیل کا مستند اور بڑے احسن انداز میں رد کیا ہے ۔یہ اپنے موضوع پر ایک اہم ترین اوربڑی شاندار کتاب ہے،اور طلباء وعلماء دونوں کے مفید ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال " پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید ابو محمد بدیع الدین شاہ راشدی ﷫صدر جمعیت اہل حدیث سندھ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔آپ کے اس موقف سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،لیکن چونکہ یہ بھی...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1015
  • اس ہفتے کے قارئین: 7573
  • اس ماہ کے قارئین: 32101
  • کل قارئین : 47111608

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں