دکھائیں کتب
  • 31 اللہ کہاں ہے ؟ (اتوار 01 اپریل 2012ء)

    مشاہدات:24199

    اللہ کہاں ہے؟ کتاب کا مذکورہ بالا عنوان محض ایک سوال نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالی  کی ذات مبارک سے متعلق ہے،دیگر بہت سے عقائد  کی  طرح اس عقیدے میں بھی ایسی بات کو اپنایا جاچکا ہے اور اس کی تشہیر و ترویج کی جاتی ہے جو بات قرآن کریم ، رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، تابعین، تبع تابعین اور امت کے آئمہ رحمہم اللہ اجمعین  کی تعلیمات کے خلاف ہے۔اس کتاب میں اسی غلطی کو واضح کیا گیا ہے۔وللہ الحمد۔(ک۔ح)
     

  • 32 اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری ) (اتوار 07 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:503

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک  محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ  الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى  سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں  اور یہی  اہل سنت  والجماعت (سلف صالحین) کا عقیدہ ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں  موجود ہے ۔محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے زیر نظرکتاب ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘   میں  قرآن وسنت ، اقوال صحابہ  وائمہ محدثین کی روشنی  اسی عقیدے کو  علمی انداز میں ثابت کیا ہے۔شاید یہ کتاب ابھی مطبوع نہیں ہے  ہمیں پی ڈی ایف فارمیٹ  موصول ہوئی تواسے کتاب وسنت سائٹ کے قارئین لیےپبلش کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری ﷾ کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی مساعی کوقبول فرمائے ۔آمین)(م۔ا)

  • 33 اللہ کی نشانیاں (ہفتہ 26 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:11866

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے اوراسے...

  • 34 اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا (پیر 04 مارچ 2013ء)

    مشاہدات:59846

    غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا۔ نہ فرشتے غیب جانتے ہیں، نہ جنات اور نہ ہی انسان غیب جانتے ہیں۔ انسانوں میں اللہ کے محبوب بندے انبیا اور اولیا بھی غیب نہیں جانتے۔ نبیوں کے سردار محمد رسول اللہﷺ بھی غیب نہیں جانتے تھے۔ یہ وہ مبرہن حقائق ہیں جو کتاب و سنت کے صفحات میں بے شمار دلائل کے ساتھ دوپہر کے سورج کی طرح عیاں اور روشن ہیں۔ لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس قدر واضح دلائل کے باوجود علم غیب کو اللہ کے علاوہ بہت سے لوگوں کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ 31 صفحات پر مشتمل زیر نظر کتابچہ میں مولانا عبدالہادی عبدالخالق مدنی نے قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ علم غیب فقط اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف اس کی نسبت کرنا گمراہی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔(ع۔م)
     

  • 35 اللہ کے محبوب بندوں کی آخری منزل جنت (اتوار 22 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:2087

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔...

  • 36 المسند فی عذاب القبر (ہفتہ 07 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:6790

    روح اور بدن کی جدائی کا نام  موت ہے۔ موت  عالم دنیا سے عالم آخرت میں داخلے کا ذریعہ ہے،جہاں سے انسان کی ابدی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ عالم آخرت کے دو مرحلے ہیں ایک عالم برزخ ،یعنی موت سے لے کر حساب وکتاب کےلیے دوبارہ اٹھائےجانے تک، اور دوسرا مرحلہ دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد یعنی عالم حشر سے شروع  ہوگا۔ عالم برزخ میں ملنے والی سزا کو عذاب قبر کہا جاتا ہے۔ عقیدہ عذاب قبر اس قدر اہم ہے کہ اس  پر بڑے بڑے محدثین اور آئمہ کرام رحمہم اللہ اجمعین نے باقاعدہ کتب تالیف فرمائی ہیں۔ جیسا کہ امام بیہقی  نے ’’ اثبات عذاب قبر‘‘ امام ابن ابی الدنیا نے ’’کتاب القبول اور کتاب الاہوال‘‘ امام قرطبی نے ’’التذکرہ‘‘ امام ابن رجب نے ’’اھوال القبور ‘‘ امام ابن قیم نے ’’ کتاب الروح‘‘ اورامام  جلال الدین سیوطی نے ’’ شرح الصدور‘‘ جیسی گراں قدر کتب تالیف فرمائیں۔ مگر عقلی گمراہیوں  میں مستغرق بعض  بے دین حضرات نے محض اس وجہ سے عذاب قبر کا انکارکردیا کہ یہ ہمیں نظر نہیں آتا ہے،  اور ہماری عقل اسے تسلیم نہیں کرتی ہے۔ ان کی یہ بات انتہائی جاہلانہ اور احمقانہ  ہے،  کیونکہ اس کائنات میں کتنی ہی ایسی اشیاء ہیں، جن کا وجود مسلم ہے، لیکن ہمیں وہ نظر نہیں آتی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ المسند فی عذاب القبر ‘‘ فاضل مؤلف محمد ارشد کمال  کاوش ہے۔اس میں انہوں نے  عذاب قبر کے اثبات پر ڈیڑھ سو کے...

  • 37 ام الکتاب میں اللہ کا تعارف (بدھ 03 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2549

    ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ او...

  • 38 انسان اور آخرت (بدھ 06 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:3145

    اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں...

  • 39 انسانیت موت کے دروازے پر (ہفتہ 19 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:3911

    انسانی  زندگی کے آخری لمحات کوزندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاتا ہے اس  وقت بچپن سےلے کر اس آخری لمحے کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں ان اعمال کے مناظر کو دیکھ کر کبھی تو بے ساختہ انسان کی زبان سےدررد وعبرت کےچند جملے نکل جاتے ہیں اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسوں  آنکھ سےٹپک پڑتے ہیں ۔کتاب ہذا کے مصنف ابواکلام آزاد کا نام برصغیر کی تاریخ میں سیاست،مذہب اور ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ ایک بلند پایہ ادیب،زیرک سیاستدان اور باعمل مذہبی سکالر اور رہنما تھے۔ ان کے شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ زیر نظر کتاب’’انسانیت موت کےدروازے پر‘‘ میں انہوں نے انسانی زندگی کی فنا پذیری اور موت کو موضوع بنایا ہے۔انسانیت موت کی دہلیزپر میں انہوں نے انسانی تاریخ کی مشہور شخصیات کی کیفیات اور آخری کلمات بیان کیے ہیں جو انہوں نے مرتے وقت ادا کیے تھے۔موت سے کسی کو مفر نہیں اور قرآن کے مطابق ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔چنانچہ بحیثیت مسلمان ہم سب کو آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔یہ کتاب عالم فانی سےعالم بقاء کےسفر کی دلسوز کہانی اس قدر مؤثر ہے کہ شاید ہی کوئی سنگ دل ہو  جو اس کا مطالعہ کر ے اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں نہ لگ جائیں۔(م۔ا)

  • 40 انسانیت موت کے دروازے پر ( ادارہ اسلامیات ) (اتوار 29 ستمبر 2019ء)

    مشاہدات:585

    زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا۔انسان کوسونپی گئی  ذمہ داری اورانسانی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ انسان زندگی کے  آخری لمحات کو زندگی کے درد انگیز خلاصے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اس وقت بچپن سے لے کر آخری لمحہ تک کےتمام بھلے اور برے اعمال پردۂ سکرین کی طرح آنکھوں کے سامنے نمودار ہونے لگتے ہیں  ان اعمال کے مناظر کودیکھ کر کبھی توبے  ساختہ انسان کی زبان سے درد وعبرت کےچند جملے نکلتے ہیں  اور کبھی یاس وحسرت کےچند آنسو آنکھ سے  ٹپک پڑتے ہیں ۔موت کے وقت ایمان  پر ثابت  قدمی   ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن  اس وقت موحد  ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان  اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے  برگشتہ اور عقیدہ توحید   سے  اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1388
  • اس ہفتے کے قارئین: 3586
  • اس ماہ کے قارئین: 37607
  • کل قارئین : 47838482

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں