دکھائیں کتب
  • 11 اسلامی طرز فکر جلد اول (ہفتہ 10 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2032

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔فتاوی ٰکے باب  میں  شیخ الاسلام  امام ابن تیمیہ﷫ کے  37 جلدوں پر مشتمل  فتاویٰ کو  بڑی شہر ت حاصل ہے۔ ماضی قریب میں  عرب وعجم   میں ہر مکتب فکر  کے  جید  مجتہد علمائے کرام کے فتاوی  پر مشتمل  ضخیم کتب مرتب  کرکے شائع کی گئی ہیں ۔سعودی عرب میں  فتاویٰ  شیخ ابن باز ،فتاویٰ شیخ صالح العثیمین ﷭ اور لجنۃ العلماء کے فتاوی ٰ جات  قابل ذکر ہیں  اور اسی طرحبرصغیر پاک وہند میں فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے کرام  کی    کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی طرزِفکر‘‘ جو کہ تین  جلدوں پر مشتمل ہے ۔جودراصل ’’عرب نیوز‘‘جدہ میں  جناب عادل صلاحی ادارت میں شائع ہونے والے سوالات کے جوابات  ہیں۔پہلی جلد عبدالسلام سلام...

  • 12 اسلامی طرز فکر جلد دوم (اتوار 11 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1703

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔فتاوی ٰکے باب  میں  شیخ الاسلام  امام ابن تیمیہ﷫ کے  37 جلدوں پر مشتمل  فتاویٰ کو  بڑی شہر ت حاصل ہے۔ ماضی قریب میں  عرب وعجم   میں ہر مکتب فکر  کے  جید  مجتہد علمائے کرام کے فتاوی  پر مشتمل  ضخیم کتب مرتب  کرکے شائع کی گئی ہیں ۔سعودی عرب میں  فتاویٰ  شیخ ابن باز ،فتاویٰ شیخ صالح العثیمین ﷭ اور لجنۃ العلماء کے فتاوی ٰ جات  قابل ذکر ہیں  اور اسی طرحبرصغیر پاک وہند میں فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے کرام  کی    کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی طرزِفکر‘‘ جو کہ تین  جلدوں پر مشتمل ہے ۔جودراصل ’’عرب نیوز‘‘جدہ میں  جناب عادل صلاحی ادارت میں شائع ہونے والے سوالات کے جوابات  ہیں۔پہلی جلد عبدالسلام سلام...

  • 13 اسلامی طرز فکر جلد سوم (پیر 12 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1694

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔فتاوی ٰکے باب  میں  شیخ الاسلام  امام ابن تیمیہ﷫ کے  37 جلدوں پر مشتمل  فتاویٰ کو  بڑی شہر ت حاصل ہے۔ ماضی قریب میں  عرب وعجم   میں ہر مکتب فکر  کے  جید  مجتہد علمائے کرام کے فتاوی  پر مشتمل  ضخیم کتب مرتب  کرکے شائع کی گئی ہیں ۔سعودی عرب میں  فتاویٰ  شیخ ابن باز ،فتاویٰ شیخ صالح العثیمین ﷭ اور لجنۃ العلماء کے فتاوی ٰ جات  قابل ذکر ہیں  اور اسی طرحبرصغیر پاک وہند میں فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے کرام  کی    کی کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی طرزِفکر‘‘ جو کہ تین  جلدوں پر مشتمل ہے ۔جودراصل ’’عرب نیوز‘‘جدہ میں  جناب عادل صلاحی ادارت میں شائع ہونے والے سوالات کے جوابات  ہیں۔پہلی جلد عبدالسلام سلام...

  • 14 افکار و عقائد و فتاوی جماعت المسلمین (پیر 03 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3448

    جیسے جیسے قیامت کا وقت قریب آرہا ہے گمراہ فرقے جنگل میں آگ کی طرح پھیلتے جارہے ہیں۔اور اپنے دام ہم رنگ زمانہ میں ناسمجھ مسلمین کو پھنسا رہے ہیں۔کراچی سے پیدا ہونے والے ایسے ہی ایک خطرناک عقائد کے حامل فرقے کانام ’’ جماعت المسلمین‘‘  ہے ۔اس فرقے کے بانی مبانی مسعود احمد صاحب  بی ایس سی ہیں۔اس فرقے نے ’’ جماعت المسلمین ‘‘  کا خوبصورت لقب اختیار کر رکھا ہے جس طرح لبنان میں  رافضیوں نے ’’ حزب اللہ ‘‘ کا نام اختیار کر رکھا ہے۔یہ فرقہ اپنے علاوہ تمام مسلمانوں کو گمراہ سمجھتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا قائل نہیں ہے۔جو شخص ا س کے بانی مسعود احمد  صاحب کی بیعت نہیں کرتا وہ ان کے نزدیک مسلمان نہیں ہے،چاہے وہ قرآن وحدیث کا جتنا بڑا عالم وعامل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے امام ابن حجرسمیت متعدد محدثین کی تکفیر کی ہے۔مسعود احمد صاحب نے اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعے لوگوں کے  ذہنوں میں اسلاف کے خلاف اتنے زیادہ شکوک وشبہات پید اکر دیئے ہیں کہ انہیں یہ یقین ہونے لگا ہے کہ ہمارے اسلاف غلط تھے اور ان کی وجہ سے دین کی شکل بگڑ گئی ہے،جبکہ محترم مسعود احمد صاحب دین کی بالکل صحیح اور درست شکل پیش کر رہے  ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" افکار وعقائد وفتاوی جماعت المسلمین"محترم سید وقار علی شاہ کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے جماعت المسلمین کے تمام باطل عقائد کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے تاکہ علماء امت ان کے خطرناک عقائد ونظریات سے آگاہ ہو سکیں اور عامۃ الناس کو ان کی چن...

  • تاریخ اسلامی میں ساتویں صدی ہجری اپنے دامن میں امت مسلمہ کے لئے گہرا  درس عبرت رکھتی ہے۔جس میں مسلمانوں کو بغداد میں اقتدار واختیارات سے ہاتھ دھونا پڑے۔سیاسی شکست وریخت نے نہ صرف سر زمین عراق بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نفسیات پر انتہائی گہرا اثر ڈالا،اس تمام تر دباو کے باوجود بعض ایسے صاحب فکرونظر بھی پیدا ہوئے جنہوں نے امت مسلمہ کے جسد میں نئی روح پھونکی،علمی اور فکری میدان میں ان کی بھر پور راہنمائی کی ،ان کے قلب ونظر کو نئی جلا بخشی اور ان کے عزم واعتماد کو بحال کیا۔ایسی دانشور ہستیوں میں سے ایک امام ابو العباس احمد بن ادریس  قرافی مالکی ﷫کی شخصیت بھی ہے۔جنہوں نے علم وعمل کی دنیا میں گہرے نقوش چھوڑے اور امت کی علمی وفکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی والامام " امام قرافی ﷫کی وہ شاندار اور منفرد تصنیف ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہونے والے ساتھ مختلف مسائل  سے متعلق چالیس سوالات کے جوابات اور تبادلہ خیال کو جمع کرتے ہوئے مرتب فرمائی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے حاکم عدالت کے فیصلے کی حقیقت ،حاکم اور مفتی کا دائرہ کار،مفتی ،قاضی اور سربراہ مملکت کے اختیارات،اجتہادی مسائل اور حاکم کا فیصلہ،اختلافی مسائل اور حاکم کا فیصلہ نبوت اور رسالت میں فرق،رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی مختلف حیثیتیں،حاکم کے فیصکے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار اور نبی کریم ﷺ کے تصرفات کی مختلف جہات جیسی اہم ترین مباحث کوبیان کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفر د اور عظیم الشان تصنیف ہے۔ا...

  • اللہ کے آخری رسولﷺ نے آسمانی ہدایات کے مطابق اس امت کی شکل میں ایک تحریک کھڑی کی تھی جس کا سب کچھ قیامت تک باقی رہنا یقینی امر ہے او اس تحریک کو زندہ و قائم رکھنے والے لوگوں کا بھی ہر دور میں ایک مستقل اور مسلسل انداز سے باقی رہنا آسمانی خبر کی رو سے قطعی اور حتمی ہے۔ اب وہ کون لوگ ہیں جو اس پیشگوئی کا مصداق بن کر اس عظیم ترین شخصیت کی دعوت برحق کا فکری تسلسل رہے۔ ان کی وہ آئیڈیالوجی کیا ہے جو ان کے امتیاز کی اصل بنیاد رہی؟ اس تحریک کی تاسی کن لوگوں کے ہاتھوں ہوئی اور کن کے ہاتھوں اس کی ترجمانی و تجدید کا کام ہوتا رہا ہے؟ اس کے پیروکاروں کی درجہ بندی اور تقسیم مراتب کیونکر ہوتی رہی؟ اس سے انحرافات کو کس طرح ضبط میں لایا جاتا رہا اور ا س کے مخالفوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیا کی جاتی رہی؟ پھر موجودہ دور میں اس کے دائرہ کی حدود کیا ہیں؟ اس کی ترجیحات کا محور کیا ہے؟ اس سے انحرافات کی شکل کیا ہے اور اس کو درپیش اصل چیلنج کون سے ہیں۔ فکر و عمل میں اس کے کردا کو زندہ کرنے کے لیے آغاز کہاں سے ہوا اور زاد راہ کی صورت کیا ہو؟ یہی سوالات اس کتاب کا موضوع ہیں۔(ع۔م)
     

  • اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  ۔نبی کریم  ﷺ نے  اپنی زبانِ ر سالت  سے   سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں  یہ  بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب  المفتی والمستفتی  کے نام سے  کتب بھی  لکھی گئیں ہیں  اب عصر حاضر میں  تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاویٰ  کےاثرات  دیر پار ہے  ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز   محدث دہلوی ﷫کے  فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید﷫ اور شاہ اسماعیل شہید﷫ کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے  کمر کس لی اور اس کی راہ  کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لی...

  • 18 تحفہ نکاح سوالا جوابا قرآن وحدیث کی روشنی میں (ہفتہ 23 اگست 2014ء)

    مشاہدات:3935

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے  پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش  آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے  لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں  گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص  برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  اور ان  رسومات میں بہت  زیادہ  فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے  جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں  ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں  کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی  میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’تحفہ نکاح سوالاً جواباً‘‘  فضیلۃ الشیخ  ابو عبیدہ  ولید بن  محمد ...

  • 19 تحقیقی ، اصلاحی اور علمی مقالات جلد اول (پیر 22 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:6282

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ...

  • 20 تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں (منگل 10 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2384

    تعزیہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مادہ عین، زاء اور ی سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں مصیبت میں صبر کرنا ، دلاسہ دینا ،تسلی دینا ، پرسہ دینا کے ہیں۔ انہیں الفاظ سے سے تعزیت اور تعزیہ وجود میں آئے۔ اہل تشیع کے ہاں تعزیہ ایک ایسی شبیہ ہے جوکہ سیدنا حسین کے روضہ کی طرز پر تعمیر کی جاتی ہے۔ یہ تعزیے مختلف شکلوں مختلف اشیاء سونے،چاندی،لکڑی،بانس اور سٹیل سے تیار کئے جاتے ہیں، جوکہ شیعوں کی طرف سے محرم کے مہینے میں ایک جلوس کے ہمراہ برآمد کئے جاتے ہیں۔ برصغیر میں تعزیے کا بانی بادشاہ امیر تیمور تھا۔ تیمور کے باپ، دادا اسلام قبول کر چکے تھے۔ مگر تیمور کا تعلق تلوار اور ملکوں کی فتوحات تک ہی تھا۔ تعزیہ کا تعلق عہد تیمور سے ہے۔ یعنی تعزیہ کی شروعات عہد تیموری سے ہوئی اور رفتہ رفتہ اس کی شکل میں مختلف تبدیلیوں رائج ہوتی چلی گئیں۔ عجیب بات یہ کہ ان بدعات و رسومات کو دین کی خدمت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے جبکہ اسلام نے ان تمام شرکیہ افعال اور بدعات و خرافات سے واضح طور سے منع کیا ہے اور ایسے موقع پر صبر سے کام لینے کی تعلیم دی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تعزیہ داری علمائے امت کی نظر میں" جامعہ سلفیہ بنارس انڈیا کے استاد مولانا حافظ اسعد اعظمی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بریلوی، اہل حدیث اور حقیقت پسند شیعی علماء کے فتاوی کی روشنی میں تعزیے کی غلطی کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1770
  • اس ہفتے کے قارئین: 3851
  • اس ماہ کے قارئین: 28379
  • کل قارئین : 47071048

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں