محمد عظیم حاصلپوری

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
محمد عظیم حاصلپوری
    40khasosiyaat
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نےجہاں آپ ﷺ کوتمام انسانیت سے افضل اوراعلیٰ مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے وہاں آپ کو بہت سےایسی خوبیاں اور خصوصیات بھی عطا فرمائی ہیں۔ جو تمام انبیاء اور کل کائنات سے آپ کوممتاز کرتیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت ورفعت کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں خصوصیات آپ کودے رکھیں ہیں ۔کتب وحدیث وسیرت میں جن کاتفصیلی ذکر موجود ہے اور باقاعدہ اس موضوع پر الگ سے کتب بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’40 خصوصیات محمد ﷺ ‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہے جس میں انہوں نےاختصار کے ساتھ آپﷺکی 40خصوصیات کاذکرکیا ہے۔تاکہ ہم اپنے نبی جناب محمد ﷺ کی عظمت ورفعت کوپہنچان کر ان کی سچی اتباع کریں اور دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کےحقدار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے علم علم اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ اور ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی اتباع،روز قیامت آپ کا دیدار،آپ کی رفاقت اور آپ کی سفارش نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-islam-aur-asaniyan-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    دین کی سہولت اور نبی کریم ﷺکےآسانی کرنے کے مظاہر دین کے ہرگوشے میں ہیں ۔جن کا انکار معصیت کا مرتکب ہونے کے مترادف ہے ۔کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جوتھوڑے تقویٰ کےاظہار کے لیے اللہ کی دی ہوئی رخصتوں کا انکار کردیتے ہیں حالانکہ نبی ﷺ کا معمول تھا کہ اگر آپ ﷺ کودوکاموں میں سے ایک کے چناؤ کا اختیار دیا جاتا تو آپﷺ اس کو اختیار کرتے جو آسان ہوتا کیوں کہ جب رخصت ملے تو اس کا استعمال اللہ کو اچھا لگتا ہے ۔جن احکام ومسائل اورامور میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رخصتیں اور آسانیاں دی ہیں وہ کتب وحدیث وفقہ میں موجود ہیں ۔جس عام شخص مستفید نہیں ہوسکتا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور آسانیاں‘‘ محترم جناب مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے امت مسلمہ کےلیے تمام معاملات وعبادات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عنایت کردہ سہولتوں ، رخصتوں اور آسانیوں کوقرآن وسنت اور مختلف ائمہ محدثین کی کتب سےآسانیوں کاانتخاب کر کےانہیں یکجا کردیا ہے کیونکہ ان رخصتوں اور سہولتوں کو عوام الناس تک پہنچانا بھی دعوت وتبلیغ کا حصہ ہے ۔کتاب وسنت کی روشنی میں احکام اسلام اور شریعت کے دیگر امور میں پائی جانے والی آسانیوں پر مشتمل یہ کتاب ایک گرانقدر مجموعہ اور بیش قیمت تحفہ ہے ۔اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام دعوتی ،تبلیغی ، تحقیقی وتصنیفی اور تدریسی خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    pages-from-aik-baap-ka-apne-bete-key-nam-khat
    محمد عظیم حاصلپوری

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام کی انہی روشن تعلیمات میں سے ایک اہم مسئلہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے ورثاء کے لئے کوئی وصیت کرنا بھی ہے۔انبیاء کرام کا یہ طریقہ کار رہا ہے کہ وہ اپنے لمحات میں اپنی اولاد کو نیکی اور اطاعت الہی کی وصیتیں کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"ایک باپ کا اپنے آخری لمحات میں اپنے بیٹے کے نام وصیت نامہ "محترم محمد عظیم حاصل پوری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انبیاء کرام کی اپنی اولاد کو کی گئی وصیتوں کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    pages-from-bachon-key-liye-40-naseehatain
    محمد عظیم حاصلپوری

    والدین پر بچوں کےحقوق میں سے اہم ترین یہ ہےکہ والدین اپنے بچوں کی دینی واسلامی ،اخلاقی وجسمانی اورمعاشرتی تربیت کریں۔ جیسے والدین پر ضروری ہے کہ وہ بچےکی پیدائش کے بعد اس کےحقوق مثلاً بچے کے کان میں اذان کہنا ، اسے گھٹی دینا ،ساتویں دن اچھا نام رکھنا ،سر منڈوانا ،عقیقہ کرنا او رختنہ کرنا وغیرہ لازم ہیں ۔ اسی طرح والدین پر ضروی ہے کہ کہ وہ اپنے بچوں کوبچپن میں ہی قرآن کریم کی تعلیم دلوائیں اور اسے ارکان اسلام کی تعلیم دے کر انہیں اس کاپابند بنائیں۔اور انہیں شریعت کے تمام احکام وآداب کی تعلیم دیں یعنی کھانے پینے،سونے ،جاگنے ،اٹھنے بیٹھنے ،چلنے پھرنے اور ملنے جلنے کےاسلوب وسلیقے سکھائیں اوراس کا خصوصی اہتمام کریں جیسا کہ حضرت جابر ﷜ نے کیا تھا کہ بچوں کی تربیت کے لیے تجربہ کار ایک بیوہ سے نکاح کرلیا۔ زیر نظر کتابچہ ’’ بچوں کےلیے 40 نصیحتیں‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہےجس میں انہوں نے بچوں کےلیے وہ 40 نصیحتیں اکٹھی کی ہیں جو مختلف موقعوں پر انبیاء﷩ ، نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام ﷢،تابعین﷭ اور سلف صالحین نے اپنے بچوں کوکیں۔اور اس میں خصوصا تربیت اولاد کے سلسلہ میں جو اللہ تعالیٰ نےاور نبی کریم ﷺ نے حکیم لقمان کی نصیحتیں اپنے بیٹے کے لیے ذکر کیں ہیں ان کاذکر کیاہے ۔تاکہ ہمارے بچے اپنے بزرگوں کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کےمعزز فرد کہلائیں اور دنیا وآخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام تدریسی ،تبلیغی واصلاحی اور تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور کتابچہ ہذا کو عوام الناس کے نفع بخش بنائے ( آمین)

    title-pages-tohfa-al-nisa-al-maroof-khawateen-ka-encyclopedia-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    دین اسلام بنی نوع انسان کےلیے رحمت ورافت ہےاور اللہ کا کامل دین ہے جوزندگی کے تمامسائل میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جوشخص اسے اپنا لےگا وہی کامیاب وکامران ہے اور جواس سے بے رغبتی اختیار کرے گا وہ خائب وخاسر ناکام ونامراد ہوگا۔دینِ اسلام عقادئد ونطریات اور عبادات ومعاملات میں ہماری ہر لحاظ سے رہنمائی کرتا ہے ۔اس عارضی دنیا میں ہرمرد وعورت آئیڈیل لائف کے خواہاں ہیں ۔ وہ خود ایسی مثالی شخصیت بننا چاہتے ہیں جو مثالی اوصاف کی مالک ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی عارضی زندگی میں ان کی ہر جگہ عزت ہو ، وقارکا تاج ان کے سر پر سجے ، لوگ ان کےلیے دیدہ دل اور فرش راہ ہوں، ہر دل میں ان کے لیے احترام وتکریم اور پیار کا جذبہ ہو ۔عام طور پر تولوگوں کی سوچ اس دنیا میں ہر طرح کی کامیابی تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ لیکن حقیقت میں کامیاب اور مثالی ہستی وہ ہے جو نہ صرف دنیا میں ہی عزت واحترام ،پیار، وقار، ہر دلعزیزی اور پسندیدگی کا تاج سر پرپہنے بلکہ آخرت میں مرنے کے بعد بھی کامیاب مثالی مسلمان ثابت ہو کر دودھ، شہد کی بل کھاتی نہروں چشموں اور حورو غلمان کی جلو ہ افروزیوں سے معمور جنتوں کا مالک بن جائے ۔ زیرتبصر ہ کتاب’’تحفۃ النساء االمعروف خواتین کاانسائیکلوپیڈیا‘‘ مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے خواتین کے جملہ احکام ومسائل کوقرآن وسنت سے مرتب کرنے کی سعی کی ہے۔اور عورتوں سےمتعلقہ دینی مسائل اور دنیاوی معلومات وتجربات اس کتاب میں جمع فرمادئیے ہیں۔یہ کتاب عورت کی ہرحیثیت یعنی ماں ،بہن ، بیوی اور بیٹی کے لیے راہنمائی کرے گے ۔خصوصا ازدوادی زندگی کوبہتر بنانے اورایک مضبوط، صالح باکردار طاقتور وتوانا اور روشن خیال اور اسلام کی محافظ وعلمبردار نسل کی تربیت کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس کتاب میں مسلمان عورت کی زیب وزینت کی قرآن وحدیث طب وحکمت اور جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں وضاحت کی گئی ہے۔نیز روزانہ زندگی میں پیش آنے والے معاملات مختلف قسم کی احتیاطی تدابیر ،بیماریوں کا علاج گھریلو چٹکلے اور سلیقہ مندی کے طریقے اس کتاب کاحصہ ہیں۔خواتین اسلام کے لیے یہ کتاب ایک انمول تحفہ ہے۔(م۔ا)

    title-pages-jannat-se-mehroom-kr-daine-wale-chalees-amal
    محمد عظیم حاصلپوری
    اشرف المخلوقات حضرت انسان کا حقیقی معنوں میں کھویاہوامقام جنت ہے۔ابوالبشر سیدناآدم علیہ السلام سے خطاسرزد ہونے کی بناپر،ہم اس حقیقی مقام سے نکال دیے گئے تھے تاہم پھر بھی اللہ تعالی کی یہ  کرم ہےکہ اس نے بنی نوع انسان پر اپنی رحمت کے دروازے بندنہیں کیے۔اس نےہرامت کو احکامات کا ایک مجموعہ دیاتھا اور فرمادیاتھاکہ جو میرےان احکام پر چلے گاان پرعمل کرےگے وہ اپناکھویاہوامقام حاصل کرلےگا۔اورجس نےان احکام کی پابندی نہ کی اور نافرمانیاں کرتا رہاتو اسے اس عالی شان مقام سےمحروم کردیاجائےگا۔چناچہ اس کے حصول کیلے جدوجہد کرناہوگی۔محترم عظیم حاصل پوری صاحب نے اس مختصرسی کتاب میں ان گناہوں کی طرف اشارہ فرمایاہےجوعام طورپرہمارےروزمرہ معمول سے تعلق رکھتےہیں لیکن ہم ناچاہتےہوئے لاشعوری طور پرانکا ارتکاب کرجاتےہیں۔مزید برآں یہ ہےکہ وہ شرف انسانیت کے بھی خلاف ہیں۔ان کے اتکاب کی وجہ سے ایک انسان کے عزت ووقار پربھی حرف آتاہے۔اس لئے ان سے گریز اختیارکرناازبس ضروری ہے۔اللہ تعالی جناب عظیم صاحب کو اجر جزیل سے نوازے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-khandan-e-nabowat-ka-tarif-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اوراس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ خاندان نبوت کا تعارف ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾(مصنف کتب کثیرہ) کی سیرت النبیﷺ پر ایک منفرد کاوش ہے۔انہوں نے کئی سیرت وتراجم کی کتب اور بالخصوص شیخ جمال الدین یوسف بن حسین کی کتاب’’ الشجرۃ النبویۃ فی نسب خیر البریۃ ‘‘ سے استفادہ کر کے اس کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے خاندان نبوت کو موضوع بحث بنایا ہے اور بڑے خوبصورت اسلوب میں آپ کے والدین ، رضاعی والدین، رضاعی بہن بھائی ، آپ کے چچے ، پھوپیاں، چچا زاد بہنوں بھائیوں اور ازواج مطہرات ددھیال، ننھیال اور سسرال کا تذکرہ کیاہے ۔اسی طرح آپ کی اولاد ، لونڈیاں اور سسرالی رشتے داریاں بھی صفحات کی زینت بنی نظر آتی ہیں ۔او رآخر میں رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ پیدائش سے وفات تک اور آپ کے غزوات وسرایا اور وفود کااجمال ذکر کیا ہے ۔اردو زبان میں اس موضوع پر یہ اتنی جامع او رمعلوماتی اولین کتاب ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-khawabon-ka-safar
    محمد عظیم حاصلپوری

    خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دوچار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں ۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے ۔ حضرت عائشہ  فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنےکی مانند بالکل آشکارہوجاتی ''اور نبی ﷺنے فرمایا ''نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ''خوابوں کی تعبیر ،احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے ۔ اس سلسلے میں متقدمین میں سے امام ابن سرین  کی کتاب قابل ذکر ہے جو کتاب وسنت ویٹ سائٹ پر موجود ہے ۔زیر نظر کتاب ''خوابوں کاسفر''از محمدحسن ظاہر ﷾ بھی اسی موضوع پر اہم کتاب ہے فاضل مصنف نے اس میں خواب کے متعلق احکام اور انبیاء و رسل،صحابہ کرام ،تابعین،تبع تابعین او رنیک لوگوں کےخواب جمع کرکے ان کی ضروری وضاحب بھی کردی ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور قلم میں برکت عطاء فرمائے (آمین)( م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    pages-from-daroos-ul-masajid
    محمد عظیم حاصلپوری

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کو روکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اور انبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اورتمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے۔ اوراللہ تعالیٰ نےقرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کوبھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔  نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔لیکن عصر حاضر کے حکمران برائی کو روکنے اور نیکی کا حکم دینے   کا فریضہ صحیح طرح سے ادا نہیں کرر ہے سوائے سعودی عرب کے اس لیے معاشرے کے ہرفر داور علماء کو اپنی استطاعت کےمطابق اپنے دورس و خطبات کے ذریعے اس اہم فریضہ کوجاری وساری رکھنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دورس المساجد جلد اول‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کے روزانہ جامع مسجد تاج عقب جامعہ محمد یہ جی ٹی، گوجرانوالہ میں نماز عصر کے بعد دئیے گئے دروس کا مجموعہ ہے۔ مولانا موصوف کا یہ درس جامعیت، سادگی، آسان الفاظ کے استعمال تحقیق و تخریج کے لحاظ سے اس قدر اثر پذیر اور دلنشیں ہوتا کہ ہر سننے والے کے دل میں اتر جاتا۔ سامعین کی خواہش اور اصرارپر مولانا نے ان دروس کو بڑی محنت سے تحریری صورت میں مرتب کیا اور مکتبہ اسلامیہ، لاہور نے اسے حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے۔ واعظین، خطباء حضرات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت نادر تحفہ ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام دعوتی، تحقیقی و تصنیفی اور تدریسی کاو شوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) دروس المساجد کی یہ جلد اول ہے جلددوم اس سے قبل سائٹ پر پبلش ہوچکی ہے یہ جلد طہارت و صلاۃ، تین چیزیں، جنتی عمل، آداب، حقوق العباد حقوق زوجین، حقوق والدین، حقوق اولاد، رمضان المبارک آداب طعام جیسے اہم موضوعات پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

    pages-from-daroos-ul-masaajid
    محمد عظیم حاصلپوری

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے۔ اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے، نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کو روکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے امر بالمعروف کا مطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا   غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کو عموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے۔ قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہمیت دی گئی ہے کہ تمام مومن مردوں اور تمام مومن عورتوں پر اپنے اپنے دائرہ کار اور اپنی اپنی استطاعت کےمطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکرپر عمل کرنا واجب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی ایک ایت کریمہ میں حکمرانوں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کامکلف ٹھہرایا ہے۔ نیز ان حکمرانوں سےمدد کا وعدہ فرمایا ہے جو حکومت کی قوت اور طاقت سے نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ لیکن عصر حاضر کے حکمران برائی کو روکنے اور نیکی کا حکم دینے کا فریضہ صحیح طرح سے ادا نہیں کرر ہے سوائے سعودی عرب کے اس لیے معاشرے کے ہرفر داور علماء کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنے دورس و خطبات کے ذریعے اس اہم فریضہ کوجاری وساری رکھنا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’دورس المساجد‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کے روزانہ جامع مسجد تاج عقب جامعہ محمد یہ جی ٹی، گوجرانوالہ میں نماز عصر کے بعد دئیے گئے دروس کا مجموعہ ہے۔ مولانا موصوف کا یہ درس جامعیت، سادگی، آسان الفاظ کے استعمال تحقیق و تخریج کے لحاظ سے اس قدر اثر پذیر اور دلنشیں ہوتا کہ ہر سننے والے کے دل میں اتر جاتا ۔سامعین کی خواہش اور اصرارپر مولانا نے ان دروس کوبڑی محنت سے تحریری صورت میں مرتب کیا اور مکتبہ اسلامیہ، لاہور نے اسے حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے۔ واعظین، خطباء حضرات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت نادر تحفہ ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام دعوتی، تحقیقی وتصنیفی اور تدریسی کاو شوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

    pages-from-dukhon-ka-ilaaj
    محمد عظیم حاصلپوری

    دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہدے میں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالی ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے   دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔ حدیث نبوی کےمطابق دعا کرنے سے بری تقدیر ٹل جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے دعا کرنے کی تلقین کے ساتھ ساتھ اس کے مبارک اور قبولیت کےاوقات بھی شمار فرمائے ہیں۔مثلاً رات کےپچھلے پہر میں ، اذان اور اقامت کے دوران ، میں ، نماز میں سجدے میں ،نمازوں کے بعد ، جمعہ کے دن کی خاص گھڑی میں ، یوم عرفہ میں ، لیلۃ القدر میں ، بارش برستے وقت میں وغیرہ۔ نیز آپ ﷺ نے چند ایسے حالات بھی ذکر کیے جن میں دعا کبھی بھی رد ّ نہیں کی جاتی ۔ مثلاً مظلوم ، مسافر ، باپ کی بیٹے کے حق میں ، حج وعمرہ کرنے والے کی ، غازی فی سبیل اللہ کی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے ، عادل حکمران کی وغیرہ ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔زیر نظر رسالہ ’’ دکھوں کا علاج‘‘ مولانامحمد عظیم حاصل پوری ﷾ کی کاوش ہے ۔انہوں نے اس میں ایسی دعائیں جمع کی ہیں جو انسان کی جسمانی وروحانی بیماریوں اور دکھوں کا بہترین علاج ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ذریعہ نجات بنائے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-rehmat-ilahi-se-mehroom-log
    محمد عظیم حاصلپوری

    لفظ رحمت قرآن مجید میں کئی ایک معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عمومی رحمت الٰہی سےدنیا میں ہرمومن وکافر ، فرماں بردار نافرمان مستفید ہور ہے ہیں  جبکہ رحمت خاص  سے روزِ قیامت صرف مومن ہی مستفید ہوں گے۔ اللہ کی وسیع رحمت دنیا میں ہر نیکو کار اور نافرمان کو پہنچتی ہے  جبکہ روزِ قیامت یہ صرف متقین کے لیے خاص ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’رحمتِ الٰہی سے محروم لوگ‘‘ محترم  جنا ب مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے۔ انہوں اس کتاب میں قرآن  وحدیث کی روشنی میں رحمتِ الٰہی کا معنی ومفہوم، رحمت الٰہی کے اسباب کو بیان کرنے بعد  ان اعمال کا ذکر کیا ہے کہ جن کاموں کا ارتکاب کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوجاتے  ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب  کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور لوگوں ایسے اعمال  کرنے سے  بچائے کہ جو کام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی کا سبب بنتے ہیں۔ (م۔ا) 

    title-pages-rehmat-e-ilahi-k-mustahiq-log-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    لفظ رحمت قرآن مجید میں کئی ایک معانی کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ نرمی ، شفقت وپیار اور دوسروں کے ساتھ خیر وبھلائی کرنے کانام رحمت ہے۔ رحمت کاسب سے بڑا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْء (الاعراف)عمومی رحمت الٰہی سےدنیا میں ہرمومن وکافر ، فرماں بردار نافرمان مستفید ہور ہے ہیں جبکہ رحمت خاص سے روزِ قیامت صرف مومن ہی مستفید ہوں گے۔کیونکہ اللہ کی وسیع رحمت دنیا میں ہر نیکو کار اور نافرمان کو پہنچتی ہے جبکہ روزِ قیامت یہ صرف متقین کے لیے خاص ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ رحمتِ الٰہی کے مستحق لوگ ‘‘ محترم جنا ب مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ (مصنف کتب کثیرہ ) کی کاوش ہے ۔ انہوں اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے لوگوں کاشمار کیا جنہیں اللہ کی وافر رحمت ملتی ہے ۔اور ان اعمال کا ذکر کیا ہے کہ جن کاموں کا ارتکاب کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق ٹھرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور لوگوں کو ایسے اعمال کرنے کی توفیق دے جو اللہ تعالیٰ رحمت حاصل کرنے کا سبب بنتے ہیں (م۔ا)

    pages-from-shab-e-baraat-haqiqat-key-aainey-azim-hasilpuri
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو"امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ اسلام تو نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکمل ہو گیا تھااورانسان کی راہنمائی کے لیے اس میں تشنگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں جس میں انسان کے لیے راہنمائی نہ ہو۔ شب و روز کی زندگی کے معمولات و عبادات سب موجود ہیں مگر مسلمانوں نے نعوذ با للہ عبادت کے نام پر ایسے کام شروع کر دیئے جیسے وہ اسلام کو ادھورہ اور شریعت محمدیہ ﷺ کو ناقص قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب"شب برات حقیقت کے آئینے میں"جو کہ فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری کا ایک تحقیقی رسالہ ہے۔ محترم موصوف جو کہ علمی و ادبی حوالے میں ایک معتبر حیثیت کے حامل ہیں۔ فاضل مصنف نے کتاب ہذا میں شب برات کی حقیقت کا قرآن سنت کی روشنی میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے اور محترم موصوف کو ہمت واستقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-sahih-muntakhib-waqiat-1
    محمد عظیم حاصلپوری
    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ زیر نظر کتاب احادیث سے اخذ کردہ واقعات پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں مصنف کا کہنا ہے، اور جیسا کہ کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے، کہ صرف صحیح ثابت شدہ واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے واقعات میں صحت و ضعف کا التزام کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن بہت سارے واقعات کتاب میں ایسے بھی موجود ہیں جن پر صحت و ضعف کاحکم نہیں لگایا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ بقیہ تمام کتب کی احادیث پر صحت و ضعف کا حکم لگایا جاتا لیکن تمام تر واقعات میں یہ چیز نظر نہیں آتی۔ بہرحال عام طور پر تمام خواتین و حضرات اور خاص طور پر خطبا اور واعظین کے لیے یہ بہت فائدہ مند کتاب ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل حصوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-sahih-muntakhib-waqiat-1
    محمد عظیم حاصلپوری
    واقعات جہاں انسان کے لیے خاصی دلچسپی کا سامان ہوتے ہیں وہیں یہ انسان کے دل پر بہت سارے پیغام اور اثرات نقش کر دیتے ہیں۔ اسی لیے قرآن مبین میں اللہ تعالیٰ نے جا بجا سابقہ اقوام کے قصص و واقعات بیان کیے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی زندگی میں وہ غلطیاں نہ کریں جو ان سے سرزد ہوئیں۔ زیر نظر کتاب احادیث سے اخذ کردہ واقعات پر مشتمل ہے۔ اس ضمن میں مصنف کا کہنا ہے، اور جیسا کہ کتاب کے نام سے بھی ظاہر ہے، کہ صرف صحیح ثابت شدہ واقعات قلمبند کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں مصنف نے واقعات میں صحت و ضعف کا التزام کرنے کی کوشش بھی کی ہے لیکن بہت سارے واقعات کتاب میں ایسے بھی موجود ہیں جن پر صحت و ضعف کاحکم نہیں لگایا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ صحیح بخاری و مسلم کے علاوہ بقیہ تمام کتب کی احادیث پر صحت و ضعف کا حکم لگایا جاتا لیکن تمام تر واقعات میں یہ چیز نظر نہیں آتی۔ بہرحال عام طور پر تمام خواتین و حضرات اور خاص طور پر خطبا اور واعظین کے لیے یہ بہت فائدہ مند کتاب ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل حصوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-azab-e-qabar-me-mubtla-aur-us-se-mehfooz-rehne-wale-logh-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    عقیدہ عذاب قبر قرآن مجید،احادیث متواترہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔جس طرح دنیا میں آنے کے لئے ماں کا پیٹ پہلی منزل ہے،اور اس کی کیفیات دنیا کی زندگی سے مختلف ہیں،بعینہ اس دنیا سے اخروی زندگی کی طرف منتقل ہونے کے اعتبار سے قبر کا مقام اور درجہ ہے،اوراس کی کیفیات کو ہم دنیا کی زندگی پر قیاس نہیں کر سکتے ہیں۔عذاب قبر سے مراد وہ عذاب اور سزا ہے جو موت سے لے کر حساب وکتاب کے لیے دوبارہ اٹھائے جانے یعنی قیامت سےپہلے تک اللہ تعالیٰ کےنافرمانوں کودی جاتی ہے ۔ نبی کریم ﷺ نماز کے تشہد میں اوراپنی دیگر دعاؤں میں عذاب قبر اورقبر وحشر کے فتنوں سے بکثرت اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے ۔اس لیے اہل وسنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق عذاب قبر بر حق ہے اور اس پر کتاب وسنت کی بہت سی براہین واضح دلالت کرتی ہیں ۔جبکہ بعض کوتاہ بین ایسے بھی ہیں جنہوں نےاس کا انکار کیا جیسا کہ عصر حاضر میں منکرین حدیث ہیں جواس کا کلی انکار کرتے ہیں اوراسی طرح برزخیوں کا ٹولہ ہے جو کہتے ہیں کہ اس قبر میں میت کو عذاب نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عذاب قبر میں مبتلا اور اس سےمحفوظ رہنے والے لوگ ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصپلوری ﷾ (مصنف مترجم کتب کثیرہ) کی کاوش ہے انہوں اس کتاب کو الشیخ ولید بن عیسیٰ السعدون کی عربی کتاب’’ السورۃ المنجية والمنانعة من عذاب القبر‘‘ سے استفادہ کر کے اس کا سلیس ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بیان کی گئی مختصر چیزوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔نیز اس کے علاوہ ان تمام اعمال کو بھی شامل کردیا ہے جن کے سبب عذاب قبر ہوتا ہے اور جن کے سبب سے انسان عذاب قبر سے محفوظ رہ سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

    pages-from-medan-mehshar-mein-izzat-aur-zillat-pane-wale-log
    محمد عظیم حاصلپوری

    دنیا اپنی روانگی میں چل رہی ہوگی کہ اچانک ایک زوردار آواز سے سب کچھ فنا ہوجائے گا سوائے رب العالمین کے ۔ پھر دوسری بار آواز آئےگی اور ساری کائنات اپنی اپنی قبروں سے اٹھےکر ننگے بدن ،ننگے پاؤں میدان محشر کی طرف دوڑیں گے جو شام کے علاقے کی طرف سجایا جائے گا۔ سب میدان محشر میں پہنچے گے ۔ تو سب کےہاتوں میں نامۂ اعمال دے دیے جائیں گے ۔ اہل ایمان کےدائیں ہاتھ میں اور کفار ومشرکین کےبائیں ہاتھ میں،اہل ایمان تو خوش ہوکر دوسروں کواپنا نامۂ اعمال دکھائیں اور پڑھائیں گے جبکہ کفار ومشرکین پریشان ہوگے اور کہیں گے:کاش! ہمیں یہ نہ دیا جاتا اور ہمیں ہمارا حساب معلوم ہی نہ ہوتا ۔نامۂ اعمال کی تقسیم کے بعد سوال وجواب ہوں گے۔ مشرکوں اور کافروں سے سوال ہوں گے وہ ہر چیز کاانکار کردیں گے۔اور اسی طرح عمر ،جوانی ، رزق، علم، کے متعلق سوال ہوں گے۔ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز اور حقوق العباد میں سے قتل خون اور جھگڑوں کے متعلق سوال ہوگا۔ اور ہر ایک کے متعلق عدالت الٰہی میں عدل سے فیصلہ ہوگا۔پھر اللہ تعالیٰ سب کے اعمال کاوزن کرے گا۔اعمال کےوزن کےبعد سب کوپل صراط سے گزرنا پڑے گا۔پھر سب سے پہلے جناب محمد ﷺ اپنی امت کولے کر جنت میں داخل ہوں گے۔مذکورہ سطور میں اس میدان محشر کامختصر خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ جس سے ہر آدمی گو گزرنا ہے یہ دن اس قدر سخت ہے کہ بچے بوڑھے ہوجائیں گے او رمائیں اپنے حمل گرادیں گی اور اپنے بچوں کوبھول جائیں گی۔ اس دن کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے۔ جو بندوں کواس دن کی ذلت ورسوائی سے محفوظ رکھیں گے اور کچھ اعمال ایسے بھی ہوں گے جو اس دن ذلت و رسوائی میں مبتلا کردیں گے۔زیر نظر کتابچہ ’’ میدان محشر میں عزت اور ذلت پانے ولے لوگ‘‘میں مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )نے انہی مفید اعمال کوشمار کرکےیہ تلقین کی ہے کہ ہم سب ایسے اعمال کریں جو میدان محشر میں عزت بخشیں اور ان اعمال سےبچیں جو ہمیں ذلت دسے سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین (م۔ا)

    title-pages-preshanian-kiyon-aati-hain-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    مصائب وآلام بیماری اور تکالیف  سب کچھ  منجانب اللہ ہے  اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا  حصہ ہے  کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ  کی ذات ہے ۔ لیکن جہاں تک  ان کے  اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا  نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے  ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے  شمار گناہوں کو  معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی  ضرورت  ہے  یعنی نفس پر اتنا  قابو  ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس  میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں  وہ  اداس اور بدل نہ  ہو۔ زیر نظر کتاب ’’ پریشانیا ں کیوں آتی ہیں؟ مصیبت آئے تو کیا کروں‘‘ محتر م مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ کی تصنیف ہے  جس کو انہوں نے  دوحصوں میں تقسیم کیا ہے  حصہ اول میں  انسان کو پیش آنے والی پریشانیاں  اور مصائب کے اسباب اور دوسرا حصہ میں جب  انسان تکالیف ،پریشانیاں ،مصائب  میں  مبتلا ہو تو جن امور کو اختیار کرنا چاہیے  فاضل مصنف نے ان کو  قرآن  واحادیث کی  روشنی میں  بڑے  احسن انداز میں بیان کردیا ہے ۔ اللہ  تعالی مصنف کی  اس کاوش کو شرف قبولیت  سے  نوازے او ر اس کتاب کو  عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے  (آمین) (م۔ا)

     

    title-pages-kundon-ki-kahani-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    ماہِ رجب کی 22 تاریخ کو خصوصا خواتین امام جعفر صادق ﷫ کے نام پر مٹی کے  چھوٹے چھوٹے پیالے  (کونڈے) حلوہ وغیرہ سےبھر کر گھروں میں تقسیم کرتیں ہیں اوراس کےفیوض وبرکات پر عجیب وغریب داستانیں سناتیں ہیں جبکہ حقیقت میں شریعت میں  ماہِ رجب میں اس قسم کی بدعات کا کوئی تصور نہیں او رنہ ہی اس طرح کی ماہ رجب میں دیگر رسومات جوموجودہ دور میں ہیں۔ اسلام نے انکا  کوئی تصور پیش کیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’کونڈوں کی کہانی ‘‘محترم مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کی ایک اہم تحریری  کاوش  ہے جس میں  انہوں نے مختصر طور پر کونڈوں کی کہانی  او رماہِ رجب میں کئے جانے والے افعال کا جائزہ  لیتے ہوئے  ان کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔موصوف  اس کتابچہ کے علاوہ  بھی کئی کتب کےمترجم   ومصنف ہیں اور  ماہنامہ  ’’ندائے امت کےچیف ایڈیٹربھی ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تدریسی ،دعوتی،تحقیقی  وتصنیفی اور صحافتی  خدمات  کوقبول فرمائے اور اس کتابچہ ہذا کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-ghuldasta-e-ahadees-ma-sunehri-aqwal-copy
    محمد عظیم حاصلپوری

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب’ گلدستہ احادیث مع سنہرے اقوال ‘ مصنف کتب مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ کی کاوش ہے اس کتاب کو انہوں نے چھ فصلوں میں تقسیم کیا ہے اور کتب احادیث سے ان احادیث کو تلاش کرکے بمع ترجمہ اس کتاب میں جمع کردیا ہے کہ جن احادیث میں دو دو ، تین تین، چار چار، پانچ پانچ، چھ چھ ، سات سات چیزوں کا بیان ہے۔اور ہر فصل میں ایسے اقوال بھی درج کیے ہیں جن میں دو دو ، تین تین، چار چار، پانچ پانچ، چھ چھ ، سات سات چیزوں کا ذکرہے۔(م۔ا)

    pages-from-amsaal-ul-quran
    قاری محمد دلاور سلفی

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جو گمراہی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی بنی نوع کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے۔ سید الانبیاء ختمی المرتبت حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو قرآن جیسا عظیم معجزہ اور جوامع الکلم سے نوازہ۔ قرآن مجید امت مسلمہ کے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اس سچی اور لاریب کتاب میں گزشتہ اقوام کے واقعات اور مستقبل کی پشین گوئیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب مقدس حق اور باطل کے درمیاں فیصلہ کرنے والی ہے۔ قرآن کریم سراپا نصیحت، حکمت و دانائی کی باتوں سے اور لبریز سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ نزول قرآن سے لے کر لمحہ موجودہ تک مختلف زاویوں سے اس کی توضیحات و تفسیرات سامنے آرہی ہیں لیکن اس کے مصارف ہیں کہ ختم نہیں ہوتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے توحید، رسالت، آخرت اور دیگر مضامین کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کی ہیں تا کہ ان مثالوں کی روشنی میں بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ مثال کی صورت میں کی گئی بات دلچسپی کا باعث ہوتی ہے اور مخاطب کو جلد سمجھ آ جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"امثال القراٰن" قاری محمد دلاور سلفی حفظہ اللہ کی منفرد اور سود مند تصنیف ہے۔ کتاب کی تفہیم و تخریج فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے کی ہے جن کی شخصیات کاعلمی و ادبی حوالوں میں ایک معتبر نام ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت و استقامت عطا فرمائے۔ آمین (عمیر)

    pages-from-rasoolullah-saw-ki-wassiyyatain-sheikh-khalid-abu-saaleh
    خالد ابو صالح

    ختمی المرتبت رسول اللہ ﷺ سے محبت دین متین کی بنیاد ہے اور محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعت رسول ﷺ ہے۔ دعوائے محبت ہو اور اطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتا ہے۔ پیغمبر اعظم ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے کہ آپ کے جانثاروں کی زندگیاں جہا ں محبت رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسول ﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسیہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرما دیا کہ محبت کا انداز کیا ہوتا ہے اور جو ذاتِ محبت ہے اس کی اطاعت کا معیار کیا ہے۔آپ ﷺ نے بھی اپنے جانثاروں کی جس انداز سے تربیت فرمائی وہ تعلیمات تمام کائنات کے لیے ایک بہترین نمونہ اور مشعل راہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر مختلف صحابہ کرام کو مختلف وصیتیں فرما کر ان کا تزکیہ نفس کیا۔ جس طرح ایک ماہر طبیب، حکیم یا ڈاکٹر ہر مریض کی بیماری اور مزاج کو مدنظر رکھ کر علاج اور غذا تجویز کرتا ہے، اسی طرح نبی کریم ﷺ جو انسانیت کے سب سے بڑے روحانی معالج تھے ہر شخص کو اسی عمل کی وصیت فرماتے جو اس کے لیے ضروری اور اس کے حالات کے مطابق ہوتی۔ زیر تبصرہ کتاب"رسول اللہ ﷺ کی وصیتیں" الشیخ خالد ابو صالح حفظہ اللہ کی عربی تصنیف ہے جس کو فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے بڑے احسن انداز سے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ کتاب ہذا دو حصوں پر مشتمل ہے پہلا حصہ ان وصیتوں پر مشتمل ہے جو نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابی ابو ذر غفاری رضی اللہ کو فرمائی اور دوسرا حصہ ان وصیتوں پر مشتمل ہے جو آپؐ نے دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرمائیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کی اس سعی کو قبول و منظور فرمائے اور معاونین و ناشرین کے لیے ذریعہ نجات بنائے۔ آمین(عمیر)

    pages-from-sab-se-pehle-kaun-urdu-tarjama-kitab-ul-awaael
    ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی

    اوائل 'اوّل" کی جمع ہے، اوّل عربی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی" پہلا" ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید میں مختلف انداز کے ساتھ تقریباً89 مرتبہ استعمال ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے شخص کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو اوّل(پہلی) پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ اور یقینا ہر ایک کے نصیب میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ آج ہمارے والدین کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہماری اولاد سکول و کالج سے پہلی پوزیشن حاصل کرے اس کے لیے وہ سکول، ہوم ٹیوشن اور ہر ممکن تگ و دو کرتے ہیں۔ ہم دنیاوی امتحانات کی فکر میں ساری ساری رات تیاری میں گزار دیتے ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ خالق کائنات نے بھی ایک یوم الحساب مقرر کیا ہے۔ جس دن حقیقی عدل و انصاف کی بناء پر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوگا، کامیاب ہونے والے کےلیے دائمی جنت کا سرٹیفکیٹ ہو گا اور کانام ہونے والے کو جہنم سے دو چار ہونا پڑے گا۔ زیر تبصرہ کتاب"سب سے پہلے کون؟" یہ کتاب الاوائل کا اردو ترجمہ ہے۔ جس کو الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے اردو قالب میں منتقل کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ان امور کو زیر قلم لایا گیا ہے جو اسلام اور قبل از اسلام سب سے پہلے معرضِ وجود میں آئے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

    amsaal-ul-hadees
    قاری محمد دلاور سلفی

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جو گمراہی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی بنی نوع کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے۔ سید الانبیاء ختمی المرتبت حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپﷺ کو قرآن جیسا عظیم معجزہ اور جوامع الکلم سے نوازہ۔ آپﷺ نے امت کی خاطر مشکلات و مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور عرب جیسے بادیہ نشینوں کو ایک ایسا مثالی معاشرہ بنایا جس کی نظیر دنیا کا کوئی اور مذہب نہیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی پاک کلام میں بھی لوگوں کو انتہائی آسان فہم انداز میں مثالوں کے ساتھ صراط مستقیم کی ترغیب و تہدیب فرمائی ہے اور یہی طریقہ و اسلوب پیارے نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابہ کے لیے اپنایا۔ نبی کریمﷺ نے امثال کے ساتھ احکام واضح کیے کیونکہ مثال کی صورت میں بیان کی گئی بات نہ صرف دلچسپی کا باعث ہوتی ہے بلکہ مخاطب کو جلد ذہن نشین ہو جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "امثال الحدیث" قاری محمد دلاور سلفی حفظہ اللہ کی منفرد اور سود مند تصنیف ہے۔ کتاب کی تفہیم و تخریج فضیلۃ الشیخ محمد عظیم حاصلپوری حفظہ اللہ نے کی ہے جن کی شخصیات کاعلمی و ادبی حوالوں میں ایک معتبر نام ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمت و استقامت عطا فرمائے۔ آمین (عمیر)

    pages-from-jannat-ki-qeemat-magar-keya
    عبد الملک القاسم

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے  انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے  تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی قیمت مگر کیا ‘‘ سعودی عرب کے  جید عالم دین  الشیخ  عبد المالک قاسم کی عربی تصنیف’’والثمن الجنۃ‘‘ کارواں اور سلیس ترجمہ  ہے ۔ مصنف موصوف نے  اس کتاب میں  نمازکو جنت کی قیمت  بتایا ہے  اوراس کی جوفکر نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام  ،تبع تابعین  اور سلف صالحین ﷭ میں پائی جاتی تھی اسے اپنے  اندر لاکر جنت کے حصول میں محنت کرنی چاہیے اور ان اعمال کو  اختیار کرنا چاہیے کہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے نجات او ر جنت میں  داخلہ ممکن ہے ۔اللہ تعالیٰ  اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو  جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین(م۔ا)

ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 868 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں